Tuesday, 29 September 2020

کیا سارا فیمینزم ردی ہے؟

 

استعمار کا آزمودہ نسخہ رہا ہے کہ کسی قوم کو پہلے غیر مہذب، اجڈ، گنوار، جاہل اور وائلنٹ قرار دے دیا جائے جسکے بعد 'تہذیب' سکھانے کیلئے ہر قسم کی لوٹ مار، بربریت، قبضہ گیری اور حقوق سلب کرنے کا جواز نکل آتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دور میں شناخت کی سیاست اور ایکٹوزم میں بھی یہ تعصبات گھس آئے ہیں۔ حال میں فیمنسٹوں کی جانب سے ”تمام مرد کچرا/ ریپسٹ/ وائلنٹ وغیرہ ہیں“ کا نعرہ اور سوچ زیر بحث ہے۔ جب انسانوں کی آدھی آبادی پر مشتمل شناخت کو مطعون کرنے پر سوال ہوتا ہے تو فوری طور پر پینترا بدلا جاتا ہے کہ یہ نعرہ سارے مردوں کیخلاف نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے فیمنزم کے تنقیدی جائزے کے علاوہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا اسکی زد میں صرف مجرم سوچ یا کردار والے مرد ہی آتے ہیں اور اسکے جواز میں پیش کئے جانے والے دلائل جواز کیلئے کافی ہیں۔

اس قدر تو ہمیں بھی علم ہے کہ ایسے نعرے تمام مردوں کیخلاف نہیں ہیں۔ سامراجی امدادی اداروں اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور مردوں کے بغیر این جی اوز اور اشرافیہ میں ایک دوسرے کے کرتوتوں، جرائم اور استحصال کی پردہ پوشی کے بغیر ایلیٹ کلچر ایک دن نہیں چل سکتے۔کسی بھی نسلی، سیاسی، مذہبی گروہ کی فیمنسٹوں سے ان گروہوں کے مقدس مردہ و زندہ مردوں کے بارے میں پوچھیں تو زیادہ تر کے ہاں انکے لئے استثنائی گنجائش موجود ہو گی، بھلے کیسے ہی جرائم بالخصوص عورت دشمن جرائم میں ملوث ہوں۔ مختلف اقوام کی مقدس ہستیاں، مقدس کتب و عقائد، نسل پرستی،قومی تاریخ، اوہام، طبقاتی عصبیتیں انکی فیمنسٹوں کے ہاں بھی بالادست بیانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں عورتوں کے نام پر مزید پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مغربی فیمنزم، اسلامی فیمنزم، ہندوتوا فیمنزم چند ایسی مثالیں ہیں جو ان رجحانات سے لتھڑی ہوئی ہیں۔

کسی قوم یا شناخت کو مشکوک یا مجرم قرار دیا جائے تو اسکے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسکا اندازہ پاکستانیوں سے زیادہ کسے ہو سکتاہے۔ ہماری مزاحمتی آوازیں اور جدوجہد دنیا میں کوئی اثر نہیں رکھتی۔ ہماری جیلوں اور عقوبت خانوں میں کئی رائف بداوی بلکہ رائف سے کہیں زیادہ عظیم مزاحمتی کردار ادا کرنے والے قید ہیں یا قید و بند بھگت چکے ہیں لیکن انہیں کوئی جانتا نہیں کیونکہ پاکستانی قوم پر دہشتگرد قوم کا لیبل چسپاں ہے۔ شناخت پر فرد جرم سے اس شناخت کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس رجحان کو حوصلہ افزاء جواز مل جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نچلے اور کمزور طبقات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنکی آواز مختلف ہونے کے سبب پہلے ہی دبا دی گئی ہوتی ہے۔ مشعال کو شہید ہو کر سامنے لانا پڑتا ہے کہ پختونخواہ کی ایک چھوٹی یونیورسٹی میں بھی پراگریسو آواز موجود تھی۔ مشعال کے باپ کو بیٹے کی شہادت کے بعد کوریج ملتی ہے تو سامنے آتا ہے کہ ایک عام اور سادہ انسان کیسے نفیس اور ترقی پسند خیالات رکھتا ہے۔ مطیع اللہ جان اغواء ہوتا ہے تو اسکی کار بتاتی ہے کہ معاشی سختیوں میں بھی ایک صحافی کیسی جرأت دکھا رہا ہے۔ منظور پشتین کو ریاست سے ٹکرا جانا پڑتا ہے اور پھر معلوم پڑتا ہے کہ مٹی کے گھر کا باسی کس پائے کا ترقی پسند ہے۔

فیمینزم کا پراپیگنڈہ شد و مد سے پھیلایا جا رہا ہے کہ تمام مرد مشکوک یا مجرم ہیں جب تک کہ وہ بیگناہ ثابت نہ ہو جائیں۔ اسکے قانونی و عدالتی نظام پر منفی اثرات الگ ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ طاقتور طبقات کے مردوں کو فقط خوشنما لفاظی، چند نعروں اور بیانت کیوجہ سے اس کیٹیگری سے باہر نکلنے کی سہولت حاصل ہے۔ کئی ملکوں پر بم گرا کر مردوں، عورتوں، بچوں کو بھون ڈالنے والے اوباما اور ہلیری کلنٹن بھی فیمنسٹ ہیں۔یہ اتفاق نہیں کہ فیمینزم اور مجموعی طور پر پولیٹیکل کریکٹنیس کے فلٹر، شرائط اور معیار اصطلاحاتی اکیڈیمیا اور فیشن ایبل لفاظی والا مخصوص طبقہ ہی پار کرتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا وہ طبقہ زیادہ مہذب اور پرامن ہے اور وائلنس کا بہاؤ، منصوبہ بندی اور ڈھانچے عوامی ہیں یا ان نظریات اور ووک کلچر میں مسئلہ ہے جو عوام دشمن ہیں۔ سیاسی درستگی والے تسلیم نہیں کرتے لیکن انکے رجحانات عوام کیخلاف ہیں۔ میلانیا و ایوانکا ٹرمپ سے لیکر محمد بن سلمان تک خواتین کے حقوق کے نعرے لگا رہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ کھوکھلے نعرے ایسا ہتھیار ہیں جنکے ذریعے سفاک آمریت ذرا ماڈریٹ نظر آنے لگتی ہے اور عورتوں کی ایک پوری کھیپ کی حمایت مل جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک نامور پاکستانی فیمنسٹ نے میلانیا ٹرمپ سے ایوارڈ وصول کیا ہے۔

فیمینزم نے مردوں سے تعصب کیوجہ سے انہی اقدار اور ذرائع پر حملہ شروع کر دیا جو انسان کو فطرت کی سختیوں اور محدودیت سے آزادی دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی نے عورتوں کی آزادی میں فیمینزم سے کہیں زیادہ کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ اس میں سب سے زیادہ کاوشیں مردوں کی ہیں۔ سائنس جو تعصبات سے بلند ہو کر فطرت کے فہم کا علم ہے، وہ بدترین حملوں کی زد میں آیا۔ نئے جنسی تعصبات متعارف کرائے گئے جن میں سے ایک احمقانہ رجحان 'اونلی ویمن' سائنس کانفرنسز بھی تھا۔ نامور فیمنسٹ فلسفیوں کی جانب سے نیوٹن کی مساواتیں جنسی مساواتیں قرار پائیں۔ آئن سٹائن کے نظریات کی تشریح یہ پیش ہوئی کہ چونکہ مرد دیگر تمام مخلوقات پر برتری چاہتا ہے، اسلئے روشنی کی رفتار کو تمام رفتاروں پر فوقیت مردانہ ذہنیت کا اظہار ہے۔ مائع میکانکس (فلوئڈ میکانکس) کے مقابلے میں ٹھوس میکانکس (سالڈ سٹیٹ فزکس)کی ترقی کی توجیہہ یہ پیش ہوئی کہ اسکی وجہ یہ نہیں کہ مائع میکانکس کی مساواتیں انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں بلکہ چونکہ مردانہ عضو کرختگی اور ایستادگی سے منسلک ہے جبکہ نسوانی عضو ماہواری اور دیگر وظائف کے سبب مائع سے وابستہ ہے، اسلئے مائع میکانکس پدرسری کیوجہ سے پیچھے رہ گئی۔

اسی اور نوے کی دہائی کی سائنس وارز میں فیمینزم علی الخصوص پوسٹ ماڈرنسٹ فیمینزم، پوسٹ کالونیل فیمنزم اور ایکو فیمینزم ایسے رجحانات نے بھی سائنس پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ معروضی حقائق کو پس پشت ڈال دینا اور ہر قسم کی معروضیت کو لتاڑنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ طاقتور طبقات کو سچ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ پسے ہوئے طبقات ہوتے ہیں جو طاقت کے سامنے سچائی کے اظہار کے ذریعے للکارتے ہیں۔ جب ہر شے نیریٹو یا بیانیہ ہو گئی اور کسی بیانیے کی دوسرے بیانیے پر فوقیت یا بیانیے کی سچائی جاننے کے تمام پیمانے اور معیار حملوں کی زد میں آ گئے تو میدان خالی ہونے لگا۔ طاقتور طبقات کا تو مرغوب کھیل رہا ہے کہ وہ اپنے بیانیے کی بنیاد پر اذہان پر قبضہ جما کر راج کرتے ہیں۔ اب جبکہ چند اصطلاحات اور لفاظی کیساتھ کسی بھی فکر پر چڑھ دوڑنے کی سہولت ہو گئی تو دنیا بھر میں رائٹ ونگ بیانیوں میں جیسے ایک نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ فکری طور پر میدان انکے حق میں جا رہا تھا، دیگر بہت سے عوامل ملے اور آج ساری دنیا رائٹ ونگ جنونیت کی لپیٹ میں ہے۔ سائنس اور معروضی حقائق پر ڈینائل کا رجحان، دلائل کی بجائے خیالی حقیقی ہر قسم کی مظلومیت کے ذریعے نیریٹو کو تقویت دینا اور دیگر اس قسم کے جدید فکری ہتھیار رائٹ ونگ کو فراہم کرنے میں فیمینزم کا بہت کردار رہا ہے۔

تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج میں منطقی ربط موجود ہونا لازمی نہیں۔ فیمینزم کا ”عورت پر ایمان و ایقان“ (بیلیو ویمن) کا عقیدہ نہ صرف تجربات اور کہانیوں پر کسی قسم کا سوال کرنا ممنوع ہے بلکہ اس سے اخذ کردہ نتائج کو بھی من و عن مان لیا جائے۔ جس طرح مذہبی عقائد کی توجیہہ میں کہا جاتا ہے کہ حقیقت کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے فلاں فلاں عقیدے کو بلا دلیل مانا جائے، ایسے ہی فیمنزم ان عقائد پر لاجک یہ پیش کرتا ہے کہ عورتوں کی کیفیات و حالات اور تجربات کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے وہ جو کچھ کہیں، اسے مان لینا چاہیے۔ اس پر کوئی سوال، کوئی دلیل اور کوئی رائے پیش کرنا مینز پلاننگ کے زمرے میں آئے گا۔وکٹم ہونے کا دعویٰ ہی سچائی کی دلیل ہے، یہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ حال ہی میں بچوں میں جنسی کشش محسوس کرنے والوں نے بھی اپنا پرچم بنا لیا ہے، کمیونٹی کی صورت منظم ہوتے جا رہے ہیں اور ہیش ٹیگز، مظلومیت، شناخت پر تفاخر اور اپنی سٹوریز کیساتھ حقوق کا مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں۔ کہیں اسلام خطرے میں ہے، کہیں ہندو ازم اور کہیں سفید فام نسل پرستوں کو بے یار و مددگار مہاجرین سے خطرہ ہے۔

دہشتگردی کے رجحانات کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہےمردوں کے متشدد اور عورتوں کے پرامن ہونے کے سٹیریوٹائپس کیوجہ سے خواتین دہشتگردوں کے حملے مرد دہشتگردوں سے تین چار گنا زیادہ جان لیوا ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصور سے داعش نے خواتین ریکروٹ کر کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔فیمینزم کی اپنی دہشت پسندی کی طویل تاریخ ہے۔شہوانی آرٹ یا پورن فروخت کرنے والی دکانوں، بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹکس کی لیبارٹریوں اور ڈیپارٹمنٹس، ڈاکٹر گلڈز، حتیٰ کہ کمپیوٹر کو عورت دشمن ٹیکنالوجی قرار دیکر کمپیوٹر کمپنیوں پر بھی دہشت پسندانہ حملے ہوئے۔ کتابیں جلانے کی روایت الگ رہی ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بیشمار کارپوریٹ و دیگر آمریتوں، سامراجی حملوں اور جنگوں کو عورت کی آزادی کے نام پر فیمنسٹوں نے جواز پیش کیا۔ فیمینزم آزادی کی بات کرتا ہے لیکن یہ انتہائی حد تک کلیت پسند (ٹوٹالیٹیرین)آئیڈیالوجی ہے۔ پاکستان کی حد تک جتنی فیمنسٹیں لیفٹ کا سابقہ بھی لگاتی ہیں، وہ تقریبا تمام کی تمام بیسویں صدی کے ناکام تجربات، مصالحت پسندی اورسرمایہ دارانہ  رجعت پسندی سے وابستہ ہیں۔

