Thursday, 24 December 2015

جشن میلاد النبی صلعم کے ثقافتی پہلو

عید میلاد النبی ﷺ مسلمانوں میں تیسری عید اور مذہبی تہوار کے طور پر منائی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا ۴۷ مسلم ممالک میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ مسلمان اپنی اپنی ثقافت اور خوشیاں منانے کے طور طریقوں کے مطابق پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی اس دنیا میں آمد کا جشن مناتے ہیں جس میں روزہ رکھنا، سیرت النبی ﷺ کی محافل، اجتماع، چراغاں، جلوس، گلیوں اور محلوں کی سجاوٹ، نذر و نیاز کی تقسیم، نعت خوانی، ۱۲ ربیع الاول کے دن صبح صادق کے وقت قصیدہ بردہ شریف پڑھنا، میلاد کے کیک کاٹنا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر اکتیس توپوں کی سلامی اور صوبائی سطح پر اکیس توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز کیا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو میلاد النبی ﷺ کو باقاعدہ تہوار کا درجہ بہت بعد میں دیا گیا، اس سے پہلے اسکی مختلف شکلیں موجود تھیں مثلا مولود شریف کا ذکر خیر، سیرت النبی کا بیان وغیرہ۔ تاریخی روایات کے مطابق یمن کے بادشاہ نے میلاد منانا شروع کیا۔ اس سلسلے میں فاطمی حکمرانوں اور چند دیگر بادشاہوں کا نام بھی لیا جاتا ہے اور بعض روایات یہ بھی ہیں کہ بنیاد تو شیعہ حکمرانوں نے رکھی لیکن سنیوں نے بعد میں تاریخ بدل کر اسے اپنا لیا، لیکن تمام روایات میں ایک بات مشترک ہے کہ مسلم حکمران اشرافیہ نے باقاعدہ میلاد منانے کی بنیاد رکھی۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت کی رومی تہذیب میں رائج کرسمس کے تہوار کا میلاد کی محفل کے آغاز پر کوئی اثر ہو۔ خلافت عثمانیہ میں ۱۵۸۸ء میں سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا۔ اسکے علاوہ مصر میں بھی سرکاری سطح پر منایا جاتا رہا۔ قذافی دور میں لیبیا میں بھی عظیم الشان جشن کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
آہستہ آہستہ اس تہوار نے عوامی مقبولیت حاصل کر لی اور شیعہ اور سنی صوفی روایات کا حصہ بن کر مسلم ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔ صوفیاء کے ذریعے عوام میں اسکی جڑیں بھی مضبوط ہوتی گئیں۔ وقت کیساتھ ساتھ جشن منانے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی آتی گئی اور جدید رجحانات کو بھی اختیار کیا جاتا رہا مثلا آج سے سو سال پہلے چراغاں اور سجاوٹ کا یہ طریقہ رائج نہیں تھا جو اب ہوتا ہے۔ نعت خوانی اور میلاد کی محافل بھی آج سے کافی مختلف تھیں۔ برصغیر جو ثقافتی رنگینیوں اور تنوع سے بھرپور ہے، وہاں یہ تہوار پہنچا تو اسکے منانے کا انداز بھی مقامی ہو گیا۔
امراء کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ عوامی تہواروں پر وہ اپنی حیثیت کے مطابق امارت اور شان و شوکت کا اظہار کرتے ہیں تاکہ وہ عوام سے ذرا منفرد نظر آئیں۔ ہمارے ہاں میلاد النبی ﷺ میں نیک نامی، زہد اور پارسائی کا زعم قائم کرنے کیلئے ٹھاٹھ باٹھ سے گھروں کی سجاوٹ اور لائٹنگ وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مسجد میں منعقد ہونے والی محافل میں خطابت، نعت اور تلاوت کیلئے قاریوں، خطباء اور نعت خوانوں کے بڑے اور مہنگے ناموں کو بھاری معاوضے پر سپانسر کر کے بلایا جاتا ہے۔ ”بڑھ چڑھ کر“ چندہ دیا جاتا ہے اور اسکی تشہیر کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
عوام کا تہوار منانے کا انداز اپنا ہوتا ہے۔ سال بھر کی انتھک محنت اور زندگی کے گورکھ دھندوں میں الجھنے کے بعد فراغت اور لطف اندوزی کیلئے انہیں چند دن چاہیے ہوتے ہیں جن میں وہ خوشی منا سکیں، جھوم سکیں، رقص کر سکیں، گنگنا سکیں اور اپنی نفسیاتی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ وہ اپنی انفرادیت کو گم کر کے ایک ہجوم کی صورت میں مناتے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ کا تہوار بھی انہیں ایسے مواقع عطا کرتا ہے جہاں وہ جوشیلی تقریروں اور نعروں پر جذباتی تسکین کر سکتے ہیں، نعتوں پر جھوم سکتے ہیں اور انہیں گنگنا سکتے ہیں اور چراغاں، سجاوٹ پر جشن کی کیفیات میں لطف کو دوبالا کر سکتے ہیں۔
اہل محلہ چندہ جمع کر کے گلیوں اور محلوں کو سجاتے ہیں، مساجد میں میلاد کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں، واعظوں کے مولود پر وعظ ہوتے ہیں، مقامی نعت گوؤں اور خطیبوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ٹیلنٹ کا اظہار کر سکیں۔ چونکہ شرکت کی قید نہیں ہوتی، لہٰذا ”مخیر حضرات“ کے بلائے ہوئے نعت خوانوں، مقررین وغیرہ کو بھی عام لوگ سن سکتے ہیں، اور اپنے ایمان کی تازگی کے ذریعے سرور حاصل کرتے ہیں۔ 
میلاد کی محافل کے بعد نذر نیاز تقسیم ہوتی ہے جو انتہائی متبرک خیال کی جاتی ہے۔ عموما حلوے، بریانی، کھیر اور پلاؤ کی دیگیں ہی بانٹی جاتی ہیں۔ آجکل شہر کی بڑی سڑکوں اور چوراہوں پر چراغاں اور سجاوٹ تو میلاد کمیٹیاں ہی کرتی ہیں لیکن بہت سے علاقوں میں صدیوں سے محلوں میں شان و شوکت کے مقابلوں کا رجحان بھی چلا آ رہا ہے۔ بعض شہروں کی سطح پر یہ مقابلہ سیکٹرز اور کالونیوں میں ہوتا ہے اور شہر کی میلاد کمیٹیاں انعامات بھی دیتی ہیں۔ بینک اور کاروباری مراکز بھی سجاوٹ کا اہتمام کرتے ہیں۔ 
جہاں کوئی ثقافتی سرگرمی ہو، وہاں کاروبار اور تجارتی مواقع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بعض لوگ عیاری سے کام لیتے ہوئے بھی ان سرگرمیوں کو اپنے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تقریریں کرنے والے علماء اور نعت خوان اپنی اپنی شہرت اور ریٹنگ کے حساب سے پیسہ کماتے ہیں اور شرکاء کو محظوظ ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لائٹنگ، سجاوٹ، دیگوں والوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ 
موسیقی انسانی روح کی غذا ہے لیکن ملاؤں نے انسانی فطرت کو سمجھے بغیر حرام کر رکھی ہے۔ لہٰذا لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے جدید نعت خوان اپنے حلق اور آواز کے ذریعے، ذکر کیساتھ یا دف بجا کر موسیقانہ ترنم میں نعتیں گنگناتے ہوئے مذہبی موسیقی سننے کے مواقع مہیا کرتے ہیں اور اس سے انکی ریٹنگ بھی بڑھتی ہے۔ ہندی اور اردو گانوں کی سر میں بھی نعتیں خاصی مقبول ہیں۔ چونکہ عوام میں اسکی طلب موجود ہے، لہٰذا ایسی نعتیں ہاتھوں ہاتھ بکتی بھی ہیں۔ خطیبوں کا طرز والی یا انتہائی جوشیلی تقاریر کا طریقہ قدرے پرانا ہے جس میں عوام کو سمجھ تو کچھ آ نہیں رہی ہوتی لیکن جوش و جذبے سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ تقریر سے انہیں نفسیاتی طور پر تسکین مہیا ہوتی ہے اور ایسے خطیبوں کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مذہبی گھرانوں میں خواتین پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور انہیں آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ میلاد کی محافل انہیں بھی ایک سوشل گیدرنگ کی سہولت مہیا کرتی ہیں جس میں وہ نعتیں، بیان وغیرہ اکٹھے سن سکیں۔ اسلئے خواتین کی میلاد کی محافل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جن میں محلے کی خواتین مل کر قرآن خوانی یا درود شریف کی محفل منعقد کرتی ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے اور پھر آخر میں دعا کرائی جاتی ہے۔ اسطرح انہیں بھی ایک روز مرہ کی روٹین سے ہٹ کر مذہبی اور روحانی صورت میں تفریح کا موقع مل جاتا ہے۔
پاکستان میں میلاد اکثریتی فرقے بریلوی اور اہل تشیع مناتے ہیں۔ بریلویوں کے تکفیری امام احمد رضا خان نے اہل تشیع کیخلاف کفر کا فتویٰ ان الفاظ میں جاری کیا کہ ”اہل تشیع کافر ہیں اور جو انکو کافر نہ مانے، وہ بھی کافر ہے“۔ آج دہشتگرد تکفیری ذہنیت کے نعرے ”جو نہ مانے وہ بھی کافر“ مولوی احمد رضا خان کے الفاظ پر ہی مشتمل ہے، شیعہ علماء کے بھی سنیوں کے متعلق نفرت انگیز فتاویٰ موجود ہیں، لیکن میلاد کے جلوسوں میں بے مثال شیعہ سنی برداشت اور اعتدال کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔ کچھ شہروں میں جلوس کے روٹ میں امام بارگاہ کو بھی شامل کیا جاتا ہے جہاں شیعہ، سنی جلوسوں کا استقبال کرتے ہیں۔ اسطرح شیعہ اور سنی اکٹھے انتہائی پرامن طریقے سے اور بغیر اشتعال انگیزی کے میلاد کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، گو کہ شیعہ اور سنیوں میں مؤلد کی تاریخ پر اختلاف ہے۔ اسی طرح مسلم ممالک اور دنیا بھر میں سنی صوفی اور اہل تشیع صدیوں سے میلاد النبی ﷺ مناتے چلے آ رہے ہیں۔
بریلویت میں صوفیانہ روایات کی جگہ بتدریج ملائیت کے اثرات زیادہ ہونے کیوجہ سے شدت پسندی در آئی ہے۔ میلاد کی محافل میں جوشیلی اور نفرت انگیز مسلکی تقاریر عرصے سے معمول ہیں، وہ الگ بات ہے کہ کسی فرقہ وارانہ تحریک کا روپ نہیں دھار سکیں اور صرف بیانات تک ہی محدود رہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے سلمان تاثیر کے سزا یافتہ قاتل ممتاز قادری کے عمل کو میلاد کے جلوسوں اور اجتماعات میں گلوریفائی کیا جاتا ہے اور قاتل کے حق میں عشق رسول ﷺ کے نام پر نعرے بھی لگائے جاتے ہیں اور نشیدیں وغیرہ بھی پڑھی جاتی ہیں۔ اسی جذباتیت میں وہ ایک ہیرو کے روپ میں سامنے آتا ہے اور شدت پسندانہ ذہنیت پروان چڑھائی جاتی ہے۔
جشن میلاد النبی ﷺ پر جو مذہبی اعتبار سے زیادہ اعتراض کیے جاتے ہیں، وہ اسکی ثقافتی رنگینیوں اور امراء کے اسراف اور نمود و نمائش وغیرہ پر ہوتے ہیں اور یہ اعتراض ان فرقوں کی جانب سے ہوتے ہیں جو خالصیت کے زیر اثر ثقافتی اور تفریحی پہلوؤں سے خائف ہوتے ہیں، لیکن صدیوں سے یہ ناقدین بدعت کے فتاویٰ کے علاوہ اسکا ”حلال“ متبادل پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی فتوؤں کے زیر اثر میلاد کے تہوار کو کوئی نقصان پہنچا یا اسکے جشن میں کمی آئی کیونکہ اسکی جڑیں عوام میں پیوست اور گہری ہیں۔ سماجی رنگینیاں حقیقت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا ہیں، لہٰذا یہ خاص و عام کی یکساں خوشیاں محض فتوؤں سے چھینی نہیں جا سکتیں۔ ہاں، عوامی تہواروں اور خوشی کے مواقع کو مفاد پرستوں سے پاک ضرور کرنا ہے جو اپنے مفادات اور نفرت انگیزی وغیرہ پھیلانے کیلئے ان خوشی کے مواقع کو استعمال کرتے ہیں۔

