Sunday, 26 June 2016

تکفیر اور ریاست


پوپ فرانسس نے کچھ عرصہ قبل اطالوی اخبار La Repubblica کے بانی Eugenio Scalfari کو لکھے گئے کھلے خط میں بیان دیا کہ خدا ملحدین کو بھی معاف کر دے گا اگر وہ اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بسر کریں۔ انکا کہنا تھا کہ خدا کے رحم و کرم کی کوئی حد نہیں اور جو ایمان نہیں لاتے، انکے لئے بھی گناہ تب وجود رکھتا ہے جب وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ یہ خط ان سوالات کے جواب میں تحریر کیا گیا تھا جو Scalfari نے اخبار میں شائع کیے تھے۔ سوال یہ کیا گیا تھا کہ کیا مسیحیوں کا خدا انکو معاف کر دے گا جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔
رومن کیتھولک مسیحیوں کے حالیہ پوپ اپنے بعض ترقی پسندانہ خیالات کیوجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں اور کیتھولک مسیحیوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور نظریات کے ماننے والوں میں بھی انکے لئے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیان مسیحیت کی ریفارمز کی تاریخ کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سینکڑوں سالوں تک چرچ نے ایمان، جنت، جہنم، ہدایت، گمراہی وغیرہ کے خدائی فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھے اور مسیحیت میں ایک دوسرے کو کافر اور بھٹکا ہوا سمجھ کر خونریز فرقہ وارانہ جنگیں ہوئیں۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر فرقے ایک دوسرے کو زندہ جلاتے اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے رہے۔ رومن کیتھولک چرچ اور روس کے چرچ بھی ایک دوسرے پر فتوے لگاتے رہے اور ہزار سال بعد حال ہی میں پوپ فرانسس اور روس کے آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ Patriarch Kirill کے درمیان کیوبا میں ملاقات ہوئی۔
معروف اصلاح پسند اسکالر جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے ایک بیان میں اس سوال پر مؤقف بیان کیا کہ جو ملحدین اپنے ضمیر، شعور اور صاف دل کیساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، خدا ان کے ساتھ فیصلہ کرنے میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔ مواخذہ ہٹ دھرمی، ضد اور ضمیر کے برخلاف چلنے میں ہی ہو گا۔ زمین پر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ خدا اپنے کسی بندے کیساتھ کیا معاملہ کرے گا بلکہ یہ خدا کا ہی اختیار ہے۔ غامدی صاحب کا مؤقف البتہ مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد کی آواز ہی ہے اور اکثریت اسکے برعکس سوچتی ہے۔
ایمان، عقیدے اور عبادات میں انسان کا تعلق براہ راست خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں اس تعلق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے بلکہ اگر انفرادیت کی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کا تصور اپنے خدا، بھگوان وغیرہ کے متعلق منفرد ہوتا ہے جو اسکے سماجی حالات اور شعور کا عکس ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنے خدا سے امیدیں وابستہ کرتا ہے اور اسکی خوشنودی اور اس سے فریادوں اور دعاؤں کا تعلق اپنی ذاتی زندگی میں قائم کرتا ہے۔ خدا سے انسانوں کے تعلق کو مرکزی طور پر دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا تعلق ایقان یعنی ماننے کا ہے جبکہ ایک اچھی خاصی تعداد کا یہ تعلق بھی ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور کائنات کی مادی و سانسی تشریحات و توجیہات کو درست سمجھتے ہیں۔
ایقان کی جانچ پڑتال کا کوئی ٹھیک ٹھیک (Accurate) زمینی پیمانہ ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں نیت، خلوص جیسے اعمال وغیرہ کے انتہائی نجی زندگی کے معاملات جڑے ہوتے ہیں جنکی ججمنٹ کسی دلوں کا حال جاننے والی ماورائی قوت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر تصور خدا کے مادے (Abstract) اور تعمیم کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر خدا کے اختیار میں آتا ہے۔ جب کوئی ریاست یا انسانوں کا کوئی گروہ اتھارٹی بن کر نجی معاملات پر وہ فیصلے کرنا شروع کر دے جو خدا کے اختیار میں ہیں، تو یہ خدائی کاموں اور صفات میں بھی مداخلت ہوتی ہے۔
بندے کا خدا سے کیسا تعلق ہے، یہ بندہ جان سکتا ہے یا خدا جانتا ہے، اس باہمی تعلق میں کسی تیسرے کی جانچ پڑتال ممکن نہیں ہو سکتی۔ تکفیر کا مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ مذہب اور اس سے وابستہ سزا و جزا کے تصورات پر اتھارٹی سمجھ لیتا ہے اور صرف خود کو ہی ہدایت یافتہ، افضل اور سچا پیروکار مانتا اور سمجھنے لگتا ہے۔ اسطرح وہ اپنے ہم خیالوں کے علاوہ دوسروں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا ڈکلئیر کر دیتا ہے۔
مطلق سچائی کے دعویدار تقریبا سبھی مذاہب کیساتھ تکفیر کا مسئلہ رہا اور تاریخ میں انکے اندر ہی ہر دور میں ابھرنے والے فرقے اپنے علاوہ سب کو گمراہ قرار دے کر خیالات کو دبانے کیلئے جبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کشت و خون کا بازار بھی گرم رہا۔ ”مطلق العنان سچائی پر اجارہ داری اپنی انتہا میں فاشزم کو ہی پیدا کرتی ہے“ (فہد رضوان)۔ اسکے برعکس سناتن دھرم کا فلسفہ یہ تھا کہ سچائی ایک ہے، لیکن اس تک پہنچنے کے راستے مختلف ہیں۔ اس فلسفے کے حامل مذاہب نے تاریخ میں نئے خیالات، اصلاحات اور اختلاف رائے کو قبول کرنے میں نسبتا زیادہ وسعت نظری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلسفے کا رنگ صوفی ازم کے پیغام محبت میں بھی ملتا ہے جس میں کسی کو عقیدے، مسلک یا مذہب کی بناء پر نفرت کا نشانہ بنانے، گمراہ اور نیچ سمجھنے کی بجائے گروہی یا اعتقادی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت سے محبت کا درس نظر آتا ہے۔
