Sunday, 26 June 2016

تکفیر اور ریاست


پوپ فرانسس نے کچھ عرصہ قبل اطالوی اخبار La Repubblica کے بانی Eugenio Scalfari کو لکھے گئے کھلے خط میں بیان دیا کہ خدا ملحدین کو بھی معاف کر دے گا اگر وہ اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بسر کریں۔ انکا کہنا تھا کہ خدا کے رحم و کرم کی کوئی حد نہیں اور جو ایمان نہیں لاتے، انکے لئے بھی گناہ تب وجود رکھتا ہے جب وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ یہ خط ان سوالات کے جواب میں تحریر کیا گیا تھا جو Scalfari نے اخبار میں شائع کیے تھے۔ سوال یہ کیا گیا تھا کہ کیا مسیحیوں کا خدا انکو معاف کر دے گا جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔
رومن کیتھولک مسیحیوں کے حالیہ پوپ اپنے بعض ترقی پسندانہ خیالات کیوجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں اور کیتھولک مسیحیوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور نظریات کے ماننے والوں میں بھی انکے لئے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیان مسیحیت کی ریفارمز کی تاریخ کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سینکڑوں سالوں تک چرچ نے ایمان، جنت، جہنم، ہدایت، گمراہی وغیرہ کے خدائی فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھے اور مسیحیت میں ایک دوسرے کو کافر اور بھٹکا ہوا سمجھ کر خونریز فرقہ وارانہ جنگیں ہوئیں۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر فرقے ایک دوسرے کو زندہ جلاتے اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے رہے۔ رومن کیتھولک چرچ اور روس کے چرچ بھی ایک دوسرے پر فتوے لگاتے رہے اور ہزار سال بعد حال ہی میں پوپ فرانسس اور روس کے آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ Patriarch Kirill کے درمیان کیوبا میں ملاقات ہوئی۔
معروف اصلاح پسند اسکالر جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے ایک بیان میں اس سوال پر مؤقف بیان کیا کہ جو ملحدین اپنے ضمیر، شعور اور صاف دل کیساتھ زندگی بسر کرتے ہیں، خدا ان کے ساتھ فیصلہ کرنے میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔ مواخذہ ہٹ دھرمی، ضد اور ضمیر کے برخلاف چلنے میں ہی ہو گا۔ زمین پر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ خدا اپنے کسی بندے کیساتھ کیا معاملہ کرے گا بلکہ یہ خدا کا ہی اختیار ہے۔ غامدی صاحب کا مؤقف البتہ مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد کی آواز ہی ہے اور اکثریت اسکے برعکس سوچتی ہے۔
ایمان، عقیدے اور عبادات میں انسان کا تعلق براہ راست خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں اس تعلق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے بلکہ اگر انفرادیت کی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کا تصور اپنے خدا، بھگوان وغیرہ کے متعلق منفرد ہوتا ہے جو اسکے سماجی حالات اور شعور کا عکس ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنے خدا سے امیدیں وابستہ کرتا ہے اور اسکی خوشنودی اور اس سے فریادوں اور دعاؤں کا تعلق اپنی ذاتی زندگی میں قائم کرتا ہے۔ خدا سے انسانوں کے تعلق کو مرکزی طور پر دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا تعلق ایقان یعنی ماننے کا ہے جبکہ ایک اچھی خاصی تعداد کا یہ تعلق بھی ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور کائنات کی مادی و سانسی تشریحات و توجیہات کو درست سمجھتے ہیں۔
ایقان کی جانچ پڑتال کا کوئی ٹھیک ٹھیک (Accurate) زمینی پیمانہ ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں نیت، خلوص جیسے اعمال وغیرہ کے انتہائی نجی زندگی کے معاملات جڑے ہوتے ہیں جنکی ججمنٹ کسی دلوں کا حال جاننے والی ماورائی قوت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر تصور خدا کے مادے (Abstract) اور تعمیم کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر خدا کے اختیار میں آتا ہے۔ جب کوئی ریاست یا انسانوں کا کوئی گروہ اتھارٹی بن کر نجی معاملات پر وہ فیصلے کرنا شروع کر دے جو خدا کے اختیار میں ہیں، تو یہ خدائی کاموں اور صفات میں بھی مداخلت ہوتی ہے۔
بندے کا خدا سے کیسا تعلق ہے، یہ بندہ جان سکتا ہے یا خدا جانتا ہے، اس باہمی تعلق میں کسی تیسرے کی جانچ پڑتال ممکن نہیں ہو سکتی۔ تکفیر کا مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ مذہب اور اس سے وابستہ سزا و جزا کے تصورات پر اتھارٹی سمجھ لیتا ہے اور صرف خود کو ہی ہدایت یافتہ، افضل اور سچا پیروکار مانتا اور سمجھنے لگتا ہے۔ اسطرح وہ اپنے ہم خیالوں کے علاوہ دوسروں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا ڈکلئیر کر دیتا ہے۔
مطلق سچائی کے دعویدار تقریبا سبھی مذاہب کیساتھ تکفیر کا مسئلہ رہا اور تاریخ میں انکے اندر ہی ہر دور میں ابھرنے والے فرقے اپنے علاوہ سب کو گمراہ قرار دے کر خیالات کو دبانے کیلئے جبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کشت و خون کا بازار بھی گرم رہا۔ ”مطلق العنان سچائی پر اجارہ داری اپنی انتہا میں فاشزم کو ہی پیدا کرتی ہے“ (فہد رضوان)۔ اسکے برعکس سناتن دھرم کا فلسفہ یہ تھا کہ سچائی ایک ہے، لیکن اس تک پہنچنے کے راستے مختلف ہیں۔ اس فلسفے کے حامل مذاہب نے تاریخ میں نئے خیالات، اصلاحات اور اختلاف رائے کو قبول کرنے میں نسبتا زیادہ وسعت نظری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلسفے کا رنگ صوفی ازم کے پیغام محبت میں بھی ملتا ہے جس میں کسی کو عقیدے، مسلک یا مذہب کی بناء پر نفرت کا نشانہ بنانے، گمراہ اور نیچ سمجھنے کی بجائے گروہی یا اعتقادی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت سے محبت کا درس نظر آتا ہے۔
قائد اعظم کے چودہ نکات میٹرک تک پہنچنے والے تقریبا ہر بچے کو زبانی یاد ہوتے ہیں۔ ان چودہ نکات میں سے آٹھواں نکتہ یہ تھا ”مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں“۔ اس نکتے سے ریاست یا کسی اور اتھارٹی کو تکفیر کا یا کسی کمیونٹی پر کوئی اور فیصلہ مسلط کرنے کا اختیار دینے کی وضاحت ہوتی ہے اور دوسری ترمیم کے ضمن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرقے پر فیصلہ مسلط کرنے سے قبل ریفرنڈم یا کسی اور طریقے سے انکی رائے لی گئی تھی یا نہیں۔ تکفیر کے ضمن میں قائد اعظم کا مؤقف تھا کہ ”میں کون ہوتا ہوں کسی ایسے شخص کو کافر قرار دینے والا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو“۔ (۲۳ مئی ۱۹۴۴ء، سرینگر)۔ اس پر مجلس احرار اور دیگر مولویوں نے بہت لے دے کی، مگر تاریخ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ قائداعظم نے اپنی زندگی میں اس مؤقف سے رجوع کیا ہو۔
ریاست یا کسی اور اتھارٹی کے تکفیر کا فیصلہ مسلط کرنے کے اختیار اور دائرہ کار کا سوال سیاسی بحث ہے، مذہبی نہیں لیکن بدقسمتی سے مثبت مکالمے کی بجائے اس پر مذہبی جذباتیت کی بناء پر ہی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مذہبی بحث فرقوں کے اندر ہوتی ہے کہ فلاں کافر ہے یا نہیں اور کسی گروہ، نظریے یا عقیدے کے متعلق ذاتی یا گروہی حیثیت سے کفر کا خیال رکھنے، کافر سمجھنے اور اسکا اظہار کرنے کا حق اظہار رائے کی آزادی میں آتا ہے بشرطیکہ اظہار میں اس کے ساتھ تشدد پر اکسانے اور نفرتوں کے ذریعے شدت پسندی کو ہوا دینے کا معاملہ نہ جڑا ہو۔
اگر اکثریت کے فیصلے کو ہی دلیل مانا جائے تو کسی دور میں غلامی پر بھی ”اکثریت“ متفق تھی، لیکن یہ غلامی کے ادارے کے ظالمانہ اور غیر انسانی نہ ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ بنیادی انسانی حقوق مقدم ہیں جن میں مذہبی حقوق بھی شامل ہیں اور اکثریت کسی فیصلے سے ان کو سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ ٹائرنی آف میجورٹی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے ہم ہندوؤں کی اکثریت کیوجہ سے ٹائرنی آف میجورٹی کے خوف اور عدم تحفظ کا ہی شکار تھے جس کے نتیجے میں پاکستان قائم کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق نہ چھینے جائیں۔ پاکستان میں بھی گروہوں پر فیصلے مسلط کرنے کے عمل کا شروع ہونا قیام پاکستان کے اس جواز کو ہی ختم کر دیتا ہے۔
ریاست کے نزدیک تمام شہری برابر ہوتے ہیں، وہ کسی ایک گروہ کا فیصلہ دوسرے پر مسلط کرنے یا تھونپنے کا اختیار نہیں رکھتی کیونکہ ریاست تمام شہریوں کی ہوتی ہے اور سب سے حقوق کے تحفظ کے مساوی رضاکارانہ معاہدے میں جڑی ہوتی ہے اور انکی ضامن ہوتی ہے۔ وہ شہریوں میں مسلمان کافر کی بناء پر تفریق نہیں کر سکتی بلکہ اسکا فرض یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہر شہری کو اپنے اپنے مذہبی عقیدہ اور نظریہ رکھنے پر آزاد ہونے، اسے اپنی نجی زندگی پر نافذ کرنے اور اس کے مطابق ذاتی زندگی بسر کرنے کا بھرپور موقع ملے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت یا عدم تحفظ کا احساس نہ ہو۔ اس سلسلے میں اسے شہریوں کے ایمان، عقیدے جیسے ذاتی معاملات سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی اس بنیاد پر مساوی سلوک کی بجائے امتیازی سلوک کا حق رکھتی ہے۔ ریاست کو عقائد اور عبادات کی آزادی کے تحفظ کیلئے سہولت کار کا فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے۔
کافر قرار دینے کا اختیار ریاست کو دیا جائے یا علماء کو اتھارٹی بنا دیا جائے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ مسلمان کوئی باقی نہ بچے گا بلکہ بدعتی، گستاخ، مشرک، کافر ہی بچیں گے کیونکہ یہ سلسلہ لامحدود ہے اور مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ ایسا نہیں جس پر کفر و شرک و بدعت وغیرہ کے فتوے موجود نہ ہوں۔ جنت، جہنم جیسے فیصلے ماورائی معاملات میں آتے ہیں اور اگر کوئی زمین پر ماورائی اتھارٹی بن کر ہی یہ فیصلے تھونپنا شروع کر دے تو پھر یہ نفرت انگیزی اور عصبیت پر ہی جا کر منتج ہوتا ہے۔
کسی کی جنت جہنم کی اس قدر متشدد فکر کیوں ہونی چاہیے کہ اسکے خیالات و نظریات رکھنے اور انکے اظہار کے بنیادی حق کے احترام کی بجائے اس کو چھیننے کے درپے ہوا جائے۔ دنیا میں کوئی بھی دو انسان سو فیصد ایک دوسرے سے متفق نہیں ہو سکتے۔ خود کو اعلیٰ ہدایت یافتہ اور باقی انسانوں کو نیچ سمجھنے کی بجائے انسانیت اور اختلاف رائے کے باہمی اصول پر بھی تو متفق ہوا جا سکتا ہے جس میں ہم خود کو سچائی کے ماؤنٹ ایورسٹ پر براجمان نہ سمجھا جائے اور خود کے غلط ہونے کا امکان بھی ہمیشہ پیش نظر ہو اور مسلکی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تعصبات سے بلند تر ہو کر انسانیت کی سطح پر سوچا جائے۔ خدا کے کام خدا کو ہی کرنے دیں اور ہم اپنے کاموں پر دھیان رکھیں۔

