Sunday, 29 May 2016

ٹنڈ شریف


ہمارے ہاں آج کل شریفوں کا راج ہے، کسی دور میں شرافت کو جانچ پرکھ کر کسی شے، علاقے یا جاندار کو شریف کہا جاتا تھا مثلا یہ کہ جس جگہ چند نیک لوگ یا اللہ والے بستے ہوں، اس بستی کیساتھ شریف کا لاحقہ لگا دیا جاتا لیکن خاکی و دیگر رنگ و روپ کے شرفاء کے آپس میں ٹکراؤ اور شکریے شکریے کے شور اور ہاہاکار سے کافی پہلے ہی شریف کی اصطلاح محض شریفوں کیلئے نہیں رہی۔ اسکا معنیٰ و مفہوم وسیع ہو چکا ہے۔
اتہاس گواہ ہے کہ اپنے اپنے شریفوں کے شکریے پر تو کاپی رائٹس کے دعوے کئے گئے لیکن شریف کی اصطلاح پر آج تک کسی نے کاپی رائٹ کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی وجہ سے یہ اصطلاح مخصوص نہیں رہی اور جہاں جی چاہے استعمال کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے تو حد ادب پار کر کے محاورہ اختراع کیا کہ شریف تو خر (محاورے والا معروف نام کافی غیر پارلیمانی ہے) بھی ہوتا ہے۔ غالب گمان ہے کہ فخر سے شریف کی اصطلاح کو اس حد تک بگاڑنے والے وہی ہوں گے جو خر کے گوشت کو مرغوب سمجھ کر نوش کرتے ہوں گے۔
تمہید میں شریف کی مکمل وضاحت عنوان میں ٹنڈ کیساتھ شریف لگانے کے مسئلہ کے ضمن میں کی گئی تاکہ سند رہے اور تمام اعتراضات رفع ہو جائیں۔ اتنی وضاحت کے بعد بھی کسی کا اعتراض باقی رہے تو وہ خواجہ آصف صاحب کو یاد کرے اور ہمیں ”ٹنڈ شریف“ استعمال کرنے سے روک کر دکھائے۔ اگر آپ بھی ایک عدد ٹنڈ کے حامل ہیں، تو ذرا اسے تھام کر رکھیے، اب ہم شریف سے آگے ٹنڈ کیطرف بڑھتے ہیں۔
ویسے تو ہمارے ہاں چغلی و نیم چغلی میٹنگز میں سارا سال ایسی سائنسی بحثیں اور تجربات جاری رہتے ہیں جو دنیا کے کسی سائنسی جرنل میں شائع نہیں ہوتے یا کسی تحقیق سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ نسل در نسل محفوظ کر کے منتقل کیے جاتے ہیں۔ کوئی بیمار ہو جائے تو اسکے سرہانے بالکل مفت نادر مشورے یا بیماری کی نوعیت، علامات و وجوہات پر پیچدہ بحثیں وغیرہ اور ٹوٹکوں کی صورت میں تجربات، یہ سب تقریبا روز مرہ کی معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں۔
گرمیاں پڑتے ہی یہ سائنسی بحث زوروں پر ہوتی ہے کہ سر منڈوانا گرمیوں میں مفید ہوتا ہے یا سردیوں میں اور یہ کھوپڑی کیلئے مضر کس موسم میں ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ سر منڈوانے کے مخالفین کا دعویٰ ہوتا ہے کہ بال گرمیوں میں سر کو لو سے اور سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ گرمیوں میں اس سے سر کو ہوا لگتی ہے اور فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک اور رائے میں گرمیوں میں مضر جبکہ سردیوں میں مفید ہے۔ نازک مزاج اور سر منڈوانے سے متعلق معاشرتی رویوں اور القابات سے خائف لوگ البتہ کسی بھی موسم میں اس کا لطف اٹھانے سے کوسوں دور رہتے ہیں۔
سر منڈوانے سے متعلق کٹر خیالات رکھنے والے والدین البتہ اس بحث میں پڑتے ہی نہیں ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہی بچوں پر سر کو بالوں سے صاف کروانے کے لئے دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دباؤ شدید ہونے پر بچوں کو نائی کے پاس سر کتروانے کیلئے جانا ہی پڑتا ہے۔ بعض والدین تو مشین منگوا کر گھر میں ہی آلو کیطرح کترتے ہوئے رسم کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ صبح جو بچہ صحیح سلامت دکان سے لیز لینے آیا ہوتا ہے، وہ شام کو گھر سے جوس لینے اس حالت میں آتا ہے کہ اس کے بال گدھے کے سر سے سینگوں کیطرح غائب ہوتے ہیں۔