قائد اعظم کے چودہ نکات میٹرک تک پہنچنے والے تقریبا ہر بچے کو زبانی یاد ہوتے ہیں۔ ان چودہ نکات میں سے آٹھواں نکتہ یہ تھا ”مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں“۔ اس نکتے سے ریاست یا کسی اور اتھارٹی کو تکفیر کا یا کسی کمیونٹی پر کوئی اور فیصلہ مسلط کرنے کا اختیار دینے کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری ترمیم کے ضمن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرقے پر فیصلہ مسلط کرنے سے قبل ریفرنڈم یا کسی اور طریقے سے انکی رائے لی گئی تھی یا نہیں۔ تکفیر کے ضمن میں قائد اعظم کا مؤقف تھا کہ ”میں کون ہوتا ہوں کسی ایسے شخص کو کافر قرار دینے والا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو“۔ (۲۳ مئی ۱۹۴۴ء، سرینگر)۔ اس پر مجلس احرار اور دیگر مولویوں نے بہت لے دے کی، مگر تاریخ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ قائداعظم نے اپنی زندگی میں اس مؤقف سے رجوع کیا ہو۔
ریاست یا کسی اور اتھارٹی کے تکفیر کا فیصلہ مسلط کرنے کے اختیار اور دائرہ کار کا سوال سیاسی بحث ہے، مذہبی نہیں لیکن بدقسمتی سے مثبت مکالمے کی بجائے اس پر مذہبی جذباتیت کی بناء پر ہی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مذہبی بحث فرقوں کے اندر ہوتی ہے کہ فلاں کافر ہے یا نہیں اور کسی گروہ، نظریے یا عقیدے کے متعلق ذاتی یا گروہی حیثیت سے کفر کا خیال رکھنے، کافر سمجھنے اور اسکا اظہار کرنے کا حق اظہار رائے کی آزادی میں آتا ہے بشرطیکہ اظہار میں اس کے ساتھ تشدد پر اکسانے اور نفرتوں کے ذریعے شدت پسندی کو ہوا دینے کا معاملہ نہ جڑا ہو۔
اگر اکثریت کے فیصلے کو ہی دلیل مانا جائے تو کسی دور میں غلامی پر بھی ”اکثریت“ متفق تھی، لیکن یہ غلامی کے ادارے کے ظالمانہ اور غیر انسانی نہ ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ بنیادی انسانی حقوق مقدم ہیں جن میں مذہبی حقوق بھی شامل ہیں اور اکثریت کسی فیصلے سے ان کو سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ ٹائرنی آف میجورٹی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے ہم ہندوؤں کی اکثریت کیوجہ سے ٹائرنی آف میجورٹی کے خوف اور عدم تحفظ کا ہی شکار تھے جس کے نتیجے میں پاکستان قائم کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق نہ چھینے جائیں۔ پاکستان میں بھی گروہوں پر فیصلے مسلط کرنے کے عمل کا شروع ہونا قیام پاکستان کے اس جواز کو ہی ختم کر دیتا ہے۔
ریاست کے نزدیک تمام شہری برابر ہوتے ہیں، وہ کسی ایک گروہ کا فیصلہ دوسرے پر مسلط کرنے یا تھونپنے کا اختیار نہیں رکھتی کیونکہ ریاست تمام شہریوں کی ہوتی ہے اور سب سے حقوق کے تحفظ کے مساوی رضاکارانہ معاہدے میں جڑی ہوتی ہے اور انکی ضامن ہوتی ہے۔ وہ شہریوں میں مسلمان کافر کی بناء پر تفریق نہیں کر سکتی بلکہ اسکا فرض یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہر شہری کو اپنے اپنے مذہبی عقیدہ اور نظریہ رکھنے پر آزاد ہونے، اسے اپنی نجی زندگی پر نافذ کرنے اور اس کے مطابق ذاتی زندگی بسر کرنے کا بھرپور موقع ملے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت یا عدم تحفظ کا احساس نہ ہو۔ اس سلسلے میں اسے شہریوں کے ایمان، عقیدے جیسے ذاتی معاملات سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بنیاد پر مساوی سلوک کی بجائے امتیازی سلوک کا حق رکھتی ہے۔ ریاست کو عقائد اور عبادات کی آزادی کے تحفظ کیلئے سہولت کار کا فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے۔
کافر قرار دینے کا اختیار ریاست کو دیا جائے یا علماء کو اتھارٹی بنا دیا جائے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ مسلمان کوئی باقی نہ بچے گا بلکہ بدعتی، گستاخ، مشرک، کافر ہی بچیں گے کیونکہ یہ سلسلہ لامحدود ہے اور مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ ایسا نہیں جس پر کفر و شرک و بدعت وغیرہ کے فتوے موجود نہ ہوں۔ جنت، جہنم جیسے فیصلے ماورائی معاملات میں آتے ہیں اور اگر کوئی زمین پر ماورائی اتھارٹی بن کر ہی یہ فیصلے تھونپنا شروع کر دے تو پھر یہ نفرت انگیزی اور عصبیت پر ہی جا کر منتج ہوتا ہے۔
کسی کی جنت جہنم کی اس قدر متشدد فکر کیوں ہونی چاہیے کہ اسکے خیالات و نظریات رکھنے اور انکے اظہار کے بنیادی حق کے احترام کی بجائے اس کو چھیننے کے درپے ہوا جائے۔ دنیا میں کوئی بھی دو انسان سو فیصد ایک دوسرے سے متفق نہیں ہو سکتے۔ خود کو اعلیٰ ہدایت یافتہ اور باقی انسانوں کو نیچ سمجھنے کی بجائے انسانیت اور اختلاف رائے کے باہمی اصول پر بھی تو متفق ہوا جا سکتا ہے جس میں ہم خود کو سچائی کے ماؤنٹ ایورسٹ پر براجمان نہ سمجھا جائے اور خود کے غلط ہونے کا امکان بھی ہمیشہ پیش نظر ہو اور مسلکی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تعصبات سے بلند تر ہو کر انسانیت کی سطح پر سوچا جائے۔ خدا کے کام خدا کو ہی کرنے دیں اور ہم اپنے کاموں پر دھیان رکھیں۔