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ایسی پرامن فضا کیلئے کوشاں ہوں جس میں ہمیں بھی اور ارد گرد کے مختلف الخیال لوگوں کو بھی اپنے خیالات اور نظریات رکھنے اور ان کے اظہار کا بھرپور حق ہو۔ خیالات اور عقائد پر مثبت اور علمی بحثیں ضرور ہوں لیکن نفرتیں جنم نہ لیں اور اپنا نظریہ، عقیدہ یا ورژن دوسروں پر تھونپنے کی کوشش نہ ہو۔ کسی پر ظلم کی مذمت کیلئے ہمیں اسکے عقیدے اور نظریے کو نہ دیکھنا پڑے، نہ ہی افسوس کے اظہار کیلئے ہمیں نظریاتی اختلاف کیوجہ سے تامل ہو اور نہ ہی ہمیں ظلم پر افسوس کی بجائے یہ افسوس کھائے جا رہا ہو کہ ظلم کا شکار ہونے والا ہمارے سے مختلف نظریہ رکھتے ہوئے کیوں مر گیا اور ہمیں اسکی آخرت اور خداوند قدوس سے اس کے معاملات کی بجائے دنیا میں اس پر بیتنے والے ظلم کی فکر ہو جسکے لئے ہم آواز بلند کریں۔ شاید ایک تکثیری اور مختلف الخیال سماج اور معاشرے کیلئے باہمی انسانی بقا کا یہی اصول ہو سکتا ہے۔