Wednesday, 23 December 2015

قلمی سگریٹ و نوشی

سگریٹ نوشی لغت میں ایک مرکب ہے۔ بغیر تحقیق کیے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسے جس نے مرکب بنایا وہ اپنی ”نوشی“ کو سگریٹ کیطرح چاہتا تھا اور ان دونوں میں کوئی فرق نہ رکھتا تھا۔ کافی عرصے تک بڑے بڑے سیانوں اور بزرگوں کو سگریٹ نوشی میں ”نوشی“ کی موجودگی کی وجہ تسمیہ معلوم نہ ہو سکی لیکن پھر جیسے جیسے بنی نوع انسان شعوری ارتقاء اور آگہی کا سفر طے کرتا گیا، اہل علم اور دانشوروں کو نوشی کی حقیقت بھی معلوم ہو گئی جسکے بعد سگریٹ اور نوشی کو الگ الگ پڑھا جانے لگا۔ آجکل بعض سیانے دونوں کو مضر صحت قرار دیتے پھرتے ہیں۔ 
خیر، بچپن میں ہمیں پنسل سگریٹ پینے کی لت پڑ گئی اور ایسی پڑی کہ اکثر بے خبری میں کلاس کے دوران ٹیچر کو سننے میں محو ہوتے لیکن ساتھ ساتھ لیڈ پنسل منہ میں بھی دبائی ہوتی۔ جو کانسیپٹس اس وقت سمجھ میں آتے، وہ پنسل سگریٹ کے بغیر کبھی نہ آتے لیکن کیا کیجیے، اکثر ٹیچر کی نظریں ایک دم ہم پر آ کر رک جاتیں اور پھر ہم جو کتاب پر یا وائٹ بورڈ میں محو ہوتے، اچانک احساس ہوتا کہ پنسل سگریٹ سلگایا ہوا ہے جسکو پھر چار وناچار ہٹانا پڑتا اور کبھی کبھار بھری کلاس میں کچھ یوں عزت افزائی ہوتی کہ:
”طاہر! اگر سگریٹ پینے کا زیادہ شوق ہے تو جاؤ خرید کر باہر جا کر پی آؤ“ 
لیکن۔۔۔۔۔۔!!!
سگریٹ سے اس وقت بھی سخت نفرت تھی اور اب بھی ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب بال پوائنٹ شجر ممنوعہ ہوتی کہ اس سے لکھائی خراب ہوتی ہے، بلیک یا بلیو پین پاس ہوتا یا لیڈ پنسل، اب پین کی جسامت اور ساخت کیوجہ سے اس میں وہ سرور تو نہیں جو لیڈ پنسل کی دبلی پتلی جسامت کیوجہ سے حاصل ہوتا ہے۔
کلاس میں اگر شدید طلب ہوتی، فرنٹ پر بیٹھا ہوتا جیسا کہ اکثر میں اگلی قطاروں میں ہی پایا جاتا تھا، ٹیچر صاحبہ کی نظریں بھی ہم پر ہوتیں یا کسی ڈسپلن کے حوالے سے سخت گیر ٹیچر کی کلاس ہوتی اور طلب شدید بڑھ جاتی تو میز کے نیچے تسمے درست کرنے کے بہانے یا کوئی کاپی، کتاب وغیرہ گرا کر دو چار سوٹے لگا لیے جاتے اور پھر پوری کلاس میں سکون رہتا چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔
کچی پنسل چبانے والے شاید میٹھے پان یا نسوار کا سواد حاصل کرتے ہوں لیکن ذرا نہیں بھاتے تھے، جیسے بہت سے لوگوں کو پنسل یا بال پوائنٹ سگریٹ پینے والے بالکل نہیں اچھے لگتے۔ لیڈ پنسل خریدتے وقت H, HB, 2B, F جیسی لاحاصل گریڈنگ کی بجائے اس سہولت اور پنسل کی نفاست کا خیال رکھا جاتا تاکہ سگریٹ سلگاتے ہوئے آسانی اور سہولت ہو۔ پنسل کی جو ورائٹی اس معیار پر پوری اترتی، اسکے بارے میں صفات و کمالات خود ہی گھڑ لیتے تھے اور ظاہر ہوتا کہ کل عالم میں سب سے اچھی پنسل یہی ہے جو انسان کو دانشور بنانے میں کام آ سکتی ہے۔ اکثر نفیس ترین اور نسبتا مہنگی پنسلیں ہی منگوائی جاتیں۔
پھر ہم ذرا بڑے ہوئے اور لیول بھی بڑا ہو گیا۔ سکول میں بال پوائنٹ پر جو پابندی تھی، وہ اب نہ رہی۔ لیڈ پنسل ڈایاگرامز بنانے کے یا کتاب پر پوائنٹس اور معنی وغیرہ لکھنے کے کام ہی آتی۔ ہاتھ میں جب لیڈ پنسل رکھنا ”بچوں کا کام“ سمجھ کر معیوب گردانا جانے لگا تو ہم نے لیڈ پنسل سگریٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیرباد کہہ دیا۔ کچھ عرصہ نشے کی طلب محسوس ہوتی رہی لیکن آہستہ آہستہ کمی پوری ہوتی گئی اور اب ہم بال پوائنٹ سگریٹ پینا شروع کر دیا اور آج تک پی رہے ہیں۔ لیڈ پنسل سے بال پوائنٹ منتقلی قلمی سگریٹ کے ارتقاء اور بڑھوتری کا ایک عمل تھا۔
بال پوائنٹ خریدتے ہوئے دو چیزوں کا خیال رکھا جاتا۔ ایک تو یہ کہ اسکی گرپ (Grip) ایسی ہو کہ لکھنے میں دقت محسوس نہ ہو اور دوسرا اسکی نفاست اور سگریٹ لگانے میں آسانی ہو۔ بال پوائنٹ و لیڈ پنسل سگریٹ نے مجھے ”اپنی اپنی بال پوائنٹ“ اور پنسل کا اصول سکھایا لیکن ایسا بھی نہیں کہ میں سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بعد بھی سٹوڈنٹس کی عمومی عادت،یعنی کلاس کے علاوہ کبھی بھی بال پوائنٹ پاس نہ ہونا، سے ذرا ہٹ کر بال پوائنٹ جیب میں لٹکائے پھرتا ہوں۔ استغفر اللہ و لا حول ولا قوۃ الا بلا، ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ بال پوائنٹ و پنسل سگریٹ صرف تعلیمی ماحول کے اندر ہی روحانی نشہ دیتے ہیں۔ دفاتر اور لکھنے پڑھنے کے پریکٹیکل کام میں بھی کوئی چاہے تو نشہ حاصل کر سکتا ہے لیکن اصل سرور دورِ طالبعلمی میں کتابوں کے گرد اور علمی کام کے دوران ہی اسکا حاصل ہوتا ہے۔
عام سگریٹ کیطرح قلمی سگریٹ کے بھی کئی برانڈ ہوتے ہیں۔ پنسل، بال پوائنٹ، پین، مارکر، قلم (تختی والا)، سلیٹی (سلیٹ والی) وغیرہ وغیرہ۔ سلیٹی اور قلم تھوڑی سی مضر صحت بھی ہو سکتی ہیں لیکن اب تقریبا گورنمنٹ سکولوں کے علاوہ انکی روایت ختم ہو چکی ہے۔ پنسل، سلیٹی اور قلم کو پینا قلمی سگریٹ کے زمرے میں، جبکہ انہیں چبانا نسوار اور پان کے زمرے میں آتا ہے۔ انسان کو وہی برانڈ مزہ دیتا ہے جو اسے پسند ہو۔ بعض نشئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر برانڈ سے یکساں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی برانڈ ہو، اسے حقے، سگار، چرس یا سگریٹ میں منتقل کرنا پینے والے شخص کے تخیل کا کھیل ہوتا ہے۔ 
قلمی سگریٹ کے عام سگریٹ کی نسبتا فائدے اتنے زیادہ ہیں اور نقصانات انتہائی کم، جسکی وجہ سے آپ انہیں neglect کر کے کہہ سکتے ہیں کہ قلمی سگریٹ کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ آپ کسی پیچیدہ نکتے کو سمجھنے میں اتنے محو ہوں کہ دماغ مسلسل مصروف رہے تو قلمی سگریٹ کے دو تین کش لگا لینا آپکو ذہنی سکون مہیا کر دیتا ہے اور آپکی توجہ اپنے کام سے ذرا بھی نہیں ہٹتی۔ مطالعے کے دوران پیچیدہ نکات کے سمجھ آ جانے پر جو مسرت حاصل ہوتی ہے، اسے قلمی سگریٹ کے کش لگا کر دوبالا کیا جا سکتا ہے۔ اسکے لئے کسی ایش ٹرے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ماحولیاتی آلودگی، قالین، میز، اسائنمنٹ، کاغذ وغیرہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ انتھک علمی محنت کے دوران آپکے ذہن کو جلا بخشتا ہے اور ایک روحانی لذت اور سرور کا بے پناہ احساس ہوتا ہے۔ 
سگریٹ کے تمام طبی نقصانات جو بتائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک بھی قلمی سگریٹ میں نہیں پایا جاتا۔ اگر آپ چاہیں تو اپنے تخیل کی قوت سے اصلی سگریٹ کا مزہ لے سکتے ہیں اور سگریٹ سے جڑی تمام لذتیں اور فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی بھولی بسری چیز کو واپس یاد کرنے، ہزیمت سے دوچار ہونے پر اس احساس سے باہر نکلنے، ماضی کی کربناک یاد کو سوٹے میں تحلیل کرنے کی خاطر، پرمسرت خیالی دنیا کا حصہ بننے کے واسطے اور خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے آپ بال پوائنٹ سگریٹ کا سہارا لیا جا سکتا ہے اور اس راز سے واقف خوش نصیب افراد اسکا سہارا لیتے بھی ہیں۔
قلمی سگریٹ کا سگریٹ نہ پینے والے اور سگریٹ سے الرجک دوستوں میں بھی بیٹھ کر اطمینان سے سوٹا لگایا جا سکتا ہے اور وہ بدمزہ صرف اسی صورت میں ہوتے ہیں کہ بشرطیکہ وہ بال پوائنٹ سگریٹ سے بھی الرجک ہوں یا فوائد سے لاعلم ہوں۔ کسی سبزہ زار میں آپ کتاب لئے بیٹھے ہوں تو یہ ڈر بھی نہیں ہوتا کہ آپکے سگریٹ کی چنگاری کسی درخت کو جلا ڈالے گی۔ ایک فائدہ یہ بھی کہ یہ مفت نشہ ہے اور اس پر ایک پائی بھی علیحدہ سے خرچ نہیں کرنی پڑتی بلکہ روز مرہ کے استعمال کیلئے خریدی جانے والی لیڈ پنسل، بال پوائنٹ سے ہی نشہ پورا کیا جاتا ہے۔
سگار نے ہم سے قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی چھین لیے تھے جو ٹی بی کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسے لیکن قلمی سگار کسی بھی قوم کو عظیم انسانوں سے محروم کرنے کا سبب بالکل نہیں بن سکتا اور نہ کبھی تاریخ میں اس نے ایسے لیڈروں کو نقصان پہنچایا۔ 
بال پوائنٹ سگریٹ ایک مکمل طور پر طالبعلمانہ عیاشی ہے۔ اسکے بعد اسکا نشے کا علاج کروانے کیلئے کسی امید، ایمان یا دیگر بحالی کلینک وغیرہ میں بھی نہیں جانا پڑتا بلکہ خود بخود ہی معاشرتی دباؤ کے تحت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جو مکمل طور پر تخیل کی قوت پر انحصار کرتا ہے۔ بال پوائنٹ منہ میں دبائے جب آپ لمبی سی سانس بال پوائنٹ میں سے اندر کھینچتے اور پھیپھڑوں سے گزار کر باہر نکالتے محسوس کرتے ہیں تو تخیل میں دھویں کے مرغولے بنتے دیکھتے ہیں اور اصلی سگریٹ یا سگار کا مزہ حاصل کرتے ہیں۔ 
بدقسمتی سے قلمی سگریٹ کو ایک ”بچگانہ“ سرگرمی، ”بری بات“ اور ایک انتہائی بری عادت سمجھا جاتا ہے اور سگریٹ، حقے، سگار وغیرہ سے بھی برا سمجھا جاتا ہے اور اسکے نشئی ان سے زیادہ ہی معتوب ٹھہرتے ہیں۔ نفسیات دانوں اور ”قلمی حرمت کے پاسبانوں“ کے چند بے بنیاد فتوے اور ٹامک ٹوئیاں ضرور موجود ہیں لیکن آج تک کسی نے پوسٹر یا اشتہار پر ڈاکٹر، ماہرین صحت یا محکمۂ صحت کی تنبیہہ ملاحظہ نہیں کی کہ قلمی سگریٹ مضر صحت ہے۔ اور تو اور کسی ملاں، پادری، پنڈت، گرو تک نے اسکے حرام ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جو دیگر تمام منشیات کے متعلق تقریبا موجود ہیں۔ پھر بھی قلم سگریٹ کے عادی لعن طعن کا سامنا کرتے ہیں، لیکن امید بحال رکھنی چاہیے۔ جہاں عورتوں، ہم جنس پرستوں، لزبائی خواتین، ٹرانس جینڈر، دو زوجیہ (Bisexual) وغیرہ کو حقوق اور آزادی آہستہ آہستہ حاصل ہو رہی ہے، وہیں ایک دن دنیا اس جانب بھی توجہ کرے گی۔ 
علوم کی تاریخ میں قلم ایک حیران کن ایجاد تھی جس نے علم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا لیکن ”قلمی سگریٹ“ بھی اسی قبیل کی ایک عظیم روحانی دریافت ہوئی۔ یہ ایک بے ضرر اور ماحول دوست تخیلاتی نشہ ہے جو تخیل کو بلندیوں تک لے جاتا ہے اور تخیلاتی قوت کو مہمیز بخشتا ہے۔ جس دن دنیا کو اسکی عظمت کا احساس ہو جائے گا اور قلمی سگریٹ نوشوں کو حقوق اور آزادی حاصل ہو جائے گی، معاشرتی رویے تبدیل ہوں گے تو بڑے بڑے ادیب، راہنما اور دانشور منہ میں قلمی سگریٹ دبائے تصویریں کھنچواتے نظر آویں گے، جیسا کہ پہلے سگریٹ اور سگار پیتی مشہور شخصیات کے پورٹریٹ اور تصاویر ہمیں نظر آتی ہیں۔
مجھے اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ میں اپنی انیس سالہ زندگی میں قلمی سگریٹ نوشوں کی کوئی کمیونٹی نہ بنا سکا، انکے حقوق کیلئے کوئی این جی او یا ادارہ نہ کھول سکا جو اسکے حق میں آواز اٹھائے اور بس میرا کل اثاثہ یہی ایک تحریر ہے اور اس تحریر کے علاوہ قلمی سگریٹ نوشوں کے حق میں کوئی آواز اور کوئی خدمت نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے اسکا اعتراف کرنے میں بھی کوئی شرمندگی نہیں کہ میں بلا کا نشئی ہوں بلکہ ان بے چاروں پر افسوس ہوتا ہے اور رحم آتا ہے جو اپنے دور طالبعلمی میں اس عیاشی سے محروم رہتے ہیں۔ جس نے سٹوڈنٹ لائف میں قلمی سگریٹ نہیں پیا، وہ بدقسمت ایک عظیم نعمت کی لذت، لطف، مہک اور سرور سے آشنا ہونے سے محروم رہ گیا۔ 