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ایسی پرامن فضا کیلئے کوشاں ہوں جس میں ہمیں بھی اور ارد گرد کے مختلف الخیال لوگوں کو بھی اپنے خیالات اور نظریات رکھنے اور ان کے اظہار کا بھرپور حق ہو۔ خیالات اور عقائد پر مثبت اور علمی بحثیں ضرور ہوں لیکن نفرتیں جنم نہ لیں اور اپنا نظریہ، عقیدہ یا ورژن دوسروں پر تھونپنے کی کوشش نہ ہو۔ کسی پر ظلم کی مذمت کیلئے ہمیں اسکے عقیدے اور نظریے کو نہ دیکھنا پڑے، نہ ہی افسوس کے اظہار کیلئے ہمیں نظریاتی اختلاف کیوجہ سے تامل ہو اور نہ ہی ہمیں ظلم پر افسوس کی بجائے یہ افسوس کھائے جا رہا ہو کہ ظلم کا شکار ہونے والا ہمارے سے مختلف نظریہ رکھتے ہوئے کیوں مر گیا اور ہمیں اسکی آخرت اور خداوند قدوس سے اس کے معاملات کی بجائے دنیا میں اس پر بیتنے والے ظلم کی فکر ہو جسکے لئے ہم آواز بلند کریں۔ شاید ایک تکثیری اور مختلف الخیال سماج اور معاشرے کیلئے باہمی انسانی بقا کا یہی اصول ہو سکتا ہے۔

