Tuesday, 29 September 2020

کیا سارا فیمینزم ردی ہے؟

 

استعمار کا آزمودہ نسخہ رہا ہے کہ کسی قوم کو پہلے غیر مہذب، اجڈ، گنوار، جاہل اور وائلنٹ قرار دے دیا جائے جسکے بعد 'تہذیب' سکھانے کیلئے ہر قسم کی لوٹ مار، بربریت، قبضہ گیری اور حقوق سلب کرنے کا جواز نکل آتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دور میں شناخت کی سیاست اور ایکٹوزم میں بھی یہ تعصبات گھس آئے ہیں۔ حال میں فیمنسٹوں کی جانب سے ”تمام مرد کچرا/ ریپسٹ/ وائلنٹ وغیرہ ہیں“ کا نعرہ اور سوچ زیر بحث ہے۔ جب انسانوں کی آدھی آبادی پر مشتمل شناخت کو مطعون کرنے پر سوال ہوتا ہے تو فوری طور پر پینترا بدلا جاتا ہے کہ یہ نعرہ سارے مردوں کیخلاف نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے فیمنزم کے تنقیدی جائزے کے علاوہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا اسکی زد میں صرف مجرم سوچ یا کردار والے مرد ہی آتے ہیں اور اسکے جواز میں پیش کئے جانے والے دلائل جواز کیلئے کافی ہیں۔

اس قدر تو ہمیں بھی علم ہے کہ ایسے نعرے تمام مردوں کیخلاف نہیں ہیں۔ سامراجی امدادی اداروں اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور مردوں کے بغیر این جی اوز اور اشرافیہ میں ایک دوسرے کے کرتوتوں، جرائم اور استحصال کی پردہ پوشی کے بغیر ایلیٹ کلچر ایک دن نہیں چل سکتے۔کسی بھی نسلی، سیاسی، مذہبی گروہ کی فیمنسٹوں سے ان گروہوں کے مقدس مردہ و زندہ مردوں کے بارے میں پوچھیں تو زیادہ تر کے ہاں انکے لئے استثنائی گنجائش موجود ہو گی، بھلے کیسے ہی جرائم بالخصوص عورت دشمن جرائم میں ملوث ہوں۔ مختلف اقوام کی مقدس ہستیاں، مقدس کتب و عقائد، نسل پرستی،قومی تاریخ، اوہام، طبقاتی عصبیتیں انکی فیمنسٹوں کے ہاں بھی بالادست بیانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں عورتوں کے نام پر مزید پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مغربی فیمنزم، اسلامی فیمنزم، ہندوتوا فیمنزم چند ایسی مثالیں ہیں جو ان رجحانات سے لتھڑی ہوئی ہیں۔

کسی قوم یا شناخت کو مشکوک یا مجرم قرار دیا جائے تو اسکے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسکا اندازہ پاکستانیوں سے زیادہ کسے ہو سکتاہے۔ ہماری مزاحمتی آوازیں اور جدوجہد دنیا میں کوئی اثر نہیں رکھتی۔ ہماری جیلوں اور عقوبت خانوں میں کئی رائف بداوی بلکہ رائف سے کہیں زیادہ عظیم مزاحمتی کردار ادا کرنے والے قید ہیں یا قید و بند بھگت چکے ہیں لیکن انہیں کوئی جانتا نہیں کیونکہ پاکستانی قوم پر دہشتگرد قوم کا لیبل چسپاں ہے۔ شناخت پر فرد جرم سے اس شناخت کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس رجحان کو حوصلہ افزاء جواز مل جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نچلے اور کمزور طبقات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنکی آواز مختلف ہونے کے سبب پہلے ہی دبا دی گئی ہوتی ہے۔ مشعال کو شہید ہو کر سامنے لانا پڑتا ہے کہ پختونخواہ کی ایک چھوٹی یونیورسٹی میں بھی پراگریسو آواز موجود تھی۔ مشعال کے باپ کو بیٹے کی شہادت کے بعد کوریج ملتی ہے تو سامنے آتا ہے کہ ایک عام اور سادہ انسان کیسے نفیس اور ترقی پسند خیالات رکھتا ہے۔ مطیع اللہ جان اغواء ہوتا ہے تو اسکی کار بتاتی ہے کہ معاشی سختیوں میں بھی ایک صحافی کیسی جرأت دکھا رہا ہے۔ منظور پشتین کو ریاست سے ٹکرا جانا پڑتا ہے اور پھر معلوم پڑتا ہے کہ مٹی کے گھر کا باسی کس پائے کا ترقی پسند ہے۔