Thursday, 23 June 2016

دعوتِ افطاری


زندگی میں ہم نے بہت گناہ کیے اور بندے بشر ہیں، کچھ گناہ خود بخود ہم سے ہو گئے، لیکن کسی کی دعوتِ افطاری قبول نہ کرنے کا گناہ ہم سے کبھی نہ ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی صورتِ حال نازک ہونے کی بجائے معمول پر رہی تو ایسا گناہ کبھی سرزد نہ ہو۔ رمضان شروع ہوتے ہی فیس بک کے کور فوٹو پر واضح پیغام چسپاں کر دیا کہ ”مجھے دعوتِ افطاری سے پیار ہے“۔ گو کہ کامل علم تھا کہ فیس بک پر ہمارے ساتھ ایڈ شدہ لوگ بھی ہمارے جیسے ہی کمینے ہیں اور دوسروں کی جانب سے ہی دعوتِ افطاری کے انتظار میں ہیں، لیکن پھر بھی ہمت تو نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ڈھٹائی میں گہرائی کی حد سے بھی گزر کر دھنس جانا چاہیے۔
رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہوتا ہے، مگر رحمت کے عشرے میں ہم پر دعوتِ افطاری جیسی کوئی رحمت نازل نہ ہو سکی، شاید ہمارے نصیب میں نہ لکھا تھا لیکن ہم پھر بھی پرامید تھے کیونکہ زیادہ تر افطاری کی دعوتوں کا رجحان دوسرے عشرے کے دو تین روزے گزرنے کے بعد زور پکڑتا ہے۔ خیر، بخشش والے عشرے میں وہ باسعادت گھڑی آ گئی جس میں ہمیں ایک عزیز نے دعوتِ افطاری کا پیغام دیا۔ ایک لمحے کو ہم نے سوچا کہ فورا قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ روایتی طریقے سے مجبوریوں کی ایک فہرست بیان کریں اور پھر آخر میں ایسا ظاہر کریں کہ ہم مصروف تو بہت ہیں، البتہ ان پر احسانِ عظیم کرتے ہوئے مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالنے کی گنجائش پیدا کریں گے، مگر پھر کفرانِ نعمت کے خیال سے اگلے ہی لمحے ”ہاں“ کر دی۔
اتنی جلدی اپنی دعوت کے شرف قبولیت پا جانے پر وہ عزیز ایک لمحے کیلئے تو بھونچکا کر رہ گئے، لیکن پھر جلد ہی سنبھل گئے۔ غالب گمان ہے کہ انہیں ہماری شتابی سے یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہم پہلے ہی کسی دعوتِ افطاری کے انتظار میں بیٹھے تھے، اسلئے دعوت قبول کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ خیر انہوں نے روزہ کھلنے کے وقت سے گھنٹہ پہلے گھر سے نکل آنے کا کہہ دیا جسکی وجہ انکے گھر جا کر معلوم پڑی۔ چونکہ افطاری کے لوازمات اور سامان سے متعلق غیر یقینی کیفیت تھی، لہٰذا حفظ ماتقدم کے طور پر گھر سے نکلتے وقت لسی کے دو تین جاموں سے روزے کو ٹھنڈک اور تازگی بخش دی۔
ہمارے عزیز ختم درود والے مذہبی تھے اور افطاری پر مدعو ہونے والے ہمارے علاوہ تقریبا سبھی احباب ختم درود والے ہی تھے۔ گفتگو چلی تو برطانیہ سے تازہ تازہ پلٹنے والے صاحب نے مسلک کے اندر پھوٹ بیان کرنا شروع کی۔ انکے بقول وہاں نمازِ تراویح ساڑھے بارہ بجے ختم ہوتی ہے اور دعوت اسلامی والے ایک بجے، نیریاں شریف اور جھنگ شریف والے سوا دو اور ایک اور ٹولہ ساڑھے تین بجے جا کر روزہ بند کرتا ہے، افطاری بہرحال یہ سب اکٹھے ہی کرتے ہیں۔ اسکے بعد اتحادِ مسلک کا لازمی سیشن چلا۔ ہمیں چونکہ کچھ خاص دلچسپی نہ تھی، لہٰذا ہاں ہوں سے ہی کام چلایا۔ پھر لمبا چوڑا ختم شریف شروع کیا گیا اور ہم دوسروں کیطرح سر جھکا کر بیٹھ گئے اور سوچوں میں مستغرق ہو گئے۔ اب ہمارے شباب کو سامنے رکھ کر یہ نہ پوچھ بیٹھیے گا کہ وہ سوچیں کونسی تھیں۔ خیر، مکمل طور پر بھی غلط نہ سوچیے گا، کچھ اثر لسی کا بھی باقی تھا۔
عالم استغراق سے بیدار ہو کر سر اٹھایا تو ختم جاری تھا مگر افطاری کا سامان رکھا جا چکا تھا۔ کن اکھیوں سے میز پر جائزہ لیا تو فروٹ کا غلبہ تھا، پہلا خیال ذہن میں آیا کہ شاید ہمارے عزیز سو فیصدی ویجیٹیرین نہ ہوں۔ فکر مگر یہ لاحق ہوئی کہ کہیں اینٹی پکوڑا نظریات و خیالات کے حامل ہی نہ ہوں۔ اب میز پر جو پکوڑوں کی تلاش شروع ہوئی تو چار پانچ بار پورے ٹیبل کی سکروٹنی پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امید کی شمع تب روشن ہوئی جب اچانک فروٹ کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی ڈبیا میں چٹنی نظر آ گئی۔ اس سے سانس میں سانس آئی اور دل کو سکون اور حوصلہ ہو گیا کہ پکوڑے یا ان سے ملتی جلتی کوئی چیز میز پر تو نہیں، البتہ ارد گرد ضرور موجود ہو گی۔
ختم شریف سے پہلے ہمارے عزیز نے سب کو بتا دیا تھا کہ قریبی مسجد والے ان کے مفتی صاحب سے ایک منٹ پہلے روزہ افطار کرواتے ہیں اور شہر بھر میں جن مفتی صاحب کے کیلنڈر کو وہ فالو کرتے ہیں، وہی کیلنڈر مستند ہے، لہٰذا ایک منٹ صبر بھی کرنا ہو گا۔ لمبے چوڑے ختم شریف کے بعد دعا شروع ہوئی تو دعا والے صاحب نے حضرت آدمؑ سے لیکر اپنے بچوں تک کا تمام شجرہ گنوا کر بخشش کی دعا کی۔ ہم نے دعا کیلئے ہاتھ تقریبا گود میں ہی رکھے تھے، لہٰذا بازو تھکاوٹ سے محفوظ رہے۔
افطاری کا سائرن بجا تو اب مکمل طور پر روزہ افطار کروانے کا اختیار ہمارے میزبان کے ہاتھ میں تھا کہ ان کا ایک منٹ گزرے، چاہے آدھے گھنٹے میں گزرے، اور وہ روزے کی افطاری کا اعلان کریں۔ خیر انکا ایک منٹ جلد دو تین منٹوں میں ہی گزر گیا اور انہوں نے ٹوٹ پڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پکوڑے بدستور غائب تھے۔ روح افزا کی ”روح“ کی بجائے جام شیریں میں ”شیریں“ کیوجہ سے ہمیں جامِ شیریں زیادہ ٹھرکیانہ ہونے کیوجہ سے پسند ہے۔ یہ لطیف نکتہ ہے، گہرائی سے غور کرنے پر سمجھ آئے گا۔ ہمارے میزبان نے بھی جام شیریں ہی گھول رکھا تھا۔
روزے کو قوت اور فرحت بخشنے کیلئے ہم نے ایک تو اپنی سست طبیعت کے باعث لنچ کافی لیٹ کیا تھا اور پھر لنچ اچھا خاصا کر لیا تھا، لہٰذا جامِ شیریں کا آدھا گلاس لینے کے بعد ہم نے آموں کو چوسنے کے انداز میں آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ کچھ دیر میں احساس ہوا کہ کہیں ہماری سپیڈ کو تاڑ کر ہمارے روزے پر ہی شکوک و شبہات قائم نہ کر لئے جائیں، لہٰذا خراماں خراماں افطاری کی بجائے تھوڑی سی رفتار تیز کی۔ فروٹ چاٹ غضب کی تھی، اسکے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی سلیقے سے تیار کی گئی تھیں لیکن اتنے میں کسی گمنام گوشے سے اچانک کم بخت پکوڑے، سموسے اور کباب وغیرہ سامنے آ گئے یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لائے گئے اور ہم نے باقاعدہ حملہ داغ دیا۔
محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے تھے مگر ہم نے اس وقت جتنے حملے کیے، ان میں سے کم از کم پینتیس تو ہمیں یاد ہیں، باقی کا علم نہیں۔ چونکہ ہم رفتار وغیرہ کے احساس سے عاری ہو چکے تھے اور بس جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے میں ہی لہو گرم کرنا ذہن میں تھا، لہٰذا اردگرد سے کلی طور پر بے خبر تھے۔ اتنا معلوم رہا کہ ہمارے حملوں کے دوران روٹی نماز سے پہلے کھانا کھانے یا نماز پڑھ کر کھانا کھانے کے پیچیدہ نکتے پر باقاعدہ مناظرہ ہوا اور نتیجہ ”پہلے نماز، پھر کھانا“ کی صورت میں سامنے آیا۔
گیٹ سے باہر نکل کر قریبی مسجد کیطرف ہم بڑھے تو میزبان نے بتایا کہ وہ بدعقیدہ و بدمذہب لوگوں کی مسجد ہے اور کچھ دور ”صحیح العقیدہ“ مسجد میں ہمیں لے جایا گیا۔ امام صاحب کے شین قاف عین وغیرہ زبردست تھے۔ کافی لمبے عرصے بعد مسجد میں جانا ہوا تھا، نماز بھی مغرب کی تھی اور ہم آخری رکعت میں پہنچے۔ اب دو رہ جانے والی رکعتیں ساتھ ملانے میں یہ مسئلہ ہوا کہ آیا دونوں میں التحیات کیلئے بیٹھنا ہے یا ایک ہی بار دونوں پڑھ کر بیٹھنا ہے۔ اسی الجھن میں ایک رکعت پڑھ کر دو تین بار اٹھے، پھر بیٹھے اور آخر میں بچپن میں قاری صاحب کی بتائی گئی تکنیک زہن میں آئی کہ جب جماعت سے کچھ رکعتیں رہ جائیں تو انہیں الٹ طور پر ساتھ ملایا جاتا ہے، لہٰذا ہم التحیات میں بیٹھ گئے۔
امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد کچھ لوگ ہمارے سر پر ٹوپی نہ ہونے پر گھورتے پائے گئے۔ پھر ہماری ہونٹ اور زبان دونوں خاموش تھے، اس پر بھی گھورا جانے لگا تو ہم نے کشش ثقل اور دفع کی قوت (repulsion) کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ہونٹوں کو مخالف سمت میں ہلانا شروع کر دیا۔ فرض کے بعد والی نماز میں بھی ایک دو بار رکعتیں بھولے، شنید ہے کہ دو سنتیں اور تین نفل پڑھے تھے۔ اس سے پہلے کہ کوئی ہم تک ہماری نماز سیدھی کرانے کیلئے پہنچتا، ہم نے جلد از جلد تین سیکنڈ کیلئے ہاتھ اٹھائے، جسے دعا کرنا کہا جاتا ہے، اور مسجد سے باہر آ کر سکون کا سانس لیا۔
ڈنر پر احباب بتا رہے تھے کہ کیسے فلاں فلاں حاجی صاحب، قاضی صاحب، چوہدری صاحب نے مساجد اور مدرسوں کے نام پر کئی کئی ایکڑ پلاٹ الاٹ کروائے اور پھر یا تو مسجد کبھی بنی ہی نہیں، یا پھر ایک کونے پر چھوٹی سی مسجد بنی اور دیگر رقبے پر کوٹھیاں اور پلازے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے جلدی جلدی بریانی کی ایک پلیٹ زہرمار کی اور گفتگو جاری ہی تھی کہ میزبان صاحب کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کیسے ہم دعوتِ افطاری کیوجہ سے انکے منوں ٹنوں احسان تلے دب چکے ہیں۔ پھر اجازت لی اور واپس آ گئے۔ یوں دعوتِ افطاری کا اختتام ہوا۔