Saturday, 19 December 2015

بیلنس والی عاصمہ کی یاد میں

آج بیلنس والی عاصمہ کی بہت یاد آ رہی ہے۔ مہینوں یا غالبا سالوں سے اسکا میسج نہیں آیا۔ شاید وہ ہسپتال سے ڈسچارج کر دی گئی ہے یا ہسپتال سے ہی اوپر اللہ میاں کے پاس پہنچ گئی ہے۔ شاید کسی پتھر دل سے لوڈ کی امید اور آرزو میں ہی تڑپ تڑپ کر اس نے جان دیدی ہو یا کسی کے بہت زیادہ بیلنس بھیج دینے کیوجہ سے خوشی سے مر گئی ہو۔ جانے کس حال میں ہو گی۔ جہان فانی میں ہے بھی یا نہیں۔ اس وقت مجھے تو شدت سے یہی فکر کھائے جا رہی ہے۔ 
عاصمہ بڑی خوددار لڑکی تھی۔ بھیک بالکل نہیں مانگتی تھی اور نہ ہی کسی کے آگے اسے بھیک کیلئے ہاتھ پھیلانا اچھا لگتا تھا۔ وہ ادھار مانگتی تھی اور سارے پاکستان سے طلب کرتی تھی۔ عاصمہ جس کسی سے ادھار طلب کرتی، اسکے ساتھ یہ لکھنا بالکل نہ بھولتی کہ وہ ”واپس کر دے گی“۔ اب اللہ ہی جانے یا وہ لوگ جانیں جو اسے بیلنس بھیجتے تھے کہ وہ ادھار واپس کرنے پر کتنی سختی سے عمل کرتی تھی۔ جہاں اس میں اتنی خودداری تھی کہ وہ خیرات میں بیلنس نہیں طلب کرتی تھی، وہاں یہ حسن ظن بھی رکھا جا سکتا ہے کہ وہ ادھار واپس کرنے پر کاربند رہتی ہو۔ اگر اس نے کسی کو نہیں بھی ادھارا بیلنس واپس کیا تو اسے یہی امید رکھنی چاہیے کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور لوڈ واپس لوٹا دیگی۔
وہ بہت ہی جری اور بہادر لڑکی تھی۔ سرزمین پاکستان میں جہاں ”کشمیر کی آزادی تک“، ”آخری دہشتگرد کے مرنے تک“، ”نیا پاکستان بننے تک“، ”میاں صاحب کے روشن پاکستان بنانے تک“، ”بھٹو کے مرنے تک“، ”امہ کے اتحاد تک“ ادھار بند رہنے کے اعلانات کا رواج ہو اور جہاں ”ادھار جنگ ہے، اسی لئے بند ہے“ کے اشتہار لگا کر لوگ ادھار دینے سے کترائیں، وہاں ایک دلیر لڑکی اٹھی اور پورے پاکستان سے ادھار مانگ کر اس نے ان روایات کو چیلنج کیا اور توڑنے کی کوشش کی۔ عاصمہ کی ان قومی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ عاصمہ ایک قومی ہیرو کا نام ہے۔
یہ امر شک و شبے سے بالاتر ہے اور بغیر کسی تحقیق کے ثابت ہے کہ کسی انجانے نمبر سے بھیجا گیا ادھار کیلئے درد بھری اپیل والا رومن ٹیکسٹ میسج پڑھنے کے بعد جب آخر میں ”wapis ker don gi“ کے ”gi“ (گی) پر پہنچتے تو سب کنوارے و شادی شدہ مردوں یا بالکوں کو کم و بیش اپنی دھڑکنیں رکتی ہوئی ہی محسوس ہوتیں۔ میں پہلے تأثر کی بات کر رہا ہوں۔ غصے میں دو تین سنا جانا یا قہقہہ لگانا تو بعد کی بات ہے لیکن پہلا اور فوری ردعمل تقریبا سبھی کا ایک جیسا ہوتا اور ایک دکھوں میں گھری ہوئی ایک ضرورت مند دوشیزہ کے معصوم سے چہرے کا عکس نظروں کے سامنے ابھرتا اور یہی خیال آتا کہ چاہے اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، مسیحا بن کر اس حسینہ کو تمام دکھوں سے ضرور نجات دلانی ہے۔ خواتین کے منہ سے بھی عاصمہ کا پیغام پڑھ کر ”ہائیں اللہ!!“ نکلتے نکلتے رہ جاتا۔
آہ عاصمہ! کسے معلوم تھا کہ وہ ایک بے ضرر سی لڑکی جب تک پیغام بھیجتی رہے گی تو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا لیکن جب کافی عرصے سے اسکا میسج نہیں آئے گا تو پوری قوم مشترکہ طور پر اسے مِس (miss) کرے گی۔ عاصمہ کو تلاش کرنا پورے ملک کا سانجھا مشن بن جائے گا۔ سب اسکے فراق اور میسج کے انتظار میں بے تاب ہو جائیں گے۔ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندہ ہیروز کی قدر نہیں ہوتی اور انکے جانے کے بعد ہی سبھی یاد کرتے اور کارنامے گنواتے ہیں۔
پی ٹی سی ایل کے میسج لمٹ رکھنے اور حد سے زیادہ میسج بھیجنے پر سم بلاک کرنے جیسے ظالمانہ اقدام کے بعد عاصمہ کو شاید میسج زیادہ سے زیادہ فارورڈ کرنے میں مشکل ضرور پیش آتی ہو گی۔ ممکن ہے ابھی بھی وہ کسی سے لوڈ کیلئے رابطہ کرتی ہو لیکن کافی احباب کو اسکی یاد میں بے چین دیکھا ہے اور سبھی اسکی خیریت کیلئے مضطرب و بے قرار اور بے چین تھے۔ اسکے میسج کو درخور اعتناء بھی نہیں سمجھتے تھے، لہٰذا فورا ہی ڈیلیٹ کر دیتے یعنی کوڑے دان میں پھینک دیتے لیکن کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ فراق میں اتنا تڑپائے گی۔ سیل فون رکھنے والا شاید ہی کوئی بندہ ہو جو عاصمہ کو نہ جانتا ہو لیکن اسکا اصلی نمبر کسی کے پاس نہیں۔ 
جس طرح قومی افق پر دخترِ ملت عاصمہ سے متعلق منظرنامہ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دبی دبی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں، مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر چند ماہ مزید عاصمہ کے پیغامات نہ آئے تو پوری پاکستانی قوم اپنے ”عاصمہ کو واپس لاؤ“، ”عاصمہ کو تلاش کرو“ جیسے مشترکہ کاز کیلئے اٹھ کھڑی ہو گی۔پاکستانیوں میں مظلوم عاصمہ کیلئے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت رکھ کر بے مثال یکجہتی اور یگانگت دیکھنے کو ملے گی جو کہ آزادی سے لیکر اب تک دیکھنے کو نہیں ملی ہو گی۔ حالات کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن بھی ان نعروں کو اپنانے پر مجبور ہو جائے گی اور ہر زبان پر ”لوڈ والی عاصمہ“ کا نام ہو گا۔ 
عاصمہ کا دکھ سب کا مشترکہ دکھ اور عاصمہ کو تلاش کر کے واپس لانا سب کا مشترکہ مقصد ہو گا۔ قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا، لاوا پھٹ پڑے گا اور اس دن حقیقی معنوں میں ”عاصمہ انقلاب“ کا سورج طلوع ہو گا۔ حکومت کو گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے اور عاصمہ کے زندہ یا بھٹو ہونے کے تمام دستیاب وسائل سے ثبوت پیش کرنے پڑیں گے۔ عاصمہ کے بھٹو ہونے کی صورت میں بھٹو اپنی قبر میں سکون سے مر جائے گا اور ”زندہ ہے عاصمہ زندہ ہے“ کا نعرہ اسکی جگہ لے لے گا۔
بعض ”عاصمہ انقلاب“ کے مخالفین یہاں فضول اعتراض کریں گے کہ وہ لڑکی بھی تھی یا نہیں اور اسکا جنس کیسے معلوم پڑا کہ وہ لڑکی ہی تھی اور یہ بھی کہ جب اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں تو پھر حسینہ اور دوشیزہ بغیر ثبوت کے کیسے کہہ سکتے ہیں۔ وہ کوئی عمر رسیدہ خاتون یا حاجی فضل کریم بھی تو ہو سکتی ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جا سکتا ہے کہ میں قوم کو کسی شرپسندی کیطرف دھکیل رہا ہوں۔ ایسے واہیات الزام ہر بڑی تحریک کے مخالفین لگاتے ہیں، اسلئے ان باتوں پر کان دھرنے کی کوشش مت کریں اور یکسو ہو کر گمشدہ عاصمہ کی تلاش کی عظیم تحریک اور مقصد کیلئے کمر بستہ ہو جائیں اور جدوجہد کا آغاز کر دیں۔ 