فیمینزم کا پراپیگنڈہ شد و مد سے پھیلایا جا رہا ہے کہ تمام مرد مشکوک یا مجرم ہیں جب تک کہ وہ بیگناہ ثابت نہ ہو جائیں۔ اسکے قانونی و عدالتی نظام پر منفی اثرات الگ ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ طاقتور طبقات کے مردوں کو فقط خوشنما لفاظی، چند نعروں اور بیانت کیوجہ سے اس کیٹیگری سے باہر نکلنے کی سہولت حاصل ہے۔ کئی ملکوں پر بم گرا کر مردوں، عورتوں، بچوں کو بھون ڈالنے والے اوباما اور ہلیری کلنٹن بھی فیمنسٹ ہیں۔یہ اتفاق نہیں کہ فیمینزم اور مجموعی طور پر پولیٹیکل کریکٹنیس کے فلٹر، شرائط اور معیار اصطلاحاتی اکیڈیمیا اور فیشن ایبل لفاظی والا مخصوص طبقہ ہی پار کرتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا وہ طبقہ زیادہ مہذب اور پرامن ہے اور وائلنس کا بہاؤ، منصوبہ بندی اور ڈھانچے عوامی ہیں یا ان نظریات اور ووک کلچر میں مسئلہ ہے جو عوام دشمن ہیں۔ سیاسی درستگی والے تسلیم نہیں کرتے لیکن انکے رجحانات عوام کیخلاف ہیں۔ میلانیا و ایوانکا ٹرمپ سے لیکر محمد بن سلمان تک خواتین کے حقوق کے نعرے لگا رہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ کھوکھلے نعرے ایسا ہتھیار ہیں جنکے ذریعے سفاک آمریت ذرا ماڈریٹ نظر آنے لگتی ہے اور عورتوں کی ایک پوری کھیپ کی حمایت مل جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک نامور پاکستانی فیمنسٹ نے میلانیا ٹرمپ سے ایوارڈ وصول کیا ہے۔

فیمینزم نے مردوں سے تعصب کیوجہ سے انہی اقدار اور ذرائع پر حملہ شروع کر دیا جو انسان کو فطرت کی سختیوں اور محدودیت سے آزادی دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی نے عورتوں کی آزادی میں فیمینزم سے کہیں زیادہ کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ اس میں سب سے زیادہ کاوشیں مردوں کی ہیں۔ سائنس جو تعصبات سے بلند ہو کر فطرت کے فہم کا علم ہے، وہ بدترین حملوں کی زد میں آیا۔ نئے جنسی تعصبات متعارف کرائے گئے جن میں سے ایک احمقانہ رجحان 'اونلی ویمن' سائنس کانفرنسز بھی تھا۔ نامور فیمنسٹ فلسفیوں کی جانب سے نیوٹن کی مساواتیں جنسی مساواتیں قرار پائیں۔ آئن سٹائن کے نظریات کی تشریح یہ پیش ہوئی کہ چونکہ مرد دیگر تمام مخلوقات پر برتری چاہتا ہے، اسلئے روشنی کی رفتار کو تمام رفتاروں پر فوقیت مردانہ ذہنیت کا اظہار ہے۔ مائع میکانکس (فلوئڈ میکانکس) کے مقابلے میں ٹھوس میکانکس (سالڈ سٹیٹ فزکس)کی ترقی کی توجیہہ یہ پیش ہوئی کہ اسکی وجہ یہ نہیں کہ مائع میکانکس کی مساواتیں انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں بلکہ چونکہ مردانہ عضو کرختگی اور ایستادگی سے منسلک ہے جبکہ نسوانی عضو ماہواری اور دیگر وظائف کے سبب مائع سے وابستہ ہے، اسلئے مائع میکانکس پدرسری کیوجہ سے پیچھے رہ گئی۔

اسی اور نوے کی دہائی کی سائنس وارز میں فیمینزم علی الخصوص پوسٹ ماڈرنسٹ فیمینزم، پوسٹ کالونیل فیمنزم اور ایکو فیمینزم ایسے رجحانات نے بھی سائنس پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ معروضی حقائق کو پس پشت ڈال دینا اور ہر قسم کی معروضیت کو لتاڑنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ طاقتور طبقات کو سچ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ پسے ہوئے طبقات ہوتے ہیں جو طاقت کے سامنے سچائی کے اظہار کے ذریعے للکارتے ہیں۔ جب ہر شے نیریٹو یا بیانیہ ہو گئی اور کسی بیانیے کی دوسرے بیانیے پر فوقیت یا بیانیے کی سچائی جاننے کے تمام پیمانے اور معیار حملوں کی زد میں آ گئے تو میدان خالی ہونے لگا۔ طاقتور طبقات کا تو مرغوب کھیل رہا ہے کہ وہ اپنے بیانیے کی بنیاد پر اذہان پر قبضہ جما کر راج کرتے ہیں۔ اب جبکہ چند اصطلاحات اور لفاظی کیساتھ کسی بھی فکر پر چڑھ دوڑنے کی سہولت ہو گئی تو دنیا بھر میں رائٹ ونگ بیانیوں میں جیسے ایک نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ فکری طور پر میدان انکے حق میں جا رہا تھا، دیگر بہت سے عوامل ملے اور آج ساری دنیا رائٹ ونگ جنونیت کی لپیٹ میں ہے۔ سائنس اور معروضی حقائق پر ڈینائل کا رجحان، دلائل کی بجائے خیالی حقیقی ہر قسم کی مظلومیت کے ذریعے نیریٹو کو تقویت دینا اور دیگر اس قسم کے جدید فکری ہتھیار رائٹ ونگ کو فراہم کرنے میں فیمینزم کا بہت کردار رہا ہے۔

تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج میں منطقی ربط موجود ہونا لازمی نہیں۔ فیمینزم کا ”عورت پر ایمان و ایقان“ (بیلیو ویمن) کا عقیدہ نہ صرف تجربات اور کہانیوں پر کسی قسم کا سوال کرنا ممنوع ہے بلکہ اس سے اخذ کردہ نتائج کو بھی من و عن مان لیا جائے۔ جس طرح مذہبی عقائد کی توجیہہ میں کہا جاتا ہے کہ حقیقت کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے فلاں فلاں عقیدے کو بلا دلیل مانا جائے، ایسے ہی فیمنزم ان عقائد پر لاجک یہ پیش کرتا ہے کہ عورتوں کی کیفیات و حالات اور تجربات کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے وہ جو کچھ کہیں، اسے مان لینا چاہیے۔ اس پر کوئی سوال، کوئی دلیل اور کوئی رائے پیش کرنا مینز پلاننگ کے زمرے میں آئے گا۔وکٹم ہونے کا دعویٰ ہی سچائی کی دلیل ہے، یہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ حال ہی میں بچوں میں جنسی کشش محسوس کرنے والوں نے بھی اپنا پرچم بنا لیا ہے، کمیونٹی کی صورت منظم ہوتے جا رہے ہیں اور ہیش ٹیگز، مظلومیت، شناخت پر تفاخر اور اپنی سٹوریز کیساتھ حقوق کا مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں۔ کہیں اسلام خطرے میں ہے، کہیں ہندو ازم اور کہیں سفید فام نسل پرستوں کو بے یار و مددگار مہاجرین سے خطرہ ہے۔

دہشتگردی کے رجحانات کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہےمردوں کے متشدد اور عورتوں کے پرامن ہونے کے سٹیریوٹائپس کیوجہ سے خواتین دہشتگردوں کے حملے مرد دہشتگردوں سے تین چار گنا زیادہ جان لیوا ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصور سے داعش نے خواتین ریکروٹ کر کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔فیمینزم کی اپنی دہشت پسندی کی طویل تاریخ ہے۔شہوانی آرٹ یا پورن فروخت کرنے والی دکانوں، بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹکس کی لیبارٹریوں اور ڈیپارٹمنٹس، ڈاکٹر گلڈز، حتیٰ کہ کمپیوٹر کو عورت دشمن ٹیکنالوجی قرار دیکر کمپیوٹر کمپنیوں پر بھی دہشت پسندانہ حملے ہوئے۔ کتابیں جلانے کی روایت الگ رہی ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بیشمار کارپوریٹ و دیگر آمریتوں، سامراجی حملوں اور جنگوں کو عورت کی آزادی کے نام پر فیمنسٹوں نے جواز پیش کیا۔ فیمینزم آزادی کی بات کرتا ہے لیکن یہ انتہائی حد تک کلیت پسند (ٹوٹالیٹیرین)آئیڈیالوجی ہے۔ پاکستان کی حد تک جتنی فیمنسٹیں لیفٹ کا سابقہ بھی لگاتی ہیں، وہ تقریبا تمام کی تمام بیسویں صدی کے ناکام تجربات، مصالحت پسندی اورسرمایہ دارانہ  رجعت پسندی سے وابستہ ہیں۔

فیمینزم نے علمی و فکری دیانت کے معیاروں کو بیحد متاثر کیا ہے۔ سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ انکے قبضے میں آئے اور پراپیگنڈہ کے مراکز بن گئے۔ جینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ انکے معبد ہیں۔ ہر شے کو جنسی عینک لگا کر دیکھا جانے لگا اور مردوں کو تاریخ سے مٹانے یا کم از کم انکا کردار مسخ کرنے کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔ سائنس میں نیوٹن، آئن سٹائن سے رچرڈ فائنمین تک کوئی بھی انکے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ پایا ہے۔ آرٹ، فلسفہ اور دیگر علوم و فنون کے حوالے سے بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک پیٹرن سامنے آتا جا رہا ہے کہ پہلے کوئی سوشیالوجسٹ مشاہیر میں سے کسی کے بارے میں کونے کھدرے سے کوئی شے نکال کر لائے گی، اسکے بعد مسوجنی اور ڈیڑھ درجن مزید لیبل چسپاں ہوں گے۔ اگلا مرحلہ انکی یاد یا انکے کام پر سائنسی و علمی کانفرنسز، آرٹ گیلریوں وغیرہ میں بدمزگی پیدا کرنے اور ان سے منسوب تمام تاریخی علامات کو مٹانے کیلئے پٹیشن، پروٹسٹ، حملوں والے سلسلے کا ہو گا اور اسکا نام ”رائٹس ایکٹوزم“ رکھا گیا ہے۔سوڈو سائنس، سوڈو ہسٹری، سوڈو سوشیالوجی، شاونزم سے بھرپور پلندوں کے پلندے نکلتے ہیں۔ الغرض تمام کا تمام کھوکھلے تنکوں کا آشیانہ ہے۔ جتنا کھوکھلا مگر مصالحے دار، چٹ پٹا، نفرت انگیز اور بڑا دعویٰ ہو گا، اتنا ہی مقبول ہو گا۔اختلاف اور مختلف خیالات و نظریات کیلئے عدم برداشت، جبری یکسانیت اور سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جرم و سزا کے تصورات کے حوالے سے انسانی تہذیب نے خاصی ترقی کی ہے۔ جرم کی نفسیات اور سزا کی غرض و غایت کے فہم پر خاصا کام ہوا ہے۔ ملزموں حتیٰ کہ مجرموں کے حقوق کا تعین بھی کیا گیا۔ فیمینزم کی انتقامی ذہنیت کیوجہ سے دیگر شہری آزادیوں، فرد کی آزادی اور آزادیٔ اظہار رائے کیساتھ جرم و سزا پر لبرٹیرین تصورات بھی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ جرم کو سماجی مرض کے طور پر تشخیص و جراحی کے عمل سے گزارنے کے تصورات کا اظہار کرنے پر عرف عام میں مجرموں بالخصوص ریپسٹوں کا حامی بتلایا جاتا ہے۔ لبرٹیرین تصورات ہی جرم بن گئے ہیں۔ کسی پر الزام لگنے کیساتھ ہی ہر قسم کی بربریت پر مبنی سزاؤں اور وحشت کی تسکین کی ذہنیت کے اظہار کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ معقولیت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ جارج آرویل کے 'انیس سو چوراسی' ایسا الزام کیساتھ ہی صفحۂ ہستی اور ہر ریکارڈ سے فرد کا وجود مٹانے ایسا عمل بنتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی محض اداکار پر الزام کی بنیاد پر آرٹ اور فلموں کیخلاف مہم کے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں۔  جرم و سزا کے علاوہ ریاست کے حوالے سے انقلابی خیالات بھی فیمنسٹوں کے حملوں کو دعوت دینے کے مترادف بن چکے ہیں۔

تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے فیمینزم خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ استعماری بیانیوں اور اشرافی طبقات سے وابستگی کیوجہ سے عوام میں ردعمل پیدا ہوتا ہے جو عورتوں کی آزادی کے ارفع مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ملک سامراجی، جاگیری، سرمایہ داری، مذہبی و نسلی طاقتوں کے تسلط اور کالونیل ادوار کی باقیات میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ مردوں عورتوں کی انتھک قربانیوں اور جدوجہد کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ فیمینزم سیاست سے دلچسپی رکھنے والی عورتوں کو مرد دشمنی پر لگا رہا ہے۔ ان ملکوں میں عوامی و مزاحمتی تحریکوں کو اپنے دانشوروں کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ پراپیگنڈے کے علاوہ مشکل سے مشکل لفاظی میں لایعنی سے لایعنی تھیوریاں پیش کرنے کی دوڑمیں لگے ہوئے ہیں۔ لیفٹ کی جن تنظیموں پر فیمینزم کا غلبہ ہوتا ہے، وہ مزدور تحریکوں اور عوام سے جڑنے کے کام سے ہاتھ اٹھاتی جاتی ہیں۔

تیسری دنیا کے معاشی اور سیاسی فیصلے عالمی مالیاتی اداروں میں ہوتے ہیں اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کے مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ مقامی حکمران طبقات اپنا حصہ وصول کر کے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ سرمائے کا بہاؤ ہمیشہ معاشی استعمار کے تابع رہے۔ مقامی آبادیاں اپنا خون نچوڑ کر دولت کی پیداوار اور اضافے کیلئے کام کرتی رہیں اور انہیں کولہو کے بیل کیطرح خاموشی سے جوت رکھنے کیلئے انتہائی سفاکیت اور بربریت کی فطرت رکھنے والے ریاستی و دفاعی اداروں کا ڈھانچہ مضبوط کیا جاتا ہے۔ ان ڈھانچوں کو چھیڑے بغیر مرد اور عورت کی برابری صرف محکوم رہنے کی آزادی اور برابری ہے۔ تیسری دنیا کی جمہوری و عوامی تحریکوں کیلئے جاندار انقلابی کردار درکار ہوتا ہے لیکن فیمینزم کی قیادت اور باگ دوڑ ایلیٹ کے ہاتھ میں ہونے کیوجہ سے انکا عالمی سامراج اور مقامی حکمران طبقات کیساتھ مفاہمانہ رویہ کسی انقلابی کردار کے امکان کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔

کارپوریٹ فیمنزم خواتین کو گھروں سے باہر نکال تو لایا ہے لیکن معیشت پر کارپوریٹ منافع خور مردوں عورتوں کا قبضہ ہے جو گھر سے باہر کام کیلئے نکلنے والے ہر فرد کو بلا تفریقِ جنس و نسل انسان کی بجائے منافع کمانے کا آلہ مانتے ہیں۔ کارپوریٹ فیمنزم عورتوں کی صورت میں سستی لیبر کی فراہمی اور منڈی میں سستے سے سستے داموں محنت فروخت کرنے کی مقابلہ بازی کی حمایت تو کرتا ہے لیکن خواتین پر پڑنے والے بیگانگی کے اثرات انکا موضوع نہیں ہیں۔ اس جبر و استحصال کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ ذرا ”سیاسی باتیں“ ہیں۔ اس بیگانگی اور ڈی ہیومنائزیشن کے مردوں عورتوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عورتیں خوابوں کا شہزادہ تلاش کرنے کا راستہ لیکر روایتی خاندانی نظام میں پناہ لیتی ہیں اور مرد معاشی جبر کا مقابلہ اور سامنا خود کر کے خاندان پالتے ہیں، خواتین کو معاشی بربریت کی چکی کا حصہ نہیں بننے دیتے۔کارپوریٹ کلچر نے خواتین کو تخلیقی صلاحیتوں کے مواقع اور آزادی دینے سے زیادہ رونقِ بازار بنا دیا ہے۔ اسلامسٹوں کی تنقید میں نتائج بھلے غلط اخذ شدہ ہوتے ہیں لیکن دلائل اور وجوہات میں کارپوریٹ کلچر کی انتہائی ٹھوس خامیاں پیش کرتے ہیں جس سے انکے زیر اثر اذہان عورتوں کے متعلق رجعتی تصورات قبول کر لیتے ہیں۔