نوٹ: سفرنامہ لکھنے کیلئے سفر کرنا لازم نہیں ہوتا، ایسے ہی دعوتِ افطاری کا احوال لکھنے کیلئے افطاری کی کہیں سے دعوت ملنا بھی ضروری نہیں۔

Thursday, 16 June 2016

عورت ایک انسان؟

گزشتہ تین ہفتوں میں تین لڑکیوں کو زندہ جلا دیا گیا، جن میں سے دو لڑکیوں کو لاہور اور قصور اس ایک ہفتے میں جلایا گیا، جبکہ ملتان میں غیرت کے نام پر باپ نے بیٹی، داماد اور سمدھی کو گولی مار دی۔ اسکے علاوہ لیہ میں چائے بنانے میں دیر کرنے پر خاوند نے بیوی کو قتل کیا اور لاہور میں ہی ۲۳ سالہ مسیحی نوجوان نے شادی اپنی مرضی سے کرنے پر بضد اپنی سوئی ہوئی بہن کے سر پر ڈنڈا مار کر ہلاک کر دیا ۔ جیو نیوز کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۵ء میں غیرت کے نام پر ۱ ہزار ۹۶ خواتین کو قتل کیا گیا اور خواتین کو جلانے کے ۱۴۴ واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ۲۰۱۴ء میں ۱۵۳ خواتین کو آگ یا تیزاب سے جلایا گیا۔ یہ اعداد و شمار وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے اور کسی طرح مین سٹریم میڈیا پر آ گئے، حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہے۔
یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جو خواتین کے حوالے سے سماجی پسماندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، لڑکیوں کو جلانے اور تیزاب پھینکنے وغیرہ کے واقعات میں مردانہ بالادستی اور خواتین کو کمتر مخلوق سمجھتے ہوئے قوت اور برتری کے زعم کے اظہار اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی ذہنیت مشترک ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ان کے لئے بھی طمانچہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ عورت کو سارے حقوق دے بیٹھا ہے اور مزید کسی حق کا مطالبہ مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ انسانی حقوق ”دے“ یا ”دلوا“ کر احسان نہیں کیا جاتا بلکہ کسی بھی انسانی معاشرے میں پیدا ہونے والا ہر انسان پیدا ہوتے ہی ان کا حق دار ہو جاتا ہے۔ انسانوں کا آزاد زندگی گزارنا اس وقت بھی اتنا ہی حق تھا جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا جتنا آج ہے۔
بہت سی غلط فہمیوں کے علاوہ خواتین کے استحصال کے وجود کو ہی تسلیم نہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عورت مرد کیلئے نعمت ہے، عورت مرد کی زینت ہے، عورت مرد کی غیرت ہے، اس قسم کے بظاہر خوشنما جملے عورت کے مقام کو طے کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے گھناؤنی سوچ عورت کے اپنے وجود کو تسلیم نہ کرنے اور اسے مرد کے حوالے سے شناخت دینے کی ہوتی ہے۔ عورت مرد کی زینت، غیرت، نعمت، عزت وغیرہ کے حوالے سے پہچانے جانے کی بجائے اپنا آزاد وجود رکھتی ہے جیسا کوئی بھی مرد رکھتا ہے۔ عورت کا کسی بھی حوالے سے کردار اور مقام تسلیم کرنے سے پہلے اسکا آزاد اور مکمل وجود تسلیم کرنا آتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی کی غالب اکثریت غیرت کے تصورات اور خاندانی نظام کی فرسودہ اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے اور خواتین پر تشدد کے دیگر واقعات میں ذمہ دار بھی ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کو ہی ٹھہراتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے میں اپنی مرضی شامل کروانے کیلئے کوشش ہی کیوں کی، بلکہ بہت سوں کے نزدیک تو اس پر لڑکیوں کی جان لینا جرم ہی نہیں بلکہ فخر کا باعث ہوتا ہے۔
خواتین پر ظلم پر زبانی کلامی افسوس اور غیرت اور خاندانی نظام کی استحصالی اقدار کی مذمت نہ کرنا یا انہیں درست ماننا کھلی منافقت ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا باعث بننے والی خاندانی نظام کی اقدار وہ ہیں جن میں خاندان کی عزت اور غیرت عورت کی ٹانگوں کے درمیان فرج اور پردۂ بکارت میں رکھ دی جاتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل کرکے غیرت کا مظاہرہ کرنے والے اور ان کا دفاع کرنے والے دماغ کی بجائے عضو تناسل سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر لڑکی اپنی مرضی سے کسی کیساتھ ازدواجی تعلق قائم کر لے تو خاندان کی غیرت پر دھبہ شمار ہوتا ہے اور اگر لڑکی کی مرضی کے بغیر اسکا خاندان نکاح کی بیڑیاں پہنا کر پوری زندگی ریپ کیلئے کسی مرد کے حوالے کر دے تو یہ عین ”خاندانی“ ہونے کی نشانی شمار ہوتی ہے۔
پسند کی شادی یا لو میرج اور محبت کے فطری عمل کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنا کوئی گالی نہیں اور نہ ہی شرم کی بات ہے بلکہ شادی ہوتی ہی رضامندی اور پسند پر ہے، زبردستی یا دباؤ پر ازدواجی رشتے میں جنسی تعلق شادی نہیں بلکہ ریپ ہوتا ہے۔ شادی کا مطلب خوشی ہوتا ہے، جبر نہیں۔ باہمی محبت فطری جذبہ ہے جو رشتوں کی بنیادوں کو مضبوط بناتا ہے، جبری تعلق میں ازدواجی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، مگر اعتماد، خود سپردگی، چاہت، احترام، قلبی التفات اور رشتے کی مٹھاس تعلق میں پیدا نہیں ہو سکتی۔
آدھی آبادی کو سماج میں تخلیقی عمل سے دور رکھ کر، پابندیاں لگا کر اور قید کر کے کسی بھی معاشرے میں مثبت نتائج برآمد نہیں کیے جا سکتے۔ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ماہرین بشریات کے نزدیک زراعت کی دریافت، دستکاری اور اس میں جدت لانے اور لباس کی ترقی یافتہ شکل کی تیاری کا سہرا خواتین کے سر جاتا ہے۔ مرد جب شکار کرنے جایا کرتے تھے تو خواتین گھاس پھونس اکٹھا کر کے اس سے بھی خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتیں اور یوں زراعت کی بنیاد پڑی۔ یہ تاریخ انسانی کی وہ عظیم دریافتیں ہیں جنہوں نے انسانی سماج کو نئی بلندیوں اور عظمتوں پر پہنچایا۔
عورت پہلے انسان ہوتی ہے اور بعد میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی یا کسی رشتے کے حوالے سے اسکی پہچان ہوتی ہے۔ جنہیں عورت کو انسان سمجھنے کی تمیز نہیں ہوتی، وہ عورت کے حوالے سے دیگر رشتوں میں کیسے تمیز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ شادی کا مطلب آزاد انسانوں کے تعلق کی بجائے ملکیت یا جنسی کھلونے یا کام کرنے والا آلہ سمجھتے ہیں، انکے لئے جیتی جاگتی انسان عورت کی بجائے کام کرنے کیلئے ملازم اور جنسی روبوٹس خریدنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
عورت کے تحفظ کیساتھ معاشی آزادی بہت اہم ہے۔ پدرانہ معاشرہ ایک محفوظ، مضبوط اور اپنے سہارے پر کھڑی عورت سے کافی خوفزدہ رہتا ہے اور طعن و تشنیع کے ذریعے زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے پہلے دوسری عورتوں کو عبرت پکڑتے ہوئے سو بار سوچنا پڑے۔ ایسے معاشروں میں ایک آزاد انسان کیطرح جینے والی عورت ڈراؤنا خواب ہوتی ہے کیونکہ اس پر آسانی سے مرضی مسلط کرنے کی خواہش اور سوچ سے متعلق عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ پدرانہ معاشرہ عورت کیلئے ایسا کردار چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خواہشات اور احساسات کا گلا گھونٹتے ہوئے مردانہ بالادستی کے متعین کئے گئے راستے پر ہی چلے۔
ہمارے معاشرے میں بھی ورکنگ وومن اور تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کے بارے میں ”ہاتھ سے نکل جائے گی“، ”قابو میں نہیں آئے گی“ وغیرہ جیسے تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان تصورات کا مقصد عورتوں کو صرف اور صرف ”اپنی مرضی“ پر چلانا ہی ہوتا ہے۔ اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے خواتین کو تعلیم اور ہنر سکھانے اور مواقع فراہم کرنے کے علاوہ اجرتی مساوات انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ معاشی تحفظ کیساتھ اپنی زندگی کے فیصلوں کیلئے کسی سہارے کے تابع نہ ہوں۔