Thursday, 23 June 2016

دعوتِ افطاری


زندگی میں ہم نے بہت گناہ کیے اور بندے بشر ہیں، کچھ گناہ خود بخود ہم سے ہو گئے، لیکن کسی کی دعوتِ افطاری قبول نہ کرنے کا گناہ ہم سے کبھی نہ ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی صورتِ حال نازک ہونے کی بجائے معمول پر رہی تو ایسا گناہ کبھی سرزد نہ ہو۔ رمضان شروع ہوتے ہی فیس بک کے کور فوٹو پر واضح پیغام چسپاں کر دیا کہ ”مجھے دعوتِ افطاری سے پیار ہے“۔ گو کہ کامل علم تھا کہ فیس بک پر ہمارے ساتھ ایڈ شدہ لوگ بھی ہمارے جیسے ہی کمینے ہیں اور دوسروں کی جانب سے ہی دعوتِ افطاری کے انتظار میں ہیں، لیکن پھر بھی ہمت تو نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ڈھٹائی میں گہرائی کی حد سے بھی گزر کر دھنس جانا چاہیے۔
رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہوتا ہے، مگر رحمت کے عشرے میں ہم پر دعوتِ افطاری جیسی کوئی رحمت نازل نہ ہو سکی، شاید ہمارے نصیب میں نہ لکھا تھا لیکن ہم پھر بھی پرامید تھے کیونکہ زیادہ تر افطاری کی دعوتوں کا رجحان دوسرے عشرے کے دو تین روزے گزرنے کے بعد زور پکڑتا ہے۔ خیر، بخشش والے عشرے میں وہ باسعادت گھڑی آ گئی جس میں ہمیں ایک عزیز نے دعوتِ افطاری کا پیغام دیا۔ ایک لمحے کو ہم نے سوچا کہ فورا قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ روایتی طریقے سے مجبوریوں کی ایک فہرست بیان کریں اور پھر آخر میں ایسا ظاہر کریں کہ ہم مصروف تو بہت ہیں، البتہ ان پر احسانِ عظیم کرتے ہوئے مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالنے کی گنجائش پیدا کریں گے، مگر پھر کفرانِ نعمت کے خیال سے اگلے ہی لمحے ”ہاں“ کر دی۔
اتنی جلدی اپنی دعوت کے شرف قبولیت پا جانے پر وہ عزیز ایک لمحے کیلئے تو بھونچکا کر رہ گئے، لیکن پھر جلد ہی سنبھل گئے۔ غالب گمان ہے کہ انہیں ہماری شتابی سے یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہم پہلے ہی کسی دعوتِ افطاری کے انتظار میں بیٹھے تھے، اسلئے دعوت قبول کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ خیر انہوں نے روزہ کھلنے کے وقت سے گھنٹہ پہلے گھر سے نکل آنے کا کہہ دیا جسکی وجہ انکے گھر جا کر معلوم پڑی۔ چونکہ افطاری کے لوازمات اور سامان سے متعلق غیر یقینی کیفیت تھی، لہٰذا حفظ ماتقدم کے طور پر گھر سے نکلتے وقت لسی کے دو تین جاموں سے روزے کو ٹھنڈک اور تازگی بخش دی۔
ہمارے عزیز ختم درود والے مذہبی تھے اور افطاری پر مدعو ہونے والے ہمارے علاوہ تقریبا سبھی احباب ختم درود والے ہی تھے۔ گفتگو چلی تو برطانیہ سے تازہ تازہ پلٹنے والے صاحب نے مسلک کے اندر پھوٹ بیان کرنا شروع کی۔ انکے بقول وہاں نمازِ تراویح ساڑھے بارہ بجے ختم ہوتی ہے اور دعوت اسلامی والے ایک بجے، نیریاں شریف اور جھنگ شریف والے سوا دو اور ایک اور ٹولہ ساڑھے تین بجے جا کر روزہ بند کرتا ہے، افطاری بہرحال یہ سب اکٹھے ہی کرتے ہیں۔ اسکے بعد اتحادِ مسلک کا لازمی سیشن چلا۔ ہمیں چونکہ کچھ خاص دلچسپی نہ تھی، لہٰذا ہاں ہوں سے ہی کام چلایا۔ پھر لمبا چوڑا ختم شریف شروع کیا گیا اور ہم دوسروں کیطرح سر جھکا کر بیٹھ گئے اور سوچوں میں مستغرق ہو گئے۔ اب ہمارے شباب کو سامنے رکھ کر یہ نہ پوچھ بیٹھیے گا کہ وہ سوچیں کونسی تھیں۔ خیر، مکمل طور پر بھی غلط نہ سوچیے گا، کچھ اثر لسی کا بھی باقی تھا۔
عالم استغراق سے بیدار ہو کر سر اٹھایا تو ختم جاری تھا مگر افطاری کا سامان رکھا جا چکا تھا۔ کن اکھیوں سے میز پر جائزہ لیا تو فروٹ کا غلبہ تھا، پہلا خیال ذہن میں آیا کہ شاید ہمارے عزیز سو فیصدی ویجیٹیرین نہ ہوں۔ فکر مگر یہ لاحق ہوئی کہ کہیں اینٹی پکوڑا نظریات و خیالات کے حامل ہی نہ ہوں۔ اب میز پر جو پکوڑوں کی تلاش شروع ہوئی تو چار پانچ بار پورے ٹیبل کی سکروٹنی پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امید کی شمع تب روشن ہوئی جب اچانک فروٹ کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی ڈبیا میں چٹنی نظر آ گئی۔ اس سے سانس میں سانس آئی اور دل کو سکون اور حوصلہ ہو گیا کہ پکوڑے یا ان سے ملتی جلتی کوئی چیز میز پر تو نہیں، البتہ ارد گرد ضرور موجود ہو گی۔
ختم شریف سے پہلے ہمارے عزیز نے سب کو بتا دیا تھا کہ قریبی مسجد والے ان کے مفتی صاحب سے ایک منٹ پہلے روزہ افطار کرواتے ہیں اور شہر بھر میں جن مفتی صاحب کے کیلنڈر کو وہ فالو کرتے ہیں، وہی کیلنڈر مستند ہے، لہٰذا ایک منٹ صبر بھی کرنا ہو گا۔ لمبے چوڑے ختم شریف کے بعد دعا شروع ہوئی تو دعا والے صاحب نے حضرت آدمؑ سے لیکر اپنے بچوں تک کا تمام شجرہ گنوا کر بخشش کی دعا کی۔ ہم نے دعا کیلئے ہاتھ تقریبا گود میں ہی رکھے تھے، لہٰذا بازو تھکاوٹ سے محفوظ رہے۔