فیمینزم نے علمی و فکری دیانت کے معیاروں کو بیحد متاثر کیا ہے۔ سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ انکے قبضے میں آئے اور پراپیگنڈہ کے مراکز بن گئے۔ جینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ انکے معبد ہیں۔ ہر شے کو جنسی عینک لگا کر دیکھا جانے لگا اور مردوں کو تاریخ سے مٹانے یا کم از کم انکا کردار مسخ کرنے کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔ سائنس میں نیوٹن، آئن سٹائن سے رچرڈ فائنمین تک کوئی بھی انکے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ پایا ہے۔ آرٹ، فلسفہ اور دیگر علوم و فنون کے حوالے سے بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک پیٹرن سامنے آتا جا رہا ہے کہ پہلے کوئی سوشیالوجسٹ مشاہیر میں سے کسی کے بارے میں کونے کھدرے سے کوئی شے نکال کر لائے گی، اسکے بعد مسوجنی اور ڈیڑھ درجن مزید لیبل چسپاں ہوں گے۔ اگلا مرحلہ انکی یاد یا انکے کام پر سائنسی و علمی کانفرنسز، آرٹ گیلریوں وغیرہ میں بدمزگی پیدا کرنے اور ان سے منسوب تمام تاریخی علامات کو مٹانے کیلئے پٹیشن، پروٹسٹ، حملوں والے سلسلے کا ہو گا اور اسکا نام ”رائٹس ایکٹوزم“ رکھا گیا ہے۔سوڈو سائنس، سوڈو ہسٹری، سوڈو سوشیالوجی، شاونزم سے بھرپور پلندوں کے پلندے نکلتے ہیں۔ الغرض تمام کا تمام کھوکھلے تنکوں کا آشیانہ ہے۔ جتنا کھوکھلا مگر مصالحے دار، چٹ پٹا، نفرت انگیز اور بڑا دعویٰ ہو گا، اتنا ہی مقبول ہو گا۔اختلاف اور مختلف خیالات و نظریات کیلئے عدم برداشت، جبری یکسانیت اور سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جرم و سزا کے تصورات کے حوالے سے انسانی تہذیب نے خاصی ترقی کی ہے۔ جرم کی نفسیات اور سزا کی غرض و غایت کے فہم پر خاصا کام ہوا ہے۔ ملزموں حتیٰ کہ مجرموں کے حقوق کا تعین بھی کیا گیا۔ فیمینزم کی انتقامی ذہنیت کیوجہ سے دیگر شہری آزادیوں، فرد کی آزادی اور آزادیٔ اظہار رائے کیساتھ جرم و سزا پر لبرٹیرین تصورات بھی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ جرم کو سماجی مرض کے طور پر تشخیص و جراحی کے عمل سے گزارنے کے تصورات کا اظہار کرنے پر عرف عام میں مجرموں بالخصوص ریپسٹوں کا حامی بتلایا جاتا ہے۔ لبرٹیرین تصورات ہی جرم بن گئے ہیں۔ کسی پر الزام لگنے کیساتھ ہی ہر قسم کی بربریت پر مبنی سزاؤں اور وحشت کی تسکین کی ذہنیت کے اظہار کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ معقولیت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ جارج آرویل کے 'انیس سو چوراسی' ایسا الزام کیساتھ ہی صفحۂ ہستی اور ہر ریکارڈ سے فرد کا وجود مٹانے ایسا عمل بنتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی محض اداکار پر الزام کی بنیاد پر آرٹ اور فلموں کیخلاف مہم کے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں۔  جرم و سزا کے علاوہ ریاست کے حوالے سے انقلابی خیالات بھی فیمنسٹوں کے حملوں کو دعوت دینے کے مترادف بن چکے ہیں۔

تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے فیمینزم خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ استعماری بیانیوں اور اشرافی طبقات سے وابستگی کیوجہ سے عوام میں ردعمل پیدا ہوتا ہے جو عورتوں کی آزادی کے ارفع مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ملک سامراجی، جاگیری، سرمایہ داری، مذہبی و نسلی طاقتوں کے تسلط اور کالونیل ادوار کی باقیات میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ مردوں عورتوں کی انتھک قربانیوں اور جدوجہد کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ فیمینزم سیاست سے دلچسپی رکھنے والی عورتوں کو مرد دشمنی پر لگا رہا ہے۔ ان ملکوں میں عوامی و مزاحمتی تحریکوں کو اپنے دانشوروں کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ پراپیگنڈے کے علاوہ مشکل سے مشکل لفاظی میں لایعنی سے لایعنی تھیوریاں پیش کرنے کی دوڑمیں لگے ہوئے ہیں۔ لیفٹ کی جن تنظیموں پر فیمینزم کا غلبہ ہوتا ہے، وہ مزدور تحریکوں اور عوام سے جڑنے کے کام سے ہاتھ اٹھاتی جاتی ہیں۔

تیسری دنیا کے معاشی اور سیاسی فیصلے عالمی مالیاتی اداروں میں ہوتے ہیں اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کے مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ مقامی حکمران طبقات اپنا حصہ وصول کر کے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ سرمائے کا بہاؤ ہمیشہ معاشی استعمار کے تابع رہے۔ مقامی آبادیاں اپنا خون نچوڑ کر دولت کی پیداوار اور اضافے کیلئے کام کرتی رہیں اور انہیں کولہو کے بیل کیطرح خاموشی سے جوت رکھنے کیلئے انتہائی سفاکیت اور بربریت کی فطرت رکھنے والے ریاستی و دفاعی اداروں کا ڈھانچہ مضبوط کیا جاتا ہے۔ ان ڈھانچوں کو چھیڑے بغیر مرد اور عورت کی برابری صرف محکوم رہنے کی آزادی اور برابری ہے۔ تیسری دنیا کی جمہوری و عوامی تحریکوں کیلئے جاندار انقلابی کردار درکار ہوتا ہے لیکن فیمینزم کی قیادت اور باگ دوڑ ایلیٹ کے ہاتھ میں ہونے کیوجہ سے انکا عالمی سامراج اور مقامی حکمران طبقات کیساتھ مفاہمانہ رویہ کسی انقلابی کردار کے امکان کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔

کارپوریٹ فیمنزم خواتین کو گھروں سے باہر نکال تو لایا ہے لیکن معیشت پر کارپوریٹ منافع خور مردوں عورتوں کا قبضہ ہے جو گھر سے باہر کام کیلئے نکلنے والے ہر فرد کو بلا تفریقِ جنس و نسل انسان کی بجائے منافع کمانے کا آلہ مانتے ہیں۔ کارپوریٹ فیمنزم عورتوں کی صورت میں سستی لیبر کی فراہمی اور منڈی میں سستے سے سستے داموں محنت فروخت کرنے کی مقابلہ بازی کی حمایت تو کرتا ہے لیکن خواتین پر پڑنے والے بیگانگی کے اثرات انکا موضوع نہیں ہیں۔ اس جبر و استحصال کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ ذرا ”سیاسی باتیں“ ہیں۔ اس بیگانگی اور ڈی ہیومنائزیشن کے مردوں عورتوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عورتیں خوابوں کا شہزادہ تلاش کرنے کا راستہ لیکر روایتی خاندانی نظام میں پناہ لیتی ہیں اور مرد معاشی جبر کا مقابلہ اور سامنا خود کر کے خاندان پالتے ہیں، خواتین کو معاشی بربریت کی چکی کا حصہ نہیں بننے دیتے۔کارپوریٹ کلچر نے خواتین کو تخلیقی صلاحیتوں کے مواقع اور آزادی دینے سے زیادہ رونقِ بازار بنا دیا ہے۔ اسلامسٹوں کی تنقید میں نتائج بھلے غلط اخذ شدہ ہوتے ہیں لیکن دلائل اور وجوہات میں کارپوریٹ کلچر کی انتہائی ٹھوس خامیاں پیش کرتے ہیں جس سے انکے زیر اثر اذہان عورتوں کے متعلق رجعتی تصورات قبول کر لیتے ہیں۔

 فیمنسٹیں خواتین کی 'اسپیس' کیلئے ڈھابوں پر تو دھاوا بولتی ہیں جہاں کام کرنے والے مرد شام کو ذرا دیر کیلئے بیٹھتے ہیں لیکن محنت کش عورتوں کی ٹریڈ یونینز، لیبر یونینز، کسان تنظیموں کی اسپیس ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ عورتوں کے تمام مسائل کا سبب مرد کی ہوس قرار دے دیا جاتا ہے لیکن مختصر سے کارپوریٹ طبقے کی معاشی ہوس اور سیاسی طاقت کی ہوس خارج از بحث ہے۔ مردانہ عضو کو کائنات کی تمام سرگرمیوں کا محور ثابت کرتے ہوئے وہ مرد دشمنی کے بعد عورت دشمنی بھی اختیار کر لیتی ہیں اور ان عورتوں پر لعن طعن اور دائرۂ نسواں سے خارج کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو انکی مرد دشمنی کے عقائد پر ایمان نہیں رکھتیں۔بات بے بات ریاست اور اتھارٹی کو مداخلت کی دعوت اور مطالبے کیساتھ قدیم خاندانی اقدار کے احیاء کی کوشش کی جاتی ہے جنکے مطابق عورتوں کو محافظ کی ضرورت ہے۔ فرق یہ ہے کہ باپ، بھائی یا خاوند کا درجہ ریاست کو دے دیا جاتا ہے۔ فیمنسٹ عقائد کے مطابق مرد عورتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انہیں نسوانی جسم کا تجربہ نہیں ہوتا جبکہ عورتیں مردوں کو پوری طرح سمجھتی ہیں حالت البتہ یہ ہے کہ فیمنسٹوں کے مردوں اور انکے کام اور زندگیوں پر تبصروں سے ملاؤں اور مفتیوں کو بھیجے جانے والے سوالات ذہن میں آ جاتے ہیں جن میں عورتوں کی اناٹومی کے متعلق عجیب و غریب تخیلات کے گھوڑے دوڑائے جاتے۔

جاگیری یا فیوڈل اقدار پر خاصی تنقید ہوتی ہے اور بجا طور پر ہوتی ہے لیکن جاگیرداری نظام کا خاتمہ قطعا فیمنزم کا مطمع نظر نہیں ہے۔ وطنِ عزیز میں تو جاگیردار فیمنسٹ یا جاگیرداروں کی حامی فیمنسٹ بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ 'پرسنل لائف' میں آزادی کا خاصا چرچا کیا جاتا ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر جو آمرانہ معاشی جاگیروں کی حیثیت رکھتا ہے اور کام کرنے والے مردوں عورتوں کے باتھ روم جانے تک کا وقت کنٹرول کرتا ہے، اس سے کوئی سروکار نہیں۔ سروئیلنس اور ٹیکنالوجی پر کارپوریٹ کنٹرول کیوجہ سے ذاتی زندگی کے ریکارڈ کی نہ صرف فائلیں بنی ہوتی ہیں بلکہ ہر شخص کی ذاتی پسند ناپسند اور ذہنی میلانات تشہیری کمپنیوں کو فروخت ہوتے ہیں۔ اسکے ذریعے عوام پر ذہنی کنٹرول سے انتخابات میں مطلوبہ نتائج تک حاصل کئے جاتے ہیں۔

عورتوں کو ملکیت جاننے کے تصورات پر تنقید ہوتی ہے اور درست ہوتی ہے لیکن رائج معاشی نظام یعنی سرمایہ داری جس میں تمام انسانوں کو بلا تفریق جنس مشینوں کیطرح ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ”ہیومن ریسورسز“ یا ”ہیومن کیپیٹل“ کی خوشنما اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، ان پر تنقید کم ہی موضوعِ بحث بنتی ہے اور ایسی باتیں 'کول' نہیں جانی جاتیں۔ کام کرنے والے مردوں عورتوں کے استحصال سے قطع نظر اگر کوئی برانڈ ذرا پی آر پر محنت کرے تو فیمنسٹ برانڈ کے درجہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاصی فیمنسٹیں انفلوئنسر گروپس سے منسلک ہیں اور استحصالی برانڈز کی شان میں قلابے ملانے سے انکے فیمنسٹ درجات اور اخلاقیات پر ذرا اثر نہیں پڑتا۔حال ہی میں ایسے فیمنسٹ اور ویمن امپاورمنٹ والے برانڈز کی کمسن بچوں بچیوں کی جنسی استعمال کیلئے خرید و فروخت میں ملوث ارب پتی سرمایہ دار ایپسٹین کیساتھ وابستگی بھی بینقاب ہوئی ہے۔ فیمینزم عورتوں کو متعین کردہ سماجی کرداروں سے آزاد کرانے کی بات کرتا ہے لیکن فیمنسٹ حاصلات عورتوں کی مکمل انسانی آزادی کی بجائے انہی جینڈر رولز تک محدود رہیں گی جو کارپوریٹ کلچر عورتوں کیلئے متعین کرتا ہے اور جنکی گنجائش رکھی گئی ہے۔

عورتوں کی تحریک کا مقصد جنس کی بنیاد پر مخاصمت اور عصبیتوں کا خاتمہ اور تمام جنسی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی تھی لیکن فیمینزم نئے جنسی تعصبات پھیلا رہا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مرد اجتماعی طور پر ندامت، احساسِ جرم، اخلاقی کمتری ایسے منفی احساسات کا بار اٹھائے پھریں۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مردانہ جنس طبی، طبعی، اخلاقی ہر لحاظ سے 'خراب' ہے اور انکے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ فیمنسٹوں کی پولٹ بیورو کے ہاتھ میں تمام اختیارات دینے اور اسکی حاکمیت تسلیم کر لینے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور وہ مردوں کو بدل کر رکھ دیں گی اور اپنے معیاروں کے مطابق ڈھال لیں گی۔ مردوں کو لیبارٹری کے چوہوں کیطرح مکمل کنٹرول کیساتھ انکے حوالے کیا جائے۔ زیادہ تر فیمنسٹ پراپیگنڈہ اور مردوں کی ہر شے اور ہر عادت پر تنقید اسی سوچ کے گرد گھومتے ہیں۔اسکا مردوں پر تو شاید کچھ زیادہ اثر نہ پڑتا ہو لیکن فطری طور پر مردوں کی خواہش محسوس کرنے والی فیمنسٹیں اپنے نفسیاتی تضادات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نفرت اور عداوت کی فضا محبت کی فطرت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

فیمینزم کے مرد مخالف تعصب کے اثرات ہمارے ارد گرد واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے شہر میں کوئی فیمنسٹ تنظیم موجود نہیں لیکن انفرادی پراپیگنڈہ کے اثر کا تجربہ ہوا۔ ہم نے یونیورسٹی میں مشاعرہ کرایا جس میں امجد اسلام امجد، عباس تابش، انجم سلیمی، تہذیب حافی، عنبرین حسیب عنبرایسے نامور شعراء مدعو تھے۔ یونیورسٹی کے شعراء کیلئے ہم نے فقط یہ شرط رکھی کہ انکا کلام موزوں ہو۔ مشاعرے میں حفظِ مراتب کے تحت یونیورسٹی کے شعراء، شہر کے مقامی شعراء، کشمیر کے شعراء اپنا کلام سنا چکے تھے اور سٹیج پر بیٹھے شعراء کے کلام کی جانب محفل بڑھ رہی تھی۔ راقم لٹریری سوسائٹی کا پریسیڈنٹ تھا اور والنٹیرز نے آ کر بتایا کہ ایک خاتون ہنگامہ کر رہی ہیں۔ جب جا کر دیکھا تو وہ بین کر رہی تھیں کہ مردانہ معاشرے کیوجہ سے انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مشاعرہ نہیں پڑھایا گیا۔ رجسٹرار، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افئیرز اور یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ حکام کی والدہ کیساتھ ملکر تذلیل شروع کر دی جو اس صورتحال سے بے بس نظر آ رہے تھے۔ پھر سٹیج کے قریب جا کر ہنگامہ شروع کر دیا جسکی وجہ سے انہیں بلانا پڑا۔ مجمع باذوق تھا اور اچانک خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے اپنا بے وزن اور بے تکا کلام سنایا، ویمن امپاورمنٹ کے نام پر مشاعرہ اور ادبی روایات پامال کیں اور چلتی بنیں۔ انفرادی واقعات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو فیمنسٹوں کی جانب سے مغربی مرعوبیت کے علاوہ اردو ادب پر جاگیری اقدار کا الزام لگا کر اردو علمی و تہذیبی سرمائے کو مسترد کرنے کا افسوسناک رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ ڈان اخبار میں تو ایسا اعلامیہ بھی شائع ہوا کہ خواتین اردو شاعروں اور پراگریسو مردوں سے دور رہیں۔