خواتین کی ان کے حقوق سے آگاہی اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ انہیں اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ انکے لئے جدوجہد کریں، منظم ہو کر حقوق اور مساوات کی تحریکوں کا حصہ بنیں اور معاشرتی سطح پر پائے جانے والے جنسی تضادات اور گھٹن کے خاتمے کی طرف بڑھیں۔ آزاد اور بااختیار عورت کے بغیر کسی بھی آزاد انسانی سماج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ترقی پسند سماج کیلئے خواتین پر ظلم، جبر اور استحصال کے افسوسناک حالات و واقعات اور جنسی تعصبات و تضادات کو پیچھے چھوڑنا انتہائی ضروری ہے۔

Sunday, 5 June 2016

مطالعۂ شبِ امتحان


روم میں مارشل لاء سے بھی کڑی ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا تھا۔ کسی کو کھجلی کی بھی اجازت نہ تھی کہ اس سے شور پیدا ہوتا ہے اور روم کی خاموشی اور سکون میں خلل پڑتا ہے۔ اکمل جو کامیڈی فلموں اور شوز کا نشئی تھا، اسے سختی سے ہدایت تھی کہ پیٹ دوہرا کر دینے والے پنچ پر بھی صرف بلا آواز مسکرانے پر اکتفا کرے گا۔ سیل فونز کو سائلنٹ موڈ سے ہٹانے پر پابندی اور کالز، روم سے باہر جا کر سننے پر احکامات نافذ ہو چکے تھے۔ میوزک سن کر جوش سے جھومنے کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اختر جو ان دنوں تازہ تازہ یوٹیوب کھلنے پر اسکی تیز رفتار سے میوزک سے لطف اندوز ہوئے جا رہا تھا، محض بائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر ہی موسیقی کا ساتھ دے سکتا تھا۔
چے صاحب کا صبح پیپر تھا اور انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد شبِ امتحان کا چاند نظر آتے ہی یہ سب اقدامات اور احکامات جاری فرما دیے۔ گو کہ باقی روم میٹس کے پرچے نہیں تھے کیونکہ وہ الگ الگ ڈیپارٹمنٹس سے تھے۔ چے صاحب کی خاصیت تھی کہ مخلوط ڈیپارٹمنٹس سے نابغے چن چن کر اپنے روم میں انہوں نے جمع کر رکھے تھے۔ یہ اقدامات ان تمام نابغوں کے درمیان بقائے باہمی کے سمجھوتے اور معاہدے میں شامل تھے جنکی پابندی رضاکارانہ طور پر کی جاتی تھی۔ جب بھی کسی کا پیپر آتا تو وہ روم کا کنٹرول سنبھال لیتا اور صوابدیدی اختیارات اسکے بائیں ہاتھ پر ہوتے۔ دیگر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایگزامینیشن ہال میں اترنے کیلئے اسکے پٹھے مضبوط کریں۔
ہاسٹل بھر سے بھانت بھانت کے ماہرین مضمون قسم کے سٹوڈنٹس پکڑ کر لائے گئے۔ بال پوائنٹس کا پورا ڈبہ میز پر موجود، پیپر شیٹس کی کوئی کمی نہیں، بھانت بھانت کے solution manual، ہینڈ آؤٹس، نوٹس اور ان سب کے درمیان چے صاحب اک شان کیساتھ رونق افروز گہرے مطالعے میں مصروف تھے۔
جب مختلف قسم کے ماہرین سے چے صاحب سمجھ چکے اور کچھ کانسیپٹس کا انکی کھوپڑی کیطرف بہاؤ ہوا تو کچھ ہی دیر بعد انکی سمجھنے کی صلاحیت میں موجود توانائی کی مقدار میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ آصف نے جھٹ سے خشک میوہ جات اور چینی پیش کی۔ چے صاحب کا عقیدہ تھا کہ چینی رٹے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کرتی ہے۔ ویسے بھی وہ شبِ امتحان شریف میں دماغ میں اتنی دیر تک ہی چیزیں بٹھانے کی کوشش کرتے کہ امتحانی ہال سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تک وہ دماغ میں موجود رہیں۔
رات اتنی گہری نہیں ہوئی تھی کہ اچانک چے صاحب کو خیال آیا کہ انہوں نے تو ٹیکسٹ بک ابھی تک خریدی ہی نہیں تھی۔ اس وقت کسی سے ملنا بھی محال تھا کیونکہ سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ بھاگ دوڑ ہوئی اور ایک کھلی ہوئی بک شاپ سے اکمل کتاب پکڑ کر لے آیا اور چے صاحب دوبارہ سے مستغرق ہو گئے۔ آصف اپنے خراٹوں کو میوٹ پر لگا کر سو گیا اور باقی روم میٹس جن میں لیٹ نائٹ جاگنے کے عادی بھی تھے، وہ بھی محو استراحت ہو گئے کیونکہ عالمِ تنہائی کا پہر شروع ہونے والا تھا۔
صبح صادق کے وقت شبھ کامناؤں کا مرحلہ آیا جس میں چے صاحب نے گھر فون کر کے اماں اور ابا دونوں سے فردا فردا دعائیں وصول کیں۔ حفظ ماتقدم کے طور پر یہ بھی بتا دیا کہ تیاری تو بہت اعلیٰ ہے لیکن ”وقت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا“۔ ایگزامینیشن ہال کے دروازے تک روم میٹس باقاعدہ چھوڑنے آئے، یوں پہلی شبِ امتحان شریف کا اختتام ہوا۔


اور ایگزامینیشن ہال میں سارا وقت چے صاحب اسی فکر میں غلطاں رہے کہ چند گھنٹے کیلئے ٹیکسٹ بک خریدنے پر پیسے کاہے کو ضائع کیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, 29 May 2016