اس سلسے میں صنفی تضاد البتہ بہت گہرا پایا جاتا ہے۔ ٹنڈ کروانے کیلئے دباؤ اور جبر کا نشانہ لڑکوں کو ہی بننا پڑتا ہے۔ بعض خاندانوں میں اس تضاد کو مٹانے کیلئے چھوٹی بچیوں کے سر بھی کتر دیے جاتے ہیں جسکی وجہ سے فرق کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے اور اگر لباس کا بھی فرق نہ رہے تو ناممکن ہو جاتی ہے۔ واللہ اس معاملے میرے کسی بھی صنفی برابری جیسے ارادے نہیں اور نہ ہی فیمنسٹوں کے غضب کا نشانہ بننا چاہتا ہوں یا میننسٹوں کے حوصلے بڑھانا چاہتا ہوں کہ وہ بیچ اس مسئلہ کے صنفی برابری کیلئے کوئی تحریک پیدا کریں۔ بعض باشعور خواتین کو البتہ اس صنفی امتیاز اور محرومی کا رونا روتے دیکھا گیا جو سمجھتی ہیں کہ ٹنڈ ایک ایسی مفید نعمت ہے کہ انہیں بھی بال دوبارہ جلدی اگ آنے کیساتھ یہ سہولت حاصل ہونی چاہیے۔
بعض لوگ کسی موسم کو دیکھے بغیر سدا بہار بالوں کا بوجھ سر سے اتار پھینکنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان میں بالوں کے سٹائل سے اکتائے ہوئے ڈھلتی عمر کے افراد یا بڑے بزرک ہوتے ہیں یا پھر وہ جو ہمیشہ ہی سر پر بالوں سے خائف رہتے ہیں۔ شیمپو کا خرچ بچانے والے یا پھر جوؤں کی بستیوں کی بستیاں اجاڑنے اور اکھاڑ پھینکنے کے خواہش مند بھی بے دردی سے بالوں کو کھیت کرنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ٹنڈ کا ایسا نشہ ہوتا ہے کہ ہر دو تین مہینے بعد سر کتروائے بغیر انہیں زندگی سے بیزاریت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جو لوگ بال سنوارنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، انکی ترجیح بھی ٹنڈ ہی ہوتی ہے۔
ٹنڈ کروانے سے نائی کی فیس، معاوضہ یا ہدیہ بھی ہفتوں کیلئے بچ جاتا ہے۔ اس سے جو سر پر پلاٹ خالی ہوتا ہے، اسکے بیشمار فوائد گنوائے جاتے ہیں جنہیں محض ٹنڈ کروانے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چمکتی ٹنڈ روشنی کو منعکس کرنے یا کسی دوسرے زاویے پر منعطف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر زیادہ شفاف ہو تو شیشہ نہ ہونے کی صورت میں اسے دوسرے لوگ بال سنوارنے کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شفاف ٹنڈ پر ابن الہیثم اور دیگر سائنسدانوں کے روشنی کے انعکاس و انعطاف کے وہ تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں جو مشنور (prism) یا شفاف اجسام کیلئے پیش کئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ جہاں بالوں یا زلفوں کا ایک حسن ہوتا ہے، وہیں ٹنڈ بھی اپنا الگ حسن رکھتی ہے۔
کشور سلطانہ صاحبہ نے تحقیق کے بعد ٹنڈ پر چند فوائد لکھے۔ انکے مطابق دھوپ میں اگر ٹنڈ گرم ہو جائے تو اس پر روٹیاں بھی پک سکتی ہیں اور ہوا زیادہ تیز چلے تو بالوں کا سٹائل خراب بالکل نہیں ہو سکتا۔ بلیک بورڈ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو حساب کے سوال ٹنڈ پر ہی کرائے جا سکتے ہیں۔ فیس واش پورے سر پر استعمال ہو سکتا ہے۔ بقول کشور صاحبہ کے ٹنڈ کو لشکا کر اس سے دھوپ میں آگ بھی جلائی جا سکتی ہے اور اگر ٹنڈیں زیادہ ہوں تو چھوٹے چھوٹے جگنوؤں کے چمکنے کا منظر پیش کریں گی۔ اسکے علاوہ آرٹسٹ لوگ ٹنڈ پر ہی رنگ لگا کر رنگ مکس کر سکتے ہیں کہ یہ تھالی کا کام بھی دے سکتی ہے۔ ٹنڈ پر مزید علمی و فکری تحقیق سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کیلئے ٹویٹر پر #ٹنڈکےفوائد سرچ کریں۔