حال ہی میں ایک نامور شاعر جنکے جسم پر اکثر چھریوں کے زخموں کے نشانات ہوتے اور بازوؤں پر بعض اوقات نظر بھی آتے اور اپنی بیگم کے نفسیاتی مسائل کے باوجود دس سال سے نباہ رہے تھے، انہیں انکی بیگم نے لیگل نوٹس بھیجا ہے اور اپنے ہی بچوں کے حوالے سے پیڈوفیلیا کا الزام لگایا۔ خاندانی نزاعات، فیملی کورٹس اور کچہریوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے مشہور زمانہ مقدمے کا تو زمانہ گواہ ہے۔ مغربی ممالک میں یونیورسٹیاں عدالتیں بن گئی ہیں اور قانونی شفافیت پر بیشمار سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے پر بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ غیر اہم ایشوز کو اہم ایشوز کے مقابلے پر لایا جا رہا ہےاور یہ کہ ابھی عورتوں کے حقوق کیلئے مردوں کیخلاف نفرت پھیلانے دی جائے، اس سے پیدا ہونے والے مردوں کے مسائل بعد میں دیکھ لیں گے۔

فیمینزم بظاہر ریڈیکل آئیڈیالوجی ہےاور اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ کچھ زیادہ ہی ریڈیکل ہے لیکن یہ انقلابی تحریکوں اور رجحانات سے انقلابیت کا ڈنک نکال کر رکھ دیتی ہے۔ جب عوام میں غم و غصہ بڑھ جاتا ہے تو حکمران طبقات انہیں ٹھنڈا کرنے کیلئے چند ٹکڑے انکی طرف پھینک دیتے ہیں تاکہ کہیں پورا نظام عوامی بیداری کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ فیمینزم ان ٹکڑوں کو چننے کا نام ہے۔ ٹیکنالوجی اور اپنے کام کا بوجھ نچلے طبقات کی عورت پر منتقل کرنے کی سہولت کیوجہ سے بالائی طبقات کی عورت کے پاس خاصی فراغت ہوتی ہے۔ ٹکڑے چن کر نظام میں رہ کر مزید طاقتور ہونے اور پھر نظام کو مزید طاقتور بنانے کے کردار کیلئے فیمینزم مفید ہتھیار ہے۔ نچلے طبقات کی عورتوں کا حقیقی مفاد تو اس نظام اور آمرانہ حکمران طبقات کو الٹ دینے سے وابستہ ہے، اسلئے وہ اپنی آزادی کیلئے فیمینزم کیساتھ کم ہی جڑتی ہے اور فیمینزم بالائی طبقات اور اپر مڈل کلاس خواتین تک ہی محدود ہے۔یہ صرف موجودہ تحریک کا رجحان نہیں بلکہ فیمینزم کے تمام ادوار میں تسلسل رہا ہے جسکی وجہ سے عظیم انقلابی خواتین ہمیشہ فیمینزم سے دور رہی ہیں۔ فیمینزم کا مطمع نظر استحصالی طبقات میں ہی جنس کی بنیاد پر اختیارات اور طاقت کی تقسیمِ نو ہے۔ سربراہانِ ریاست، جرنیل، اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دارانہ جماعتوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں سی ای اوز، مالکان وغیرہ خواتین زیادہ ہوں تو فیمینزم کیلئے یہ ایک اطمینان بخش صورتحال ہے۔

فیمینزم روشن خیالی، آزادی، مساوات اور انقلابی فلسفہ کا ہی تسلسل ہے اور بعض فیمینسٹوں کو اس بات سے چڑ ہوتی ہے کہ تمام ”مردانہ“ ٹولز ہیں اور انکے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔ اسکے باوجود مستعار لیکر توڑنے مروڑنے کے ذریعے ترقی پسندانہ رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ ترقی پسندانہ اور انقلابی روایات سے یکسر مختلف ہے۔ ترقی پسندوں کی درخشاں روایت بین الاقوامیت رہی ہے۔ وہ صنفی، نسلی، قومی مسائل کو کل انسانیت کی آزادی کیساتھ جوڑتے ہوئے جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ ترقی پسندانہ ادب میں سرمایہ دار مرد کیساتھ سرمایہ دار عورت بھی طبقاتی دشمن کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ دوسری طرف خواتین ادیبوں کے لٹریچر میں محنت کش مرد اور اسکی زندگی کی جدوجہد کو جاندار انداز میں پیش کیا جاتا۔ فیمینزم میں سرمایہ دار عورت تمام مخلوقِ نسواں کیطرح برابر کی مظلوم ہو گئی بلکہ اس مصنوعی مظلومیت کی بنیاد پر فیمنسٹ تحریکوں کی قیادت ہی اسے سونپ دی گئی اور دوسری طرف مرد دشمنی میں محنت کش مرد کا حلیہ، لباس، عادات، اطوار بے رحم تنقید و مسلسل تضحیک کی زد میں آتے گئے۔ اب ”مادام“ ساحر لدھیانوی کی وضاحت نہیں سنتیں کہ ”بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی“، اب بالاتفاق مرد بدتہذیبی اور گنوار پن کی علامت ہے۔ آئے روز کسی بلاگ، برانڈ کے فوٹو شوٹ یا وائرل تھیوری میں یہ رجحانات واضح ہوتے ہیں۔

لبرل تضادات کیوجہ سے فیمینزم عورتوں کی آزادی کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔ چرچ اور جاگیرداری کیخلاف لبرل ازم نے انقلابی کردار ادا کیا تھا لیکن سرمایہ دارانہ دور میں اجرتی غلامی، مالیاتی سامراجیت، نیو لبرل ازم اور کارپوریٹ کلچر سے آزادی میں لبرل ازم اپنے رجعتی کردار کیوجہ سے معذور ہے۔ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی اقدار سے لیکر نارمل زندگی گزارنے کی سہولیات تک نیو لبرل ازم بے رحمی سے کچلتا جا رہا ہے اور این جی او فیمینزم اس ایجنڈہ میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ فیمینزم بھی اس استحصال کو چھیڑے بغیر مردوں اور عورتوں کی برابری نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک یوٹوپیا ہے کیونکہ نہ تو تمام مرد تمام مردوں کے برابر ہیں اور نہ ہی تمام عورتیں عورتوں کے برابر ہیں۔ فیمینزم مردوں عورتوں کی لڑائی بنا کر سماجی رشتوں اور ڈھانچوں کو مکمل خارج از بحث کر دیتا ہے۔مردوں کو سدھارنے، اس سے مراد محنت کش مرد ہوتے ہیں، میں بھی یہی عوام دشمن سوچ ہوتی ہے کہ عوام خود سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں بالائی طبقات سے فکر و دانش مستعار لینے کی ضرورت ہے۔ مردوں کو پوٹینشل ریپسٹ قرار دینے جیسے عوام دشمن اور بالخصوص مزدور دشمن نظریات طبقاتی یکجہتی اور آزادی کے امکانات پر حملہ ہیں جو عام مردوں عورتوں دونوں کے مفاد میں نہیں۔

فیمینزم عام مردوں عورتوں کی جنسیت پر حملہ کرتا ہے۔ کبھی جنسی عمل کو عورت کی پستی کیوجہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی عام مردوں عورتوں کے جنسی تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور صحیح العقیدہ جنسیت اور بالخصوص عورتوں کیلئے نسوانی کرداروںکی گائیڈ لائنز جاری کی جاتی ہیں۔ پاکستان ایسے ملک میں فیمنسٹوں کی رجعت پسندی، جنسیت سے خوف اور تنگ نظر اخلاقیات خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ یورپ کے موجودہ کلچر کے پیچھے تو ساٹھ ستر کی دہائی کا جنسی انقلاب کھڑا ہے جس میں پاپ کلچر میں جنسیت اور رومانوی جذبات کو عام اور قابل قبول بنایا گیا۔ پاکستان میں اگر بسم اللہ ہی مردوں عورتوں کے درمیان نفرت اور انہیں دو دنیاؤں میں بانٹنے سے ہو گی تو پہلے سے موجود پسماندہ دائرے مزید محدود ہوں گے۔

لیفٹ میں ایک خطرناک رجحان در آیا ہے کہ اسے محنت کشوں کی عالمی تحریک سے ہٹ کر شناخت کی سیاست اور مظلوموں کی تحریک سمجھ لیا گیا ہے۔ نیو لبرل ازم میں این جی اوز کی یلغار نے پہلے ہی لیفٹ کو کھوکھلا کر دیا ہے اور رہی سہی کسر اس قسم کے فکری مغالطے پورا کر دیتے ہیں۔ اب مظلومیت کا دعویٰ لیکر جو نکلے، لیفٹ والے چار بندے دیکھ کر دعوے اور گروہ کی جانچ پرکھ کے بغیر اندھا دھند اسکے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ انکی توانائیوں کا استعمال کر کے انہیں ذلیل و رسوا کر کے نکال پھینک دیا جاتا ہے۔ یادش بخیر بہتیرے نامور بائیں بازو کے دانشوروں نے طالبان کو بھی مظلومیت کی بنیاد پر مزاحمت کی علامت بنا دیا تھا۔ اس سال دو عورت مارچ ہوئے اور دونوں میں لبرل فیمنسٹوں کی جانب سے سرخ پرچموں پر بے رحمی سے تنقید ہوئی۔لیفٹ کی جن تحریکوں پر فیمینزم کا غلبہ ہے، ان میں مرد لیفٹسٹ ذاتی و دیگر وجوہات پر ”یس مین“ بنے رہتے ہیں۔ ہمیں تنقیدی شعور کو لیفٹ میں بحال کر کے کلٹ ذہنیت سے باہر نکلنا ہو گا۔

ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے کہ پنجابی سفاک اور ظالم ہیں۔ آجکل ایک نعرہ مسلسل دوہرایا جاتا ہے کہ پاکستانی سنی مسلمان یا تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان یا مزید تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان مرد متشدد ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستانی قوم پر دہشتگرد ہونے کے لیبل کیساتھ تخصیص شامل ہے کہ پاکستانی مسلمان دہشتگرد ہیں۔ اسکے بعد مخصوص فرقوں کیلئے کئی سال شد و مد کیساتھ درودی بارودی کی تھیوری پھیلائی گئی جو حقائق سے متصادم ہونے کیوجہ سے زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ کراچی میں تین قومی نظریے کے تحت مہاجروں، پختونوں اور سندھیوں پر کئی لیبل چسپاں ہیں۔ اس روش کیساتھ عالمی تحریک تو کیا، پاکستان میں بامعنی سیاست ممکن ہو سکتی ہے یا قبائلیت کی نئی شکلیں ہی متعارف کرانے کا کام رہ گیا ہے۔ لیفٹ نے سبق نہیں سیکھا کہ سوشلزم ایسے تصورات کے نام پر بھی کیسے آمریتیں کھڑی کی گئیں اور بلوچ آزادی کیسے پنجابی مزدور چن چن کر مارنے تک پہنچی۔مظلومیت قبائلی تعصبات کا جواز کیسے بننے لگی۔

بیسویں صدی کے دو بڑے پراپیگنڈہ مراکز یعنی مغرب اور سوویت یونین نے قرار دیا کہ سوشلزم وہی کچھ ہے جو سوویت یونین میں ہے۔ ایسے ہی یہ پراپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے کہ عورتوں کی تحریک اور عورتوں کی آزادی فیمینزم ہے۔ یہ پراپیگنڈہ اتنا شدید ہے کہ اسلامسٹ بھی عذر خواہی پیش کرتے ہیں تو اپنے مذہب کو ”موسٹ فیمنسٹ ریلیجن“ کہتے ہیں۔ عورتوں کی بیداری اور ترقی جدید دور کا ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن فیمینزم عورتوں کی تحریک کو درست سمت دینے سے قاصر ہے۔ فیمینزم کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ بقول باب بلیک آسان سا نسخہ ہے کہ انہیں برابر مانا جائے اور کسی رو رعایت کے بغیر انکے نامعقول نظریات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔بادشاہ کے ننگا ہونے کیساتھ ساتھ اب ہمیں ببانگ دہل یہ خبر بھی دینی پڑے گی کہ ملکہ بھی عریاں ہے، بھلے اس بات کو کتنا ہی فحش، ممنوعہ اور مسوجنسٹ سمجھا جائے۔طبقاتی جدوجہد اور مزاحمتی تحریکوں کو منظم کیا جائے اور ان میں تیزی لائی جائے تو فیمینزم کے عملی تضادات خود بخود واضح ہو کر سامنے آ جائیں گے۔

 

Friday, 12 June 2020

سنتھیا رچی اور فیمنزم کا فکری بحران

پیپلز پارٹی کے تیر آجکل سنتھیا ڈان رچی نامی امریکی خاتون کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں پیپلز پارٹی کے مرحوم و موجود سیاستدانوں پر برسا رہی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے پیپلز پارٹی سنتھیا کے نشانے پر تھی اور یہ معاملہ بینظیر بھٹو پر گارڈز کے ذریعے خواتین کے ریپ کے الزامات سے شروع ہوا، پیپلز پارٹی اور اسکے حامیوں پر ہراسانی کے الزامات سے ہوتا ہوا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر دست درازی اور وزیر داخلہ رحمان ملک پر ریپ کے الزامات تک پہنچا۔ شروع میں ہم نے جو اصطلاحات 'تیر برسانا' اور 'نشانے پر رکھنا' استعمال کی ہیں، انکا استعمال مروجہ طور پر حتممی الزامات سے پہلے پہلے تک کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم و وزراء پر الزامات کو علیحدہ صورت میں دیکھا جائے یا سنتھیا کے پیپلز پارٹی کیخلاف محاذ کے تسلسل کی صورت میں بیان کیا جائے، یہ ڈان لیکس کے ضمن میں ایک پیچیدہ بحث بن چکی ہے۔