ٹنڈ شریف


ہمارے ہاں آج کل شریفوں کا راج ہے، کسی دور میں شرافت کو جانچ پرکھ کر کسی شے، علاقے یا جاندار کو شریف کہا جاتا تھا مثلا یہ کہ جس جگہ چند نیک لوگ یا اللہ والے بستے ہوں، اس بستی کیساتھ شریف کا لاحقہ لگا دیا جاتا لیکن خاکی و دیگر رنگ و روپ کے شرفاء کے آپس میں ٹکراؤ اور شکریے شکریے کے شور اور ہاہاکار سے کافی پہلے ہی شریف کی اصطلاح محض شریفوں کیلئے نہیں رہی۔ اسکا معنیٰ و مفہوم وسیع ہو چکا ہے۔
اتہاس گواہ ہے کہ اپنے اپنے شریفوں کے شکریے پر تو کاپی رائٹس کے دعوے کئے گئے لیکن شریف کی اصطلاح پر آج تک کسی نے کاپی رائٹ کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی وجہ سے یہ اصطلاح مخصوص نہیں رہی اور جہاں جی چاہے استعمال کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے تو حد ادب پار کر کے محاورہ اختراع کیا کہ شریف تو خر (محاورے والا معروف نام کافی غیر پارلیمانی ہے) بھی ہوتا ہے۔ غالب گمان ہے کہ فخر سے شریف کی اصطلاح کو اس حد تک بگاڑنے والے وہی ہوں گے جو خر کے گوشت کو مرغوب سمجھ کر نوش کرتے ہوں گے۔
تمہید میں شریف کی مکمل وضاحت عنوان میں ٹنڈ کیساتھ شریف لگانے کے مسئلہ کے ضمن میں کی گئی تاکہ سند رہے اور تمام اعتراضات رفع ہو جائیں۔ اتنی وضاحت کے بعد بھی کسی کا اعتراض باقی رہے تو وہ خواجہ آصف صاحب کو یاد کرے اور ہمیں ”ٹنڈ شریف“ استعمال کرنے سے روک کر دکھائے۔ اگر آپ بھی ایک عدد ٹنڈ کے حامل ہیں، تو ذرا اسے تھام کر رکھیے، اب ہم شریف سے آگے ٹنڈ کیطرف بڑھتے ہیں۔
ویسے تو ہمارے ہاں چغلی و نیم چغلی میٹنگز میں سارا سال ایسی سائنسی بحثیں اور تجربات جاری رہتے ہیں جو دنیا کے کسی سائنسی جرنل میں شائع نہیں ہوتے یا کسی تحقیق سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ نسل در نسل محفوظ کر کے منتقل کیے جاتے ہیں۔ کوئی بیمار ہو جائے تو اسکے سرہانے بالکل مفت نادر مشورے یا بیماری کی نوعیت، علامات و وجوہات پر پیچدہ بحثیں وغیرہ اور ٹوٹکوں کی صورت میں تجربات، یہ سب تقریبا روز مرہ کی معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں۔
گرمیاں پڑتے ہی یہ سائنسی بحث زوروں پر ہوتی ہے کہ سر منڈوانا گرمیوں میں مفید ہوتا ہے یا سردیوں میں اور یہ کھوپڑی کیلئے مضر کس موسم میں ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ سر منڈوانے کے مخالفین کا دعویٰ ہوتا ہے کہ بال گرمیوں میں سر کو لو سے اور سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ گرمیوں میں اس سے سر کو ہوا لگتی ہے اور فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک اور رائے میں گرمیوں میں مضر جبکہ سردیوں میں مفید ہے۔ نازک مزاج اور سر منڈوانے سے متعلق معاشرتی رویوں اور القابات سے خائف لوگ البتہ کسی بھی موسم میں اس کا لطف اٹھانے سے کوسوں دور رہتے ہیں۔
سر منڈوانے سے متعلق کٹر خیالات رکھنے والے والدین البتہ اس بحث میں پڑتے ہی نہیں ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہی بچوں پر سر کو بالوں سے صاف کروانے کے لئے دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دباؤ شدید ہونے پر بچوں کو نائی کے پاس سر کتروانے کیلئے جانا ہی پڑتا ہے۔ بعض والدین تو مشین منگوا کر گھر میں ہی آلو کیطرح کترتے ہوئے رسم کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ صبح جو بچہ صحیح سلامت دکان سے لیز لینے آیا ہوتا ہے، وہ شام کو گھر سے جوس لینے اس حالت میں آتا ہے کہ اس کے بال گدھے کے سر سے سینگوں کیطرح غائب ہوتے ہیں۔
اس سلسے میں صنفی تضاد البتہ بہت گہرا پایا جاتا ہے۔ ٹنڈ کروانے کیلئے دباؤ اور جبر کا نشانہ لڑکوں کو ہی بننا پڑتا ہے۔ بعض خاندانوں میں اس تضاد کو مٹانے کیلئے چھوٹی بچیوں کے سر بھی کتر دیے جاتے ہیں جسکی وجہ سے فرق کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے اور اگر لباس کا بھی فرق نہ رہے تو ناممکن ہو جاتی ہے۔ واللہ اس معاملے میرے کسی بھی صنفی برابری جیسے ارادے نہیں اور نہ ہی فیمنسٹوں کے غضب کا نشانہ بننا چاہتا ہوں یا میننسٹوں کے حوصلے بڑھانا چاہتا ہوں کہ وہ بیچ اس مسئلہ کے صنفی برابری کیلئے کوئی تحریک پیدا کریں۔ بعض باشعور خواتین کو البتہ اس صنفی امتیاز اور محرومی کا رونا روتے دیکھا گیا جو سمجھتی ہیں کہ ٹنڈ ایک ایسی مفید نعمت ہے کہ انہیں بھی بال دوبارہ جلدی اگ آنے کیساتھ یہ سہولت حاصل ہونی چاہیے۔
بعض لوگ کسی موسم کو دیکھے بغیر سدا بہار بالوں کا بوجھ سر سے اتار پھینکنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان میں بالوں کے سٹائل سے اکتائے ہوئے ڈھلتی عمر کے افراد یا بڑے بزرک ہوتے ہیں یا پھر وہ جو ہمیشہ ہی سر پر بالوں سے خائف رہتے ہیں۔ شیمپو کا خرچ بچانے والے یا پھر جوؤں کی بستیوں کی بستیاں اجاڑنے اور اکھاڑ پھینکنے کے خواہش مند بھی بے دردی سے بالوں کو کھیت کرنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ٹنڈ کا ایسا نشہ ہوتا ہے کہ ہر دو تین مہینے بعد سر کتروائے بغیر انہیں زندگی سے بیزاریت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جو لوگ بال سنوارنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، انکی ترجیح بھی ٹنڈ ہی ہوتی ہے۔
ٹنڈ کروانے سے نائی کی فیس، معاوضہ یا ہدیہ بھی ہفتوں کیلئے بچ جاتا ہے۔ اس سے جو سر پر پلاٹ خالی ہوتا ہے، اسکے بیشمار فوائد گنوائے جاتے ہیں جنہیں محض ٹنڈ کروانے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چمکتی ٹنڈ روشنی کو منعکس کرنے یا کسی دوسرے زاویے پر منعطف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر زیادہ شفاف ہو تو شیشہ نہ ہونے کی صورت میں اسے دوسرے لوگ بال سنوارنے کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شفاف ٹنڈ پر ابن الہیثم اور دیگر سائنسدانوں کے روشنی کے انعکاس و انعطاف کے وہ تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں جو مشنور (prism) یا شفاف اجسام کیلئے پیش کئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ جہاں بالوں یا زلفوں کا ایک حسن ہوتا ہے، وہیں ٹنڈ بھی اپنا الگ حسن رکھتی ہے۔
کشور سلطانہ صاحبہ نے تحقیق کے بعد ٹنڈ پر چند فوائد لکھے۔ انکے مطابق دھوپ میں اگر ٹنڈ گرم ہو جائے تو اس پر روٹیاں بھی پک سکتی ہیں اور ہوا زیادہ تیز چلے تو بالوں کا سٹائل خراب بالکل نہیں ہو سکتا۔ بلیک بورڈ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو حساب کے سوال ٹنڈ پر ہی کرائے جا سکتے ہیں۔ فیس واش پورے سر پر استعمال ہو سکتا ہے۔ بقول کشور صاحبہ کے ٹنڈ کو لشکا کر اس سے دھوپ میں آگ بھی جلائی جا سکتی ہے اور اگر ٹنڈیں زیادہ ہوں تو چھوٹے چھوٹے جگنوؤں کے چمکنے کا منظر پیش کریں گی۔ اسکے علاوہ آرٹسٹ لوگ ٹنڈ پر ہی رنگ لگا کر رنگ مکس کر سکتے ہیں کہ یہ تھالی کا کام بھی دے سکتی ہے۔ ٹنڈ پر مزید علمی و فکری تحقیق سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کیلئے ٹویٹر پر #ٹنڈکےفوائد سرچ کریں۔
متاثرینِ ٹنڈ کیلئے جو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، وہ ٹکلا، روڈا، روڈی (مؤنث)، ٹکلا، گنجا وغیرہ ہیں اور ٹنڈ کو روڈ، گراؤنڈ، گنج، رن وے، تربوز وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک ٹنڈ کا لفظ سب سے منفرد ہے بلکہ جو بھی اصطلاح استعمال کی جائے، ذہن میں ٹنڈ کا لفظ ہی ابھرتا ہے۔ گنجے کا لفظ البتہ ان کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جنکے کسی بیماری یا کمزوری کے باعث بال جھڑ جاتے ہیں، لیکن ٹنڈ کرانے والا ہنسی خوشی اور برضا و رغبت یا اگر آزاد مرضی کا مالک یا حق نہ رکھتا ہو تو کسی کے دباؤ میں بالوں کی قربانی دیتا ہے۔
اردو اور پنجابی میں ٹنڈ پر محاورے میں پائی جاتے ہیں مثلا ٹنڈ پر اولے پڑنے کے خطرے سے متعلق مشہور محاورہ ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ اسکے علاوہ ٹنڈ کا مزا بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے ”جو مزہ ٹنڈ وچ اے، نہ شہر وچ اے نہ پنڈ وچ اے“۔ ایک اور محاورہ جو بچے لہک لہک کر گاتے بھی ہیں ”روڈی ٹنڈ قصائیاں دی، ساری مستی نائیاں دی“۔ اس محاورے کو معنیٰ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خاصا نسل پرستانہ ہے لیکن یہ اپنے اصل معنیٰ میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ جس نے ٹنڈ کرائی ہو، اسکے لئے بطور مزاح گایا یا بولا جاتا ہے کیونکہ نائی کی شرکت کے بغیر ٹنڈ کے ”جرم“ کا ارتکاب ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک قدیم رواج مجرموں کے سر مونڈ دینے کا بھی تھا، اسلئے کسی کی بے عزتی ہو جانے پر بھی یہ بولا جاتا ہے ”فلاں کی ٹنڈ ہو گئی“۔
کائنات میں بیشمار لطافتیں ہیں لیکن کسی ٹکلے کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے لطف کا شاید ہی کوئی نعم البدل ہو۔ کچھ لوگ ٹنڈ کروانے کے بعد اسے اپنی غیرت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کوئی ہاتھ بھی لگا دے تو انکے غیرت کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اور وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ اس معاملے میں جو ٹچی نہیں ہوتے، وہ جہاں اس لطف کی سہولت دوسروں کو دیتے ہیں، وہیں پر خود بھی اپنی تازہ ٹنڈ کا ”سواد“ حاصل کرتے ہیں۔ ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے کی کچھ حدود اور آداب البتہ ضرور ہوتے ہیں مثلا ہاتھ پھیرتے پھیرتے کھینچ کر چپیڑ مارنا تو کسی بھی مہذب انسان کے نزدیک بدتمیزی کے زمرے میں ہی آئے گا۔
زندگی میں ٹنڈ کروانے کی ایک بار ضرور کوشش کیجیے اور اگر نہیں کروا سکتے تو کسی ٹکلے کے سر پر ایک دو بار ہاتھ پھیرنے سے محروم نہ رہیے۔ مختصر سی زندگی میں ٹنڈ کروائے یا کسی کی ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے لطف اندوز ہوئے بغیر اس دنیا سے گزر جانے والوں کو اس نعمت سے لطف اندوز ہونے کیلئے زندگی دوبارہ نہیں ملتی اور نہ آج تک کسی کو ملی ہے۔ کسی کی مرضی کے بغیر ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے پرہیز، حدود اور ادب آداب کا خیال البتہ ضرور رکھیے ورنہ معاملہ غیرت کے نام پر قتل تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