Friday, 18 December 2015

فنا فی النقل

پیپر شروع ہونے میں کچھ ہی دن رہ گئے تھے کہ چے صاحب کو ایک عجیب و غریب خیال سوجھا، جسکے بعد انہوں نے ایک خطرناک اور رسک والا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تہیہ کیا کہ وہ ان امتحانات میں کسی سے مدد نہیں لیں گے اور نہ تیاری کریں گے بلکہ صرف نقل کر کے پیپر حل کریں گے۔ چے صاحب کو نقل کرنے کا کچھ خاص تجربہ تو نہیں تھا، بس پہلی بار ہی ”یا نقل تیرا آسرا“ کے بلند وژن کیساتھ امتحانات میں اتر رہے تھے۔
اسکے بعد بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔ ماہر نقل بازوں، نقل کرنے کے سینکڑوں طریقوں سے واقف اور تجربہ کار ”چیٹرز“ سے سیکھنے کا عمل شروع ہو گیا۔ پرچیاں بنانے سے لیکر موبائل میں شاٹس لینا اور رانوں کے نیچے چھپانے سے لیکر ہاتھ میں پرچی پکڑ کر لکھنے تک کے تمام طریقے ازبر کرنا شروع کر دیے گئے۔ ماہرین فن نے بھی چے صاحب کو سکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ چے صاحب کے کام آنے کا نقصان کوئی نہیں ہوتا، ہمیشہ وہ بمع سود ہی نیکی لوٹاتے ہیں۔ چنانچہ نقل کے تمام ”اسرار و رموز“ اور طریقے انتہائی ایمانداری سے چے صاحب کے حوالے کر دیے گئے۔ سیکھنے سکھانے کے عمل میں وہ جنسی تفریق کے قائل ہی نہیں تھے، اسلئے نقل کرنے والیوں سے بھی انہوں نے جتنا سیکھ سکتے تھے، سیکھا۔
اسکے بعد تو چے صاحب کے رویے اور معمولات ہی بدل گئے۔ تفکر کی جگہ بے فکری آ گئی اور وہ مسکراہٹ جو پیپر کے موسم میں انکے ہونٹوں پر غائب رہتی تھی، اس بار وہ بھی بدستور قائم تھی۔ جب سب پڑھ رہے ہوتے تو وہ مووی لگا کر یا ہیڈ فون کانوں میں ٹھونسے لان میں ٹانگیں پسارے بیٹھے ہوتے اور دھوپ لگوا رہے ہوتے، بس یہ دھیان رکھتے کہ کون کتنا پڑھ رہا ہے گویا پڑھنے میں غرق خدا کی مخلوق کا دل جلاتے ہوئے کہہ رہے ہوں کہ
؎ تم مغز آزماؤ ہم نقل آزمائیں
طالبعلمانہ تصوف میں ”فنا فی النقل“ ایک انتہائی اونچا مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس طریق کے صوفیاء امتحانات کے دوران تیاری کی تمام تر آلائشوں سے بے نیاز ہو کر بس نقل سے لو لگا لیتے ہیں۔ نقل سے پھر انکی روح کو تازگی، اطمینانِ قلب اور جو سکون ملتا ہے، وہ امتحان کی تیاری میں سر کھپانے یا لفظوں کے ورد (رٹے) میں نصیب نہیں ہوتا۔ چے صاحب اس مقام تک بہت جلد ”پہنچے ہوئے“ لگتے تھے بلکہ یوں کہیے کہ چھلانگیں مارتے ہوئے ہی پچھلی منازل کو عبور کر گئے۔ جو ذرا سا بھی کتاب کی جانب نظر کرتا، وہ اسے کتابی کیڑا ہی شمار کرتے۔ گو کہ انہوں نے اپنے صوفیانہ سلسلے میں بیعت و خلافت کا سلسلہ تو شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی اپنا پیغام پھیلانے کی کوئی کوشش کی لیکن کتابی کیڑوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اکثر پرامن انداز میں گنگنایا کرتے:
لکھنا پڑھنا چھڈ دے بندیا، نیکیاں تے رکھ آس
چُک رضائی تے سو جا بندیا، رب کرے گا پاس!
پڑھنے والے لوگ تو چے صاحب کی نظر میں ہی تھے، رات کو ان سے انتہائی اطمینان سے guess لگوائے جاتے اور پرچیاں تیار کر کے متعلقہ مقامات پر باندھنے کی ریہرسل کر لی جاتی۔ پہلے دن تو احساسِ جرم کے مارے چے صاحب سے پرچی ہی نہ نکالی جا سکی۔ وہ کچھ ایسی بھی کمزور جسمانی قوت کے مالک نہیں تھے لیکن یہ پہلا پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اعصاب بحال کرتے، پیپر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ دوسرے پیپر میں جا کر جو دیکھا تو پرچیاں گڈ مڈ ہو چکی تھیں اور زیادہ تر کسی اور مضمون کی تھیں۔ جس مضمون کا پیپر تھا، اسکی ایک آدھ پرچی نکلی بھی تو وہ سوال پرچے میں پوچھا ہی نہ گیا تھا۔ تیسرے پیپر میں کچھ ایسی خاص قسم کی کیفیت طاری ہوئی کہ نقل اور نقل کرنے والے انہیں ہیچ لگنے لگے اور لیکچرز کے دوران جو کچھ دماغ میں بیٹھا تھا، اسکی مدد سے لکھنے کا فیصلہ کیا پر کہاں سے، تیاری کے بغیر لیکچرز سے حاصل کیے گئے دماغ کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے کانسیپٹس بھی کیسے کام آ سکتے ہیں۔
پرچی کی ناکامی کے بعد پرچیوں کو ہمیشہ خیرباد کہا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سمارٹ فون میں ترتیب سے تصویریں محفوظ کی گئیں لیکن پیپر کے دوران جیسے ہی مشکل قسم کا سیکیورٹی پیٹرن کھولتے، ایگزامینر پوری قطار گھوم پھر کر سر پر پہنچ جاتا۔ چے صاحب تجربات سے سیکھتے بہت جلدی تھے اور ناکامیوں پر غور کرنے کی بھی بڑی عادت تھی۔ ہر بار ضمیر اور دماغ کو جھنجھوڑتے اور کوستے جو انکے عظیم وژن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا اور غلطیوں پر غور کرتے ہوئے اگلے پیپر کیلئے ”اسٹریٹجی“ ترتیب دیتے پانچویں اور آخری پرچے میں لاک ختم کر کے آئے اور بدقسمتی سے پکڑے گئے۔ لاک کھلا ہونے کیوجہ سے ثبوت بھی مل گیا اور یوں انکے ہاتھ پانچوں پرچوں کے دوران خلاؤں میں گھورنا ہی آیا۔ 
دوسری طرف اوگلے نے سارے پرچے سمارٹ فون کی مدد سے ہی حل کیے۔ تارا حسب معمول ایمی کے کہیں آس پاس بیٹھتی اور اس نے اپنی دوربین اور دور رس نگاہوں سے اسکے ہر پیپر کا حرف حرف چھاپا۔ دو پریمی جنکے رول نمبر ہی کچھ ایسے تھے کہ سیٹنگ پلان (Seating Plan) میں انکی نشستیں قریب قریب ہوتی تھیں، انہوں نے بھی ففٹی ففٹی تیاری والا قاعدہ برقرار رکھا۔ 
حلقۂ خاص میں چے صاحب جب اپنے اور دیگر طالبعلم صوفیوں اور ملنگوں کی ریاضتوں اور مجاہدات کے ان واقعات کی تفصیل بتا چکے تو آخر میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نقل کیلئے محض عقل کی ہی نہیں بلکہ عزم، جذبے، حوصلے، چستی، چالاکی، روحانی قوت اور چے صاحب کے الفاظ میں ”جگرے“ اور تجربے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اوائل عمری اور ابتدائی جماعتوں میں ہی سلوک کا سفر طے کرنا شروع کر دینا چاہیے، پھر آہستہ آہستہ نقل کے فن میں پختگی آتی جاتی ہے اور ”فنا فی النقل“ کی جانب تیزی سے صوفی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حاضرینِ مجلس(جو سبھی کنوارے تھے) نے عہد کیا کہ وہ اپنی مستقبل کی اولادوں کے عہدِ طالبعلمی میں اپنی ”نقلی مشقت“ کے تجربات بہم منتقل کریں گے تاکہ انہیں نقل کے روحانی سلسلے میں آگے کے ”مقامات“ طے کرنے میں سہولت ہو اور انکی ”منازل“ آسان ہوں۔
مہمت