بینظیر بھٹو، شیریں رحمان و دیگر پر الزامات تک معاملہ واضح تھا۔ پیپلز پارٹی کے حامی پارٹی و لیڈران کا دفاع اور الزامات کا پارلیمانی و نیم پارلیمانی و غیر پارلیمانی جواب پیش کر رہے تھے اور علی العموم جمہوری حلقوں میں جس نے بھی اس معاملہ پر تبصرہ کیا، اس نے سنتھیا اور اسکے مبینہ ہینڈلرز کی مذمت کی۔ یوتھ بردار قبیلہ و محب الوطن حلقے ہمیشہ کیطرح سیاستدانوں کی 'اخلاقی' و مالی 'کوروپشن' کیخلاف آواز اٹھانے پر سنتھیا کیساتھ کھڑے تھے۔ اسکے بعد سنتھیا نے بطور خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے چند مبینہ تجربات کے حوالے سے الزامات لگائے تو یہ ایک مختلف ڈومین کا معاملہ تھا۔ مؤخر الذکر حلقے تو سنتھیا کی حمایت میں اپنے تسلسل پر قائم رہے لیکن 'جمہوری' حلقوں میں اب معاملہ کچھ زیادہ واضح نہ رہا تھا۔

گنجائش اور سہولت دیکھتے ہوئے چند لوگوں نے کپڑے پھاڑنے اور دیگر ریپ جوکس کے ذریعے سنتھیا کے الزامات کو مذاق بنایا۔ اسکے بعد اسکا کردار، ماضی، اسکرپٹ، لہجہ، انگریزی، بیک گراؤنڈ، کار چوری میں سزا، زنانہ انڈے فروخت کرنے کا پیشہ، کسی کیساتھ ایک کمرے میں دو ہفتے گزارنے کے دوران انکشافات، مبینہ سیکس ورک سبھی کچھ زیر بحث آیا۔ 'اس جانب کی' خواتین تک کہتے ہوئے پائی گئیں کہ اگر ایک وزیر سے ریپ ہوئی تھی تو اسکے بعد حکومتی ایوانوں میں کیا ڈھونڈتی رہی، اتنے عرصے بعد کیوں سامنے آئی، سائیکل چلا کر پختونخواہ کو عورتوں کیلئے محفوظ بتاتی تھی تو اب وزیراعظم و وزراء پر الزامات اس سائیکل کی روشنی میں کہاں کھڑے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں تو یہی ہوتا ہے کہ کسی معاملہ کے سیاسی، فکری، معاشی، سماجی پس منظر کے حوالے سے نوعیت دیکھنے کے بعد مؤقف کا تعین ہوتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ یا رائٹ ونگ نظریات سے تعلق ہونے کی بنیاد پر اسے مذاق، تضحیک، سوالات، کاؤنٹر نیریٹو کے ذریعے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسکی شدت یا نوعیت مختلف ایکٹوسٹ حلقوں میں مختلف ہوتی ہے۔ البتہ فیمنزم سے اسکا تضاد پیدا ہوجاتا ہے جو کسی بھی طور سامنے آنے والی خاتون پر اعتماد اور یقین بلکہ تمام عورتوں پر اعتقاد کا پرچار اور سوالات الزام لگانے والی سے نہیں بلکہ ملزم سے پوچھنے کی سختی سے تلقین کرتا ہے۔ سنتھیا کے کیس میں یوسف رضا گیلانی، مخدوم شہاب الدین اور رحمان ملک سے سوالات پوچھنے، انکا مؤقف جاننے اور پوچھنے میں شاید ہی کسی نے دلچسپی لی ہو۔

فیمنسٹ حلقوں کی جانب سے روایتی 'آؤٹ ریج' کے برعکس ڈھیلا ڈھالا مؤقف اور نیم مردہ بیانات 'اجی تحقیقات ہونی چاہییں' سامنے آئے۔ روایتی طرز پر کسی نے کسی کو کسی کیساتھ کھڑے ہونے یا نہ ہونے یا خاموش رہنے کے طعنے کوسنے نہیں دیے، نہ روایتی طرز کی لکیریں کھینچی گئیں کہ کون ہماری بندی کیساتھ کھڑا ہے اور کون مخالف یعنی ہراساں کرنے والے اور ریپسٹ کا حمایتی ہے اور نہ ہی ریپ اپالوجسٹ، ریپسٹ کے حامی جیسے ٹیگ تقسیم کیے گئے۔ 'اِس جانب سے' یہ بھی نہ کہا گیا کہ 'عورت مارچ وغیرہ' کہاں ہیں۔ اگر کسی نے زیادہ 'سخت مؤقف' اپنایا تو اتنا کہ 'تحقیقات ہر حال میں ہونی چاہییں'۔ اسکی وجہ اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کیس کو وہ خود کم از کم مشکوک یا سرے سے لایعنی سمجھتی تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس قسم کے اندازے لگانے، کسی واقعے کو جانچنے یا الزامات کو بے بنیاد تصور کرنے کا اختیار کسی دوسرے کو دے سکتی ہیں؟

بعض فیمنسٹ نے خفت مٹانے کیلئے نیویں نیویں ہو کر 'پاکستانی مردوں' کو کوسنا شروع کیا کہ کاش وہ گوری کی باتوں پر یقین کیطرح پاکستانی عورتوں کے آواز بلند کرنے پر بھی اسی طرح حمایت کیا کریں۔ گورے اور نیٹو کی یہ تقسیم بھی بذات خود فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ تھیوری میں سفید ریپ، سیاہ ریپ، کالونیل ریپ، اینٹی کالونیل ریپ وجود نہیں رکھتا۔ پدر سری نظام میں ساری عورتیں ساری دنیا میں مظلوم ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ مذکورہ پاکستانی مرد وہی نہیں کر رہے تھے جسکا فیمنزم درس دیتا ہے یعنی آواز اٹھانے والی کی غیر مشروط ہو کر حمایت کرنا، جن مردوں پر ہراسانی اور ریپ کا الزام ہو، انہیں اور ان سے وابستہ اور انکا دفاع کرنے والے تمام کیخلاف آواز اٹھانا اور انکا ہر قسم کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کرنا۔ اب یہاں چونکہ فیمنسٹوں کو مذکورہ پاکستانی مردوں کی 'نیتوں' اور اندرونی 'بغض معاویہ'کا 'علم' تھا، یعنی سیاستدانوں اور ابکی پیپلز پارٹی کیخلاف پراپیگنڈہ، سو انہوں نے پاکستانی مردوں کو فیمنزم کرنے پر نشانہ بنایا۔

انصافی فیمنسٹوں، بعض درمیانی فیمنسٹوں اور اکا دکا دیگر نے ایکٹوسٹ حلقوں کے رویے پر سوالات ضرور اٹھائے بلکہ 'اُس جانب کی' فیمنسٹیں سنتھیا کیساتھ کھڑی تھیں۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں سے بعض نے ایسے فیمنزم کو نشانہ بنایا کہ سنتھیا کے الزامات کو ذرہ برابر اسپیس دینے کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کی پیپلز پارٹی اور مجموعی طور پر سیاستدانوں کیخلاف پراپیگنڈہ مہم کی لہر میں بہہ جانا ہے۔ ایسی لہروں کا مقصد دباؤ کے ذریعے 'کچھ لو کچھ دو' یا بعض ڈیلز، کمپرومائز یا کسی دوسری سمت میں نکل جانے پر سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں کو 'حساب میں رکھنے' کی کوششیں ہوتا آیا ہے جسکا اظہار الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور سوشل میڈیا پر اچانک پیالی میں طوفانوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ حکومتی نااہلیوں یا کسی سنگین بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے بھی سیاسی چالوں کے طور پر ایسی مصنوعی لہروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ اگر بالفرض اس جانب سے مبینہ طور پر استعمال ہونے والی خاتون ہو اور الزامات ایک خاص نوعیت کے ہوں تو اسکا مطلب مزاحمتی حلقوں کیلئے 'ہینڈز اپ' لیا جائے یا اگر ایکٹوسٹس کو اسٹیبلشمنٹ کا لنک نظر آتا ہو لیکن الزامات فیمنسٹ ڈومین کے ہوں تو اس واقعے اور الزامات کے تسلسل پر تنقید کا رخ حکومت اور ہینڈلرز پر تنقید کیطرف رخ نہ موڑا جائے؟آیا کسی پراپیگنڈہ مہم کے امکانات کی صورت میں اگنور کیا جائے اور پراپیگنڈہ اور کیچڑ اچھالنے کے مطلوبہ نتائج اور مقاصد کیخلاف کوئی ردعمل نہ پیش کیا جائے یا انہیں کاؤنٹر کرنے کی اپنی سی سعی کی جائے؟ اگنور کرنا بھی فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ ایسے الزامات پر خاتون کے 'ساتھ کھڑے ہونے' کے علاوہ کوئی رویہ قابل قبول نہیں۔

اگر دائرے واضح ہوں تو مؤقف اپنانا آسان ہوتا ہے لیکن نظریات کا امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں لکیر مبہم اور غیر واضح ہو۔ گزشہ چند دنوں نے ثابت کیا ہے کہ فیمنزم نے برسوں پیچیدگیوں کو نظر انداز کر کے مرد اور عورت کے جو دائرے کھینچ رکھے ہیں، وہ مکمل طور پر ناکام ہیں۔ سنتھیا کے کیس میں اتنی سی سرخی پر غور کریں 'ایک غیر ملکی خاتون کے سابق وزیراعظم و وزراء پر دست درازی اور جنسی بے حرمتی کے الزامات'، اگر یہ سرخی بغیر سنتھیا کے سامنے آتی تو فیمنسٹوں نے بالاتفاق خاتون کی جرأت و ہمت کی تحسین، پدر شاہی نظام میں مردوں کی بالادستی اور خاتون کے ایجنڈے یا مقاصد پر کسی بھی قسم کے سوالات اٹھانے یا شک کرنے والے مردوں کو مینز پلاننگ کے کھاتے میں ڈال دینا تھا۔ یہی روایت رہی ہے۔ سنتھیا کی جگہ اگر کوئی اور امریکی خاتون یا سیاح ہوتی تب بھی ردعمل ایسا ہی ہوتا۔

یوسف رضا گیلانی پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی عہدے پر رہے ہیں، جن دیگر سیاستدانوں پر الزام لگایا گیا، وہ بھی طاقت کے مراکز میں رہے ہیں۔ دوسری طرف سنتھیا رچی ایک 'عام شہری' اور خاتون ہے۔ سنتھیا پر طاقتور اداروں سے تعلق ہونے کا الزام ہے یا اسکی 'ماضی' کی سرگرمیوں سے ایسا نتیجہ نکالا گیا۔ ماضی کا ہراسانی و ریپ کے الزامات سے تعلق بھی فیمنزم کی نفی ہے اور کئی فیمنسٹوں نے ہی اس بنیاد پر سنتھیا کو بیہودہ اور غلیظ گالیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بینظیر بھٹو کا تعلق بھی طاقتور جاگیردار اور سیاسی خاندان سے تھا۔ہنوز ایسا کوئی اشارہ کہیں سے نہیں ملا کہ بینظیر بھٹو کی مبینہ وکٹمز پر بھی تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے کیلئے تحقیقات ہوں۔ مرد وزیراعظم کو شاملِ تفتیش کیا جائے تو وہ کونسا پیمانہ ہے جو خاتون وزیراعظم کو استثناء دیتا ہے؟

بینظیر بھٹو کیخلاف ٹویٹ میں سنتھیا رچی نے عظمیٰ خان کیس پر کسی ٹویٹ کو قوٹ کرتے ہوئے طاقتور طبقات کے وطیرے کے حوالے سے الزام لگایا تھا۔ اسکے بعد عظمیٰ خان کا کیس ٹویٹری بحثوں میں پس پردہ جانا شروع ہوا بلکہ کیس واپس لے لیا گیا اور سنتھیا نمایاں ہوتی گئیں(بلاگ اپلوڈ کرنے تک یہ معاملہ بھی تقریبا ماند پڑ چکا ہو گا)۔ عظمیٰ خان کیس کو مرد عورت کا مسئلہ بنا کر فیمنسٹوں نے عثمان کو رگید کر اپنی آؤٹ ریج کا حق ادا کر دیا، یہ جانے بغیر کہ مجموعی طور پر وہ کن اقدار اور خاندانی اداروں کا دفاع کر رہی ہے۔ انہی دنوں میں شہروز سبزواری کی شادی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی تو اس میں بھی جنہیں نظری طور پر جنسی آزادی کا حامی ہونا چاہیے تھا، انہوں نے مرد عورت کا مسئلہ بنا کر 'آؤٹ ریج' کھیلی۔ ہماری فیمنسٹیں بہت سے مسائل پر انتہائ کنزرویٹومؤقف اپناتی ہیں اور اسے فیمنزم کا نام دے دیتی ہیں اور مزید یہ کہ جو نہ مانے، وہ کینسل بھی ہو جاتے ہیں۔

سنتھیا کے کیس میں ردعمل مختلف ہونا واضح کرتا ہے کہ عملی مؤقف میں فیمنسٹ بھی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتی ہیں لیکن کسی ایک خاتون کے کیس کو دوسری خاتون کے کیس سے ممتاز کرنا، مختلف مؤقف اور شدت اپنانا، کسی خاتون پر خفیف سا شک کرنا، کیا یہی وہ رویے نہیں ہیں جنکے خلاف فیمنزم نے برسوں ذہن سازی کی ہے۔ اگر فیمنسٹوں کے ردعمل میں نظری خیالات اور عمل کے درمیان تفاوت اور لچک ہو سکتی ہے تو دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہی اختیار کسی دوسرے کو دینے کیلئے تیار ہیں؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مکمل تھیوری کے تابع ردعمل اپناتیں، جس میں انہوں نے لچک دکھائی، اور سنتھیا کیساتھ کھڑے ہو کر اس پر سوالات، طنز اور شک کرنے والوں کو کینسل کرتی جاتیں اور ان پر روایتی حملے کرتیں تو کیا وہ مبینہ پراپیگنڈہ مہم وائرل کرنے کی انجانے یا جانے میں معمولی یا مؤثر سہولت کار نہ بن جاتیں؟اگر بالفرض پیپلز پارٹی اور اسکے سیاستدان کسی حوالے سے نشانے پر ہیں تو انکے ساتھ کھڑے اور انکی حمایت میں کیا فکری رکاوٹیں ہیں؟ آیا مخصوص حالات میں ظالم اور مظلوم کی لکیر مرد اور عورت کے دائروں سے ٹکراتی ہے؟ اسی ضمن میں ایک اور معاملہ سوشل میڈیائی 'آؤٹ ریج' کلچر کا ہے کہ اگر آؤٹ ریج کلچر مخصوص دائروں اور رٹے رٹائے خطوط پر گھومتا رہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو 'اِس جانب' سمجھتے ہوئے 'اُس جانب' کے الاؤ بڑھکانے میں ایندھن بنتا ہے۔ عالمی طور پر نسل پرستی اور پاپولزم کے ابھار اور اس میں سوشل میڈیا کے کردار نے ان سوالات اور اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