Monday, 16 May 2016

بھونکتے کتے


یوں تو کتوں سے ہمارا تعلق وفادار دوست اور قدیم زمانے میں مخلص چوکیدار اور سونگھنے کی حس سے شکار میں ہماری مدد کرنے والے کی حیثیت سے قائم ہے، لیکن یہ  تو اعلیٰ صفات ہیں۔ جس وجہ سے کتے بدنام ہیں، وہ ان میں سے بعض کی بلاوجہ بھونکنے کی عادت ہے۔ اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ عادت کتوں نے انسانوں کیساتھ رہتے ہوئے اپنائی یا  بہت سے انسانوں میں بھی جو ایسی عادات پائی جاتی ہیں، وہ کتوں سے انہوں نے سیکھیں، مگر منسوب یہ کتوں سے ہی کی جاتی ہیں۔”بد سے بدنام برا “کے مصداق ان عادات کیوجہ سے لعن طعن بھی کتوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔
سب کتے بھونکنے والے کتوں کی عادات کے مالک نہیں ہوتے، واللہ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے کتوں سے معافی طلب کرنی چاہیے، مبادا وہ مائنڈ کر کے انسانوں میں پائی جانے والی ایسی خصلتوں کا کچا چٹھا کھول دیں۔ یہ انکی مہربانی ہے کہ بہت سے انسانوں کی ایسی فطرت کے باوجود انہوں نے بدنامی کا بوجھ اپنے سر ہی لیا ہوا ہے  اور کبھی انسانوں کو بدنام نہیں کیا یا اپنے حلقوں میں ”بھونکتے انسان“ جیسی کوئی گالی استعمال نہیں کی۔ اسی وجہ سے ہمیں آزادی حاصل ہے کہ ہم ”بھونکتے کتوں“ کی تشبیہہ کا استعمال کر سکیں اور اس آزادی کے بدلے سب کتوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انتہائی ضرورت کے وقت بھونکنے والے کتوں کو بلا ضرورت بھونکنے والوں سے علیحدہ تو سمجھا جانا چاہیے۔ 
بھونکنے والے کتے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، یعنی وہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ، بعض تو اونگھتے ہوئے لیٹے لیٹے ہی ایک لمبی سر میں بھونکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں باہمی تعاون انتہائی مثالی ہوتا ہے۔ ایک ساتھی کو بھونکتا دیکھ کر سب کورس میں بلا سوچے سمجھے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھونکنے کیلئے ویسے بھی کسی طور پر سوچنے سمجھنے کی ضرورت تو ہوتی نہیں۔ 
بھونکتے کتے کا مقابلہ بھی ایک دلچسپ شے ہے جو صرف اسی کی طرح بھونک کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھونکتے کتوں کی تاریخ میں ابھی تک اسکے علاوہ کوئی طریقہ دریافت نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان نہیں۔ انسانوں کی تاریخ کیلئے انسانی تاریخ استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اسکے وزن پر کتوں کی تاریخ کیلئے میں کتی تاریخ کی اصطلاح استعمال کرنا چاہوں گا۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ کتی تاریخ میں آج تک بھونکتے کتے کو کسی نے دلیل، مکالمہ یا منطق استعمال کرتے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی سنتے دیکھا گیا ہے۔ 
ایک بات جو سب بھونکتے کتوں  میں مشترک ہوتی ہے، وہ توجہ کا طالب ہونا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ بزعم خود  سمجھتے ہیں کہ انہیں توجہ محض اسی صورت میں ہی مل سکتی ہےجب وہ گلا پھاڑ کر بھونکنے لگیں۔ اسکو وہ اپنا ہنر اور فخر سمجھنے لگتے ہیں۔جب بھی انہیں توجہ مقصود ہو، وہ اپنی اس ”صلاحیت“ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔  آہستہ آہستہ بھونکنا انکی ایسی فطرت اور نشہ  بن جاتا ہے کہ انہیں بھونکے بغیر چین اور سکون نصیب نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس عادت کیلئے بھونکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہت سے کتے تو توجہ حاصل کرنے کیلئے اس قدر بھونکتے ہیں کہ انکی حالت پر رحم آنے لگتا ہے۔
بھونکتے کتوں کو اگر صرف یہ کہنے کیلئے بھی توجہ دی جائے کہ ”آپکے بھونکنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا“ تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید انکا بھونکنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسے کسی کتے کو یہ احساس نہیں دلایا جا سکتا کہ وہ بھونک کر ایک فضول کام کر رہا ہے۔ ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کتے کو مسلسل توجہ نہ ملنے کے بعد خود بخود یہ احساس ہونا شروع ہو جائے کہ اسکے بھونکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بھینس پر بین کے اثر کا گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے سائنسی آلات اتنے طاقتور نہیں کہ بین بجانے پر بھینس کے جھومنے کا مشاہدہ و مطالعہ کر سکیں لیکن یہ مصدقہ اور کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ بھونکتے کتے پر کسی دلیل کا اثر نہیں ہوتا، چاہے وہ دلیل کتنی ہی عالمانہ اور منطق و فلسفہ میں گوندھ کر تیار کی گئی ہو۔ 
کتوں کا آپس میں مقابلہ ہو یا بھونکتے کتے سے مقابلہ ہو، لوگ ہمیشہ تماشہ سمجھ کر ہی دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے کسی کتے یا بھونکتے کتے سے مقابلہ کرنے والے کا رتبہ، عزت اور شان بلند نہیں ہوتی۔ چونکہ بھونکتے کتے کا لیول بھونکنا ہی ہوتا ہے اور وہ اس سے آگے جا ہی نہیں سکتا، نہ ہی کچھ کر سکتا ہے، سو مقابلے کیلئے اس کے لیول پر ہی آنا پڑتا ہے۔ بقول سید عاطف علی اگرکوئی کتا راستے پہ بھونکنا شروع کر دے تو گاڑی کے شیشے چڑھا لیتے ہیں مقابلہ نہیں کرتے۔ کیونکے بھونکنے میں جیت ہمیشہ کتے کی ہی ہو گی۔
بعض لوگ کتے کو خاموش کرانے کیلئے پتھروں کا سہارا لینے کی بھی مشقت کرتے ہیں، لیکن اس ضمن میں بھی کتا یہی سمجھتا ہے کہ اس پر توجہ دی جا رہی ہے اور چونکہ وہ ہوتا ہی توجہ کا طالب ہے، لہٰذا مزید بھونکنا شروع کر دیتا ہے اور بھونکتے بھونکتے خود کو ہلکان کر کے اپنی جان ختم کر لے گا لیکن بھونکنا بند نہیں کرے گا۔ پتھر اچھالنے کی مشقت میں آپ ہلکان ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے کتے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ پڑ سکتا ہے۔انہیں انکی حالت پر چھوڑ دینا ہی انکے لئے بہتر ہوتا ہے۔ پنجابی زبان میں اسکے لئے ایک محاورہ ہے ”پونکدا رہو“۔ ایک اور محاورہ بھی اسی ضمن میں استعمال ہوتا ہے ”کتے پونکدے رہندے نیں، تے راہی لنگ جاندے نیں“۔
بعض بھونکتے کتے پیدائشی پاگل بھی ہوتے ہیں اور پاگل پن ہی انکے مسلسل بھونکنے کا محرک ہوتا ہے۔ ایسے کتوں پر عاطف علی رحم کرنے کا کہتے ہیں۔ انکے مطابق پاگل کتے پر کیا جانے والا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اسے اپنی طرٖف متوجہ کرلیں ورنہ وہ اپنے آپ کو ہی کاٹ کاٹ کر مر جائے گا۔ ایسے کتوں پر اگر فالتو وقت اور دل میں رحم کا جذبہ دونوں موجود ہوں تو ترس کھا کر لازمی توجہ دینی چاہیے۔