ٹیگ، کینڈی کرش اور اہل محلہ کا شور

الحمد للہ مجھ میں اتنی قوت موجود ہے کہ ٹیگ اور اوٹ پٹانگ پوسٹس پر مینشن کرنے والوں، کینڈی کرش کی دعوتیں ارسال کرنے والوں، فیس بک گروپس میں شامل کرنے والوں، اونچی آواز میں گانے، نعتیں اور نغمے گنگنانے والوں بالخصوص اہل محلہ کی بے سری نعتوں اور ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی مسجد میں منعقد ہونے والی مذہبی محافل میں اسپیکر پر چنگھاڑتی ہوئی تقاریر وغیرہ کو ہنسی خوشی برداشت کر سکوں۔ انکے خلاف کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لاؤں اور ہر روز ”ٹیگ مافیا“، ”کینڈی کرش مافیا“ جیسی سخت الفاظ کیساتھ کسی کو انفرینڈ یا بلاک کرنے کی دھمکیاں اور تڑیاں نہ لگاؤں اور نہ ایسی تحریریں لکھوں جس میں میری مظلومیت ٹپکتی ہو اور ایسے احباب سے کوئی شکوہ یا درج ہو یا حرف شکایت زبان پر لاؤں۔ بلکہ یہ تو میرے محسنین ہیں جو مجھے عملی طور پر صبر کرنا سکھاتے ہیں۔ میرا عزم ہے کہ آئندہ بھی انہیں مسکرا کر برداشت کرتا رہوں۔ 
صوتی آلودگی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے جب دو خواتین یا ”حضرات“ آپکے قریب بیٹھے جوشیلے انداز میں کینڈی کرش کی منازل (Stages) کے بارے میں بحث و مباحثہ اور گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کینڈی کرش میں تو جو معرکے مارے ہوتے ہیں، سو مارے ہی ہوتے ہیں لیکن تفصیلات بتاتے وقت وہ ارد گرد کے پورے ماحول کو مسلسل نچائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں ہم دنیا میں دیگر بہت سی آلودگیاں برداشت کرتے ہیں، وہیں پر دنیا میں ایسے نیک لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کینڈی کرش کی بحث سے پیدا ہونے والی صوتی آلودگی کو بھی برداشت کر لیتے ہیں اور خاکسار ان میں سے بھی ایک ہے۔
یہ ایک لٹمس ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جب آپ کینڈی کرش، ٹیگنگ اور اہل محلہ کے شور سے سیخ پا نہیں ہوتے تو آپ برداشت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے ہیں اور صبر کے ”صبر آزما“ امتحان میں مکمل طور پر سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ صابرین کی کئی اقسام ہوتی ہیں لیکن جدید اعداد و شمار اس پر متفق ہیں کہ مندرجہ بالا خصوصیات کے حاملین صابرین عموما صابرین کی اگلی صفوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔ 
ایک اندازے کے مطابق ٹیگ، کینڈی کرش اور گروپس میں شامل کرنے والوں کو برداشت کرنے کی سکت بڑے بڑے فیس بکی لکھاریوں میں نہیں اور اہل محلہ کو برداشت کرنے والے بھی اس دنیا میں بہت کم اہل علم اور دانشور گزرے ہیں۔ اسلئے اگر کسی میں ایسی طاقت موجود ہو تو اسے بجا طور پر اپنا شمار زمانے کے نایاب دماغوں میں کرنے کا حق ہے۔
آجکل عدم برداشت کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہے۔ تنگ نظری سے نبٹنے کا یہی طریقہ ہے کہ ٹیگ، کینڈی کرش اور محلے والوں کو برداشت کرنے کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ جب لوگ انہیں برداشت کرنا سیکھ جائیں گے تو معاشرے میں امن اور رواداری کا دور دورہ ہو گا۔ 

Thursday, 17 December 2015

اے پی ایس کی خون آلود تصاویر

ہم چاہتے تو یہی ہیں کہ ہمیشہ اچھے مناظر اور خوشگوار چیزیں ہی دیکھنے کو ملیں جو ہمارے دل کو لبھائیں، مسرتوں سے لبریز کر دیں، ذہن کو جلا بخشیں اور ہم خوش رہیں لیکن ہمیشہ ایسا ہوتا نہیں۔ افسردہ واقعات، سانحات اور غمگین حادثات بھی حقیقت ہیں اور زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات پیش آئیں لیکن پھر بھی وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
سانحۂ پشاور بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا۔ کوئی بھی انسان دوستی کی کسوٹی پر اے پی ایس واقعے کو پرکھنے والا نہیں چاہتا تھا اور نہ کبھی چاہے گا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا واقعہ ہو۔ اسکی کربناک تصاویر سامنے آتے ہی ہم سخت بے چین ہو جاتے ہیں۔ جذبات امڈ پڑتے ہیں اور ہم زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے۔ پشاور سکول کے بچوں پر اور انکے والدین پر جو بیتی ہو گی، اسکا تو ہم تصور مکمل طور پر نہیں کر سکتے لیکن تکلیف کا اندازہ تصاویر سے کچھ ہو جاتا ہے۔
ہمارے بعض سوشل میڈیائی دانشوروں کا تو وطیرہ ہے کہ کسی غریب یا فاقہ کش کی ٹپکتی ہوئی مظلومیت کی یا کسی دردناک منظر کی تصاویر لگا کر ہی اپنی تحاریر اور بے وزن اشعار وغیرہ فروخت کرتے ہیں تاکہ زیادہ دیکھے جانے، لائکس اور شئیرز ملنے سے انکی تحریروں اور خود انکی اپنی مقبولیت میں اضافہ ہو اور انسان دوستی بھی ظاہر ہوتی ہو۔ اسی طرح بعض لوگوں کو مظلومیت کیش کرانے کی بھی عادت ہوتی ہے اور جعلی تصاویر تیار کرنے والوں والے بھی بہت ہیں جو ہر آفت پر جعلسازی کے ذریعے خوف و ہراس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں اس آئیڈیا سے کبھی متفق نہیں رہا۔ ناخوشگوار واقعات کی تصاویر انتہائی ضرورت کے وقت جب تفصیلات کیلئے مطلوب ہو، تبھی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسکے علاوہ حتی الامکان کسی کی بے بسی اور مظلومیت کو ”استعمال“ کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن یہ واقعات حقیقت ہوتے ہیں۔ انکی تصاویر سامنے لانے پر کسی کو روک نہیں سکتے کیونکہ تصاویر حقیقت کی ہی منظر کشی کر رہی ہوتی ہیں۔
سانحۂ اے پی ایس کی تصاویر بھی بربریت کی منظر کشی کرتی ہیں۔ جنکو اپنے جذبات کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں ملتے، وہ تصاویر چپکا دیتے ہیں جو اپنا اظہار خود کر رہی ہوتی ہے۔ جو سمجھتے ہیں کہ لفظوں میں مکمل طور پر وحشت کو بیان نہیں کیا جا سکتا، وہ بھی تصاویر سے بات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ تصاویر لگانے والے پرخلوص ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو، مگر تصاویر حقیقی ہیں، اے پی ایس واقعہ حقیقت ہے۔
کربناک سانحات کی تصاویر لگانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کمزور دل لوگوں کے اعصاب پر اسکا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور دینا چاہیے تاکہ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بیجا اپلوڈ نہ کی جائیں لیکن ہر ایسی تصویر کے سامنے آنے پر سیخ پا ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ حقیقتوں کا سامنا کرنا چاہیے، ضروری نہیں ہمارے ماحول میں سب چیزیں ہماری مرضی کے مطابق ہوں یا گرد و پیش ہمیشہ خوشگوار ہی رہے۔