فیمنزم دیگر بہت سے حقوق کے نظریات کیطرح ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کے دعوے کیساتھ ذاتی تعصبات کے نظریہ میں عمل دخل کرنے سے انکار کرتا ہے یا ایسے رجحانات کی کم از کم فکری و نظری طور پر حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ عملی طور پر مگر گروہی ردعمل میں انفرادی و مجموعی تعصبات بہت حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی برسوں کی مقبولیت کے بعد گروہوں کے معیار اور رخ خاصے حد تک واضح ہو چکے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیائی عدالتوں کے اپنے اصول ہیں جو کسی کم از کم پراسیس کا محتاج ہونا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ سنتھیا کے الزامات اور افراد کی فہرست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک عورت کتنے مردوں پر آزادانہ الزام لگا سکتی ہے۔ چند ٹویٹس پل بھر میں کتنے مردوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کر سکتی ہیں۔۔ لمٹس کہاں ہیں۔۔ اصول کیا ہوئے۔۔ اگر کل کلاں کو سنتھیا خواتین کے حقوق کی پاکستانی این جی اوز کے امریکی ڈونرز سے روابط شروع کر دیتی ہے تو کیا فیمنسٹ حلقوں میں خاموشی یا ردعمل کی کیفیت و شدت یہی ہو گی؟

برنی سینڈرز کیخلاف ہلیری کلنٹن کو فیمنسٹ انقلاب کی علمبردار بنانے سے الزبتھ وارن کے الزامات کے بعد برنی سینڈرز کو پانچ دہائیوں کی جدوجہد سے قطع نظر میل شاونسٹ، پدر شاہانہ اقدار کا حامل مردقرار دینے کا پراپیگنڈہ اور اسکے سیاسی اثرات ہوں یا ہراسانی و ریپ کے جھوٹے الزامات پر برسوں جیل کاٹنے یا کیرئیر تباہ کروا دینے والے مردوں پر فقط 'سوری' کا ردعمل ہو، فیمنزم نے جو ظالم مرد اور مظلوم عورت کے دائروں کی بنیاد پر نظری عمارت تعمیر کی ہے، وہ ایسے مواقع پر زمین بوس ہو جاتی ہے۔ عورت کو بطور طبقہ پیش کرنے سے انکے ثقافتی، معاشی، فکری اختلافات، مفادات اور ہزار قسم کے الگ الگ گروہوں اور انکے رویوں کی تکثیریت کو مٹا دیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مجموعی تصویر کا اطلاق جب انفرادی پہلو سے کیا جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

فیمنزم کی ایک ڈیڑھ صدی میں 'می ٹو' ایک تاریخی مہم کا درجہ رکھتی ہے جس نے لاکھوں خواتین (اور مردوں) کو اپنے تلخ تجربات کیخلاف سامنے آنے کا حوصلہ اور موقع دیا۔ اس نے دنیا بھر میں ہراسانی اور ریپ کلچر کے عام مگر خاموش ہونے کے رجحان کو بدلنے کی ٹھانی اور وسیع پیمانے پر عالمگیر شعور اجاگر کیا۔ یہ ایک غیر معمولی قوت، توانائی اور جذبے کی تحریک تھی۔ می ٹو مہم کے بعد مجموعی طور پر فیمنزم کی پیش کردہ روایات، اقدار اور اثرات کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ علی الخصوص اسکی ذیلی مہمات یعنی کینسل کلچر اور پولیٹیکل کریکٹنیس کی سخت گرفت کی ضرورت ہے جس نے اظہار رائے اور آزادانہ بحث کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس ضمن میں روایتی اقوال والتئیر 'جو تم کہتے ہو، میں اس سے اختلاف کرتا ہوں لیکن تمہارے اظہار رائے کے حق کا مرتے دم تک دفاع کروں گا' یا روزا لکسمبرگ 'آزادی تو انکے لیے آزادی ہے جو مختلف سوچتے ہیں' کے پیش کیے جاتے تھے لیکن ان اقدار کو پہنچتا ہوا نقصان واضح ہے۔

ایسے میں جبکہ ناں کا مطلب ناں سے آگے بڑھ کر عورتوں کی جانب سے 'ہاں، ہاں اور ہاں' کا مطلب ناں بنا کر جنسی جبر اور بالادستی کا رنگ دیا گیا ہے (مونیکا لیونسکی کے بیانات اسکی ایک مثال ہیں) اور کمرشلزم، ڈی سیکشولائزیشن، سیلف اوبجیکٹی فیکیشن، صحت مند مردانہ رویوں کی جذباتی مخالفت کے علاوہ طبقاتی، سماجی اور ثقافتی پیچیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، خود تنقیدی از حد ضروری ہے۔ کسی نظریے کا کردار بدلنے اور مظلوم کو ظالم کا کردار اپنانے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ نظریات جہاں اپنے الٹ کردار میں بدل رہے ہوں یا درست نتائج نہ دے رہے ہوں، وہاں انہیں واضح کرنے کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے اور اسی عمل پر نظریات کی توسیع کا انحصار ہوتا ہے ورنہ وہ دائروں میں محبوس ہو کر گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مرد اور عورتیں جب علیحدہ علیحدہ دنیاؤں کے باسی ہونے کی بجائے اسی دنیا میں قریب آدھی آدھی آبادی کے تناسب سے موجود ہیں تو سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا سروائیول، مقابلہ اور شارٹ کٹ کی دنیا میں پدر شاہی نظام کیطرح فیمنزم بھی مردوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر خواتین کے آگے پھینکنے کا نام بنتا جا رہا ہے؟

فیمنزم نے مجموعی طور پر خواتین کو پولیٹیسائز کرنے، اپنی آواز بلند کرنے اور سب سے اہم اپنی آواز بننے میں کردار ادا کیا ہے۔ بہتر دنیا کا خواب دیکھنے والا کوئی بھی انسان خواتین کے میدانِ عمل میں شمولیت کا مخالف ہے تو وہ آدھی دنیا کو تعمیر کے عمل سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔ خواتین کے بااختیار ہونے سے خواتین اور مردوں کے فطری رشتوں سے کہیں آگے بڑھ سماجی، سیاسی، معاشی اور انسانی رشتوں اور ڈھانچوں پر گہرے اثرات پڑیں گے۔ اگر بدلاؤ، مزاحمت، ظلم کی سرکوبی کے ذرائع اور راستوں میں ذاتی تعصبات، وقتی سمجھوتے، فکری افلاس اور مختلف لوگوں کیلئے مختلف معیار در آئیں تو قطعا یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر کامیابی مل جاتی ہے تو بدلی ہوئی دنیا کچھ مختلف ہو گی کہ اس دنیا کو تعمیر کرنے کی خواہش رکھنے والے/ والیاں گروہی عصبیتوں کیساتھ ہی اس دنیا میں داخل ہو رہے ہوں گے/گی۔

 


Thursday, 6 December 2018

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازعہ

بابری مسجد ایودھیا (فارسی مترادف: اودھ) کی ایک مسجد ہے جسے بابر نے تعمیر کروایا۔ بعد میں روایات مشہور ہونا شروع ہوئیں کہ یہ مسجد رام چندر جی سے منسوب مندر کو ڈھا کر تعمیر کی گئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ تصورات پختہ ہونے لگے جسکے نتیجے میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کا غالبا ایک حصہ منہدم کر دیا گیا۔ اسکے بعد فسادات پھوٹ پڑے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، رپورٹس کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہربنس مکھیا نے اپنے مقالے ”رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا تنازعہ، عہد وسطیٰ کی شہادت“ میں بابری مسجد تنازعے کے ابھار کی تاریخ اور رام جنم بھومی کے مندر ڈھانے کی شہادتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ پروفیسر مکھیا کی تحقیق کے مطابق اس عہد کے ہندو، مسلم مؤرخین، شعراء وغیرہ سب مندر کی جگہ بابری مسجد کی تعمیر پر خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ شاہی کتبے، درباری تواریخ اور دیگر دستاویزات، ہر قسم کی ادبی کتابیں اور یورپی سیاحوں کی تحریریں بھی اس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ 
بابر جو اپنی ”توزک بابری“ میں معمولی معلومی واقعات کو بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا مگر اس نے اپنے ایودھیا کے دورے کے ذکر میں کہیں بھی رام مندر ڈھانے اور اسکی جگہ مسجد تعمیر کرنے کا نہیں لکھا۔ اگر وہ تعصب میں مندر گرا کر مسجد تعمیر کرواتا تو ضرور اسکا اپنے ”کارنامے“ کے طور پر ذکر کرتا۔ بابر کے جانشینوں بشمول متعصب اورنگزیب نے، جو مندروں کو گرا کر مساجد تعمیر کرنے میں اطمینان قلب محسوس کرتا تھا، اس بارے میں ایک لفط بھی نہیں کہا اور نہ ہی انکے درباروں سے وابستہ مذہبی علماء کی لکھی ہوئی تاریخ میں کہیں ذکر ملتا ہے۔ ایودھیا کے ہندو شاعر گوسوامی تلسی داس، جس نے اپنا رزمیہ (رام چرتا مناس، ۱۵۷۰ء) اور دیگر کلام ایودھیا میں ہی لکھا، حیرت ہے کہ اسکی نگاہوں سے بھی یہ رام مندر کا انہدام اوجھل رہا۔
ایودھیا کے علاقے میں واقعی یہ ایک بڑی مضبوط روایت ہے کہ بابری مسجد رام کی جائے پیدائش پر رام سے منسوب مندر کی جگہ تعمیر کی گئی لیکن ۱۷ اور حتیٰ کہ ۱۸ ویں صدی کے بڑے حصے میں ایسے کسی عقیدے کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس روایت کا آغاز ۱۸ویں صدی میں ہوا کہ رام جنم بھومی پر مسجد تعمیر کی گئی لیکن ۱۹ویں صدی میں جا کر اسکو مندر سے منسوب کر دیا گیا یعنی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے اور روایت کی تشکیل میں صدیوں کا فرق موجود ہے۔ ۱۸۶۰ء تک یہ روایت انتہائی کمزور تھی جسکی بناء پر پی کارنیگی کو رام جنم بھومی پر مندر کی موجودگی کا قیاس کرنا پڑا۔
بیسویں صدی میں ۱۹۰۵ء میں اس قصے نے ڈسٹرکٹ گزیٹر میں ایک قدیم مندر کے انہدام کے مبہم ذکر کی صورت میں جگہ پا لی اور وہاں سے مسز بیوریج نے یہ قصہ اٹھا کر مفروضوں کی بناء پر رام مندر کے گرائے جانے اور اس جگہ بابری مسجد کی تعمیر کو ایک حتمی واقعہ بنایا۔ اس قیاس کی بنیاد محض بابر کا مسلمان ہونا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ
”یہ اغلب ہے کہ ایودھیا میں اپنے قیام کے وقت مسجد کی تعمیر کا حکم بابر نے ۹۳۴ء ہجری میں دیا ہو گا جسکے دوران وہ قدیم عبادت گاہ کے وقار اور تقدس سے مرعوب ہوا ہو گا جسکی جگہ (یا اسکے کچھ حصے) پر مسجد تعمیر کی گئی ہو گی۔ محمد کے فرمانبردار پیروکاروں کیطرح اسکے لئے کوئی اور مذہب ناقابل برداشت ہو گا اور مندر کی جگہ مسجد کی تعمیر کو وہ فرض شناسی اور قابل تعریف کام سمجھتا ہو گا“۔
(تاریخ جرنل نے اپنے ساتویں شمارے میں پروفیسر ہربنس مکھیا کے مقالے کا اردو ترجمہ شائع کرایا۔ ڈاؤن لوڈ کر کے ملاحظہ کیجیے)
۱۹۸۶ء میں جب بابری مسجد کا تنازعہ زور پکڑنا شروع ہوا تو انڈین ہسٹری کانگریس نے برابر ۸۶ء سے ریزولوشن پاس کیے جن میں کہا گیا کہ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ یہ مسجد یا مندر کا تنازعہ ہے لیکن ۱۵۸۸ء میں بنی بلڈنگ کو گرایا نہیں جا سکتا اور حکومت اسے تحفظ فراہم کرے۔ بعد میں جب ہسٹری کانگریس کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا اور یہ افسوسناک سانحہ رونما ہوا تو مذمتی قراردادیں پاس ہوئیں۔ سنیے انڈین ہسٹری کانگریس کا بابری مسجد پر مؤقف معروف مارکسی مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی زبانی:
ہمارے بعض لبرل بھی محض رام جنم بھومی اور رام چندر جی کے مندر کے افسانے پر محض اسلئے یقین رکھتے ہیں کہ بابر مسلمان تھا، جنگ و جدل میں مصروف رہا، اسکے جانشینوں نے مندر گرائے اور آپس میں خونریزی میں مصروف رہے، سلاطین اور مغلوں نے بارہا دیگر مذاہب کے لوگوں پر ظلم ڈھائے اور انکی عبادتگاہوں کو توڑا اور لوٹا وغیرہ وغیرہ لیکن یہ سب اس چیز کی شہادت نہیں بن سکتا کہ رام مندر کو ڈھا کر ہی بابری مسجد تعمیر کی گئی۔
بہرحال اسکا ذکر ضمنی طور پر کیا لیکن یہ ایک فسطائی رجحان چل پڑا ہے کہ مغل اور عہد سلاطین میں تعمیر ہونے والے تاریخی عمارات کو کسی قدیم مندر سے منسوب کر کے #ReclaimYourMandir کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ ٹھوس ثبوتوں اور قدیم دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر تاریخی بحثیں اپنی جگہ ضرور ہونی چاہییں لیکن محض روایات، قصے کہانیوں اور مفروضوں کی بناء پر بلوے کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اس آگ سے کھیل کر ہزاروں انسانوں کو خون میں نہلا دینا سراسر جہالت ہے۔