 فیمنسٹیں خواتین کی 'اسپیس' کیلئے ڈھابوں پر تو دھاوا بولتی ہیں جہاں کام کرنے والے مرد شام کو ذرا دیر کیلئے بیٹھتے ہیں لیکن محنت کش عورتوں کی ٹریڈ یونینز، لیبر یونینز، کسان تنظیموں کی اسپیس ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ عورتوں کے تمام مسائل کا سبب مرد کی ہوس قرار دے دیا جاتا ہے لیکن مختصر سے کارپوریٹ طبقے کی معاشی ہوس اور سیاسی طاقت کی ہوس خارج از بحث ہے۔ مردانہ عضو کو کائنات کی تمام سرگرمیوں کا محور ثابت کرتے ہوئے وہ مرد دشمنی کے بعد عورت دشمنی بھی اختیار کر لیتی ہیں اور ان عورتوں پر لعن طعن اور دائرۂ نسواں سے خارج کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو انکی مرد دشمنی کے عقائد پر ایمان نہیں رکھتیں۔بات بے بات ریاست اور اتھارٹی کو مداخلت کی دعوت اور مطالبے کیساتھ قدیم خاندانی اقدار کے احیاء کی کوشش کی جاتی ہے جنکے مطابق عورتوں کو محافظ کی ضرورت ہے۔ فرق یہ ہے کہ باپ، بھائی یا خاوند کا درجہ ریاست کو دے دیا جاتا ہے۔ فیمنسٹ عقائد کے مطابق مرد عورتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انہیں نسوانی جسم کا تجربہ نہیں ہوتا جبکہ عورتیں مردوں کو پوری طرح سمجھتی ہیں حالت البتہ یہ ہے کہ فیمنسٹوں کے مردوں اور انکے کام اور زندگیوں پر تبصروں سے ملاؤں اور مفتیوں کو بھیجے جانے والے سوالات ذہن میں آ جاتے ہیں جن میں عورتوں کی اناٹومی کے متعلق عجیب و غریب تخیلات کے گھوڑے دوڑائے جاتے۔

جاگیری یا فیوڈل اقدار پر خاصی تنقید ہوتی ہے اور بجا طور پر ہوتی ہے لیکن جاگیرداری نظام کا خاتمہ قطعا فیمنزم کا مطمع نظر نہیں ہے۔ وطنِ عزیز میں تو جاگیردار فیمنسٹ یا جاگیرداروں کی حامی فیمنسٹ بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ 'پرسنل لائف' میں آزادی کا خاصا چرچا کیا جاتا ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر جو آمرانہ معاشی جاگیروں کی حیثیت رکھتا ہے اور کام کرنے والے مردوں عورتوں کے باتھ روم جانے تک کا وقت کنٹرول کرتا ہے، اس سے کوئی سروکار نہیں۔ سروئیلنس اور ٹیکنالوجی پر کارپوریٹ کنٹرول کیوجہ سے ذاتی زندگی کے ریکارڈ کی نہ صرف فائلیں بنی ہوتی ہیں بلکہ ہر شخص کی ذاتی پسند ناپسند اور ذہنی میلانات تشہیری کمپنیوں کو فروخت ہوتے ہیں۔ اسکے ذریعے عوام پر ذہنی کنٹرول سے انتخابات میں مطلوبہ نتائج تک حاصل کئے جاتے ہیں۔

عورتوں کو ملکیت جاننے کے تصورات پر تنقید ہوتی ہے اور درست ہوتی ہے لیکن رائج معاشی نظام یعنی سرمایہ داری جس میں تمام انسانوں کو بلا تفریق جنس مشینوں کیطرح ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ”ہیومن ریسورسز“ یا ”ہیومن کیپیٹل“ کی خوشنما اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، ان پر تنقید کم ہی موضوعِ بحث بنتی ہے اور ایسی باتیں 'کول' نہیں جانی جاتیں۔ کام کرنے والے مردوں عورتوں کے استحصال سے قطع نظر اگر کوئی برانڈ ذرا پی آر پر محنت کرے تو فیمنسٹ برانڈ کے درجہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاصی فیمنسٹیں انفلوئنسر گروپس سے منسلک ہیں اور استحصالی برانڈز کی شان میں قلابے ملانے سے انکے فیمنسٹ درجات اور اخلاقیات پر ذرا اثر نہیں پڑتا۔حال ہی میں ایسے فیمنسٹ اور ویمن امپاورمنٹ والے برانڈز کی کمسن بچوں بچیوں کی جنسی استعمال کیلئے خرید و فروخت میں ملوث ارب پتی سرمایہ دار ایپسٹین کیساتھ وابستگی بھی بینقاب ہوئی ہے۔ فیمینزم عورتوں کو متعین کردہ سماجی کرداروں سے آزاد کرانے کی بات کرتا ہے لیکن فیمنسٹ حاصلات عورتوں کی مکمل انسانی آزادی کی بجائے انہی جینڈر رولز تک محدود رہیں گی جو کارپوریٹ کلچر عورتوں کیلئے متعین کرتا ہے اور جنکی گنجائش رکھی گئی ہے۔

عورتوں کی تحریک کا مقصد جنس کی بنیاد پر مخاصمت اور عصبیتوں کا خاتمہ اور تمام جنسی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی تھی لیکن فیمینزم نئے جنسی تعصبات پھیلا رہا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مرد اجتماعی طور پر ندامت، احساسِ جرم، اخلاقی کمتری ایسے منفی احساسات کا بار اٹھائے پھریں۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مردانہ جنس طبی، طبعی، اخلاقی ہر لحاظ سے 'خراب' ہے اور انکے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ فیمنسٹوں کی پولٹ بیورو کے ہاتھ میں تمام اختیارات دینے اور اسکی حاکمیت تسلیم کر لینے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور وہ مردوں کو بدل کر رکھ دیں گی اور اپنے معیاروں کے مطابق ڈھال لیں گی۔ مردوں کو لیبارٹری کے چوہوں کیطرح مکمل کنٹرول کیساتھ انکے حوالے کیا جائے۔ زیادہ تر فیمنسٹ پراپیگنڈہ اور مردوں کی ہر شے اور ہر عادت پر تنقید اسی سوچ کے گرد گھومتے ہیں۔اسکا مردوں پر تو شاید کچھ زیادہ اثر نہ پڑتا ہو لیکن فطری طور پر مردوں کی خواہش محسوس کرنے والی فیمنسٹیں اپنے نفسیاتی تضادات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نفرت اور عداوت کی فضا محبت کی فطرت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

فیمینزم کے مرد مخالف تعصب کے اثرات ہمارے ارد گرد واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے شہر میں کوئی فیمنسٹ تنظیم موجود نہیں لیکن انفرادی پراپیگنڈہ کے اثر کا تجربہ ہوا۔ ہم نے یونیورسٹی میں مشاعرہ کرایا جس میں امجد اسلام امجد، عباس تابش، انجم سلیمی، تہذیب حافی، عنبرین حسیب عنبرایسے نامور شعراء مدعو تھے۔ یونیورسٹی کے شعراء کیلئے ہم نے فقط یہ شرط رکھی کہ انکا کلام موزوں ہو۔ مشاعرے میں حفظِ مراتب کے تحت یونیورسٹی کے شعراء، شہر کے مقامی شعراء، کشمیر کے شعراء اپنا کلام سنا چکے تھے اور سٹیج پر بیٹھے شعراء کے کلام کی جانب محفل بڑھ رہی تھی۔ راقم لٹریری سوسائٹی کا پریسیڈنٹ تھا اور والنٹیرز نے آ کر بتایا کہ ایک خاتون ہنگامہ کر رہی ہیں۔ جب جا کر دیکھا تو وہ بین کر رہی تھیں کہ مردانہ معاشرے کیوجہ سے انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مشاعرہ نہیں پڑھایا گیا۔ رجسٹرار، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افئیرز اور یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ حکام کی والدہ کیساتھ ملکر تذلیل شروع کر دی جو اس صورتحال سے بے بس نظر آ رہے تھے۔ پھر سٹیج کے قریب جا کر ہنگامہ شروع کر دیا جسکی وجہ سے انہیں بلانا پڑا۔ مجمع باذوق تھا اور اچانک خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے اپنا بے وزن اور بے تکا کلام سنایا، ویمن امپاورمنٹ کے نام پر مشاعرہ اور ادبی روایات پامال کیں اور چلتی بنیں۔ انفرادی واقعات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو فیمنسٹوں کی جانب سے مغربی مرعوبیت کے علاوہ اردو ادب پر جاگیری اقدار کا الزام لگا کر اردو علمی و تہذیبی سرمائے کو مسترد کرنے کا افسوسناک رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ ڈان اخبار میں تو ایسا اعلامیہ بھی شائع ہوا کہ خواتین اردو شاعروں اور پراگریسو مردوں سے دور رہیں۔

حال ہی میں ایک نامور شاعر جنکے جسم پر اکثر چھریوں کے زخموں کے نشانات ہوتے اور بازوؤں پر بعض اوقات نظر بھی آتے اور اپنی بیگم کے نفسیاتی مسائل کے باوجود دس سال سے نباہ رہے تھے، انہیں انکی بیگم نے لیگل نوٹس بھیجا ہے اور اپنے ہی بچوں کے حوالے سے پیڈوفیلیا کا الزام لگایا۔ خاندانی نزاعات، فیملی کورٹس اور کچہریوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے مشہور زمانہ مقدمے کا تو زمانہ گواہ ہے۔ مغربی ممالک میں یونیورسٹیاں عدالتیں بن گئی ہیں اور قانونی شفافیت پر بیشمار سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے پر بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ غیر اہم ایشوز کو اہم ایشوز کے مقابلے پر لایا جا رہا ہےاور یہ کہ ابھی عورتوں کے حقوق کیلئے مردوں کیخلاف نفرت پھیلانے دی جائے، اس سے پیدا ہونے والے مردوں کے مسائل بعد میں دیکھ لیں گے۔