Saturday, 6 February 2016

سپر لیگ کا جنون

ادب، آرٹ، تھیٹر، سینما، ثقافتی تہوار، کھیل، انٹرٹینمنٹ، موسیقی اور رقص معاشرے کی مثبت تخلیقی سرگرمیاں ہوتے ہیں جن سے لوگ زندگی کے مصائب و مشکلات بھول کر روز مرہ کے تھکن سے بھرپور معمولات اور زندگی کیلئے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں لوگوں کو قریب لاتی ہیں اور بے پناہ مسرت سے مالا مال کرتی ہیں۔ برصغیر کا عمومی کلچر ثقافتی رنگینیوں سے بھرپور ہے جو پاکستان میں چند دہائیوں سے آمریتوں و نیم آمریتوں کے جبر، اسلامائزیشن کی متشدد مذہبیت، خوف اور دہشت کی فضا کیوجہ سے پاکستان میں ان تخلیقی و تفریحی رجحانات کو ماند پڑتا گیا۔ تفریح کا ذریعہ بم و بارود اور خون کی ہولی بنے اور ضیاء الحق، حمید گل، ملاں عمر، ممتاز قادری، حکیم اللہ محسود جیسے ہیروز تشکیل پانے لگے یا وہ جو انکے اور ان جیسے قاتلوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔
ایسی صورت میں جبکہ اجتماعی سطح پر پوری قوم ہی خوشیوں اور مسرتوں کو ترسی ہوئی تھی، پی ایس ایل کی صورت میں کافی عرصے بعد ایک مثبت چہرہ دنیا کے سامنے آنے کیوجہ سے روحانی مسرت، حقیقی خوشی اور جوش و جذبہ کافی عرصے بعد نظر آیا۔ یہ کرپشن، بیروزگاری، انتہاء پسندی، لاقانونیت، معاشرتی جبر اور دیگر مسائل سے نجات تو نہیں دلا سکتا لیکن ایسے ایونٹس اپنے آپ میں ڈوب کر مسائل کا سامنا کرنے، مایوسی سے نجات حاصل کرنے اور ان سے نجات کیلئے جدوجہد کرنے میں اعصاب کی مضبوطی، خوشیوں اور قومی مورال بلند کرنے کا ذریعہ ضرور بنتے ہیں۔
علمائے کرام نے جہاں بیشمار ثقافتی سرگرمیوں، ایجادات وغیرہ پر فتاویٰ جاری کر کے حرام قرار دیا، وہاں کرکٹ کو بھی جوا اور لہو و لعب کے زمرے میں حرام قرار دینے کے فتاویٰ موجود ہیں، لیکن کرکٹ کی ایک خاص بات ہے کہ پاکستانی قوم نے تاریخ میں کسی بھی موقع پر ان فتاویٰ کو سنجیدہ نہیں لیا۔ ٹی وی، ریڈیو وغیرہ پر فتاویٰ گو کہ مسترد ہو چکے ہیں، لیکن وہ ایک خاص عہد اور عرصے تک سنجیدہ لیے جاتے رہے ہیں۔ کرکٹ کے حوالے سے قوم علمائے کرام کے جھانسے میں کبھی بھی نہ آئی۔
بدقسمتی سے پی ایس ایل پاکستان میں منعقد نہ ہو سکی ورنہ اسکے مورال پر نتائج اور مسرتوں کو لامحدود طور پر بڑھایا جا سکتا تھا، لیکن دہشت کی فضاء ابھی باقی ہے جسکی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اسے ختم ہونا ہے تاکہ ملک کے اندر اس قسم کی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ ہر وہ اقدام جو دہشت کی روایات کی جگہ کسی تخلیقی رجحان کا اضافہ کرے اور ناامیدی کے سائے میں امید کی کرنیں روشن کرے، وہ ایک مثبت سرگرمی ہے اور اسکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مہمت قلندر

Saturday, 2 January 2016

پٹھان کوٹ حملہ

کسی محلے، گاؤں یا شہر میں جب دو برادریوں یا قبیلوں کی خاندانی لڑائی ہوتی ہے تو اس میں نفرت کی بنیاد پر بہت سے لوگ اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ لڑائی طول پکڑ جائے اور خون شامل ہو جائے تو نسل در نسل بھی چلتی ہے۔ پھر تعصب کی بنیادوں پر بہادری و شجاعت کی داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اور ہیروز وجود میں آتے ہیں جنکی عظمت کیساتھ ساتھ منافرانہ نقطۂ نظر سے مرتب کی گئی تاریخ کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جاتا ہے اور یوں نفرت کی بنیادوں کو نہ صرف پختہ بلکہ پروان بھی چڑھایا جاتا ہے۔ یہ سب جنون خاندانی تفاخر کے نام پر ہوتا ہے۔
اگر برادری یا قبیلے کا کوئی سوچنے سمجھنے والا نفرتوں اور دنگے فساد کے محرکات اور وجوہات پر سوچنا اور سوالات اٹھانا شروع کر دے تو پھر اسے خاموش کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ اپنے قبیلے کے لوگ مخالف قبیلے کے لوگوں سے ملنے اور کسی قسم کے تعلقات رکھنے کی کوشش بھی نہ کریں تاکہ کسی قسم کی باہمی قربت، قصے کہانیوں اور دشمنی کی روایات و نظریات پر شکوک و شبہات بھی پیدا نہ ہوں۔
پھر بھی اگر کوئی آدمی دشمنیوں سے تنگ آ کر مخالف کے صلح جو لوگوں کیطرف ہاتھ بڑھائے اور تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرے تو انکے بائیکاٹ، لعن طعن، خون سے غداری کے الزامات، برادری سے بے دخلی وغیرہ کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتی ہے لیکن آوازیں کچھ زیادہ ہو جائیں تو پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو باہمی امن سے مفادات وابستہ کر لیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو دبانے کیلئے پھر صلح جو اور دشمنی کے حامیوں کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ 
ہیروز، انکے وارث اور پوجنے والے اور وہ لوگ جنکے دشمنی سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں، وہ فسادیوں کو ہلہ شیری دیتے ہیں اور اپنے جڑے ہوئے مفادات کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف جنہوں نے دشمنی کے خاتمے سے مفادات وابستہ کئے ہوتے ہیں، وہ امن پسندوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
برادریوں اور قبیلوں میں دشمنیوں کا مکمل خاتمہ تبھی ہوتا ہے جب فساد  اور دشمنی کے حامی کمزور ہو جائیں اور امن کی کوششوں میں بھی مفادات وابستہ کرنے والوں کو نکال کر باہمی ملاپ کے ذریعے پرخلوص راستہ نکالا جائے۔ اس سے پھر جو مسلح دشمنی کیلئے رکھے جانے والے بچے کھچے جنگجو وغیرہ ہوتے ہیں، انکی تعداد بھی کم کر دی جاتی ہے اور انکو دشمنی بڑھانے اور مخالفین پر حملوں کی بجائے برادری کے کسی دوسرے خطرے سے دفاع تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ایسی کہانیاں ہمارے نیم فیوڈل معاشرے اور تاریخ میں بکھری پڑی ہیں۔ 
آج کا پٹھان کوٹ حملہ بھی کچھ ایسے ہی نفرتوں کے بیوپاریوں کی کارستانی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جا رہے ہیں، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اطراف کی انہی قوتوں کا امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے چھرا گھونپنے کا رویہ، رجحان اور تاریخ رہی ہے۔ جس سے ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ہر بار جیسے ہی ایک قدم آگے بڑھتا ہے، پچاس قدم پیچھے پھینکنے اور ملیامیٹ کرنے کیلئے امن مخالف قوتیں اور اس پار نیم جمہوری سویلین حکومتوں کی مخالف لابیاں سرگرم ہو جاتی ہیں۔
اب پھر وہی ہو گا، الزام تراشی اور جوابی الزامات کی شدید لہر چل پڑے گی۔ ریاستی سطح پر رابطوں کی بحالی کو ایک لمبا عرصہ درکار ہو گا اور یہ ناٹک پچھلی سات دہائیوں کیطرح مزید چند دہائیاں چلتے رہیں گے۔ اس وقت تک کہ جب تک دونوں جانب کی ”دفاعی“ اور متعصب قوتیں پرامن خطے اور یہاں پلتی ہوئی غربت، جہالت، پسماندگی جیسے بڑے دشمنوں کیخلاف لڑنے کے حامیوں کے مقابلے میں کمزور نہیں ہو جاتیں اور ان متعصب قوتوں میں امن کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی سکت اور قوت باقی رہتی ہے۔