Saturday, 30 June 2018

خودکشی کے دفاع میں

خودکشی کو ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جہاں خودکشی کرنے والے افراد سے معاشرتی نفرت وابستہ ہوتی ہے، وہاں خودکشی کرنے والے کے اہلخانہ کیلئے بھی موت کے صدمے سے بڑھ کر مشکلات لوگوں کا سامنا کرنے میں ہوتی ہیں اور وہ موت کی وجہ چھپاتے پھرتے ہیں اور خودکشی کے عمل کو اون نہیں کرتے۔ خودکشی کرنے والا دوہرے منافرانہ رویوں کا شکار ہوتا ہے۔ قریبی لوگ بھی اسکی زندگی کے اختتام کے فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے عمومی طور پر ایسے جواز پہناتے ہیں 'اللہ کی طرف سے موت ایسے ہی لکھی تھی' اور معاشرہ اس پر اور اسکے خاندان پر لعن طعن بھیجتے ہوئے تمام تر رویوں کا ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہراتا ہے۔ 
ایک وجہ تو ایسے مذہبی عقائد کا پایا جانا ہے جنکی رو سے خودکشی حرام موت ٹھہرتی ہے اور خودکشی کرنے والوں کے جنازے، تعزیت، تدفین اور بخشش کے بارے میں عام مرنے والوں سے علیحدہ احکامات ہیں۔ ریاستی قوانین اور سماج مجموعی طور پر خودکشی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اسے بزدلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سماج افراد پر چند ذمہ داریاں اور کردار ادا کرنے کی توقعات کا بوجھ ڈالتا ہے اور اگر کوئی شخص پورا اترنے کی بجائے اپنی الگ راہ لیتے ہوئے زندگی ختم کر بیٹھے تو اس فرد کیخلاف غصہ اور اپنی ہتک اور بے عزتی محسوس کی جاتی ہے۔ فوج میں خودکشیوں کا تناسب بڑھنا شروع ہو جائیں یا کسان اور مزدور خودکشیاں کرنا شروع ہو جائیں تو دفاعی اور پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جسکی وجہ سے ایسے سماجی رویوں کو پروان چڑھانا لازم تصور کیا جاتا ہے جو لوگوں کو مشکل، کھٹن اور پسماندہ حالات میں بھی زندگی سے باندھے رکھیں۔ 
ایک مفروضہ ہے کہ لوگ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں یا مرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور زندگی سب کی ترجیح ہوتی ہے اور ہر کوئی زندگی چاہتا ہے۔ یہ مفروضہ بھلے اکثریت مانتی اور فطرت کے مطابق سمجھتی ہو لیکن اس دنیا میں جہاں ہر انسان کی فطرت دوسرے سے مختلف ہے، وہاں اس تصور جو الٹا کر کے دیکھیں۔ اگر چند لوگوں کی فطرت بھی اس مفروضے سے الٹ ہو تو خودکشی کے عین فطری اور ہر دور میں تمام تر حوصلہ شکنی کے باوجود موجود ہونے کیوجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ایک اور مفروضہ ہے کہ خودکشی بزدلی ہے حالانکہ خودکشی کرنے والا اپنی مرضی سے موت کا انتخاب کرتا ہے اور موت کا سامنا کرتا ہے جسے 'زندہ لوگ' انتہائی خطرناک شے سمجھتے ہیں۔ میدانِ جنگ میں دوسروں کے مفادات کیلئے اپنی جان پیش کرنے اور موت سے کھیلنے کو شجاعت قرار دیا جاتا ہے لیکن ذاتی چوائس سے کوئی ایسا کرے تو دوہرے رویے ہوتے ہیں۔ 'قیمتی جان' اور جان کے 'ضیاع' کے مفروضے بھی الٹ جاتے ہیں اگر مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ 
خودکشی کی بیشمار اقسام ہیں اور ایسی اقسام بھی ہیں جنہیں شجاعت و ہمت کی داستانوں کے طور پر لکھا اور سنایا جاتا ہے لیکن وہ اس زمرے میں آتی ہیں جو کوئی سماجی خدمت یا کردار نبھاتے ہوئے سرانجام پائی ہوں۔ مجموعی طور پر سماج خودغرض ہوتا ہے اور سماجی رویوں میں سماجی مفادات کا عکس پایا جاتا ہے۔ سماجی غیرت اور عزتیں بچانے کیلئے کنویں میں کود جانے والی خواتین ہوں یا جنگوں میں تباہی پھیلانے والے انسان ہوں، یہ داد و دہش کے حقدار ٹھہرتے ہیں لیکن اگر خودکشی کوئی خود کرے تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے کہ کسی کو سماج کے شکنجے سے ہٹ کر اپنی ذات کیلئے سوچنے اور کچھ کر گزرنے کی ہمت اسے کیوں کر ہوئی۔ 
خودکشی ایک بغاوت ہے، زندگی کیخلاف بغاوت، زندگی کے عائد کردہ بوجھ جیخلاف بغاوت اور زندگی جینے کی اذیت کیخلاف بغاوت ہے۔ ہر شخص کو خودکشی کے آپشن ہر زندگی میں غور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے موت کا انسانوں پر طاری سماجی خوف زائل ہونے اور اس سے نجات میں مدد ملے گی۔ موت کو لائٹ لینا ہی موت کو حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں آسانی کا سبب ہو سکتا ہے۔ مرنا انتہائی ہتک آمیز بات ہے کیونکہ یہ خارجی فطرت اور حرکیات کے مقابلے میں بے بسی کی اعلیٰ شکل ہے جبکہ خودکشی ایک قابل فخر اور قابلِ احترام زندگی کے خاتمے کا ذریعہ ہے جس میں فطرت کا کنٹرول انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ عرصہ پہلے ملتان میں ایک چینی انجینئیر کی خودکشی کی خبر پڑھی کہ چاندنی دیکھ کر اس نے کہا منظر کتنا سہانا اور چاند کتنا خوبصورت ہے اور کود گیا۔ یہ فعل انتہائی احمقانہ لگتا ہے اور مجھے بھی اس وقت ایسا ہی لگا لیکن ذرا تصور کریں کسی ایسے لمحے کا جس میں وقت اور حرکت کو روک دینا چاہتے ہوں اور خواہش ہو کہ سب کچھ وہیں ساکت ہو جائے اور کچھ بھی آگے نہ بڑھے، کیا ایسی صورت میں خودکشی ایک سہانا آپشن نہیں۔ وقت اور حرکت تھم جانے کی طلب مختلف مواقع پر ہو سکتی ہے جیسے کسی حسین اور ذہین دوشیزہ کی رفاقت کے لمحات کے بعد، کسی انتہائی خوبصورت منظر یا آنے والے انتہائی پریشان کن منظر سے بچنے کیلئے، کوئی ایسا لمحہ جس کے بعد مزید جینے کی حسرت اور تمنا نہ ہو، جب لمحات کو وجود میں مقید کرنے کا جی چاہے اور لمحۂ موجود کبھی ماضی نہ ہونے کی تمنا ہو۔ آخر کو کھلاڑی کیرئیر کے عروج پر کیرئیر کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور کوئی اسے بزدل نہیں کہتا کہ اس نے میدان کیوں چھوڑا۔ 
خودکشی مزاحمت کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور اسکا انفرادی بغاوت کا پہلو بھی شاندار ہے۔ بعض صورتیں افسوسناک ضرور ہوتی ہیں جن میں ذہن سازی کیساتھ کسی دوسری دنیا میں بھیجنے کیلئے اپنے ساتھ کئی زندگیاں لیتے جانے کیلئے استعمال کرنا، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی عوارض کے خارجی مظاہر کا اثر انداز ہونا ہے۔ خودکشی خالص داخلی فطرت اور اختیار کا نتیجہ ہونا چاہیے اور ایک ایسا لمحۂ سرور و انبساط اور لطف جس میں فطرت، زمان و مکاں کی تمام قوتیں فرد پر اثر انداز ہونا ختم ہو جائیں اور فرد ہو اور اسکی زندگی ہو۔ یہ زندگی کا ایک نقطۂ عروج ہو سکتا ہے۔ خودکشی فرار بالکل نہیں کیونکہ سماج اور گرد و پیش کی فطرت فرد کا حصہ نہیں ہوتے جو انکے عائد کردہ بوجھ اٹھائے پھرنے کیلئے زندگی کو استعمال کرے، یہ اپنی ذات کیطرف توجہ ہے، اپنے وجود کی آزادی کیطرف واپسی ہے۔ جن پر موت کا خوف بہت زیادہ طاری ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی اور موت کے بیباکانہ اور جرآت مندانہ فیصلے کرنے والوں سے بھی خوف کھاتے ہیں اور انکی مذمت میں انکا خوف جھلک رہا ہوتا ہے۔ 
گزشتہ دنوں چند سیلیبرٹیز اور پھر کعبے میں یکے بعد دیگرے خودکشی کرنے والے فرانسیسی، بنگلہ دیشی اور سوڈانی پر بہت سے لوگ خفا ہیں۔ کعبے میں خودکشی سے مقاماتِ مقدسہ کا تقدس، رمضان کے بابرکت مہینے، آخری عشرے کی راتیں، ایمانی قوت، اطمینان قلب، دین سے دوری، خودکشی کی نفسیات سے عدم آگاہی، مسلمانوں میں خودکشی کے وجود کا ڈینائل، موت کا خوف، موت سے پرے کسی دوسری دنیا میں جلادوں کا خوف، یہ وہ عوامل ہیں جو اسلامیوں کو خودکشی کرنے والے پر لعن طعن اور گالم گلوچ پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ سے لاعلمی کا فیکٹر بھی ہے کیونکہ مستند احادیث کے مطابق رسول اللہ نے خود متعدد بار خودکشی کی کوشش کی اور انہی مکہ کی وادیوں اور پہاڑوں سے کود کر اپنی جان لینا چاہی۔ 
طبری اور ابن ہشام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی مخلوق میں شاعر اور پاگل سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی قابلِ نفرت نہ تھا۔ ﴿میں شدتِ نفرت سے﴾ ان کی طرف دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ ﴿اب جو وحی آئی تو﴾ میں نے ﴿اپنے جی میں﴾ کہا کہ یہ ناکارہ.... یعنی خود آپ.... شاعر یا پاگل ہے! میرے بارے میں قریش ایسی بات کبھی نہ کہہ سکیں گے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جا رہا ہوں وہاں سے اپنے آپ کو نیچے لڑھکا دوں گا اور اپنا خاتمہ کر لوں گا اور ہمیشہ کے لیے راحت پا جاؤں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں یہی سوچ کر نکلا۔ جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھایا۔ دیکھا تو جبریل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل میں اُفق کے اندر پاؤں جمائے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہر کر جبریل علیہ السلام کو دیکھنے لگا اور اس شغل نے مجھے میرے ارادے سے غافل کر دیا۔( طبری ۲۰۷/۲ ابنِ ہشام ۲۳۷/۱، ۲۳۸)
اسکے علاوہ صحیح بخاری کتاب التعبیر کی روایت ہے کہ:
’’
وحی بند ہو گئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند و بالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: ’’اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کے رسول حق ہیں۔‘‘ اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا۔ نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہو کر پھر وہی بات دُہراتے۔“ ( صحیح بخاری کتاب التعبیر باب اول مابدئ بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرؤیا الصالحتہ ۱۰۳۴/۲)
انتظار حسین کے ایک افسانے کی سطر ہے 'خودکشی بھی اظہارِ ذات کی ایک صورت ہے۔ یہ داخلیت پسندی کا نقطۂ ارتکاز ہے جس پر ہم نے اوپر بحث ہے۔ خودکشی کی کسی خبر پر ڈپریشن کی بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، خودکشی خودکشی ہے اور ڈپریشن ڈپریشن۔ مؤخر الذکر ایک فیکٹر ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہم معنیٰ یا مترادف نہیں ہو سکتی۔ اردو ادب یا عالمی ادب میں جن شعراء، ادیبوں اور آرٹسٹس نے خودکشی کی، وہ سبھی مایوس لوگ نہ تھے بلکہ ان میں سے کئی تو امید کے پیامبر تھے اور انکی تخلیقات میں امید کی جھلک اور پیغام ملتا ہے۔ بلاشبہ اگر نفسیاتی عوارض جیسے خارج کے فیکٹر ہوں تو افسوسناک ہیں کیونکہ یہ چوائس کے امکان کو محدود کر دیتے ہیں لیکن خودکشی بذاتِ خود مرض نہیں۔ شعوری کوشش اور چوائس کی صورت ہمیں چوائس کا احترام کرنا چاہیے اور چونکہ خودکشی پر تمام تر طعن و تشنیع، فتاویٰ اور گالم گلوچ ایسے وقت میں ہوتے ہیں جب ٹارگٹ کسی جواب دینے اور دفاع کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ پریشان کن قابلِ رحم حالات میں تو ویسے بھی یہ انتہائی غیر اخلاقی ہے اور سماجی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ 
ہمارے ہاں خودکش حملوں میں درجنوں اور کئی مواقع پر سینکڑوں جانوں کو اپنے ساتھ لیجانے کا دفاع کرنے والے تو ہزاروں ہیں، غائبانہ نماز جنازہ بھی ہو جاتے ہیں اور انکی پلاننگ کرنے والے پھانسی چڑھ جائیں تو جنازوں اور ہمدردی کیلئے ہزاروں امڈ آتے ہیں لیکن خودکشی کی چوائس کے احترام اور دفاع کوئی نہیں کرتا اور خودکشی کے بعد آخری رسومات اور اہلخانہ کیلئے ہر موڑ پر مسائل اور پریشانیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 325 اقدامِ خودکشی کو جرم قرار دیتا ہے جسکی سزا جرمانہ یا ایک سال قید یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ اسے دو ہزار سترہ میں ڈی کرمنلائز کرنے کیلئے بل پیش کیا گیا لیکن مسترد ہو گیا۔ ایسی کسی سزا کا موجود ہونا انتہائی غیر انسانی ہے چاہے خوکشی کے عوامل کچھ بھی ہوں۔ خودکشی پر بحث اور دفاع ہم زندوں نے کرنا ہے تاکہ اپنی جان پر حق کا اختیار محفوظ رہے، کل کو یہ ہماری ذاتی چوائس اور مسرت کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ موت کو ایک جشن کی طرح منایا جانا ممکن ہے۔ خودکشی یا موت ہمیشہ المیہ اور مقامِ افسردگی نہیں۔چکبست برج نرائن کا ایک شعر ہے:
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