فیمینزم بظاہر ریڈیکل آئیڈیالوجی ہےاور اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ کچھ زیادہ ہی ریڈیکل ہے لیکن یہ انقلابی تحریکوں اور رجحانات سے انقلابیت کا ڈنک نکال کر رکھ دیتی ہے۔ جب عوام میں غم و غصہ بڑھ جاتا ہے تو حکمران طبقات انہیں ٹھنڈا کرنے کیلئے چند ٹکڑے انکی طرف پھینک دیتے ہیں تاکہ کہیں پورا نظام عوامی بیداری کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ فیمینزم ان ٹکڑوں کو چننے کا نام ہے۔ ٹیکنالوجی اور اپنے کام کا بوجھ نچلے طبقات کی عورت پر منتقل کرنے کی سہولت کیوجہ سے بالائی طبقات کی عورت کے پاس خاصی فراغت ہوتی ہے۔ ٹکڑے چن کر نظام میں رہ کر مزید طاقتور ہونے اور پھر نظام کو مزید طاقتور بنانے کے کردار کیلئے فیمینزم مفید ہتھیار ہے۔ نچلے طبقات کی عورتوں کا حقیقی مفاد تو اس نظام اور آمرانہ حکمران طبقات کو الٹ دینے سے وابستہ ہے، اسلئے وہ اپنی آزادی کیلئے فیمینزم کیساتھ کم ہی جڑتی ہے اور فیمینزم بالائی طبقات اور اپر مڈل کلاس خواتین تک ہی محدود ہے۔یہ صرف موجودہ تحریک کا رجحان نہیں بلکہ فیمینزم کے تمام ادوار میں تسلسل رہا ہے جسکی وجہ سے عظیم انقلابی خواتین ہمیشہ فیمینزم سے دور رہی ہیں۔ فیمینزم کا مطمع نظر استحصالی طبقات میں ہی جنس کی بنیاد پر اختیارات اور طاقت کی تقسیمِ نو ہے۔ سربراہانِ ریاست، جرنیل، اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دارانہ جماعتوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں سی ای اوز، مالکان وغیرہ خواتین زیادہ ہوں تو فیمینزم کیلئے یہ ایک اطمینان بخش صورتحال ہے۔

فیمینزم روشن خیالی، آزادی، مساوات اور انقلابی فلسفہ کا ہی تسلسل ہے اور بعض فیمینسٹوں کو اس بات سے چڑ ہوتی ہے کہ تمام ”مردانہ“ ٹولز ہیں اور انکے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔ اسکے باوجود مستعار لیکر توڑنے مروڑنے کے ذریعے ترقی پسندانہ رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ ترقی پسندانہ اور انقلابی روایات سے یکسر مختلف ہے۔ ترقی پسندوں کی درخشاں روایت بین الاقوامیت رہی ہے۔ وہ صنفی، نسلی، قومی مسائل کو کل انسانیت کی آزادی کیساتھ جوڑتے ہوئے جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ ترقی پسندانہ ادب میں سرمایہ دار مرد کیساتھ سرمایہ دار عورت بھی طبقاتی دشمن کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ دوسری طرف خواتین ادیبوں کے لٹریچر میں محنت کش مرد اور اسکی زندگی کی جدوجہد کو جاندار انداز میں پیش کیا جاتا۔ فیمینزم میں سرمایہ دار عورت تمام مخلوقِ نسواں کیطرح برابر کی مظلوم ہو گئی بلکہ اس مصنوعی مظلومیت کی بنیاد پر فیمنسٹ تحریکوں کی قیادت ہی اسے سونپ دی گئی اور دوسری طرف مرد دشمنی میں محنت کش مرد کا حلیہ، لباس، عادات، اطوار بے رحم تنقید و مسلسل تضحیک کی زد میں آتے گئے۔ اب ”مادام“ ساحر لدھیانوی کی وضاحت نہیں سنتیں کہ ”بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی“، اب بالاتفاق مرد بدتہذیبی اور گنوار پن کی علامت ہے۔ آئے روز کسی بلاگ، برانڈ کے فوٹو شوٹ یا وائرل تھیوری میں یہ رجحانات واضح ہوتے ہیں۔

لبرل تضادات کیوجہ سے فیمینزم عورتوں کی آزادی کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔ چرچ اور جاگیرداری کیخلاف لبرل ازم نے انقلابی کردار ادا کیا تھا لیکن سرمایہ دارانہ دور میں اجرتی غلامی، مالیاتی سامراجیت، نیو لبرل ازم اور کارپوریٹ کلچر سے آزادی میں لبرل ازم اپنے رجعتی کردار کیوجہ سے معذور ہے۔ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی اقدار سے لیکر نارمل زندگی گزارنے کی سہولیات تک نیو لبرل ازم بے رحمی سے کچلتا جا رہا ہے اور این جی او فیمینزم اس ایجنڈہ میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ فیمینزم بھی اس استحصال کو چھیڑے بغیر مردوں اور عورتوں کی برابری نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک یوٹوپیا ہے کیونکہ نہ تو تمام مرد تمام مردوں کے برابر ہیں اور نہ ہی تمام عورتیں عورتوں کے برابر ہیں۔ فیمینزم مردوں عورتوں کی لڑائی بنا کر سماجی رشتوں اور ڈھانچوں کو مکمل خارج از بحث کر دیتا ہے۔مردوں کو سدھارنے، اس سے مراد محنت کش مرد ہوتے ہیں، میں بھی یہی عوام دشمن سوچ ہوتی ہے کہ عوام خود سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں بالائی طبقات سے فکر و دانش مستعار لینے کی ضرورت ہے۔ مردوں کو پوٹینشل ریپسٹ قرار دینے جیسے عوام دشمن اور بالخصوص مزدور دشمن نظریات طبقاتی یکجہتی اور آزادی کے امکانات پر حملہ ہیں جو عام مردوں عورتوں دونوں کے مفاد میں نہیں۔