متاثرینِ ٹنڈ کیلئے جو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، وہ ٹکلا، روڈا، روڈی (مؤنث)، ٹکلا، گنجا وغیرہ ہیں اور ٹنڈ کو روڈ، گراؤنڈ، گنج، رن وے، تربوز وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک ٹنڈ کا لفظ سب سے منفرد ہے بلکہ جو بھی اصطلاح استعمال کی جائے، ذہن میں ٹنڈ کا لفظ ہی ابھرتا ہے۔ گنجے کا لفظ البتہ ان کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جنکے کسی بیماری یا کمزوری کے باعث بال جھڑ جاتے ہیں، لیکن ٹنڈ کرانے والا ہنسی خوشی اور برضا و رغبت یا اگر آزاد مرضی کا مالک یا حق نہ رکھتا ہو تو کسی کے دباؤ میں بالوں کی قربانی دیتا ہے۔
اردو اور پنجابی میں ٹنڈ پر محاورے میں پائی جاتے ہیں مثلا ٹنڈ پر اولے پڑنے کے خطرے سے متعلق مشہور محاورہ ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ اسکے علاوہ ٹنڈ کا مزا بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے ”جو مزہ ٹنڈ وچ اے، نہ شہر وچ اے نہ پنڈ وچ اے“۔ ایک اور محاورہ جو بچے لہک لہک کر گاتے بھی ہیں ”روڈی ٹنڈ قصائیاں دی، ساری مستی نائیاں دی“۔ اس محاورے کو معنیٰ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خاصا نسل پرستانہ ہے لیکن یہ اپنے اصل معنیٰ میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ جس نے ٹنڈ کرائی ہو، اسکے لئے بطور مزاح گایا یا بولا جاتا ہے کیونکہ نائی کی شرکت کے بغیر ٹنڈ کے ”جرم“ کا ارتکاب ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک قدیم رواج مجرموں کے سر مونڈ دینے کا بھی تھا، اسلئے کسی کی بے عزتی ہو جانے پر بھی یہ بولا جاتا ہے ”فلاں کی ٹنڈ ہو گئی“۔
کائنات میں بیشمار لطافتیں ہیں لیکن کسی ٹکلے کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے لطف کا شاید ہی کوئی نعم البدل ہو۔ کچھ لوگ ٹنڈ کروانے کے بعد اسے اپنی غیرت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کوئی ہاتھ بھی لگا دے تو انکے غیرت کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اور وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ اس معاملے میں جو ٹچی نہیں ہوتے، وہ جہاں اس لطف کی سہولت دوسروں کو دیتے ہیں، وہیں پر خود بھی اپنی تازہ ٹنڈ کا ”سواد“ حاصل کرتے ہیں۔ ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے کی کچھ حدود اور آداب البتہ ضرور ہوتے ہیں مثلا ہاتھ پھیرتے پھیرتے کھینچ کر چپیڑ مارنا تو کسی بھی مہذب انسان کے نزدیک بدتمیزی کے زمرے میں ہی آئے گا۔
زندگی میں ٹنڈ کروانے کی ایک بار ضرور کوشش کیجیے اور اگر نہیں کروا سکتے تو کسی ٹکلے کے سر پر ایک دو بار ہاتھ پھیرنے سے محروم نہ رہیے۔ مختصر سی زندگی میں ٹنڈ کروائے یا کسی کی ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے لطف اندوز ہوئے بغیر اس دنیا سے گزر جانے والوں کو اس نعمت سے لطف اندوز ہونے کیلئے زندگی دوبارہ نہیں ملتی اور نہ آج تک کسی کو ملی ہے۔ کسی کی مرضی کے بغیر ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے پرہیز، حدود اور ادب آداب کا خیال البتہ ضرور رکھیے ورنہ معاملہ غیرت کے نام پر قتل تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