افطاری کا سائرن بجا تو اب مکمل طور پر روزہ افطار کروانے کا اختیار ہمارے میزبان کے ہاتھ میں تھا کہ ان کا ایک منٹ گزرے، چاہے آدھے گھنٹے میں گزرے، اور وہ روزے کی افطاری کا اعلان کریں۔ خیر انکا ایک منٹ جلد دو تین منٹوں میں ہی گزر گیا اور انہوں نے ٹوٹ پڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پکوڑے بدستور غائب تھے۔ روح افزا کی ”روح“ کی بجائے جام شیریں میں ”شیریں“ کیوجہ سے ہمیں جامِ شیریں زیادہ ٹھرکیانہ ہونے کیوجہ سے پسند ہے۔ یہ لطیف نکتہ ہے، گہرائی سے غور کرنے پر سمجھ آئے گا۔ ہمارے میزبان نے بھی جام شیریں ہی گھول رکھا تھا۔
روزے کو قوت اور فرحت بخشنے کیلئے ہم نے ایک تو اپنی سست طبیعت کے باعث لنچ کافی لیٹ کیا تھا اور پھر لنچ اچھا خاصا کر لیا تھا، لہٰذا جامِ شیریں کا آدھا گلاس لینے کے بعد ہم نے آموں کو چوسنے کے انداز میں آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ کچھ دیر میں احساس ہوا کہ کہیں ہماری سپیڈ کو تاڑ کر ہمارے روزے پر ہی شکوک و شبہات قائم نہ کر لئے جائیں، لہٰذا خراماں خراماں افطاری کی بجائے تھوڑی سی رفتار تیز کی۔ فروٹ چاٹ غضب کی تھی، اسکے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی سلیقے سے تیار کی گئی تھیں لیکن اتنے میں کسی گمنام گوشے سے اچانک کم بخت پکوڑے، سموسے اور کباب وغیرہ سامنے آ گئے یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لائے گئے اور ہم نے باقاعدہ حملہ داغ دیا۔
محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے تھے مگر ہم نے اس وقت جتنے حملے کیے، ان میں سے کم از کم پینتیس تو ہمیں یاد ہیں، باقی کا علم نہیں۔ چونکہ ہم رفتار وغیرہ کے احساس سے عاری ہو چکے تھے اور بس جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے میں ہی لہو گرم کرنا ذہن میں تھا، لہٰذا اردگرد سے کلی طور پر بے خبر تھے۔ اتنا معلوم رہا کہ ہمارے حملوں کے دوران روٹی نماز سے پہلے کھانا کھانے یا نماز پڑھ کر کھانا کھانے کے پیچیدہ نکتے پر باقاعدہ مناظرہ ہوا اور نتیجہ ”پہلے نماز، پھر کھانا“ کی صورت میں سامنے آیا۔
گیٹ سے باہر نکل کر قریبی مسجد کیطرف ہم بڑھے تو میزبان نے بتایا کہ وہ بدعقیدہ و بدمذہب لوگوں کی مسجد ہے اور کچھ دور ”صحیح العقیدہ“ مسجد میں ہمیں لے جایا گیا۔ امام صاحب کے شین قاف عین وغیرہ زبردست تھے۔ کافی لمبے عرصے بعد مسجد میں جانا ہوا تھا، نماز بھی مغرب کی تھی اور ہم آخری رکعت میں پہنچے۔ اب دو رہ جانے والی رکعتیں ساتھ ملانے میں یہ مسئلہ ہوا کہ آیا دونوں میں التحیات کیلئے بیٹھنا ہے یا ایک ہی بار دونوں پڑھ کر بیٹھنا ہے۔ اسی الجھن میں ایک رکعت پڑھ کر دو تین بار اٹھے، پھر بیٹھے اور آخر میں بچپن میں قاری صاحب کی بتائی گئی تکنیک زہن میں آئی کہ جب جماعت سے کچھ رکعتیں رہ جائیں تو انہیں الٹ طور پر ساتھ ملایا جاتا ہے، لہٰذا ہم التحیات میں بیٹھ گئے۔
امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد کچھ لوگ ہمارے سر پر ٹوپی نہ ہونے پر گھورتے پائے گئے۔ پھر ہماری ہونٹ اور زبان دونوں خاموش تھے، اس پر بھی گھورا جانے لگا تو ہم نے کشش ثقل اور دفع کی قوت (repulsion) کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ہونٹوں کو مخالف سمت میں ہلانا شروع کر دیا۔ فرض کے بعد والی نماز میں بھی ایک دو بار رکعتیں بھولے، شنید ہے کہ دو سنتیں اور تین نفل پڑھے تھے۔ اس سے پہلے کہ کوئی ہم تک ہماری نماز سیدھی کرانے کیلئے پہنچتا، ہم نے جلد از جلد تین سیکنڈ کیلئے ہاتھ اٹھائے، جسے دعا کرنا کہا جاتا ہے، اور مسجد سے باہر آ کر سکون کا سانس لیا۔
ڈنر پر احباب بتا رہے تھے کہ کیسے فلاں فلاں حاجی صاحب، قاضی صاحب، چوہدری صاحب نے مساجد اور مدرسوں کے نام پر کئی کئی ایکڑ پلاٹ الاٹ کروائے اور پھر یا تو مسجد کبھی بنی ہی نہیں، یا پھر ایک کونے پر چھوٹی سی مسجد بنی اور دیگر رقبے پر کوٹھیاں اور پلازے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے جلدی جلدی بریانی کی ایک پلیٹ زہرمار کی اور گفتگو جاری ہی تھی کہ میزبان صاحب کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کیسے ہم دعوتِ افطاری کیوجہ سے انکے منوں ٹنوں احسان تلے دب چکے ہیں۔ پھر اجازت لی اور واپس آ گئے۔ یوں دعوتِ افطاری کا اختتام ہوا۔