Monday, 8 January 2018

بلاگرز کا سالانہ

سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر کو جبری گمشدہ کئے جانے کو ایک سال گزر گیا۔ موچی کے بلاگرز میں انکے ساتھ ایک اسکول ٹیچر بھی تھے۔ اسکے علاوہ ثمر عباس بھی انہی دنوں میں لاپتہ ہوئے جن کی تاحال کوئی خبر نہیں۔ جنوری کے پہلے عشرے کو اگر مذہبی انتہاء پسندی کی وحشت کے بھرپور مظاہرے کا عشرہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ چار جنوری کو شہید سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا جسکے بعد انکے قاتل کو گلوریفائی کرنے اور غازیوں کو ہیرو بنانے کا منظم سلالہ شروع ہوا جو نادیدہ و دیدہ قوتوں کی تائید و نصرت اور ریاست کی جانب سے تشدد اور نفرتوں پر اکسانے کے فری ہینڈ سے آخرکار اتنی قوت پکڑ گیا کہ گزشتہ سال ریاست کو ان مذہبی فاشسٹ قوتوں کے سامنے شرمناک سرنڈر کرنا پڑا۔ رواں سال شہید سلمان تاثیر کیلئے شمعیں جلانے پر تو قدغنیں تھیں لیکن انکے یوم شہادت پر قاتلوں کے حامیوں کو لانگ مارچ کی بھرپور ریاستی سہولتکاری میسر تھی۔ جنوری کے پہلے دس دنوں میں ہی طالب کو اسکول پر حملے سے روکتے ہوئے اعتزاز احسن کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا۔ بظاہر بلاگرز کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے والے، بلاسفیمی جہادی اور ناراض طالب بھائی مختلف کردار ہیں لیکن بربریت کے بیانیے اور مذہبی فاشزم مشترکہ ہے۔ اس سال کا آغاز بھی کراچی یونیورسٹی کے بلوچ ایکٹوسٹس کی گمشدگی کیساتھ ہوا۔
 ۴ جنوری کو وقاص گورایہ اور عاصم سعید لاپتہ ہوئے، ۶ جنوری کو سلمان حیدر اور ۷ جنوری کو احمد رضا نصیر کو لاپتہ کر کے لاہوت و لامکاں میں پہنچایا گیا۔ اسکے ساتھ دیگر ایکٹوسٹس کو بھی دھمکی آمیز کالز کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سوشل میڈیا ایکٹوزم کیخلاف ایک منظم کریک ڈاؤن تھا۔ خوف اور دہشت پھیلائی گئی اور کئی بلاگرز، فری تھنکرز اور سوشل میڈیا پیجز چلانے والے ایکٹوسٹس اپنی جان کے تحفظ کیلئے گمنامی میں چلے جانے پر مجبور ہوئے۔ قلمی ناموں کیساتھ سوشل میڈیا ایکٹوزم قریب قریب ناممکن ہو گئی کیونکہ اپنے نام اور شناخت کیساتھ کم از کم یہ سہارا ضرور وابستہ ہے کہ لاپتہ ہونے کی صورت میں آواز اٹھانے والے چند لوگ تو مل جائیں گے۔ فری تھنکرز کے گروپس اور پیجز بلاک کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ دوسری طرف جب بلاگرز ٹارچر سہہ رہے تھے، الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر انہیں اغواء کر کے تشدد کا جواز بخشنے کیلئے بلاسفیمی و غداری کا سہارا لینے والے مکمل آزاد تھے۔ وحشت کے ناچ میں جو الزامات بلاگرز پر اچھالے گئے، ان پر کوئی کلام نہیں، سوال تو یہ ہے کہ اگر وہ الزامات سچ ہوتے تو ریاست یا غیر ریاستی عناصر کیلئے شہریوں کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔ انکے خاندانوں کو اذیت میں مبتلا کرنے کو محض ان الزامات سے جسٹیفائی کیا جا سکتا ہے اور اس قسم کے تشدد کے جوازوں کے بعد معاشرہ مہذب یا انسانوں کا معاشرہ کہلا سکتا ہے۔ ہمارے سماج میں ان سوالات کا جواب دینے کا تو کوئی رواج نہیں، البتہ اسی قسم کے سوالات ہوتے جو لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید مختلف انٹرویوز میں ٹارچر اور اپنے اغواء کاروں کے متعلق بتا چکے ہیں، سلمان حیدر نے بھی نظم اور بی بی سی پر بلاگ لکھا ہے جس میں دیگر تشدد تو علاوہ بیان ہوا، مطالعہ پاکستان کے جبری اسباق کا تشدد ہی کیا کم ہے۔ احمد رضا نصیر کی یادداشتیں بھی شاید کسی مناسب موقع پر سامنے آ جائیں گی۔ احمد ایک ہنس مکھ اور زندہ دل انسان ہے اور ہم اسے امام احمد رضا خان کی نسبت سے اعلیحضرت ثانی اور امام بھی کہا کرتے تھے۔ شہرت سے دور بھاگتا ہے اور گمنام رہ کر اپنی آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ موچی پیج اس نے بنایا جسے بعد میں وقاص گورایا، عاصم سعید نے بھی جوائن کیا۔ مختصر دورانیے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بوٹ پرست سیاستدانوں، حوالدار میڈیا کے بیانیے اور ملائیت کے تسلط پر طنز و مزاح اور کارٹونوں پر مبنی اس پیج کی مؤثر کاٹ اتنی تیز ہو گئی کہ ایٹمی ریاست کے نظریاتی عدم تحفظ کیلئے خطرہ بن گئی۔ یہ باہمت احمد کی کاوش تھی جس میں دیگر بلاگرز نے بھی حصہ ڈالا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ گمشدگی کے دوران اور اسکے بعد اب تک وہ غلیظ پراپیگنڈے اور لایعنی کہانیوں کا برابر نشانہ بنا ہوا ہے جس میں اپنے پرائے برابر حصہ لیتے ہیں۔
طنز و مزاح اور تمسخر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ وحشیانہ اتھارٹی کا اذہان سے خوف دور کرتی ہے۔ ہر اتھارٹی پر یہ بار ہوتا ہے کہ وہ اپنا جواز ثابت کرے اور استحصالی اتھارٹی ہمیشہ جواز کے سوال سے ہی عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے، اسلئے وہ اذہان پر خوف اور دہشت طاری کر دیتی ہے تاکہ وہ سوال اٹھانے کی جرآت نہ کر پائیں۔ جب کوئی باہمت انسان اس خوف سے خود کو آزاد کرا لے اور معاشرے پر چھائی ہوئی خوف کی فضا کو توڑنے کی کوشش کرے تو وہ وحشیانہ قوتوں کیلئے چیلنج بن جاتا ہے کیونکہ اسے دیکھ کر مزید لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ خود کو خوف سے آزاد کرائیں اور خوف کے بتوں کیخلاف کھڑے ہو جائیں اور اگر یہ سلسلہ چل نکلے تو ان قوتوں کی تحلیل اور جارحیت کی شکست پر منتج ہوتا ہے جو انکے مفادات میں بالکل نہیں ہوتا، اسلئے وہ اسے آغاز میں ہی کچلنا شروع کر دیتے ہیں۔ موچی پیج کی بھی یہی کہانی تھی۔ پاکستان کے پاور اسٹرکچر کا خلاصہ تین لفظوں میں آ جاتا ہے 'ملا ملٹری الائنس'، باقی سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں، ملک ریاضوں کو ان سے مفاہمت میں حصہ بٹورنے اور حاکمیت کا موقع ملتا ہے۔ موچی پیج اس پاور اسٹرکچر کیلئے چیلنج تھا۔
سلو بھائی نے لکھا ہے کہ انہیں لاش پھینکے جانے کیلئے چنیوٹ یا گوجرانوالہ کا آپشن دیا گیا تھا لیکن بلاگرز سے اسکے علاوہ وہ درندے بار بار آخری وصیت بھی لکھواتے اور دنیا کیلئے آخری پیغام ریکارڈ کروانے کا کہتے تھے۔ احمد کے بقول تین ہفتے سے ایک ماہ کے دوران ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا ہو گا جب ایسا نہ محسوس ہوا ہو کہ یہ لمحہ آخری لمحہ ہے۔ کہنے کو تو پچیس تیس دن تھے لیکن ذہنی و جسمانی اذیت کا ایک طویل دور تھا۔ جنسی تشدد سے لیکر ٹارچر کا ہر حربہ آزمایا گیا۔ لاپتہ کیا جانا عام اسیری سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ ہر لمحہ بے یقینیت اور طرح طرح کے خدشات کا الگ ذہنی دباؤ رہتا ہے۔ ٹارچر کرنے والوں کے رویے ہر دم بدلتے رہتے ہیں اور جرم کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ اغواء کاروں میں انسانیت یا جن مذہبی و سماجی اقدار کا خود کو نظریاتی محافظ بتاتے ہیں، ویسی کوئی شے نہیں ہوتی۔ ان وحشیوں کا دفاع اور 'مائی پرائڈ' بتانے والے اگر بربریت کی یہ داستانیں سنیں یا پڑھیں تو انہیں احساس ہو کہ کن کا دفاع کرتے ہیں اگر انسانیت کی ایک رمق بھی باقی ہو، لیکن ہمارے ارد گرد، چینلز اور سوشل میڈیا پر ایسے کئی بظاہر انسانی چہرے ہیں جو اس حس سے عاری ہوتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مذہبی افیون میں ایسا بے حس نہ تھا۔ لوک داستانوں اور لوک ادب میں مذہب اور خدا کے تصور کیساتھ ایک بے تکلفی کا تعلق ملتا ہے۔ نعتیہ شاعری کی پیروڈی اور لطیفوں میں مذہبی کرداروں کا بھی لطیف پیرائے میں بیان ہوتا لیکن اب لوگ ہنسنے سے ڈرتے ہیں، بات کرنے سے خوف کھاتے ہیں۔ عربی نام مقامی لہجوں میں کیا سے کیا بن جاتے لیکن کوئی فتوی یا مہم نہیں چلتی تھی۔ اب سلام کرنے کے مقامی لہجوں پر بھی فتوے ہیں۔ پست معیار زندگی اور سہولیات نہ ہونے کیوجہ کیوجہ سے معاشرہ ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست ضرور تھا لیکن گدی نشینوں، ملاؤں کی ویسی اتھارٹی نہیں تھی جیسی آج ریاستی سہولت کاری کیساتھ ہے۔ متشدد مذہبی اعتقادات کو سماجی زندگی سے علیحدہ رکھا جاتا تھا۔ ریاستی بیانیہ جہادی ہونے کیساتھ خدا کے تصور میں خوف اور دہشت کی شدت آ گئی ہے۔ خدا کی کبریائی کا اقرار (اللہ اکبر) جسموں کے چیتھڑے اڑنے کی خبر بنتا ہے، عشق رسول سے وحشت کی تسکین کیلئے بلاسفیمی کا الزام لگانے کو ارد گرد کوئی شکار تلاش کرتا بے تاب ہجوم ذہن میں آتا ہے جسکی آنکھوں میں خون اترا ہو۔ نعتیں مرنے مارنے پر اکساتی ہیں۔ مذہب کی اصل صورت میں بحالی میں سماجی ترقی اور مقامی کلچر کیلئے موت کا پیغام ہوتا ہے۔
اسلام آباد پریس کلب کے باہر ایک بار سندھی لاپتہ ایکٹوسٹس کے لواحقین کی داستانیں سن رہا تھا تو احساس ہوا کہ عاصم، وقاص گورایہ اور سلو بھائی نے ابھی تک جو ٹارچر کا احوال سامنے لایا ہے، وہ کسی طرح بھی اسیری کے ایام کا مکمل احاطہ نہیں کرتا بلکہ اس سے تو زیادہ عذاب اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر پھرنے والے لواحقین جھیلتے ہیں۔ ٹارچر سیلز کی دیواریں بذات خود داستانیں ہوتی ہیں جہاں اپنے جرم سے لاعلم پہنچنے والے اپنے لہو سے تاریخ لکھتے ہیں۔ ان راہوں سے گزر کر آنے والے ایک ایکٹوسٹ بتا رہے تھے کہ ان سے پہلے اس سیل میں کوئی آٹھ سال تک بھی رہا تھا اور اسکے پاس یہ یادداشت رقم کرنے کیلئے اپنی انگلیوں کا لہو تھا۔ دن گننے کا واحد ذریعہ دیواروں پر لہو کی لکیریں کھینچنا ہوتا ہے۔ لاہوت و لامکاں میں پہنچنے والوں کے بنائے جانے والے دیواروں پر خاکے، کیفیت کا احوال سبھی لہو کے نقش ہوتے ہیں۔ ماہرین آثار بتاتے ہیں ماقبل تاریخ میں جب الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے تو مصوری کی زبان میں نقش بنائے جاتے تھے۔ پتھر دور سے بھی پیچھے پہنچانے کی سہولت رکھنے والے اس معاشرے میں آواز اور زبان کھینچ کر ہزاروں سال ماضی کا سفر کرایا جاتا ہے، لیکن یہ انسانی عزم و ہمت اور تخلیقی اذہان کی داستان ہے کہ وہ لاپتہ ماحول میں بھی تخلیقی صلاحیتوں اور بغاوت کے اظہار کے نقوش چھوڑنے سے نہیں چونکتے۔ زباں بندی والے کیا سمجھتے ہیں کہ وہ سماج کو گونگا کر کے اپنے مقاصد اور ہمیشہ تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بلاگرز کے معاملے میں جہاں ریاست کے تینوں ستونوں اور اداروں پر جہاں مذہبیت کا بیانیہ چھایا رہا، وہاں چوتھے ستون میڈیا کا ناکارہ پن بھی کھل کر سامنے آیا اور لاپتہ افراد اور ان پر الزامات کی مہم کا کوئی کاؤنٹر نیریٹو سامنے نہ آ سکا۔ سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے لیکن درحقیقت ریاستی بیانیے کا شور رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے حالیہ ٹویٹ میں غداری کے الزامات کیساتھ ایسی بلاسفیمی و ملک دشمنی کے فتوے لگانے والے بے نام اور بے چہرہ اکاؤنٹس کے خصوصی شکریے کیساتھ انکی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ریاست اس درجہ کی فسطائی شکل اختیار کر چکی ہے کہ مردہ باد سمجھنے والے زیادہ محب الوطن لگتے ہیں۔
دیگر بلاگرز کا ذکر ہوتا رہتا ہے لیکن احمد رضا نصیر کا ذکر بہت کم ہوتا ہے اور وہ خود بھی نہیں چاہتا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں چند آوازیں جو ریاستی و مذہبی فاشزم کیخلاف بلند ہوتی ہیں، انہیں سراہنا چاہیے۔ ان آوازوں کی خوبی اور ناتوانی ہی یہی ہے کہ غالب بیانیے کے مقابلے پر کھڑی یہ آوازیں چند ہیں اور جیسے ہی یہ کچھ زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں، انہیں کچل دیا جاتا ہے اور پھر سے نیا سفر شروع ہوتا ہے لیکن دائروں کا یہ چکر زیادہ طویل نہیں ہو گا کیونکہ ہر بار کچلنے کی کوششوں کے بعد مزید توانا آوازیں ابھرتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں نہ سہی، اگلی نسلیں ضرور پرامن اور وحشت و بربریت سے پاک معاشرہ دیکھیں گی جن میں انہیں بات کرنے کی آزادی ہو گی، چند ہاتھوں میں معاشرہ یرغمال نہ ہو گا بلکہ افراد اپنے فیصلوں اور زندگی کا اختیار خود رکھتے ہوں گے۔ ہماری نسل کیلئے یہی کیا کم ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو سماج کی ترقی کی آدرش رکھتے ہیں اور انسانیت کے روشن خوابوں کے لئے جدوجہد میں اپنے حصے سے بڑھ کر شمعیں جلاتے رہتے ہیں۔