Monday, 16 May 2016

بھونکتے کتے


یوں تو کتوں سے ہمارا تعلق وفادار دوست اور قدیم زمانے میں مخلص چوکیدار اور سونگھنے کی حس سے شکار میں ہماری مدد کرنے والے کی حیثیت سے قائم ہے، لیکن یہ  تو اعلیٰ صفات ہیں۔ جس وجہ سے کتے بدنام ہیں، وہ ان میں سے بعض کی بلاوجہ بھونکنے کی عادت ہے۔ اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ عادت کتوں نے انسانوں کیساتھ رہتے ہوئے اپنائی یا  بہت سے انسانوں میں بھی جو ایسی عادات پائی جاتی ہیں، وہ کتوں سے انہوں نے سیکھیں، مگر منسوب یہ کتوں سے ہی کی جاتی ہیں۔”بد سے بدنام برا “کے مصداق ان عادات کیوجہ سے لعن طعن بھی کتوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔
سب کتے بھونکنے والے کتوں کی عادات کے مالک نہیں ہوتے، واللہ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے کتوں سے معافی طلب کرنی چاہیے، مبادا وہ مائنڈ کر کے انسانوں میں پائی جانے والی ایسی خصلتوں کا کچا چٹھا کھول دیں۔ یہ انکی مہربانی ہے کہ بہت سے انسانوں کی ایسی فطرت کے باوجود انہوں نے بدنامی کا بوجھ اپنے سر ہی لیا ہوا ہے  اور کبھی انسانوں کو بدنام نہیں کیا یا اپنے حلقوں میں ”بھونکتے انسان“ جیسی کوئی گالی استعمال نہیں کی۔ اسی وجہ سے ہمیں آزادی حاصل ہے کہ ہم ”بھونکتے کتوں“ کی تشبیہہ کا استعمال کر سکیں اور اس آزادی کے بدلے سب کتوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انتہائی ضرورت کے وقت بھونکنے والے کتوں کو بلا ضرورت بھونکنے والوں سے علیحدہ تو سمجھا جانا چاہیے۔ 
بھونکنے والے کتے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، یعنی وہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ، بعض تو اونگھتے ہوئے لیٹے لیٹے ہی ایک لمبی سر میں بھونکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں باہمی تعاون انتہائی مثالی ہوتا ہے۔ ایک ساتھی کو بھونکتا دیکھ کر سب کورس میں بلا سوچے سمجھے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھونکنے کیلئے ویسے بھی کسی طور پر سوچنے سمجھنے کی ضرورت تو ہوتی نہیں۔ 
بھونکتے کتے کا مقابلہ بھی ایک دلچسپ شے ہے جو صرف اسی کی طرح بھونک کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھونکتے کتوں کی تاریخ میں ابھی تک اسکے علاوہ کوئی طریقہ دریافت نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان نہیں۔ انسانوں کی تاریخ کیلئے انسانی تاریخ استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اسکے وزن پر کتوں کی تاریخ کیلئے میں کتی تاریخ کی اصطلاح استعمال کرنا چاہوں گا۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ کتی تاریخ میں آج تک بھونکتے کتے کو کسی نے دلیل، مکالمہ یا منطق استعمال کرتے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی سنتے دیکھا گیا ہے۔ 