نوٹ: سفرنامہ لکھنے کیلئے سفر کرنا لازم نہیں ہوتا، ایسے ہی دعوتِ افطاری کا احوال لکھنے کیلئے افطاری کی کہیں سے دعوت ملنا بھی ضروری نہیں۔

Thursday, 16 June 2016

عورت ایک انسان؟

گزشتہ تین ہفتوں میں تین لڑکیوں کو زندہ جلا دیا گیا، جن میں سے دو لڑکیوں کو لاہور اور قصور اس ایک ہفتے میں جلایا گیا، جبکہ ملتان میں غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی، داماد اور سمدھی کو گولی مار دی۔ اسکے علاوہ لیہ میں چائے بنانے میں دیر کرنے پر خاوند نے بیوی کو قتل کیا اور لاہور میں ہی ۲۳ سالہ مسیحی نوجوان نے شادی اپنی مرضی سے کرنے پر بضد اپنی سوئی ہوئی بہن کے سر پر ڈنڈا مار کر ہلاک کر دیا ۔ جیو نیوز کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۵ء میں غیرت کے نام پر ۱ ہزار ۹۶ خواتین کو قتل کیا گیا اور خواتین کو جلانے کے ۱۴۴ واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ۲۰۱۴ء میں ۱۵۳ خواتین کو آگ یا تیزاب سے جلایا گیا۔ یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے اور کسی طرح مین سٹریم میڈیا پر آ گئے، حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جو خواتین کے حوالے سے سماجی پسماندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، لڑکیوں کو جلانے اور تیزاب پھینکنے وغیرہ کے واقعات میں مردانہ بالادستی اور خواتین کو کمتر مخلوق سمجھتے ہوئے قوت اور برتری کے زعم کے اظہار اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی ذہنیت مشترک ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ان کے لئے بھی طمانچہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ عورت کو سارے حقوق دے بیٹھا ہے اور مزید کسی حق کا مطالبہ مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ انسانی حقوق ”دے“ یا ”دلوا“ کر احسان نہیں کیا جاتا بلکہ کسی بھی انسانی معاشرے میں پیدا ہونے والا ہر انسان پیدا ہوتے ہی ان کا حق دار ہو جاتا ہے۔ انسانوں کا آزاد زندگی گزارنا اس وقت بھی اتنا ہی حق تھا جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا جتنا آج ہے۔
بہت سی غلط فہمیوں کے علاوہ خواتین کے استحصال کے وجود کو ہی تسلیم نہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عورت مرد کیلئے نعمت ہے، عورت مرد کی زینت ہے، عورت مرد کی غیرت ہے، اس قسم کے بظاہر خوشنما جملے عورت کے مقام کو طے کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے گھناؤنی سوچ عورت کے اپنے وجود کو تسلیم نہ کرنے اور اسے مرد کے حوالے سے شناخت دینے کی ہوتی ہے۔ عورت مرد کی زینت، غیرت، نعمت، عزت وغیرہ کے حوالے سے پہچانے جانے کی بجائے اپنا آزاد وجود رکھتی ہے جیسا کوئی بھی مرد رکھتا ہے۔ عورت کا کسی بھی حوالے سے کردار اور مقام تسلیم کرنے سے پہلے اسکا آزاد اور مکمل وجود تسلیم کرنا آتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی کی غالب اکثریت غیرت کے تصورات اور خاندانی نظام کی فرسودہ اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے اور خواتین پر تشدد کے دیگر واقعات میں ذمہ دار بھی ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کو ہی ٹھہراتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے میں اپنی مرضی شامل کروانے کیلئے کوشش ہی کیوں کی، بلکہ بہت سوں کے نزدیک تو اس پر لڑکیوں کی جان لینا جرم ہی نہیں بلکہ فخر کا باعث ہوتا ہے۔
خواتین پر ظلم پر زبانی کلامی افسوس اور غیرت اور خاندانی نظام کی استحصالی اقدار کی مذمت نہ کرنا یا انہیں درست ماننا کھلی منافقت ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا باعث بننے والی خاندانی نظام کی اقدار وہ ہیں جن میں خاندان کی عزت اور غیرت عورت کی ٹانگوں کے درمیان فرج اور پردۂ بکارت میں رکھ دی جاتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل کرکے غیرت کا مظاہرہ کرنے والے اور ان کا دفاع کرنے والے دماغ کی بجائے عضو تناسل سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر لڑکی اپنی مرضی سے کسی کیساتھ ازدواجی تعلق قائم کر لے تو خاندان کی غیرت پر دھبہ شمار ہوتا ہے اور اگر لڑکی کی مرضی کے بغیر اسکا خاندان نکاح کی بیڑیاں پہنا کر پوری زندگی ریپ کیلئے کسی مرد کے حوالے کر دے تو یہ عین ”خاندانی“ ہونے کی نشانی شمار ہوتی ہے۔