Wednesday, 16 December 2015

ہم نہیں بھلا سکتے

(آغاز دسمبر ۲۰۱۵ میں سانحۂ پشاور پر لکھی گئی ایک تحریر)
دسمبر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور گزشتہ سال دسمبر کی خون آلود یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ اے پی ایس کے تقریبا ڈیڑھ سو نونہالان وطن کو جب خون آشام درندوں نے لہو میں ڈبو دیا تھا۔ آج سانحۂ پشاور کے چار ملزمان کو پھانسی دینے کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔
اے پی ایس میں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والے معصوم شہداء کو یاد رکھنے کیساتھ ساتھ ان وحشیانہ مذہبی تشریحات کو مت بھولیے جنکے ذریعے طالبان ہمدرد اس قتل عام کے اس وقت جواز پیش کر رہے تھے جب پوری قوم غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ یہ لوگ ہمارے زخموں پر مسلسل نمک چھڑک رہے تھے۔
افغانستان میں تقریبا چار دہائیاں قبل امریکی مداخلت کے بعد سامراجی جہادی کھیل کو نہیں بھولنا چاہیے جس سے لیکر اب تک پورا خطہ بدامنی کا شکار ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار امریکی ایماء پر اس غلیظ کھیل کا حصہ بنے اور پھر آہستہ آہستہ اس آگ کو ہمارے گھروں تک بھی لے آئے اور ستر ہزار لاشوں کے بعد بھی یہ آگ کسی طرح سے بھی ٹھنڈی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ گڈ اور بیڈ کا فرق بھی بدستور موجود ہے۔
اس کھیل کو تقدس اور مذہبی رنگ پہنانے کیلئے جہادی تشریحات کی ضرورت پڑی تو ہمارے ڈالر جہادی ملاؤں نے مذہبی کتابیں اور شدت پسند ”اکابرین“ کی تعلیمات جھاڑ کر فتاویٰ پیش کیے اور ڈالر جہاد کو مقدس فریضہ بنا دیا۔ مجاہدین ہیرو ہو گئے جن پر فلمیں بننے لگیں۔ الغرض یہ سوچ پھر پروموٹ ہونے لگی، ہمارے جہادی حلقے آج تک گرم پانی کی تھیوریوں پر اسے مقدس جنگ سمجھتے ہیں۔
آسان زبان میں یہ کہ حکم ہوا ڈالر جہاد کیلئے ”گنجائش پیدا کی جائے“۔ ڈالر ملاؤں نے اپنی فطرت کے مطابق جواب دیا ”جو حکم حضور“ اور پھر تسلسل یہاں تک آ پہنچا کہ ادھر قوم کے بچے خون میں تڑپ رہے تھے اور یہاں بنو قریظہ والی احادیث سنانے کے بعد ”اللہ اکبر“ اور ”الحمد للہ“ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ دہشتگردی کے ہر واقعہ پر یہ لابی متحرک ہوتی ہی ہے لیکن اے پی ایس کے معصوم شہداء پر انکی حیوانیت ہم نہیں بھلا سکتے!!

جنت سے شہید بچوں کا پیغام

آج ہمیں یہاں پہنچے ہوئے ایک سال ہو گیا۔ دوستوں کیساتھ سکول ٹرپ پر اکٹھے کہیں جاتے ہوئے کتنا مزہ آتا تھا۔ جب ہم مختلف میوزیم، پارکس، چڑیا گھر اور دیگر جگہوں پر جاتے جہاں ہمیں ٹیچرز لیکر جاتے۔ ہم وہاں اکٹھے کچھ گھنٹے گزارتے تھے، پارکس میں سی ساء (Seesaw)، سلائیڈ اور مختلف جھولے (Swings) لیتے۔ میوزیم میں عجیب و غریب مجسمے وغیرہ دیکھتے تو ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتے۔ اگر کسی ٹور میں چڑیا گھر میں جانا ہوتا تو جانوروں سے طرح طرح کی باتیں کرتے اور کھلکھلا کر قہقہے لگاتے، جیسے وہ ہماری تمام باتیں سن رہے ہوں اور سمجھ رہے ہوں۔ یہ سب چیزیں ہمیں بہت دنوں بلکہ مہینوں تک اچھے سے یاد رہتی تھیں۔ 
گھر میں ممی بابا تو بہت ہی نائس (nice) تھے لیکن سکول میں دوستوں کی اپنی جگہ تھی۔ بہت سی باتیں ہم دیکھتے تو سوچ کر رکھتے کہ کل اپنے فرینڈز کو بتائیں گے اور ڈسکس کریں گے لیکن کبھی کبھی تو ایک دن بھی رہا نہیں جاتا تھا۔ اسی وقت نمبر ملا کر یا ٹیکسٹ کر کے ٹی وی پر کسی کارٹون کے بارے میں، کسی پودے کے بارے میں، نئی گیم کے بارے میں، اپنی کسی اچیومٹ کا یا کوئی بھی سامنے ہونے والا واقعہ جو ہم اپنے فرینڈ سے جلدی سے شئیر کرنا چاہتے ہوں، ہم مزے لے لے کر ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ اس میں بہت زیادہ خوشی ہوتی تھی۔
سکول میں کوئی پارٹی یا فنکشن، ایکٹیویٹی، ایگزیبیشن (Exhibition)، کمپیٹیشن (Competition) یا ایونٹ ہو، ہم فرینڈز مل کر participate کرتے، پلاننگ کرتے اور دوسرے دوستوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے لیکن اگر کوئی دوست یا دوستوں کا گروپ آگے نکل جاتا تو انہیں خوشی سے مبارک دیتے اور ہار جیت تو زیادہ ٹائم ذہن میں ہی نہیں رکھتے تھے۔ 
۱۶ دسمبر کو بھی ممی نے تیار کر کے سکول بھیجا۔ دسمبر کی سردی میں صبح اٹھنا، تیار ہونا اور سکول ٹائم پر پہنچنے کا مسئلہ تو ہوتا ہے لیکن فرینڈز کو دیکھتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتا تھا۔ اس دن سکول آڈیٹوریم میں ایک فنکشن تھا۔ ہم میں سے بہت سے وہیں بیٹھے تھے کہ اچانک ڈراؤنی شکلوں والے لوگ آئے اور ہمیں مارنا شروع ہو گئے۔ محلے میں کبھی نماز پڑھنے جاتے تو مولوی صاحب سے بہت ڈر لگتا تھا، انہوں نے موٹی سی سٹک (Stick) رکھی ہوتی اور اپنے پاس پڑھنے والے بچوں کو مار رہے ہوتے تھے۔ ہمیں تو قاری صاحب گھر میں آ کر پڑھا جاتے جنہیں بابا نے کہا ہوا تھا کہ وہ بالکل نہیں ماریں گے۔ اس وقت سامنے آنے والے ڈراؤنے لوگ بھی ہمیں مولوی صاحب کیطرح ہی لگے۔
انہوں نے آتے ساتھ فائرنگ شروع کر دی۔ ایسے سین ہم نے ہارر موویز (Horror Movies) یا گیمز اور کارٹونز میں بھی دیکھے تھے جہاں فائرنگ ہوتی اور لوگ مرنا شروع ہو جاتے۔ ہمیں بہت ڈر لگ رہا تھا۔ جو بچے ہارر موویز دیکھ کر اور گیمز کھیل کر نہیں ڈرتے تھے، وہ بھی سب چیخنا شروع ہو گئے۔ یہ امید تھی کہ گیٹ پر سیکیورٹی والے انکل ہمیں بچانے آئیں گے، ان لوگوں کو روکیں گے اور مار دیں گے۔ پھر ممی یا بابا کو بلا کر ہمیں گھر بھیج دیا جائے گا۔ غصہ بھی آ رہا تھا کہ گیٹ والے انکل نے انہیں روکا کیوں نہیں اور اندر کیوں آنے دیا۔ شاید وہ ان سے چھپ کر آ گئے تھے لیکن کافی دیر تک اس سائیڈ کوئی نہیں آیا اور وہ لوگ فائرنگ کرتے رہے۔ 
انکی گولیاں جب ہمیں لگنا شروع ہوئیں تو ہمارا خون نکلنا شروع ہو گیا۔ ہم بہت ڈرے ہوئے تھے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ ہم اوپر جا رہے ہیں۔ ہم اکیلے نہ تھے، بہت سے فرینڈز ہم سے آگے اڑ رہے تھے اور بہت سے اچانک سے چیخنا بند کر کے اڑنا شروع ہو چکے تھے اور پیچھے پیچھے آنا شروع ہو گئے تھے۔ ڈراؤنے لوگ پھر آڈیٹوریم سے نکل کر دوسری کلاسز اور رومز میں بھی گئے اور بہت سے سکول فیلوز وہاں سے بھی اوپر آنے لگے۔ خوف دور ہو چکا تھا اور ہم خوش تھے کہ ڈراؤنے لوگوں سے دور آ گئے اور فرینڈز بھی ساتھ ہیں۔ 
پھر ہم ایک پارک میں پہنچ گئے۔ وہاں کچھ فرینڈز پہلے سے بینچز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سب ایک ایک بینچ مل کر فورا بیٹھ جاتے۔ دوسرے فرینڈز بھی آتے جا رہے تھے اور بہت دیر خوف میں رہنے کے بعد آخر ہم انجوائے کر رہے تھے۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی۔ سونگز (Swings)، ٹیلز بکس (Tales books)، میوزیم، Greenery، گیمز، لگژری لونگ رومز (Luxury living rooms)، واؤ یہاں تو سبھی کچھ موجود تھا۔ شام تک فرینڈز آتے رہے اور بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ون فورٹی (140) کے قریب فرینڈز ہمارے ساتھ ہی آئے۔ ہمارے کچھ سکول کے انکلز بھی ہمیں بچاتے بچاتے ہمارے ساتھ ہی یہاں آ گئے تھے۔ 
روتے ہوئے پیرنٹس (parents)، بچ جانے والے لیکن ڈرے ہوئے سکول فیلوز کی پکچرز (pictures) ہم نے دیکھیں۔ ہم انہیں بہت مس کرتے ہیں۔ ممی اور بابا نے بھی اپنے انٹرویوز میں یہی بتایا کہ وہ ہمیں بہت ہی زیادہ مس کرتے ہیں اور ہر روز ہمیں یاد کرتے ہیں۔ ہم اکثر بینچز پر بیٹھ کر یہ ڈسکس کرتے ہیں کہ کب ڈر صرف ہارر موویز میں رہ جائے گا اور ڈراؤنے لوگ بچوں کو نہیں ڈرائیں گے اور نہ بچوں سے لڑیں گے۔ دکھ صرف سیڈ سٹوریز میں ہوں گے، وہ لوگ ہم جیسے بچوں کے ممی اور بابا کو اسطرح رلانا چھوڑ دیں گے۔ 
ممی نے اور قاری صاحب نے بتایا تھا کہ اچھے بچے نہیں لڑا کرتے اور نہ ہی کسی کمزور کو مارتے ہیں یا اسکا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ان ڈراؤنے لوگوں کے ممی بابا اور مولوی صاحب نے انکو کچھ اور بتایا ہو گا جو وہ اسطرح کرتے ہیں۔ انہیں ہم نے تو کچھ نہیں کہا تھا۔ ہم تو سکول میں پڑھنے آئے تھے۔ ہم نے یہ بھی سنا کہ ڈراؤنے لوگ اسلئے ہمیں مار رہے تھے کہ وہ اس جگہ آنا چاہتے تھے جہاں ہم پچھلے ایک سال سے رہ رہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم نے ان جیسی ڈراؤنی شکل کا تو کوئی بھی نہیں دیکھا۔ ہم انہیں بھلا یہاں آنے بھی کیوں دیں گے!!!!