ایک بات جو سب بھونکتے کتوں  میں مشترک ہوتی ہے، وہ توجہ کا طالب ہونا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ بزعم خود  سمجھتے ہیں کہ انہیں توجہ محض اسی صورت میں ہی مل سکتی ہےجب وہ گلا پھاڑ کر بھونکنے لگیں۔ اسکو وہ اپنا ہنر اور فخر سمجھنے لگتے ہیں۔جب بھی انہیں توجہ مقصود ہو، وہ اپنی اس ”صلاحیت“ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔  آہستہ آہستہ بھونکنا انکی ایسی فطرت اور نشہ  بن جاتا ہے کہ انہیں بھونکے بغیر چین اور سکون نصیب نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس عادت کیلئے بھونکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہت سے کتے تو توجہ حاصل کرنے کیلئے اس قدر بھونکتے ہیں کہ انکی حالت پر رحم آنے لگتا ہے۔
بھونکتے کتوں کو اگر صرف یہ کہنے کیلئے بھی توجہ دی جائے کہ ”آپکے بھونکنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا“ تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید انکا بھونکنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسے کسی کتے کو یہ احساس نہیں دلایا جا سکتا کہ وہ بھونک کر ایک فضول کام کر رہا ہے۔ ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کتے کو مسلسل توجہ نہ ملنے کے بعد خود بخود یہ احساس ہونا شروع ہو جائے کہ اسکے بھونکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بھینس پر بین کے اثر کا گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے سائنسی آلات اتنے طاقتور نہیں کہ بین بجانے پر بھینس کے جھومنے کا مشاہدہ و مطالعہ کر سکیں لیکن یہ مصدقہ اور کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ بھونکتے کتے پر کسی دلیل کا اثر نہیں ہوتا، چاہے وہ دلیل کتنی ہی عالمانہ اور منطق و فلسفہ میں گوندھ کر تیار کی گئی ہو۔ 
کتوں کا آپس میں مقابلہ ہو یا بھونکتے کتے سے مقابلہ ہو، لوگ ہمیشہ تماشہ سمجھ کر ہی دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے کسی کتے یا بھونکتے کتے سے مقابلہ کرنے والے کا رتبہ، عزت اور شان بلند نہیں ہوتی۔ چونکہ بھونکتے کتے کا لیول بھونکنا ہی ہوتا ہے اور وہ اس سے آگے جا ہی نہیں سکتا، نہ ہی کچھ کر سکتا ہے، سو مقابلے کیلئے اس کے لیول پر ہی آنا پڑتا ہے۔ بقول سید عاطف علی اگرکوئی کتا راستے پہ بھونکنا شروع کر دے تو گاڑی کے شیشے چڑھا لیتے ہیں مقابلہ نہیں کرتے۔ کیونکے بھونکنے میں جیت ہمیشہ کتے کی ہی ہو گی۔
بعض لوگ کتے کو خاموش کرانے کیلئے پتھروں کا سہارا لینے کی بھی مشقت کرتے ہیں، لیکن اس ضمن میں بھی کتا یہی سمجھتا ہے کہ اس پر توجہ دی جا رہی ہے اور چونکہ وہ ہوتا ہی توجہ کا طالب ہے، لہٰذا مزید بھونکنا شروع کر دیتا ہے اور بھونکتے بھونکتے خود کو ہلکان کر کے اپنی جان ختم کر لے گا لیکن بھونکنا بند نہیں کرے گا۔ پتھر اچھالنے کی مشقت میں آپ ہلکان ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے کتے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ پڑ سکتا ہے۔انہیں انکی حالت پر چھوڑ دینا ہی انکے لئے بہتر ہوتا ہے۔ پنجابی زبان میں اسکے لئے ایک محاورہ ہے ”پونکدا رہو“۔ ایک اور محاورہ بھی اسی ضمن میں استعمال ہوتا ہے ”کتے پونکدے رہندے نیں، تے راہی لنگ جاندے نیں“۔
بعض بھونکتے کتے پیدائشی پاگل بھی ہوتے ہیں اور پاگل پن ہی انکے مسلسل بھونکنے کا محرک ہوتا ہے۔ ایسے کتوں پر عاطف علی رحم کرنے کا کہتے ہیں۔ انکے مطابق پاگل کتے پر کیا جانے والا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اسے اپنی طرٖف متوجہ کرلیں ورنہ وہ اپنے آپ کو ہی کاٹ کاٹ کر مر جائے گا۔ ایسے کتوں پر اگر فالتو وقت اور دل میں رحم کا جذبہ دونوں موجود ہوں تو ترس کھا کر لازمی توجہ دینی چاہیے۔