فیمینزم عام مردوں عورتوں کی جنسیت پر حملہ کرتا ہے۔ کبھی جنسی عمل کو عورت کی پستی کیوجہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی عام مردوں عورتوں کے جنسی تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور صحیح العقیدہ جنسیت اور بالخصوص عورتوں کیلئے نسوانی کرداروںکی گائیڈ لائنز جاری کی جاتی ہیں۔ پاکستان ایسے ملک میں فیمنسٹوں کی رجعت پسندی، جنسیت سے خوف اور تنگ نظر اخلاقیات خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ یورپ کے موجودہ کلچر کے پیچھے تو ساٹھ ستر کی دہائی کا جنسی انقلاب کھڑا ہے جس میں پاپ کلچر میں جنسیت اور رومانوی جذبات کو عام اور قابل قبول بنایا گیا۔ پاکستان میں اگر بسم اللہ ہی مردوں عورتوں کے درمیان نفرت اور انہیں دو دنیاؤں میں بانٹنے سے ہو گی تو پہلے سے موجود پسماندہ دائرے مزید محدود ہوں گے۔

لیفٹ میں ایک خطرناک رجحان در آیا ہے کہ اسے محنت کشوں کی عالمی تحریک سے ہٹ کر شناخت کی سیاست اور مظلوموں کی تحریک سمجھ لیا گیا ہے۔ نیو لبرل ازم میں این جی اوز کی یلغار نے پہلے ہی لیفٹ کو کھوکھلا کر دیا ہے اور رہی سہی کسر اس قسم کے فکری مغالطے پورا کر دیتے ہیں۔ اب مظلومیت کا دعویٰ لیکر جو نکلے، لیفٹ والے چار بندے دیکھ کر دعوے اور گروہ کی جانچ پرکھ کے بغیر اندھا دھند اسکے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ انکی توانائیوں کا استعمال کر کے انہیں ذلیل و رسوا کر کے نکال پھینک دیا جاتا ہے۔ یادش بخیر بہتیرے نامور بائیں بازو کے دانشوروں نے طالبان کو بھی مظلومیت کی بنیاد پر مزاحمت کی علامت بنا دیا تھا۔ اس سال دو عورت مارچ ہوئے اور دونوں میں لبرل فیمنسٹوں کی جانب سے سرخ پرچموں پر بے رحمی سے تنقید ہوئی۔لیفٹ کی جن تحریکوں پر فیمینزم کا غلبہ ہے، ان میں مرد لیفٹسٹ ذاتی و دیگر وجوہات پر ”یس مین“ بنے رہتے ہیں۔ ہمیں تنقیدی شعور کو لیفٹ میں بحال کر کے کلٹ ذہنیت سے باہر نکلنا ہو گا۔

ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے کہ پنجابی سفاک اور ظالم ہیں۔ آجکل ایک نعرہ مسلسل دوہرایا جاتا ہے کہ پاکستانی سنی مسلمان یا تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان یا مزید تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان مرد متشدد ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستانی قوم پر دہشتگرد ہونے کے لیبل کیساتھ تخصیص شامل ہے کہ پاکستانی مسلمان دہشتگرد ہیں۔ اسکے بعد مخصوص فرقوں کیلئے کئی سال شد و مد کیساتھ درودی بارودی کی تھیوری پھیلائی گئی جو حقائق سے متصادم ہونے کیوجہ سے زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ کراچی میں تین قومی نظریے کے تحت مہاجروں، پختونوں اور سندھیوں پر کئی لیبل چسپاں ہیں۔ اس روش کیساتھ عالمی تحریک تو کیا، پاکستان میں بامعنی سیاست ممکن ہو سکتی ہے یا قبائلیت کی نئی شکلیں ہی متعارف کرانے کا کام رہ گیا ہے۔ لیفٹ نے سبق نہیں سیکھا کہ سوشلزم ایسے تصورات کے نام پر بھی کیسے آمریتیں کھڑی کی گئیں اور بلوچ آزادی کیسے پنجابی مزدور چن چن کر مارنے تک پہنچی۔مظلومیت قبائلی تعصبات کا جواز کیسے بننے لگی۔

بیسویں صدی کے دو بڑے پراپیگنڈہ مراکز یعنی مغرب اور سوویت یونین نے قرار دیا کہ سوشلزم وہی کچھ ہے جو سوویت یونین میں ہے۔ ایسے ہی یہ پراپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے کہ عورتوں کی تحریک اور عورتوں کی آزادی فیمینزم ہے۔ یہ پراپیگنڈہ اتنا شدید ہے کہ اسلامسٹ بھی عذر خواہی پیش کرتے ہیں تو اپنے مذہب کو ”موسٹ فیمنسٹ ریلیجن“ کہتے ہیں۔ عورتوں کی بیداری اور ترقی جدید دور کا ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن فیمینزم عورتوں کی تحریک کو درست سمت دینے سے قاصر ہے۔ فیمینزم کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ بقول باب بلیک آسان سا نسخہ ہے کہ انہیں برابر مانا جائے اور کسی رو رعایت کے بغیر انکے نامعقول نظریات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔بادشاہ کے ننگا ہونے کیساتھ ساتھ اب ہمیں ببانگ دہل یہ خبر بھی دینی پڑے گی کہ ملکہ بھی عریاں ہے، بھلے اس بات کو کتنا ہی فحش، ممنوعہ اور مسوجنسٹ سمجھا جائے۔طبقاتی جدوجہد اور مزاحمتی تحریکوں کو منظم کیا جائے اور ان میں تیزی لائی جائے تو فیمینزم کے عملی تضادات خود بخود واضح ہو کر سامنے آ جائیں گے۔