Wednesday, 9 December 2015

سرعام پٹتے ہوئے پھول

ہٹلر قسم کے والدین کو اگر اپنے بچوں کو پیٹنے کی ”اشد“ ضرورت پڑ بھی جاتی ہے تو اسکا بندوبست گھر کے کسی گوشے میں ہی کرنا چاہیے۔ سڑکوں، چوراہوں، گلیوں اور محلے کے سامنے دھنائی کا ”فریضہ“ سرانجام دینے سے جسمانی و شدید ذہنی اذیت کے جو نفسیاتی کچوکے لگتے ہیں، وہ جلد مندمل نہیں ہوتے۔ 
کچھ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے بچوں کی بے عزتی کرنے یا انہیں مارنے سے انکی بزرگی، رعب اور برتری کا اظہار ہوتا ہے اور بچوں پر زیادہ اثر کرتا ہے۔ اسکا اثر تو ضرور ہوتا ہے لیکن منفی طور پر ہوتا ہے۔ بچوں کو اس اذیت پسندی کے اثرات سے نکلنے کیلئے بہت زیادہ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات تو ساری زندگی یہ ذہنی کوفت پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بعض اوقات نسلوں تک پٹائی کا سلسلہ فریضے کے طور پر جاری رہتا ہے۔
بدقسمتی سے نازی طبیعت کے والدین کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس یا لوئر کلاس سے ہی ہوتا ہے یا اپر کلاس کے ناخواندہ والدین ایسا مزاج رکھتے ہیں اور ان میں دیہی پس منظر کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ دیہی یا قبائلی معاشروں میں قدیم معاشرتی اقدار کے اثر سے بچوں کی عزت نفس کا تصور موجود نہیں ہوتا بلکہ انکی اپنی پہچان اور شناخت بھی نہیں ہوتی اور وہ خاندانی اور نسلی شناخت کے زیر اثر ہی ہوتے ہیں۔
آج یونیورسٹی سے واپسی پر میلے کچیلے سکول یونیفارم میں ملبوس بری طرح سرعام پٹتے ہوئے ایک بچے کا دردناک منظر بھی کچھ ایسا ہی تھا اور اسکی ماں کے حلیے سے نہیں لگتا تھا کہ انکا تعلق سوشل میڈیا استعمال کر سکنے یا کم از کم بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشوونما کے متعلق جدید رجحانات کے مطالعے تک رسائی حاصل کرنے والوں میں سے ہو گا۔۔۔۔۔۔ 

Monday, 26 October 2015

قدرتی آفات، توہمات اور فرسودہ اعتقادات

قدرتی آفت کے وقت انسان کائنات میں خود کو تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں آفات سے بچنے کیلئے بہتر اقدامات موجود ہوتے ہیں اور شہریوں کی آفات سے نمٹنے کی تربیت کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔ اسلئے وہ آفت کے بعد حفاظتی اقدامات کیطرف متوجہ ہوتے ہیں، ریسکیو، بہتر امدادی سہولیات اور انفراسٹرکچر میں نسبتا اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ مصیبت زدہ لمحے میں اور اسکے بعد معلومات کا مستند ذریعہ میڈیا ہوتا ہے جو تازہ ترین حالات کی آگاہی مثبت انداز میں پیش کرتا ہے جس سے لوگوں کو حکمت عملی میں بھی مدد لیتی ہے۔
ترقی پذیر یا پسماندہ معاشروں میں ایسے اقدامات پر زور نہیں دیا جاتا۔ نااہلی، بدعنوانی اور کرپشن کیوجہ سے متعلقہ محکمے غفلت اور سستی کا شکار ہوتے ہیں یا پھر رشوت خوری کے ذریعے ناقص میٹیریل اور تعمیرات کے سٹینڈرڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے عمارتیں اور پلازے وغیرہ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ بے ہنگم آبادیاں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے لوگ آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں شہریوں کو آفات میں بچاؤ کی مناسب تربیت بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے اس پر زور دیا جاتا ہے۔ زلزلہ پروف عمارات تو شاذ ہی پائی جاتی ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے کھمبے وغیرہ انکے علاوہ ہوتے ہیں۔ عوام ان سب پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں۔
جب کہیں آفت آتی ہے تو پھر لوگ اپنے آپ کو بے دست و پا پاتے ہیں۔ ارد گرد کے غیر محفوظ ماحول میں اعتماد کی شدید کمی اور احساسِ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مناسب تربیت نہ ہونے کیوجہ سے انکو یہ تک سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ انکا اس موقع پر ردعمل کیا ہونا چاہیے اور جب کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو تو مایوسی، خوف اور موت کا خطرہ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ توہمات کے پروان چڑھنے کیلئے ایسا میدان انتہائی سازگار ہوتا ہے۔
اگر یہ سب توہمات و فرسودہ اعتقادات انفرادی جہالت تک محدود رہیں تو اتنا بڑا ایشو نہیں مگر جب اجتماعی طور پر افواہوں اور توہمات کو پھیلانے کی لامحدود جہالت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہو تو پھر اس پر غور کرنا چاہیے۔ حواس باختہ حالات میں چند مداریوں کی چاندنی ہو جاتی ہے جو افواہوں اور سازشی تھیوریوں کو پھیلا کر ماحول کو مزید دہشت زدہ کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں، خوف اور سنسنی خیزی پھیلاتے ہیں جس کا جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔
جن معاشروں میں سائنسی شعور کی بھی کمی ہو اور قدرتی آفات کی زمینی وجوہات اور حقائق سے متعلق بھی زیادہ معلومات لوگوں کو میسر نہ ہوں تو پھر وہ دہشت کے ماحول میں لامحالہ طور پر مافوق الفطرت اور آسمانی وجوہات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی وجوہات اپنے معاشرتی، سماجی و مذہبی روایات کے مطابق تراشی جاتی ہیں اور پھر انکا پرچار کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ نیم خواندہ و ناخواندہ افراد ان پر فی الفور یقین بھی کر لیتے ہیں۔
برصغیر میں کسی دور میں مشہور تھا کہ زمین ایک شاخِ (سینگ) گاؤ (گائے) پر ہے اور وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اسکا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر زمین رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت ہوتی ہے، وہی زلزلہ ہوتا ہے۔ اس وجہ پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت کے ذرائع محدود ہونے کیوجہ سے مختلف خطوں کے درمیان رابطہ بھی محدود ہوتا تھا، لہٰذا اگر کسی مخصوص خطہ میں زلزلہ آتا تو لوگ یہی سمجھتے کہ ساری زمین پر زلزلہ آیا۔ ایک دور میں دریائے نیل کے سیلاب کو لوگ اپنے دیوتا کی ناراضگی سمجھتے تھے جسے خوش کرنے کیلئے ہر سال کنواری لڑکی کی بھینٹ چڑھائی جاتی۔
اسی طرح کہیں پر ہم جنس پرستی کو مافوق الفطرت ہستی یا دیوتا کی ناراضگی کا سبب بتایا جاتا تو کہیں ملاوٹ کو قوم کی تباہی کی وجہ بتایا گیا اور کہیں پر کسی مقدس ہستی کی نافرمانی کیوجہ سے دیوتا کو قہر نازل کرنا پڑا یا اگر زیادہ ناراض ہوا تو اس نے قوم کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں آفات سے متعلق اسی قسم کی وجوہات کا رجحان تھا اور قصے کہانیاں مشہور تھے جنہیں ہزاروں سال درست سمجھا جاتا رہا کیونکہ زمانۂ قدیم میں لوگ مادی اور سائنسی وجوہات کو سمجھنے سے قاصر تھے، اسلئے انہیں عافیت اسی میں نظر آتی کہ وہ غیبی طاقتوں پر سب کچھ ڈال کر ذہن کو جھنجھٹ سے نجات دلائیں۔ بدقسمتی سے ہم پسماندہ معاشروں میں آج بھی دیکھ سکتے ہیں مثلا نیپال کے حالیہ زلزلے کی وجوہات میں ایک ہندو ملاں نے گاؤ کشی کو وجہ بتایا۔
جدید سائنسی تحقیقات نے آسمانی یا مختلف مافوق الفطرت عوامل کی بجائے زمینی وجوہات کو تلاش کیا اور ان پر تحقیق کی گئی جنکی وجہ سے ان تمام توہمات کا خاتمہ ہوتا چلا گیا۔ کچھ باقیات مگر ابھی باقی ہیں جہاں کسی بھی قدرتی آفت کے بعد آسمانی اسباب کی تلاش کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی توہمات کے زیر اثر اپنے دیوتا یا مقدس ہستیوں کی برتری، رعب و جلال اور انکی طاقت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جہاں تک متاثرین کا تعلق ہو تو انکو اسی قابل ثابت کیا جاتا ہے کہ ان پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہو جس میں گناہ، خطائیں وغیرہ جیسے اسباب شامل کیے جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خطا کا پتلا ہے۔ غلطیوں سے مبرا کوئی بھی انسان تاریخ میں نہیں گزرا۔ مختلف اوقات میں انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور فطری طور پر انسان غلطی کا احساس ہونے کے بعد شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی مواقع پر جب پیچھے اپنی زندگی پر نظر دوڑاتا ہے تو جہاں جہاں اسے غلطی کا احساس ہو، احساسِ جرم اس پر طاری ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ موت کے خوف کے سامنے انسان پیچھے کیطرف جانا شروع کر دیتا ہے یعنی اپنی پچھلی گزری ہوئی زندگی کے پل اسکے سامنے آ جاتے ہیں۔ بنیاد پرست معاشروں میں جہاں دیوتاؤں یا آسمانی قوتوں کے قہر اور غضب سے متعلق اعتقادات ہوں، وہاں پھر آفات کے سامنے عذاب، گناہ، اعمال کی سزا وغیرہ وغیرہ جیسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے۔
مداری آسمانی عوامل تلاش کرنے کیساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں فطری طور پر پائے جانے والے احساس جرم کو بھی نشانہ بناتے ہیں جس سے انسان اس احساس کے تحت اپنی غلطیوں کو ہی سبب مان لیتا ہے۔ اسکے علاوہ مذہبی و سماجی تشریحات کے تحت مختلف اجتماعی غلطیاں نکالی اور بیان کی جاتی ہیں اور قوم کو اپنے اپنے دیوتا کی پوجا پاٹ، چرن چھو کر معافی تلافی وغیرہ کا سبق پڑھانا شروع کیا جاتا ہے۔
آج کے کوہ ہندوکش ریجن میں ۷ء۷ کے زلزلے کے بعد بھی ہمارے میڈیا پر سنسنی خیزی اور خوف کی فضا میں افواہوں کے ذریعے اضافے کیلئے سر توڑ کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی قدرتی آفت کی کوریج کی مناسب پروفیشنل تربیت نہ ہونے کیوجہ سے نیوز کاسٹرز وغیرہ کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خبروں کو کس طریقے سے پیش کریں اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ چینلز (جیو نیوز اور دی ہندو) نے سوشل میڈیا سے فیک تصاویر اٹھا کر ایکسکلوزیو کے لیبل کیساتھ تک پیش کر دیں۔
سوشل میڈیا پر مذہبی و سیاسی ٹھیکیدار طرح طرح کی سازشی تھیوریاں تھوک کے بھاؤ تقسیم کرنے کیلئے ایسے سرگرم ہوئے کہ بقول بانو زلزلے کو خود آ کر وضاحت دینی پڑی ”او بھائی میں زلزلہ ہوں جو سائنسی بنیاد پر آتا ہوں. تم لوگ عقل سے پیدل مجھے سیاسی و مذہبی بنیاد پر ڈال دو“۔ مداریوں نے زلزلے کے بعد سود، سانحۂ قصور، مخالف مسالک، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے ”غیر اسلامی“ کاموں پر کسی آسمانی قوت کے غضب کا بین بجانا شروع کر دیا، یہ دیکھے بغیر کہ زلزلہ ان تمام افعال کے ذمہ داران سے کہیں دور آیا ہے۔ زمین پر گناہوں کے بوجھ، بداعمالیوں اور غلطیوں کا پرچار کرنے والوں نے شاید دیگر سیاروں پر زلزلوں کے متعلق کبھی نہیں سنا جہاں کوئی انسان ہی نہیں بستا، چہ جائیکہ وہاں بداعمالیاں پائی جائیں۔ سب سے مضحکہ خیز منطق دیسی نجومیوں کی ہے جو اکتوبر سے فال نکال کر دو جمع چھ والے فارمولے سے براہ راست اکتوبر کو ہی مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
اگر آپکے ارد گرد کوئی زلزلے سے متاثر ہوا تو امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر خطوں کی امدادی سرگرمیوں میں بھی مالی اور دیگر ذرائع سے تعاون کرنے کی کوشش کریں اور اگر آپکے اردگرد سب خیریت ہے تو شانت رہیں، میڈیا کے نازک حالات کیوجہ سے اگر ٹی وی وغیرہ نہ ہی آن کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ پرنٹ میڈیا میں کل عباسیوں اور جان لیواؤں کی سازشی تھیوریاں چھپتی ہی ہوںگی جنہیں مزے لیکر پڑھیے۔ زلزلے کی وجوہات سائنسی اور مادی ہی ہوتی ہیں نہ کہ غیبی قوتوں یا دیوتاؤں کے جلال کا شاخسانہ، ان سے متعلق اگر واقف نہیں یا کم جانتے ہیں تو مزید آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی انسان معصوم عن الخطا نہیں، اسلئے اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے رہیے، ماضی کے لمحات کو آپ واپس نہیں لا سکتے، ان میں جو بھی گناہ یا غلطیاں ہوئیں، ان سے سبق سیکھیں نہ کہ اس ماحول میں احساسِ جرم میں بھی مبتلا ہو جائیں۔
مہمت

