کسی محلے، گاؤں یا شہر میں جب دو برادریوں یا قبیلوں کی خاندانی لڑائی ہوتی ہے تو اس میں نفرت کی بنیاد پر بہت سے لوگ اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ لڑائی طول پکڑ جائے اور خون شامل ہو جائے تو نسل در نسل بھی چلتی ہے۔ پھر تعصب کی بنیادوں پر بہادری و شجاعت کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اور ہیروز وجود میں آتے ہیں جنکی عظمت کیساتھ ساتھ منافرانہ نقطۂ نظر سے مرتب کی گئی تاریخ کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جاتا ہے اور یوں نفرت کی بنیادوں کو نہ صرف پختہ بلکہ پروان بھی چڑھایا جاتا ہے۔ یہ سب جنون خاندانی تفاخر کے نام پر ہوتا ہے۔
اگر برادری یا قبیلے کا کوئی سوچنے سمجھنے والا نفرتوں اور دنگے فساد کے محرکات اور وجوہات پر سوچنا اور سوالات اٹھانا شروع کر دے تو پھر اسے خاموش کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ اپنے قبیلے کے لوگ مخالف قبیلے کے لوگوں سے ملنے اور کسی قسم کے تعلقات رکھنے کی کوشش بھی نہ کریں تاکہ کسی قسم کی باہمی قربت، قصے کہانیوں اور دشمنی کی روایات و نظریات پر شکوک و شبہات بھی پیدا نہ ہوں۔
پھر بھی اگر کوئی آدمی دشمنیوں سے تنگ آ کر مخالف کے صلح جو لوگوں کیطرف ہاتھ بڑھائے اور تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرے تو انکے بائیکاٹ، لعن طعن، خون سے غداری کے الزامات، برادری سے بے دخلی وغیرہ کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتی ہے لیکن آوازیں کچھ زیادہ ہو جائیں تو پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو باہمی امن سے مفادات وابستہ کر لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دبانے کیلئے پھر صلح جو اور دشمنی کے حامیوں کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔
ہیروز، انکے وارث اور پوجنے والے اور وہ لوگ جنکے دشمنی سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں، وہ فسادیوں کو ہلہ شیری دیتے ہیں اور اپنے جڑے ہوئے مفادات کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف جنہوں نے دشمنی کے خاتمے سے مفادات وابستہ کئے ہوتے ہیں، وہ امن پسندوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
برادریوں اور قبیلوں میں دشمنیوں کا مکمل خاتمہ تبھی ہوتا ہے جب فساد اور دشمنی کے حامی کمزور ہو جائیں اور امن کی کوششوں میں بھی مفادات وابستہ کرنے والوں کو نکال کر باہمی ملاپ کے ذریعے پرخلوص راستہ نکالا جائے۔ اس سے پھر جو مسلح دشمنی کیلئے رکھے جانے والے بچے کھچے جنگجو وغیرہ ہوتے ہیں، انکی تعداد بھی کم کر دی جاتی ہے اور انکو دشمنی بڑھانے اور مخالفین پر حملوں کی بجائے برادری کے کسی دوسرے خطرے سے دفاع تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ایسی کہانیاں ہمارے نیم فیوڈل معاشرے اور تاریخ میں بکھری پڑی ہیں۔
آج کا پٹھان کوٹ حملہ بھی کچھ ایسے ہی نفرتوں کے بیوپاریوں کی کارستانی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جا رہے ہیں، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اطراف کی انہی قوتوں کا امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے چھرا گھونپنے کا رویہ، رجحان اور تاریخ رہی ہے۔ جس سے ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ہر بار جیسے ہی ایک قدم آگے بڑھتا ہے، پچاس قدم پیچھے پھینکنے اور ملیامیٹ کرنے کیلئے امن مخالف قوتیں اور اس پار نیم جمہوری سویلین حکومتوں کی مخالف لابیاں سرگرم ہو جاتی ہیں۔
اب پھر وہی ہو گا، الزام تراشی اور جوابی الزامات کی شدید لہر چل پڑے گی۔ ریاستی سطح پر رابطوں کی بحالی کو ایک لمبا عرصہ درکار ہو گا اور یہ ناٹک پچھلی سات دہائیوں کیطرح مزید چند دہائیاں چلتے رہیں گے۔ اس وقت تک کہ جب تک دونوں جانب کی ”دفاعی“ اور متعصب قوتیں پرامن خطے اور یہاں پلتی ہوئی غربت، جہالت، پسماندگی جیسے بڑے دشمنوں کیخلاف لڑنے کے حامیوں کے مقابلے میں کمزور نہیں ہو جاتیں اور ان متعصب قوتوں میں امن کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی سکت اور قوت باقی رہتی ہے۔