پسند کی شادی یا لو میرج اور محبت کے فطری عمل کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنا کوئی گالی نہیں اور نہ ہی شرم کی بات ہے بلکہ شادی ہوتی ہی رضامندی اور پسند پر ہے، زبردستی یا دباؤ پر ازدواجی رشتے میں جنسی تعلق شادی نہیں بلکہ ریپ ہوتا ہے۔ شادی کا مطلب خوشی ہوتا ہے، جبر نہیں۔ باہمی محبت فطری جذبہ ہے جو رشتوں کی بنیادوں کو مضبوط بناتا ہے، جبری تعلق میں ازدواجی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، مگر اعتماد، خود سپردگی، چاہت، احترام، قلبی التفات اور رشتے کی مٹھاس تعلق میں پیدا نہیں ہو سکتی۔
آدھی آبادی کو سماج میں تخلیقی عمل سے دور رکھ کر، پابندیاں لگا کر اور قید کر کے کسی بھی معاشرے میں مثبت نتائج برآمد نہیں کیے جا سکتے۔ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ماہرین بشریات کے نزدیک زراعت کی دریافت، دستکاری اور اس میں جدت لانے اور لباس کی ترقی یافتہ شکل کی تیاری کا سہرا خواتین کے سر جاتا ہے۔ مرد جب شکار کرنے جایا کرتے تھے تو خواتین گھاس پھونس اکٹھا کر کے اس سے بھی خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتیں اور یوں زراعت کی بنیاد پڑی۔ یہ تاریخ انسانی کی وہ عظیم دریافتیں ہیں جنہوں نے انسانی سماج کو نئی بلندیوں اور عظمتوں پر پہنچایا۔
عورت پہلے انسان ہوتی ہے اور بعد میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی یا کسی رشتے کے حوالے سے اسکی پہچان ہوتی ہے۔ جنہیں عورت کو انسان سمجھنے کی تمیز نہیں ہوتی، وہ عورت کے حوالے سے دیگر رشتوں میں کیسے تمیز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ شادی کا مطلب آزاد انسانوں کے تعلق کی بجائے ملکیت یا جنسی کھلونے یا کام کرنے والا آلہ سمجھتے ہیں، انکے لئے جیتی جاگتی انسان عورت کی بجائے کام کرنے کیلئے ملازم اور جنسی روبوٹس خریدنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
عورت کے تحفظ کیساتھ معاشی آزادی بہت اہم ہے۔ پدرانہ معاشرہ ایک محفوظ، مضبوط اور اپنے سہارے پر کھڑی عورت سے کافی خوفزدہ رہتا ہے اور طعن و تشنیع کے ذریعے زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے پہلے دوسری عورتوں کو عبرت پکڑتے ہوئے سو بار سوچنا پڑے۔ ایسے معاشروں میں ایک آزاد انسان کیطرح جینے والی عورت ڈراؤنا خواب ہوتی ہے کیونکہ اس پر آسانی سے مرضی مسلط کرنے کی خواہش اور سوچ سے متعلق عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ پدرانہ معاشرہ عورت کیلئے ایسا کردار چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خواہشات اور احساسات کا گلا گھونٹتے ہوئے مردانہ بالادستی کے متعین کئے گئے راستے پر ہی چلے۔
ہمارے معاشرے میں بھی ورکنگ وومن اور تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کے بارے میں ”ہاتھ سے نکل جائے گی“، ”قابو میں نہیں آئے گی“ وغیرہ جیسے تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات کا مقصد عورتوں کو صرف اور صرف ”اپنی مرضی“ پر چلانا ہی ہوتا ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے خواتین کو تعلیم اور ہنر سکھانے اور مواقع فراہم کرنے کے علاوہ اجرتی مساوات انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ معاشی تحفظ کیساتھ اپنی زندگی کے فیصلوں کیلئے کسی سہارے کے تابع نہ ہوں۔

خواتین کی ان کے حقوق سے آگاہی اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ انہیں اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ انکے لئے جدوجہد کریں، منظم ہو کر حقوق اور مساوات کی تحریکوں کا حصہ بنیں اور معاشرتی سطح پر پائے جانے والے جنسی تضادات اور گھٹن کے خاتمے کی طرف بڑھیں۔ آزاد اور بااختیار عورت کے بغیر کسی بھی آزاد انسانی سماج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ترقی پسند سماج کیلئے خواتین پر ظلم، جبر اور استحصال کے افسوسناک حالات و واقعات اور جنسی تعصبات و تضادات کو پیچھے چھوڑنا انتہائی ضروری ہے۔

Sunday, 5 June 2016

مطالعۂ شبِ امتحان


روم میں مارشل لاء سے بھی کڑی ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا تھا۔ کسی کو کھجلی کی بھی اجازت نہ تھی کہ اس سے شور پیدا ہوتا ہے اور روم کی خاموشی اور سکون میں خلل پڑتا ہے۔ اکمل جو کامیڈی فلموں اور شوز کا نشئی تھا، اسے سختی سے ہدایت تھی کہ پیٹ دوہرا کر دینے والے پنچ پر بھی صرف بلا آواز مسکرانے پر اکتفا کرے گا۔ سیل فونز کو سائلنٹ موڈ سے ہٹانے پر پابندی اور کالز، روم سے باہر جا کر سننے پر احکامات نافذ ہو چکے تھے۔ میوزک سن کر جوش سے جھومنے کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اختر جو ان دنوں تازہ تازہ یوٹیوب کھلنے پر اسکی تیز رفتار سے میوزک سے لطف اندوز ہوئے جا رہا تھا، محض بائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر ہی موسیقی کا ساتھ دے سکتا تھا۔
چے صاحب کا صبح پیپر تھا اور انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد شبِ امتحان کا چاند نظر آتے ہی یہ سب اقدامات اور احکامات جاری فرما دیے۔ گو کہ باقی روم میٹس کے پرچے نہیں تھے کیونکہ وہ الگ الگ ڈیپارٹمنٹس سے تھے۔ چے صاحب کی خاصیت تھی کہ مخلوط ڈیپارٹمنٹس سے نابغے چن چن کر اپنے روم میں انہوں نے جمع کر رکھے تھے۔ یہ اقدامات ان تمام نابغوں کے درمیان بقائے باہمی کے سمجھوتے اور معاہدے میں شامل تھے جنکی پابندی رضاکارانہ طور پر کی جاتی تھی۔ جب بھی کسی کا پیپر آتا تو وہ روم کا کنٹرول سنبھال لیتا اور صوابدیدی اختیارات اسکے بائیں ہاتھ پر ہوتے۔ دیگر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایگزامینیشن ہال میں اترنے کیلئے اسکے پٹھے مضبوط کریں۔
ہاسٹل بھر سے بھانت بھانت کے ماہرین مضمون قسم کے سٹوڈنٹس پکڑ کر لائے گئے۔ بال پوائنٹس کا پورا ڈبہ میز پر موجود، پیپر شیٹس کی کوئی کمی نہیں، بھانت بھانت کے solution manual، ہینڈ آؤٹس، نوٹس اور ان سب کے درمیان چے صاحب اک شان کیساتھ رونق افروز گہرے مطالعے میں مصروف تھے۔
جب مختلف قسم کے ماہرین سے چے صاحب سمجھ چکے اور کچھ کانسیپٹس کا انکی کھوپڑی کیطرف بہاؤ ہوا تو کچھ ہی دیر بعد انکی سمجھنے کی صلاحیت میں موجود توانائی کی مقدار میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ آصف نے جھٹ سے خشک میوہ جات اور چینی پیش کی۔ چے صاحب کا عقیدہ تھا کہ چینی رٹے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کرتی ہے۔ ویسے بھی وہ شبِ امتحان شریف میں دماغ میں اتنی دیر تک ہی چیزیں بٹھانے کی کوشش کرتے کہ امتحانی ہال سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تک وہ دماغ میں موجود رہیں۔
رات اتنی گہری نہیں ہوئی تھی کہ اچانک چے صاحب کو خیال آیا کہ انہوں نے تو ٹیکسٹ بک ابھی تک خریدی ہی نہیں تھی۔ اس وقت کسی سے ملنا بھی محال تھا کیونکہ سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ بھاگ دوڑ ہوئی اور ایک کھلی ہوئی بک شاپ سے اکمل کتاب پکڑ کر لے آیا اور چے صاحب دوبارہ سے مستغرق ہو گئے۔ آصف اپنے خراٹوں کو میوٹ پر لگا کر سو گیا اور باقی روم میٹس جن میں لیٹ نائٹ جاگنے کے عادی بھی تھے، وہ بھی محو استراحت ہو گئے کیونکہ عالمِ تنہائی کا پہر شروع ہونے والا تھا۔
صبح صادق کے وقت شبھ کامناؤں کا مرحلہ آیا جس میں چے صاحب نے گھر فون کر کے اماں اور ابا دونوں سے فردا فردا دعائیں وصول کیں۔ حفظ ماتقدم کے طور پر یہ بھی بتا دیا کہ تیاری تو بہت اعلیٰ ہے لیکن ”وقت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا“۔ ایگزامینیشن ہال کے دروازے تک روم میٹس باقاعدہ چھوڑنے آئے، یوں پہلی شبِ امتحان شریف کا اختتام ہوا۔


اور ایگزامینیشن ہال میں سارا وقت چے صاحب اسی فکر میں غلطاں رہے کہ چند گھنٹے کیلئے ٹیکسٹ بک خریدنے پر پیسے کاہے کو ضائع کیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