Sunday, 26 June 2016

تکفیر اور ریاست


پوپ فرانسس نے کچھ عرصہ قبل اطالوی اخبار La Repubblica کے بانی Eugenio Scalfari کو لکھے گئے کھلے خط میں بیان دیا کہ خدا ملحدین کو بھی معاف کر دے گا اگر وہ اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بسر کریں۔ انکا کہنا تھا کہ خدا کے رحم و کرم کی کوئی حد نہیں اور جو ایمان نہیں لاتے، انکے لئے بھی گناہ تب وجود رکھتا ہے جب وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ یہ خط ان سوالات کے جواب میں تحریر کیا گیا تھا جو Scalfari نے اخبار میں شائع کیے تھے۔ سوال یہ کیا گیا تھا کہ کیا مسیحیوں کا خدا انکو معاف کر دے گا جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔
رومن کیتھولک مسیحیوں کے حالیہ پوپ اپنے بعض ترقی پسندانہ خیالات کیوجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں اور کیتھولک مسیحیوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور نظریات کے ماننے والوں میں بھی انکے لئے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیان مسیحیت کی ریفارمز کی تاریخ کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سینکڑوں سالوں تک چرچ نے ایمان، جنت، جہنم، ہدایت، گمراہی وغیرہ کے خدائی فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھے اور مسیحیت میں ایک دوسرے کو کافر اور بھٹکا ہوا سمجھ کر خونریز فرقہ وارانہ جنگیں ہوئیں۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر فرقے ایک دوسرے کو زندہ جلاتے اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے رہے۔ رومن کیتھولک چرچ اور روس کے چرچ بھی ایک دوسرے پر فتوے لگاتے رہے اور ہزار سال بعد حال ہی میں پوپ فرانسس اور روس کے آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ Patriarch Kirill کے درمیان کیوبا میں ملاقات ہوئی۔
معروف اصلاح پسند اسکالر جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے ایک بیان میں اس سوال پر مؤقف بیان کیا کہ جو ملحدین اپنے ضمیر، شعور اور صاف دل کیساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، خدا ان کے ساتھ فیصلہ کرنے میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔ مواخذہ ہٹ دھرمی، ضد اور ضمیر کے برخلاف چلنے میں ہی ہو گا۔ زمین پر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ خدا اپنے کسی بندے کیساتھ کیا معاملہ کرے گا بلکہ یہ خدا کا ہی اختیار ہے۔ غامدی صاحب کا مؤقف البتہ مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد کی آواز ہی ہے اور اکثریت اسکے برعکس سوچتی ہے۔
ایمان، عقیدے اور عبادات میں انسان کا تعلق براہ راست خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں اس تعلق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے بلکہ اگر انفرادیت کی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کا تصور اپنے خدا، بھگوان وغیرہ کے متعلق منفرد ہوتا ہے جو اسکے سماجی حالات اور شعور کا عکس ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنے خدا سے امیدیں وابستہ کرتا ہے اور اسکی خوشنودی اور اس سے فریادوں اور دعاؤں کا تعلق اپنی ذاتی زندگی میں قائم کرتا ہے۔ خدا سے انسانوں کے تعلق کو مرکزی طور پر دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا تعلق ایقان یعنی ماننے کا ہے جبکہ ایک اچھی خاصی تعداد کا یہ تعلق بھی ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور کائنات کی مادی و سانسی تشریحات و توجیہات کو درست سمجھتے ہیں۔
ایقان کی جانچ پڑتال کا کوئی ٹھیک ٹھیک (Accurate) زمینی پیمانہ ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں نیت، خلوص جیسے اعمال وغیرہ کے انتہائی نجی زندگی کے معاملات جڑے ہوتے ہیں جنکی ججمنٹ کسی دلوں کا حال جاننے والی ماورائی قوت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر تصور خدا کے مادے (Abstract) اور تعمیم کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر خدا کے اختیار میں آتا ہے۔ جب کوئی ریاست یا انسانوں کا کوئی گروہ اتھارٹی بن کر نجی معاملات پر وہ فیصلے کرنا شروع کر دے جو خدا کے اختیار میں ہیں، تو یہ خدائی کاموں اور صفات میں بھی مداخلت ہوتی ہے۔
بندے کا خدا سے کیسا تعلق ہے، یہ بندہ جان سکتا ہے یا خدا جانتا ہے، اس باہمی تعلق میں کسی تیسرے کی جانچ پڑتال ممکن نہیں ہو سکتی۔ تکفیر کا مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ مذہب اور اس سے وابستہ سزا و جزا کے تصورات پر اتھارٹی سمجھ لیتا ہے اور صرف خود کو ہی ہدایت یافتہ، افضل اور سچا پیروکار مانتا اور سمجھنے لگتا ہے۔ اسطرح وہ اپنے ہم خیالوں کے علاوہ دوسروں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا ڈکلئیر کر دیتا ہے۔
مطلق سچائی کے دعویدار تقریبا سبھی مذاہب کیساتھ تکفیر کا مسئلہ رہا اور تاریخ میں انکے اندر ہی ہر دور میں ابھرنے والے فرقے اپنے علاوہ سب کو گمراہ قرار دے کر خیالات کو دبانے کیلئے جبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کشت و خون کا بازار بھی گرم رہا۔ ”مطلق العنان سچائی پر اجارہ داری اپنی انتہا میں فاشزم کو ہی پیدا کرتی ہے“ (فہد رضوان)۔ اسکے برعکس سناتن دھرم کا فلسفہ یہ تھا کہ سچائی ایک ہے، لیکن اس تک پہنچنے کے راستے مختلف ہیں۔ اس فلسفے کے حامل مذاہب نے تاریخ میں نئے خیالات، اصلاحات اور اختلاف رائے کو قبول کرنے میں نسبتا زیادہ وسعت نظری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلسفے کا رنگ صوفی ازم کے پیغام محبت میں بھی ملتا ہے جس میں کسی کو عقیدے، مسلک یا مذہب کی بناء پر نفرت کا نشانہ بنانے، گمراہ اور نیچ سمجھنے کی بجائے گروہی یا اعتقادی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت سے محبت کا درس نظر آتا ہے۔
قائد اعظم کے چودہ نکات میٹرک تک پہنچنے والے تقریبا ہر بچے کو زبانی یاد ہوتے ہیں۔ ان چودہ نکات میں سے آٹھواں نکتہ یہ تھا ”مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں“۔ اس نکتے سے ریاست یا کسی اور اتھارٹی کو تکفیر کا یا کسی کمیونٹی پر کوئی اور فیصلہ مسلط کرنے کا اختیار دینے کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری ترمیم کے ضمن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرقے پر فیصلہ مسلط کرنے سے قبل ریفرنڈم یا کسی اور طریقے سے انکی رائے لی گئی تھی یا نہیں۔ تکفیر کے ضمن میں قائد اعظم کا مؤقف تھا کہ ”میں کون ہوتا ہوں کسی ایسے شخص کو کافر قرار دینے والا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو“۔ (۲۳ مئی ۱۹۴۴ء، سرینگر)۔ اس پر مجلس احرار اور دیگر مولویوں نے بہت لے دے کی، مگر تاریخ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ قائداعظم نے اپنی زندگی میں اس مؤقف سے رجوع کیا ہو۔
ریاست یا کسی اور اتھارٹی کے تکفیر کا فیصلہ مسلط کرنے کے اختیار اور دائرہ کار کا سوال سیاسی بحث ہے، مذہبی نہیں لیکن بدقسمتی سے مثبت مکالمے کی بجائے اس پر مذہبی جذباتیت کی بناء پر ہی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مذہبی بحث فرقوں کے اندر ہوتی ہے کہ فلاں کافر ہے یا نہیں اور کسی گروہ، نظریے یا عقیدے کے متعلق ذاتی یا گروہی حیثیت سے کفر کا خیال رکھنے، کافر سمجھنے اور اسکا اظہار کرنے کا حق اظہار رائے کی آزادی میں آتا ہے بشرطیکہ اظہار میں اس کے ساتھ تشدد پر اکسانے اور نفرتوں کے ذریعے شدت پسندی کو ہوا دینے کا معاملہ نہ جڑا ہو۔
اگر اکثریت کے فیصلے کو ہی دلیل مانا جائے تو کسی دور میں غلامی پر بھی ”اکثریت“ متفق تھی، لیکن یہ غلامی کے ادارے کے ظالمانہ اور غیر انسانی نہ ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ بنیادی انسانی حقوق مقدم ہیں جن میں مذہبی حقوق بھی شامل ہیں اور اکثریت کسی فیصلے سے ان کو سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ ٹائرنی آف میجورٹی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے ہم ہندوؤں کی اکثریت کیوجہ سے ٹائرنی آف میجورٹی کے خوف اور عدم تحفظ کا ہی شکار تھے جس کے نتیجے میں پاکستان قائم کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق نہ چھینے جائیں۔ پاکستان میں بھی گروہوں پر فیصلے مسلط کرنے کے عمل کا شروع ہونا قیام پاکستان کے اس جواز کو ہی ختم کر دیتا ہے۔
ریاست کے نزدیک تمام شہری برابر ہوتے ہیں، وہ کسی ایک گروہ کا فیصلہ دوسرے پر مسلط کرنے یا تھونپنے کا اختیار نہیں رکھتی کیونکہ ریاست تمام شہریوں کی ہوتی ہے اور سب سے حقوق کے تحفظ کے مساوی رضاکارانہ معاہدے میں جڑی ہوتی ہے اور انکی ضامن ہوتی ہے۔ وہ شہریوں میں مسلمان کافر کی بناء پر تفریق نہیں کر سکتی بلکہ اسکا فرض یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہر شہری کو اپنے اپنے مذہبی عقیدہ اور نظریہ رکھنے پر آزاد ہونے، اسے اپنی نجی زندگی پر نافذ کرنے اور اس کے مطابق ذاتی زندگی بسر کرنے کا بھرپور موقع ملے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت یا عدم تحفظ کا احساس نہ ہو۔ اس سلسلے میں اسے شہریوں کے ایمان، عقیدے جیسے ذاتی معاملات سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بنیاد پر مساوی سلوک کی بجائے امتیازی سلوک کا حق رکھتی ہے۔ ریاست کو عقائد اور عبادات کی آزادی کے تحفظ کیلئے سہولت کار کا فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے۔
کافر قرار دینے کا اختیار ریاست کو دیا جائے یا علماء کو اتھارٹی بنا دیا جائے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ مسلمان کوئی باقی نہ بچے گا بلکہ بدعتی، گستاخ، مشرک، کافر ہی بچیں گے کیونکہ یہ سلسلہ لامحدود ہے اور مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ ایسا نہیں جس پر کفر و شرک و بدعت وغیرہ کے فتوے موجود نہ ہوں۔ جنت، جہنم جیسے فیصلے ماورائی معاملات میں آتے ہیں اور اگر کوئی زمین پر ماورائی اتھارٹی بن کر ہی یہ فیصلے تھونپنا شروع کر دے تو پھر یہ نفرت انگیزی اور عصبیت پر ہی جا کر منتج ہوتا ہے۔
کسی کی جنت جہنم کی اس قدر متشدد فکر کیوں ہونی چاہیے کہ اسکے خیالات و نظریات رکھنے اور انکے اظہار کے بنیادی حق کے احترام کی بجائے اس کو چھیننے کے درپے ہوا جائے۔ دنیا میں کوئی بھی دو انسان سو فیصد ایک دوسرے سے متفق نہیں ہو سکتے۔ خود کو اعلیٰ ہدایت یافتہ اور باقی انسانوں کو نیچ سمجھنے کی بجائے انسانیت اور اختلاف رائے کے باہمی اصول پر بھی تو متفق ہوا جا سکتا ہے جس میں ہم خود کو سچائی کے ماؤنٹ ایورسٹ پر براجمان نہ سمجھا جائے اور خود کے غلط ہونے کا امکان بھی ہمیشہ پیش نظر ہو اور مسلکی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تعصبات سے بلند تر ہو کر انسانیت کی سطح پر سوچا جائے۔ خدا کے کام خدا کو ہی کرنے دیں اور ہم اپنے کاموں پر دھیان رکھیں۔

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ایسی پرامن فضا کیلئے کوشاں ہوں جس میں ہمیں بھی اور ارد گرد کے مختلف الخیال لوگوں کو بھی اپنے خیالات اور نظریات رکھنے اور ان کے اظہار کا بھرپور حق ہو۔ خیالات اور عقائد پر مثبت اور علمی بحثیں ضرور ہوں لیکن نفرتیں جنم نہ لیں اور اپنا نظریہ، عقیدہ یا ورژن دوسروں پر تھونپنے کی کوشش نہ ہو۔ کسی پر ظلم کی مذمت کیلئے ہمیں اسکے عقیدے اور نظریے کو نہ دیکھنا پڑے، نہ ہی افسوس کے اظہار کیلئے ہمیں نظریاتی اختلاف کیوجہ سے تامل ہو اور نہ ہی ہمیں ظلم پر افسوس کی بجائے یہ افسوس کھائے جا رہا ہو کہ ظلم کا شکار ہونے والا ہمارے سے مختلف نظریہ رکھتے ہوئے کیوں مر گیا اور ہمیں اسکی آخرت اور خداوند قدوس سے اس کے معاملات کی بجائے دنیا میں اس پر بیتنے والے ظلم کی فکر ہو جسکے لئے ہم آواز بلند کریں۔ شاید ایک تکثیری اور مختلف الخیال سماج اور معاشرے کیلئے باہمی انسانی بقا کا یہی اصول ہو سکتا ہے۔