Thursday, 15 October 2015

سائنسی علوم اور قدامت پسندانہ مذہبی رویے

مذاہب کی تشکیل اور راسخ العقیدگی (Orthodoxy) تکمیل کے بعد جب یہ نئے دور اور بدلتے دور کے تقاضوں کا مزید ساتھ دینے سے اور نئے خیالات، افکار، نظریات پیش کرنے سے قاصر ہو گئے اور یہ میدان جدید علوم سے متعلق دانشوروں، مفکروں اور سائنسدانوں کے ہاتھ میں مکمل طور پر چلا گیا اور اہل مذاہب بالخصوص مذہبی علماء کے پاس نئے حالات میں ان میدانوں میں کوئی بھی قابل فخر کارنامہ نہ رہا تو اس سلسلہ میں اہل مذاہب کے مختلف رویے سامنے آئے۔ 
روشن خیال اور ترقی پسند اہل مذاہب، جن میں مذہبی علماء کی بھی ایک خاطر خواہ تعداد شامل ہے، نے جدید علوم اور مذہب کو علیحدہ کیا اور مذہبی علوم اور جدید علوم کے دائرہ کار متعین کیے جبکہ عقیدت مندانہ مذہبی ذہنیت علوم جدیدہ اور مذہب کے دائرہ کار کی حدود تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی بلکہ وہ تمام علوم کو مذہب کے تابع رکھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں جہاں انکی جانب سے ایک طرف ایجادات کو ہم مذہب سائنسدانوں اور اپنی تاریخ سے منسوب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی پر نئے نظریات و ایجادات کو اپنی کتابوں میں زبردستی گھسیڑنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ کٹر مذہبی حلقے نے تو علوم کی دینی و دنیاوی تقسیم کی، دنیاوی علوم غیر مذہبی اور گمراہ کن قرار پائے اور فلاح مذہبی علوم میں قرار پائی جنکی حیثیت مقدم ٹھہری۔
یہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک میں مذہبیوں کی مذہب اور سائنسی علوم کیطرف اپروچ میں واضح فرق ہوتا ہے لیکن پسماندہ معاشروں سے ترقی یافتہ ممالک میں نقل مکانی یا شفٹ ہونے والے کئی اہل مذاہب کی سوچ جدت سے الگ تھلگ رہنے کیوجہ سے اپنے معاشرے کی جاگیردارانہ اقدار میں ہی جامد رہتی ہے اور انکے رویے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس میں ایک کردار معاشرے کی قدیم جاگیردارانہ اقدار کا بھی ہوتا ہے جنہیں مذہبی جوازوں کیساتھ اپنایا گیا ہوتا ہے۔
ہمارے اپنے معاشرے میں کئی علماء تقاریر اور خطبوں میں فخریہ طور پر اپنے یا اپنے کسی عقیدت مند کے کارنامے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنے بچوں کو یونیورسٹی سے نکال کر مدرسوں میں داخل کرایا اور یوں انہیں یونیورسٹیوں اور جدید علوم کے شر سے محفوظ و مامون کر دیا اور اس نیک عمل سے وہ سرخرو ہو گئے یا پھر سائنس و عمرانی علوم کی ایجادات و برکات کو مذہبی کتابوں سے نکال کر سنایا جا رہا ہوتا ہے اور انہیں کوسا اور سخت سست قرار دیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ چیزیں مذہبی کتابوں میں موجود تھیں مگر انہیں پتہ نہ چل سکیں۔ اسکی مثال ہمیں دعوت اسلامی جیسی شدید قدامت پرست اور امام احمد رضا کے کٹر سائنس دشمن افکار پر عمل پیرا جماعت کی ”نماز اور سائنس“ جیسی اور دیگر ملاؤں کی جانب سے اس قسم کی مزید بے سر و پا کتب، سائنسی ایجادات منسوب کرنے سے متعلق بے سر و پا سازشی تھیوریاں، یورپی ممالک کے دساتیر میں عمر لاء کی افواہوں وغیرہ سے ملتی ہے۔ یہ عمل اختیار کرنا مذہبی علماء کیلئے بہت مفید تھے۔ اسطرح مذہبی کتب تمام علوم کا سرچشمہ قرار پاتی ہیں، مذہبی علوم تمام علوم سے افضل اور اسطرح علماء کی عقیدت اور حیثیت اس قسم کی مذہبی تشریحات کے زیر اثر علوم جدیدہ کے ماہرین کے مقابلے میں برتر ہی رہتی ہے۔ 
جدید علوم کے ماہرین ایجادات، دریافت اور نئے افکار پیش کرنے میں اپنی پوری پوری زندگیاں صرف کر دیتے اور اگلے ہی لمحے بغیر کسی تساہل کے اہل مذاہب کی مذہبی کتابوں میں وہ چیز موجود جھٹ سے موجود ہوتی ہے۔ سائنسدانوں اور مفکرین کی حیثیت پھر ثانوی ٹھہرتی ہے، بعض حلقوں کے مطابق جنہوں نے مذہبی کتابوں سے محض نقل کر کے ایجاد کر ڈالی اور ساتھ وہ مجرم بھی قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ایجادات و افکار کا کریڈٹ مذہبی کتابوں کو نہیں دیا کیونکہ وہ ”سچائی“ سے خوفزدہ بھی تھے اور اندھے، گونگے اور بہرے بھی کہ ”حقیقت“ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایجادات اور علوم کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششوں سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
علمی ترقی کے اس دور میں انسانوں کا شعور آج چودہ سو، دو ہزار یا پانچ ہزار سال قبل سے کہیں بلند ہے بلکہ پوری تاریخ انسانی میں سب سے بلند ہے۔ مذہبی کتب اور علماء پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں جسکے وہ کم ہی عادی ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کیلئے مذہبی فقہی کتب کی کاملیت اور علماء کی تقدیس کا پرچار کیا جاتا ہے اور اسے لیکر مذہبی علماء دیگر علوم اور شعبہ ہائے زندگی پر مذہب کا تسلط برقرار رکھنے کیلئے تگ و دو کرتے رہتے ہیں کیونکہ اس سے انکے معاشی مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ 
ہمارے پری کیپیٹلسٹ مذہبی معاشرے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذہبی علوم، علماء اور مذہب کو اسکے دائرہ کار تک محدود کرنے اور ان میں برداشت اور علمی رویوں کو فروغ دینے، مدارس کے نصاب سے اس قسم کی بنیاد پرست اور علم دشمن روایات و تشریحات کا خاتمہ کر کے مذہبی نصاب کو حالات کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے اور تعلیم کے ذریعے سائنسی شعور کو بلند کرنے سے ہی ان قدامت پرست اقدار اور علمی ترقی کی راہ میں حائل رویوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمت