Tuesday, 29 September 2020

کیا سارا فیمینزم ردی ہے؟

 

استعمار کا آزمودہ نسخہ رہا ہے کہ کسی قوم کو پہلے غیر مہذب، اجڈ، گنوار، جاہل اور وائلنٹ قرار دے دیا جائے جسکے بعد 'تہذیب' سکھانے کیلئے ہر قسم کی لوٹ مار، بربریت، قبضہ گیری اور حقوق سلب کرنے کا جواز نکل آتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دور میں شناخت کی سیاست اور ایکٹوزم میں بھی یہ تعصبات گھس آئے ہیں۔ حال میں فیمنسٹوں کی جانب سے ”تمام مرد کچرا/ ریپسٹ/ وائلنٹ وغیرہ ہیں“ کا نعرہ اور سوچ زیر بحث ہے۔ جب انسانوں کی آدھی آبادی پر مشتمل شناخت کو مطعون کرنے پر سوال ہوتا ہے تو فوری طور پر پینترا بدلا جاتا ہے کہ یہ نعرہ سارے مردوں کیخلاف نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے فیمنزم کے تنقیدی جائزے کے علاوہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے کہ کیا اسکی زد میں صرف مجرم سوچ یا کردار والے مرد ہی آتے ہیں اور اسکے جواز میں پیش کئے جانے والے دلائل جواز کیلئے کافی ہیں۔

اس قدر تو ہمیں بھی علم ہے کہ ایسے نعرے تمام مردوں کیخلاف نہیں ہیں۔ سامراجی امدادی اداروں اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور مردوں کے بغیر این جی اوز اور اشرافیہ میں ایک دوسرے کے کرتوتوں، جرائم اور استحصال کی پردہ پوشی کے بغیر ایلیٹ کلچر ایک دن نہیں چل سکتے۔کسی بھی نسلی، سیاسی، مذہبی گروہ کی فیمنسٹوں سے ان گروہوں کے مقدس مردہ و زندہ مردوں کے بارے میں پوچھیں تو زیادہ تر کے ہاں انکے لئے استثنائی گنجائش موجود ہو گی، بھلے کیسے ہی جرائم بالخصوص عورت دشمن جرائم میں ملوث ہوں۔ مختلف اقوام کی مقدس ہستیاں، مقدس کتب و عقائد، نسل پرستی،قومی تاریخ، اوہام، طبقاتی عصبیتیں انکی فیمنسٹوں کے ہاں بھی بالادست بیانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں عورتوں کے نام پر مزید پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مغربی فیمنزم، اسلامی فیمنزم، ہندوتوا فیمنزم چند ایسی مثالیں ہیں جو ان رجحانات سے لتھڑی ہوئی ہیں۔

کسی قوم یا شناخت کو مشکوک یا مجرم قرار دیا جائے تو اسکے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسکا اندازہ پاکستانیوں سے زیادہ کسے ہو سکتاہے۔ ہماری مزاحمتی آوازیں اور جدوجہد دنیا میں کوئی اثر نہیں رکھتی۔ ہماری جیلوں اور عقوبت خانوں میں کئی رائف بداوی بلکہ رائف سے کہیں زیادہ عظیم مزاحمتی کردار ادا کرنے والے قید ہیں یا قید و بند بھگت چکے ہیں لیکن انہیں کوئی جانتا نہیں کیونکہ پاکستانی قوم پر دہشتگرد قوم کا لیبل چسپاں ہے۔ شناخت پر فرد جرم سے اس شناخت کیخلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس رجحان کو حوصلہ افزاء جواز مل جاتا ہے۔ سب سے زیادہ نچلے اور کمزور طبقات کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جنکی آواز مختلف ہونے کے سبب پہلے ہی دبا دی گئی ہوتی ہے۔ مشعال کو شہید ہو کر سامنے لانا پڑتا ہے کہ پختونخواہ کی ایک چھوٹی یونیورسٹی میں بھی پراگریسو آواز موجود تھی۔ مشعال کے باپ کو بیٹے کی شہادت کے بعد کوریج ملتی ہے تو سامنے آتا ہے کہ ایک عام اور سادہ انسان کیسے نفیس اور ترقی پسند خیالات رکھتا ہے۔ مطیع اللہ جان اغواء ہوتا ہے تو اسکی کار بتاتی ہے کہ معاشی سختیوں میں بھی ایک صحافی کیسی جرأت دکھا رہا ہے۔ منظور پشتین کو ریاست سے ٹکرا جانا پڑتا ہے اور پھر معلوم پڑتا ہے کہ مٹی کے گھر کا باسی کس پائے کا ترقی پسند ہے۔

فیمینزم کا پراپیگنڈہ شد و مد سے پھیلایا جا رہا ہے کہ تمام مرد مشکوک یا مجرم ہیں جب تک کہ وہ بیگناہ ثابت نہ ہو جائیں۔ اسکے قانونی و عدالتی نظام پر منفی اثرات الگ ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ طاقتور طبقات کے مردوں کو فقط خوشنما لفاظی، چند نعروں اور بیانت کیوجہ سے اس کیٹیگری سے باہر نکلنے کی سہولت حاصل ہے۔ کئی ملکوں پر بم گرا کر مردوں، عورتوں، بچوں کو بھون ڈالنے والے اوباما اور ہلیری کلنٹن بھی فیمنسٹ ہیں۔یہ اتفاق نہیں کہ فیمینزم اور مجموعی طور پر پولیٹیکل کریکٹنیس کے فلٹر، شرائط اور معیار اصطلاحاتی اکیڈیمیا اور فیشن ایبل لفاظی والا مخصوص طبقہ ہی پار کرتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا وہ طبقہ زیادہ مہذب اور پرامن ہے اور وائلنس کا بہاؤ، منصوبہ بندی اور ڈھانچے عوامی ہیں یا ان نظریات اور ووک کلچر میں مسئلہ ہے جو عوام دشمن ہیں۔ سیاسی درستگی والے تسلیم نہیں کرتے لیکن انکے رجحانات عوام کیخلاف ہیں۔ میلانیا و ایوانکا ٹرمپ سے لیکر محمد بن سلمان تک خواتین کے حقوق کے نعرے لگا رہے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ یہ کھوکھلے نعرے ایسا ہتھیار ہیں جنکے ذریعے سفاک آمریت ذرا ماڈریٹ نظر آنے لگتی ہے اور عورتوں کی ایک پوری کھیپ کی حمایت مل جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک نامور پاکستانی فیمنسٹ نے میلانیا ٹرمپ سے ایوارڈ وصول کیا ہے۔

فیمینزم نے مردوں سے تعصب کیوجہ سے انہی اقدار اور ذرائع پر حملہ شروع کر دیا جو انسان کو فطرت کی سختیوں اور محدودیت سے آزادی دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی نے عورتوں کی آزادی میں فیمینزم سے کہیں زیادہ کردار ادا کیا ہے اور بلاشبہ اس میں سب سے زیادہ کاوشیں مردوں کی ہیں۔ سائنس جو تعصبات سے بلند ہو کر فطرت کے فہم کا علم ہے، وہ بدترین حملوں کی زد میں آیا۔ نئے جنسی تعصبات متعارف کرائے گئے جن میں سے ایک احمقانہ رجحان 'اونلی ویمن' سائنس کانفرنسز بھی تھا۔ نامور فیمنسٹ فلسفیوں کی جانب سے نیوٹن کی مساواتیں جنسی مساواتیں قرار پائیں۔ آئن سٹائن کے نظریات کی تشریح یہ پیش ہوئی کہ چونکہ مرد دیگر تمام مخلوقات پر برتری چاہتا ہے، اسلئے روشنی کی رفتار کو تمام رفتاروں پر فوقیت مردانہ ذہنیت کا اظہار ہے۔ مائع میکانکس (فلوئڈ میکانکس) کے مقابلے میں ٹھوس میکانکس (سالڈ سٹیٹ فزکس)کی ترقی کی توجیہہ یہ پیش ہوئی کہ اسکی وجہ یہ نہیں کہ مائع میکانکس کی مساواتیں انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں بلکہ چونکہ مردانہ عضو کرختگی اور ایستادگی سے منسلک ہے جبکہ نسوانی عضو ماہواری اور دیگر وظائف کے سبب مائع سے وابستہ ہے، اسلئے مائع میکانکس پدرسری کیوجہ سے پیچھے رہ گئی۔

اسی اور نوے کی دہائی کی سائنس وارز میں فیمینزم علی الخصوص پوسٹ ماڈرنسٹ فیمینزم، پوسٹ کالونیل فیمنزم اور ایکو فیمینزم ایسے رجحانات نے بھی سائنس پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ معروضی حقائق کو پس پشت ڈال دینا اور ہر قسم کی معروضیت کو لتاڑنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ طاقتور طبقات کو سچ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ پسے ہوئے طبقات ہوتے ہیں جو طاقت کے سامنے سچائی کے اظہار کے ذریعے للکارتے ہیں۔ جب ہر شے نیریٹو یا بیانیہ ہو گئی اور کسی بیانیے کی دوسرے بیانیے پر فوقیت یا بیانیے کی سچائی جاننے کے تمام پیمانے اور معیار حملوں کی زد میں آ گئے تو میدان خالی ہونے لگا۔ طاقتور طبقات کا تو مرغوب کھیل رہا ہے کہ وہ اپنے بیانیے کی بنیاد پر اذہان پر قبضہ جما کر راج کرتے ہیں۔ اب جبکہ چند اصطلاحات اور لفاظی کیساتھ کسی بھی فکر پر چڑھ دوڑنے کی سہولت ہو گئی تو دنیا بھر میں رائٹ ونگ بیانیوں میں جیسے ایک نئی روح پھونک دی گئی ہو۔ فکری طور پر میدان انکے حق میں جا رہا تھا، دیگر بہت سے عوامل ملے اور آج ساری دنیا رائٹ ونگ جنونیت کی لپیٹ میں ہے۔ سائنس اور معروضی حقائق پر ڈینائل کا رجحان، دلائل کی بجائے خیالی حقیقی ہر قسم کی مظلومیت کے ذریعے نیریٹو کو تقویت دینا اور دیگر اس قسم کے جدید فکری ہتھیار رائٹ ونگ کو فراہم کرنے میں فیمینزم کا بہت کردار رہا ہے۔

تجربات اور ان سے اخذ کردہ نتائج میں منطقی ربط موجود ہونا لازمی نہیں۔ فیمینزم کا ”عورت پر ایمان و ایقان“ (بیلیو ویمن) کا عقیدہ نہ صرف تجربات اور کہانیوں پر کسی قسم کا سوال کرنا ممنوع ہے بلکہ اس سے اخذ کردہ نتائج کو بھی من و عن مان لیا جائے۔ جس طرح مذہبی عقائد کی توجیہہ میں کہا جاتا ہے کہ حقیقت کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے فلاں فلاں عقیدے کو بلا دلیل مانا جائے، ایسے ہی فیمنزم ان عقائد پر لاجک یہ پیش کرتا ہے کہ عورتوں کی کیفیات و حالات اور تجربات کو جانا نہیں جا سکتا، اسلئے وہ جو کچھ کہیں، اسے مان لینا چاہیے۔ اس پر کوئی سوال، کوئی دلیل اور کوئی رائے پیش کرنا مینز پلاننگ کے زمرے میں آئے گا۔وکٹم ہونے کا دعویٰ ہی سچائی کی دلیل ہے، یہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ حال ہی میں بچوں میں جنسی کشش محسوس کرنے والوں نے بھی اپنا پرچم بنا لیا ہے، کمیونٹی کی صورت منظم ہوتے جا رہے ہیں اور ہیش ٹیگز، مظلومیت، شناخت پر تفاخر اور اپنی سٹوریز کیساتھ حقوق کا مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں۔ کہیں اسلام خطرے میں ہے، کہیں ہندو ازم اور کہیں سفید فام نسل پرستوں کو بے یار و مددگار مہاجرین سے خطرہ ہے۔

دہشتگردی کے رجحانات کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہےمردوں کے متشدد اور عورتوں کے پرامن ہونے کے سٹیریوٹائپس کیوجہ سے خواتین دہشتگردوں کے حملے مرد دہشتگردوں سے تین چار گنا زیادہ جان لیوا ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تصور سے داعش نے خواتین ریکروٹ کر کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔فیمینزم کی اپنی دہشت پسندی کی طویل تاریخ ہے۔شہوانی آرٹ یا پورن فروخت کرنے والی دکانوں، بائیو ٹیکنالوجی اور جینیٹکس کی لیبارٹریوں اور ڈیپارٹمنٹس، ڈاکٹر گلڈز، حتیٰ کہ کمپیوٹر کو عورت دشمن ٹیکنالوجی قرار دیکر کمپیوٹر کمپنیوں پر بھی دہشت پسندانہ حملے ہوئے۔ کتابیں جلانے کی روایت الگ رہی ہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بیشمار کارپوریٹ و دیگر آمریتوں، سامراجی حملوں اور جنگوں کو عورت کی آزادی کے نام پر فیمنسٹوں نے جواز پیش کیا۔ فیمینزم آزادی کی بات کرتا ہے لیکن یہ انتہائی حد تک کلیت پسند (ٹوٹالیٹیرین)آئیڈیالوجی ہے۔ پاکستان کی حد تک جتنی فیمنسٹیں لیفٹ کا سابقہ بھی لگاتی ہیں، وہ تقریبا تمام کی تمام بیسویں صدی کے ناکام تجربات، مصالحت پسندی اورسرمایہ دارانہ  رجعت پسندی سے وابستہ ہیں۔

فیمینزم نے علمی و فکری دیانت کے معیاروں کو بیحد متاثر کیا ہے۔ سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ انکے قبضے میں آئے اور پراپیگنڈہ کے مراکز بن گئے۔ جینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ انکے معبد ہیں۔ ہر شے کو جنسی عینک لگا کر دیکھا جانے لگا اور مردوں کو تاریخ سے مٹانے یا کم از کم انکا کردار مسخ کرنے کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔ سائنس میں نیوٹن، آئن سٹائن سے رچرڈ فائنمین تک کوئی بھی انکے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ پایا ہے۔ آرٹ، فلسفہ اور دیگر علوم و فنون کے حوالے سے بھی یہی صورتحال ہے۔ ایک پیٹرن سامنے آتا جا رہا ہے کہ پہلے کوئی سوشیالوجسٹ مشاہیر میں سے کسی کے بارے میں کونے کھدرے سے کوئی شے نکال کر لائے گی، اسکے بعد مسوجنی اور ڈیڑھ درجن مزید لیبل چسپاں ہوں گے۔ اگلا مرحلہ انکی یاد یا انکے کام پر سائنسی و علمی کانفرنسز، آرٹ گیلریوں وغیرہ میں بدمزگی پیدا کرنے اور ان سے منسوب تمام تاریخی علامات کو مٹانے کیلئے پٹیشن، پروٹسٹ، حملوں والے سلسلے کا ہو گا اور اسکا نام ”رائٹس ایکٹوزم“ رکھا گیا ہے۔سوڈو سائنس، سوڈو ہسٹری، سوڈو سوشیالوجی، شاونزم سے بھرپور پلندوں کے پلندے نکلتے ہیں۔ الغرض تمام کا تمام کھوکھلے تنکوں کا آشیانہ ہے۔ جتنا کھوکھلا مگر مصالحے دار، چٹ پٹا، نفرت انگیز اور بڑا دعویٰ ہو گا، اتنا ہی مقبول ہو گا۔اختلاف اور مختلف خیالات و نظریات کیلئے عدم برداشت، جبری یکسانیت اور سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جرم و سزا کے تصورات کے حوالے سے انسانی تہذیب نے خاصی ترقی کی ہے۔ جرم کی نفسیات اور سزا کی غرض و غایت کے فہم پر خاصا کام ہوا ہے۔ ملزموں حتیٰ کہ مجرموں کے حقوق کا تعین بھی کیا گیا۔ فیمینزم کی انتقامی ذہنیت کیوجہ سے دیگر شہری آزادیوں، فرد کی آزادی اور آزادیٔ اظہار رائے کیساتھ جرم و سزا پر لبرٹیرین تصورات بھی زد میں آ گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ جرم کو سماجی مرض کے طور پر تشخیص و جراحی کے عمل سے گزارنے کے تصورات کا اظہار کرنے پر عرف عام میں مجرموں بالخصوص ریپسٹوں کا حامی بتلایا جاتا ہے۔ لبرٹیرین تصورات ہی جرم بن گئے ہیں۔ کسی پر الزام لگنے کیساتھ ہی ہر قسم کی بربریت پر مبنی سزاؤں اور وحشت کی تسکین کی ذہنیت کے اظہار کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ معقولیت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہ جارج آرویل کے 'انیس سو چوراسی' ایسا الزام کیساتھ ہی صفحۂ ہستی اور ہر ریکارڈ سے فرد کا وجود مٹانے ایسا عمل بنتا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی محض اداکار پر الزام کی بنیاد پر آرٹ اور فلموں کیخلاف مہم کے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں۔  جرم و سزا کے علاوہ ریاست کے حوالے سے انقلابی خیالات بھی فیمنسٹوں کے حملوں کو دعوت دینے کے مترادف بن چکے ہیں۔

تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے فیمینزم خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ استعماری بیانیوں اور اشرافی طبقات سے وابستگی کیوجہ سے عوام میں ردعمل پیدا ہوتا ہے جو عورتوں کی آزادی کے ارفع مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ملک سامراجی، جاگیری، سرمایہ داری، مذہبی و نسلی طاقتوں کے تسلط اور کالونیل ادوار کی باقیات میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ مردوں عورتوں کی انتھک قربانیوں اور جدوجہد کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ فیمینزم سیاست سے دلچسپی رکھنے والی عورتوں کو مرد دشمنی پر لگا رہا ہے۔ ان ملکوں میں عوامی و مزاحمتی تحریکوں کو اپنے دانشوروں کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ پراپیگنڈے کے علاوہ مشکل سے مشکل لفاظی میں لایعنی سے لایعنی تھیوریاں پیش کرنے کی دوڑمیں لگے ہوئے ہیں۔ لیفٹ کی جن تنظیموں پر فیمینزم کا غلبہ ہوتا ہے، وہ مزدور تحریکوں اور عوام سے جڑنے کے کام سے ہاتھ اٹھاتی جاتی ہیں۔

تیسری دنیا کے معاشی اور سیاسی فیصلے عالمی مالیاتی اداروں میں ہوتے ہیں اور بین الاقوامی کارپوریشنوں کے مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ مقامی حکمران طبقات اپنا حصہ وصول کر کے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ سرمائے کا بہاؤ ہمیشہ معاشی استعمار کے تابع رہے۔ مقامی آبادیاں اپنا خون نچوڑ کر دولت کی پیداوار اور اضافے کیلئے کام کرتی رہیں اور انہیں کولہو کے بیل کیطرح خاموشی سے جوت رکھنے کیلئے انتہائی سفاکیت اور بربریت کی فطرت رکھنے والے ریاستی و دفاعی اداروں کا ڈھانچہ مضبوط کیا جاتا ہے۔ ان ڈھانچوں کو چھیڑے بغیر مرد اور عورت کی برابری صرف محکوم رہنے کی آزادی اور برابری ہے۔ تیسری دنیا کی جمہوری و عوامی تحریکوں کیلئے جاندار انقلابی کردار درکار ہوتا ہے لیکن فیمینزم کی قیادت اور باگ دوڑ ایلیٹ کے ہاتھ میں ہونے کیوجہ سے انکا عالمی سامراج اور مقامی حکمران طبقات کیساتھ مفاہمانہ رویہ کسی انقلابی کردار کے امکان کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔

کارپوریٹ فیمنزم خواتین کو گھروں سے باہر نکال تو لایا ہے لیکن معیشت پر کارپوریٹ منافع خور مردوں عورتوں کا قبضہ ہے جو گھر سے باہر کام کیلئے نکلنے والے ہر فرد کو بلا تفریقِ جنس و نسل انسان کی بجائے منافع کمانے کا آلہ مانتے ہیں۔ کارپوریٹ فیمنزم عورتوں کی صورت میں سستی لیبر کی فراہمی اور منڈی میں سستے سے سستے داموں محنت فروخت کرنے کی مقابلہ بازی کی حمایت تو کرتا ہے لیکن خواتین پر پڑنے والے بیگانگی کے اثرات انکا موضوع نہیں ہیں۔ اس جبر و استحصال کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ ذرا ”سیاسی باتیں“ ہیں۔ اس بیگانگی اور ڈی ہیومنائزیشن کے مردوں عورتوں پر مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عورتیں خوابوں کا شہزادہ تلاش کرنے کا راستہ لیکر روایتی خاندانی نظام میں پناہ لیتی ہیں اور مرد معاشی جبر کا مقابلہ اور سامنا خود کر کے خاندان پالتے ہیں، خواتین کو معاشی بربریت کی چکی کا حصہ نہیں بننے دیتے۔کارپوریٹ کلچر نے خواتین کو تخلیقی صلاحیتوں کے مواقع اور آزادی دینے سے زیادہ رونقِ بازار بنا دیا ہے۔ اسلامسٹوں کی تنقید میں نتائج بھلے غلط اخذ شدہ ہوتے ہیں لیکن دلائل اور وجوہات میں کارپوریٹ کلچر کی انتہائی ٹھوس خامیاں پیش کرتے ہیں جس سے انکے زیر اثر اذہان عورتوں کے متعلق رجعتی تصورات قبول کر لیتے ہیں۔

 فیمنسٹیں خواتین کی 'اسپیس' کیلئے ڈھابوں پر تو دھاوا بولتی ہیں جہاں کام کرنے والے مرد شام کو ذرا دیر کیلئے بیٹھتے ہیں لیکن محنت کش عورتوں کی ٹریڈ یونینز، لیبر یونینز، کسان تنظیموں کی اسپیس ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ عورتوں کے تمام مسائل کا سبب مرد کی ہوس قرار دے دیا جاتا ہے لیکن مختصر سے کارپوریٹ طبقے کی معاشی ہوس اور سیاسی طاقت کی ہوس خارج از بحث ہے۔ مردانہ عضو کو کائنات کی تمام سرگرمیوں کا محور ثابت کرتے ہوئے وہ مرد دشمنی کے بعد عورت دشمنی بھی اختیار کر لیتی ہیں اور ان عورتوں پر لعن طعن اور دائرۂ نسواں سے خارج کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو انکی مرد دشمنی کے عقائد پر ایمان نہیں رکھتیں۔بات بے بات ریاست اور اتھارٹی کو مداخلت کی دعوت اور مطالبے کیساتھ قدیم خاندانی اقدار کے احیاء کی کوشش کی جاتی ہے جنکے مطابق عورتوں کو محافظ کی ضرورت ہے۔ فرق یہ ہے کہ باپ، بھائی یا خاوند کا درجہ ریاست کو دے دیا جاتا ہے۔ فیمنسٹ عقائد کے مطابق مرد عورتوں کو نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انہیں نسوانی جسم کا تجربہ نہیں ہوتا جبکہ عورتیں مردوں کو پوری طرح سمجھتی ہیں حالت البتہ یہ ہے کہ فیمنسٹوں کے مردوں اور انکے کام اور زندگیوں پر تبصروں سے ملاؤں اور مفتیوں کو بھیجے جانے والے سوالات ذہن میں آ جاتے ہیں جن میں عورتوں کی اناٹومی کے متعلق عجیب و غریب تخیلات کے گھوڑے دوڑائے جاتے۔

جاگیری یا فیوڈل اقدار پر خاصی تنقید ہوتی ہے اور بجا طور پر ہوتی ہے لیکن جاگیرداری نظام کا خاتمہ قطعا فیمنزم کا مطمع نظر نہیں ہے۔ وطنِ عزیز میں تو جاگیردار فیمنسٹ یا جاگیرداروں کی حامی فیمنسٹ بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ 'پرسنل لائف' میں آزادی کا خاصا چرچا کیا جاتا ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر جو آمرانہ معاشی جاگیروں کی حیثیت رکھتا ہے اور کام کرنے والے مردوں عورتوں کے باتھ روم جانے تک کا وقت کنٹرول کرتا ہے، اس سے کوئی سروکار نہیں۔ سروئیلنس اور ٹیکنالوجی پر کارپوریٹ کنٹرول کیوجہ سے ذاتی زندگی کے ریکارڈ کی نہ صرف فائلیں بنی ہوتی ہیں بلکہ ہر شخص کی ذاتی پسند ناپسند اور ذہنی میلانات تشہیری کمپنیوں کو فروخت ہوتے ہیں۔ اسکے ذریعے عوام پر ذہنی کنٹرول سے انتخابات میں مطلوبہ نتائج تک حاصل کئے جاتے ہیں۔

عورتوں کو ملکیت جاننے کے تصورات پر تنقید ہوتی ہے اور درست ہوتی ہے لیکن رائج معاشی نظام یعنی سرمایہ داری جس میں تمام انسانوں کو بلا تفریق جنس مشینوں کیطرح ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ”ہیومن ریسورسز“ یا ”ہیومن کیپیٹل“ کی خوشنما اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، ان پر تنقید کم ہی موضوعِ بحث بنتی ہے اور ایسی باتیں 'کول' نہیں جانی جاتیں۔ کام کرنے والے مردوں عورتوں کے استحصال سے قطع نظر اگر کوئی برانڈ ذرا پی آر پر محنت کرے تو فیمنسٹ برانڈ کے درجہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر خاصی فیمنسٹیں انفلوئنسر گروپس سے منسلک ہیں اور استحصالی برانڈز کی شان میں قلابے ملانے سے انکے فیمنسٹ درجات اور اخلاقیات پر ذرا اثر نہیں پڑتا۔حال ہی میں ایسے فیمنسٹ اور ویمن امپاورمنٹ والے برانڈز کی کمسن بچوں بچیوں کی جنسی استعمال کیلئے خرید و فروخت میں ملوث ارب پتی سرمایہ دار ایپسٹین کیساتھ وابستگی بھی بینقاب ہوئی ہے۔ فیمینزم عورتوں کو متعین کردہ سماجی کرداروں سے آزاد کرانے کی بات کرتا ہے لیکن فیمنسٹ حاصلات عورتوں کی مکمل انسانی آزادی کی بجائے انہی جینڈر رولز تک محدود رہیں گی جو کارپوریٹ کلچر عورتوں کیلئے متعین کرتا ہے اور جنکی گنجائش رکھی گئی ہے۔

عورتوں کی تحریک کا مقصد جنس کی بنیاد پر مخاصمت اور عصبیتوں کا خاتمہ اور تمام جنسی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی تھی لیکن فیمینزم نئے جنسی تعصبات پھیلا رہا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مرد اجتماعی طور پر ندامت، احساسِ جرم، اخلاقی کمتری ایسے منفی احساسات کا بار اٹھائے پھریں۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مردانہ جنس طبی، طبعی، اخلاقی ہر لحاظ سے 'خراب' ہے اور انکے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ فیمنسٹوں کی پولٹ بیورو کے ہاتھ میں تمام اختیارات دینے اور اسکی حاکمیت تسلیم کر لینے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور وہ مردوں کو بدل کر رکھ دیں گی اور اپنے معیاروں کے مطابق ڈھال لیں گی۔ مردوں کو لیبارٹری کے چوہوں کیطرح مکمل کنٹرول کیساتھ انکے حوالے کیا جائے۔ زیادہ تر فیمنسٹ پراپیگنڈہ اور مردوں کی ہر شے اور ہر عادت پر تنقید اسی سوچ کے گرد گھومتے ہیں۔اسکا مردوں پر تو شاید کچھ زیادہ اثر نہ پڑتا ہو لیکن فطری طور پر مردوں کی خواہش محسوس کرنے والی فیمنسٹیں اپنے نفسیاتی تضادات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نفرت اور عداوت کی فضا محبت کی فطرت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

فیمینزم کے مرد مخالف تعصب کے اثرات ہمارے ارد گرد واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمارے شہر میں کوئی فیمنسٹ تنظیم موجود نہیں لیکن انفرادی پراپیگنڈہ کے اثر کا تجربہ ہوا۔ ہم نے یونیورسٹی میں مشاعرہ کرایا جس میں امجد اسلام امجد، عباس تابش، انجم سلیمی، تہذیب حافی، عنبرین حسیب عنبرایسے نامور شعراء مدعو تھے۔ یونیورسٹی کے شعراء کیلئے ہم نے فقط یہ شرط رکھی کہ انکا کلام موزوں ہو۔ مشاعرے میں حفظِ مراتب کے تحت یونیورسٹی کے شعراء، شہر کے مقامی شعراء، کشمیر کے شعراء اپنا کلام سنا چکے تھے اور سٹیج پر بیٹھے شعراء کے کلام کی جانب محفل بڑھ رہی تھی۔ راقم لٹریری سوسائٹی کا پریسیڈنٹ تھا اور والنٹیرز نے آ کر بتایا کہ ایک خاتون ہنگامہ کر رہی ہیں۔ جب جا کر دیکھا تو وہ بین کر رہی تھیں کہ مردانہ معاشرے کیوجہ سے انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مشاعرہ نہیں پڑھایا گیا۔ رجسٹرار، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افئیرز اور یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ حکام کی والدہ کیساتھ ملکر تذلیل شروع کر دی جو اس صورتحال سے بے بس نظر آ رہے تھے۔ پھر سٹیج کے قریب جا کر ہنگامہ شروع کر دیا جسکی وجہ سے انہیں بلانا پڑا۔ مجمع باذوق تھا اور اچانک خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے اپنا بے وزن اور بے تکا کلام سنایا، ویمن امپاورمنٹ کے نام پر مشاعرہ اور ادبی روایات پامال کیں اور چلتی بنیں۔ انفرادی واقعات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو فیمنسٹوں کی جانب سے مغربی مرعوبیت کے علاوہ اردو ادب پر جاگیری اقدار کا الزام لگا کر اردو علمی و تہذیبی سرمائے کو مسترد کرنے کا افسوسناک رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ ڈان اخبار میں تو ایسا اعلامیہ بھی شائع ہوا کہ خواتین اردو شاعروں اور پراگریسو مردوں سے دور رہیں۔

حال ہی میں ایک نامور شاعر جنکے جسم پر اکثر چھریوں کے زخموں کے نشانات ہوتے اور بازوؤں پر بعض اوقات نظر بھی آتے اور اپنی بیگم کے نفسیاتی مسائل کے باوجود دس سال سے نباہ رہے تھے، انہیں انکی بیگم نے لیگل نوٹس بھیجا ہے اور اپنے ہی بچوں کے حوالے سے پیڈوفیلیا کا الزام لگایا۔ خاندانی نزاعات، فیملی کورٹس اور کچہریوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ کے مشہور زمانہ مقدمے کا تو زمانہ گواہ ہے۔ مغربی ممالک میں یونیورسٹیاں عدالتیں بن گئی ہیں اور قانونی شفافیت پر بیشمار سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے پر بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ غیر اہم ایشوز کو اہم ایشوز کے مقابلے پر لایا جا رہا ہےاور یہ کہ ابھی عورتوں کے حقوق کیلئے مردوں کیخلاف نفرت پھیلانے دی جائے، اس سے پیدا ہونے والے مردوں کے مسائل بعد میں دیکھ لیں گے۔

فیمینزم بظاہر ریڈیکل آئیڈیالوجی ہےاور اس پر تنقید بھی ہوتی ہے کہ یہ کچھ زیادہ ہی ریڈیکل ہے لیکن یہ انقلابی تحریکوں اور رجحانات سے انقلابیت کا ڈنک نکال کر رکھ دیتی ہے۔ جب عوام میں غم و غصہ بڑھ جاتا ہے تو حکمران طبقات انہیں ٹھنڈا کرنے کیلئے چند ٹکڑے انکی طرف پھینک دیتے ہیں تاکہ کہیں پورا نظام عوامی بیداری کی لپیٹ میں نہ آ جائے۔ فیمینزم ان ٹکڑوں کو چننے کا نام ہے۔ ٹیکنالوجی اور اپنے کام کا بوجھ نچلے طبقات کی عورت پر منتقل کرنے کی سہولت کیوجہ سے بالائی طبقات کی عورت کے پاس خاصی فراغت ہوتی ہے۔ ٹکڑے چن کر نظام میں رہ کر مزید طاقتور ہونے اور پھر نظام کو مزید طاقتور بنانے کے کردار کیلئے فیمینزم مفید ہتھیار ہے۔ نچلے طبقات کی عورتوں کا حقیقی مفاد تو اس نظام اور آمرانہ حکمران طبقات کو الٹ دینے سے وابستہ ہے، اسلئے وہ اپنی آزادی کیلئے فیمینزم کیساتھ کم ہی جڑتی ہے اور فیمینزم بالائی طبقات اور اپر مڈل کلاس خواتین تک ہی محدود ہے۔یہ صرف موجودہ تحریک کا رجحان نہیں بلکہ فیمینزم کے تمام ادوار میں تسلسل رہا ہے جسکی وجہ سے عظیم انقلابی خواتین ہمیشہ فیمینزم سے دور رہی ہیں۔ فیمینزم کا مطمع نظر استحصالی طبقات میں ہی جنس کی بنیاد پر اختیارات اور طاقت کی تقسیمِ نو ہے۔ سربراہانِ ریاست، جرنیل، اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دارانہ جماعتوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں سی ای اوز، مالکان وغیرہ خواتین زیادہ ہوں تو فیمینزم کیلئے یہ ایک اطمینان بخش صورتحال ہے۔

فیمینزم روشن خیالی، آزادی، مساوات اور انقلابی فلسفہ کا ہی تسلسل ہے اور بعض فیمینسٹوں کو اس بات سے چڑ ہوتی ہے کہ تمام ”مردانہ“ ٹولز ہیں اور انکے پاس اپنا کچھ بھی نہیں۔ اسکے باوجود مستعار لیکر توڑنے مروڑنے کے ذریعے ترقی پسندانہ رخ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ ترقی پسندانہ اور انقلابی روایات سے یکسر مختلف ہے۔ ترقی پسندوں کی درخشاں روایت بین الاقوامیت رہی ہے۔ وہ صنفی، نسلی، قومی مسائل کو کل انسانیت کی آزادی کیساتھ جوڑتے ہوئے جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ ترقی پسندانہ ادب میں سرمایہ دار مرد کیساتھ سرمایہ دار عورت بھی طبقاتی دشمن کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ دوسری طرف خواتین ادیبوں کے لٹریچر میں محنت کش مرد اور اسکی زندگی کی جدوجہد کو جاندار انداز میں پیش کیا جاتا۔ فیمینزم میں سرمایہ دار عورت تمام مخلوقِ نسواں کیطرح برابر کی مظلوم ہو گئی بلکہ اس مصنوعی مظلومیت کی بنیاد پر فیمنسٹ تحریکوں کی قیادت ہی اسے سونپ دی گئی اور دوسری طرف مرد دشمنی میں محنت کش مرد کا حلیہ، لباس، عادات، اطوار بے رحم تنقید و مسلسل تضحیک کی زد میں آتے گئے۔ اب ”مادام“ ساحر لدھیانوی کی وضاحت نہیں سنتیں کہ ”بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی“، اب بالاتفاق مرد بدتہذیبی اور گنوار پن کی علامت ہے۔ آئے روز کسی بلاگ، برانڈ کے فوٹو شوٹ یا وائرل تھیوری میں یہ رجحانات واضح ہوتے ہیں۔

لبرل تضادات کیوجہ سے فیمینزم عورتوں کی آزادی کا فریضہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔ چرچ اور جاگیرداری کیخلاف لبرل ازم نے انقلابی کردار ادا کیا تھا لیکن سرمایہ دارانہ دور میں اجرتی غلامی، مالیاتی سامراجیت، نیو لبرل ازم اور کارپوریٹ کلچر سے آزادی میں لبرل ازم اپنے رجعتی کردار کیوجہ سے معذور ہے۔ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی اقدار سے لیکر نارمل زندگی گزارنے کی سہولیات تک نیو لبرل ازم بے رحمی سے کچلتا جا رہا ہے اور این جی او فیمینزم اس ایجنڈہ میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ فیمینزم بھی اس استحصال کو چھیڑے بغیر مردوں اور عورتوں کی برابری نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک یوٹوپیا ہے کیونکہ نہ تو تمام مرد تمام مردوں کے برابر ہیں اور نہ ہی تمام عورتیں عورتوں کے برابر ہیں۔ فیمینزم مردوں عورتوں کی لڑائی بنا کر سماجی رشتوں اور ڈھانچوں کو مکمل خارج از بحث کر دیتا ہے۔مردوں کو سدھارنے، اس سے مراد محنت کش مرد ہوتے ہیں، میں بھی یہی عوام دشمن سوچ ہوتی ہے کہ عوام خود سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں ہیں اور انہیں بالائی طبقات سے فکر و دانش مستعار لینے کی ضرورت ہے۔ مردوں کو پوٹینشل ریپسٹ قرار دینے جیسے عوام دشمن اور بالخصوص مزدور دشمن نظریات طبقاتی یکجہتی اور آزادی کے امکانات پر حملہ ہیں جو عام مردوں عورتوں دونوں کے مفاد میں نہیں۔

فیمینزم عام مردوں عورتوں کی جنسیت پر حملہ کرتا ہے۔ کبھی جنسی عمل کو عورت کی پستی کیوجہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی عام مردوں عورتوں کے جنسی تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور صحیح العقیدہ جنسیت اور بالخصوص عورتوں کیلئے نسوانی کرداروںکی گائیڈ لائنز جاری کی جاتی ہیں۔ پاکستان ایسے ملک میں فیمنسٹوں کی رجعت پسندی، جنسیت سے خوف اور تنگ نظر اخلاقیات خصوصی طور پر خطرناک رجحان ہے۔ یورپ کے موجودہ کلچر کے پیچھے تو ساٹھ ستر کی دہائی کا جنسی انقلاب کھڑا ہے جس میں پاپ کلچر میں جنسیت اور رومانوی جذبات کو عام اور قابل قبول بنایا گیا۔ پاکستان میں اگر بسم اللہ ہی مردوں عورتوں کے درمیان نفرت اور انہیں دو دنیاؤں میں بانٹنے سے ہو گی تو پہلے سے موجود پسماندہ دائرے مزید محدود ہوں گے۔

لیفٹ میں ایک خطرناک رجحان در آیا ہے کہ اسے محنت کشوں کی عالمی تحریک سے ہٹ کر شناخت کی سیاست اور مظلوموں کی تحریک سمجھ لیا گیا ہے۔ نیو لبرل ازم میں این جی اوز کی یلغار نے پہلے ہی لیفٹ کو کھوکھلا کر دیا ہے اور رہی سہی کسر اس قسم کے فکری مغالطے پورا کر دیتے ہیں۔ اب مظلومیت کا دعویٰ لیکر جو نکلے، لیفٹ والے چار بندے دیکھ کر دعوے اور گروہ کی جانچ پرکھ کے بغیر اندھا دھند اسکے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ انکی توانائیوں کا استعمال کر کے انہیں ذلیل و رسوا کر کے نکال پھینک دیا جاتا ہے۔ یادش بخیر بہتیرے نامور بائیں بازو کے دانشوروں نے طالبان کو بھی مظلومیت کی بنیاد پر مزاحمت کی علامت بنا دیا تھا۔ اس سال دو عورت مارچ ہوئے اور دونوں میں لبرل فیمنسٹوں کی جانب سے سرخ پرچموں پر بے رحمی سے تنقید ہوئی۔لیفٹ کی جن تحریکوں پر فیمینزم کا غلبہ ہے، ان میں مرد لیفٹسٹ ذاتی و دیگر وجوہات پر ”یس مین“ بنے رہتے ہیں۔ ہمیں تنقیدی شعور کو لیفٹ میں بحال کر کے کلٹ ذہنیت سے باہر نکلنا ہو گا۔

ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے کہ پنجابی سفاک اور ظالم ہیں۔ آجکل ایک نعرہ مسلسل دوہرایا جاتا ہے کہ پاکستانی سنی مسلمان یا تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان یا مزید تخصیص کیساتھ پاکستانی پنجابی سنی مسلمان مرد متشدد ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستانی قوم پر دہشتگرد ہونے کے لیبل کیساتھ تخصیص شامل ہے کہ پاکستانی مسلمان دہشتگرد ہیں۔ اسکے بعد مخصوص فرقوں کیلئے کئی سال شد و مد کیساتھ درودی بارودی کی تھیوری پھیلائی گئی جو حقائق سے متصادم ہونے کیوجہ سے زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ کراچی میں تین قومی نظریے کے تحت مہاجروں، پختونوں اور سندھیوں پر کئی لیبل چسپاں ہیں۔ اس روش کیساتھ عالمی تحریک تو کیا، پاکستان میں بامعنی سیاست ممکن ہو سکتی ہے یا قبائلیت کی نئی شکلیں ہی متعارف کرانے کا کام رہ گیا ہے۔ لیفٹ نے سبق نہیں سیکھا کہ سوشلزم ایسے تصورات کے نام پر بھی کیسے آمریتیں کھڑی کی گئیں اور بلوچ آزادی کیسے پنجابی مزدور چن چن کر مارنے تک پہنچی۔مظلومیت قبائلی تعصبات کا جواز کیسے بننے لگی۔

بیسویں صدی کے دو بڑے پراپیگنڈہ مراکز یعنی مغرب اور سوویت یونین نے قرار دیا کہ سوشلزم وہی کچھ ہے جو سوویت یونین میں ہے۔ ایسے ہی یہ پراپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے کہ عورتوں کی تحریک اور عورتوں کی آزادی فیمینزم ہے۔ یہ پراپیگنڈہ اتنا شدید ہے کہ اسلامسٹ بھی عذر خواہی پیش کرتے ہیں تو اپنے مذہب کو ”موسٹ فیمنسٹ ریلیجن“ کہتے ہیں۔ عورتوں کی بیداری اور ترقی جدید دور کا ایک عظیم کارنامہ ہے لیکن فیمینزم عورتوں کی تحریک کو درست سمت دینے سے قاصر ہے۔ فیمینزم کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ بقول باب بلیک آسان سا نسخہ ہے کہ انہیں برابر مانا جائے اور کسی رو رعایت کے بغیر انکے نامعقول نظریات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔بادشاہ کے ننگا ہونے کیساتھ ساتھ اب ہمیں ببانگ دہل یہ خبر بھی دینی پڑے گی کہ ملکہ بھی عریاں ہے، بھلے اس بات کو کتنا ہی فحش، ممنوعہ اور مسوجنسٹ سمجھا جائے۔طبقاتی جدوجہد اور مزاحمتی تحریکوں کو منظم کیا جائے اور ان میں تیزی لائی جائے تو فیمینزم کے عملی تضادات خود بخود واضح ہو کر سامنے آ جائیں گے۔

 

Friday, 12 June 2020

سنتھیا رچی اور فیمنزم کا فکری بحران

پیپلز پارٹی کے تیر آجکل سنتھیا ڈان رچی نامی امریکی خاتون کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں پیپلز پارٹی کے مرحوم و موجود سیاستدانوں پر برسا رہی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے پیپلز پارٹی سنتھیا کے نشانے پر تھی اور یہ معاملہ بینظیر بھٹو پر گارڈز کے ذریعے خواتین کے ریپ کے الزامات سے شروع ہوا، پیپلز پارٹی اور اسکے حامیوں پر ہراسانی کے الزامات سے ہوتا ہوا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر دست درازی اور وزیر داخلہ رحمان ملک پر ریپ کے الزامات تک پہنچا۔ شروع میں ہم نے جو اصطلاحات 'تیر برسانا' اور 'نشانے پر رکھنا' استعمال کی ہیں، انکا استعمال مروجہ طور پر حتممی الزامات سے پہلے پہلے تک کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم و وزراء پر الزامات کو علیحدہ صورت میں دیکھا جائے یا سنتھیا کے پیپلز پارٹی کیخلاف محاذ کے تسلسل کی صورت میں بیان کیا جائے، یہ ڈان لیکس کے ضمن میں ایک پیچیدہ بحث بن چکی ہے۔

بینظیر بھٹو، شیریں رحمان و دیگر پر الزامات تک معاملہ واضح تھا۔ پیپلز پارٹی کے حامی پارٹی و لیڈران کا دفاع اور الزامات کا پارلیمانی و نیم پارلیمانی و غیر پارلیمانی جواب پیش کر رہے تھے اور علی العموم جمہوری حلقوں میں جس نے بھی اس معاملہ پر تبصرہ کیا، اس نے سنتھیا اور اسکے مبینہ ہینڈلرز کی مذمت کی۔ یوتھ بردار قبیلہ و محب الوطن حلقے ہمیشہ کیطرح سیاستدانوں کی 'اخلاقی' و مالی 'کوروپشن' کیخلاف آواز اٹھانے پر سنتھیا کیساتھ کھڑے تھے۔ اسکے بعد سنتھیا نے بطور خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے چند مبینہ تجربات کے حوالے سے الزامات لگائے تو یہ ایک مختلف ڈومین کا معاملہ تھا۔ مؤخر الذکر حلقے تو سنتھیا کی حمایت میں اپنے تسلسل پر قائم رہے لیکن 'جمہوری' حلقوں میں اب معاملہ کچھ زیادہ واضح نہ رہا تھا۔

گنجائش اور سہولت دیکھتے ہوئے چند لوگوں نے کپڑے پھاڑنے اور دیگر ریپ جوکس کے ذریعے سنتھیا کے الزامات کو مذاق بنایا۔ اسکے بعد اسکا کردار، ماضی، اسکرپٹ، لہجہ، انگریزی، بیک گراؤنڈ، کار چوری میں سزا، زنانہ انڈے فروخت کرنے کا پیشہ، کسی کیساتھ ایک کمرے میں دو ہفتے گزارنے کے دوران انکشافات، مبینہ سیکس ورک سبھی کچھ زیر بحث آیا۔ 'اس جانب کی' خواتین تک کہتے ہوئے پائی گئیں کہ اگر ایک وزیر سے ریپ ہوئی تھی تو اسکے بعد حکومتی ایوانوں میں کیا ڈھونڈتی رہی، اتنے عرصے بعد کیوں سامنے آئی، سائیکل چلا کر پختونخواہ کو عورتوں کیلئے محفوظ بتاتی تھی تو اب وزیراعظم و وزراء پر الزامات اس سائیکل کی روشنی میں کہاں کھڑے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں تو یہی ہوتا ہے کہ کسی معاملہ کے سیاسی، فکری، معاشی، سماجی پس منظر کے حوالے سے نوعیت دیکھنے کے بعد مؤقف کا تعین ہوتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ یا رائٹ ونگ نظریات سے تعلق ہونے کی بنیاد پر اسے مذاق، تضحیک، سوالات، کاؤنٹر نیریٹو کے ذریعے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسکی شدت یا نوعیت مختلف ایکٹوسٹ حلقوں میں مختلف ہوتی ہے۔ البتہ فیمنزم سے اسکا تضاد پیدا ہوجاتا ہے جو کسی بھی طور سامنے آنے والی خاتون پر اعتماد اور یقین بلکہ تمام عورتوں پر اعتقاد کا پرچار اور سوالات الزام لگانے والی سے نہیں بلکہ ملزم سے پوچھنے کی سختی سے تلقین کرتا ہے۔ سنتھیا کے کیس میں یوسف رضا گیلانی، مخدوم شہاب الدین اور رحمان ملک سے سوالات پوچھنے، انکا مؤقف جاننے اور پوچھنے میں شاید ہی کسی نے دلچسپی لی ہو۔

فیمنسٹ حلقوں کی جانب سے روایتی 'آؤٹ ریج' کے برعکس ڈھیلا ڈھالا مؤقف اور نیم مردہ بیانات 'اجی تحقیقات ہونی چاہییں' سامنے آئے۔ روایتی طرز پر کسی نے کسی کو کسی کیساتھ کھڑے ہونے یا نہ ہونے یا خاموش رہنے کے طعنے کوسنے نہیں دیے، نہ روایتی طرز کی لکیریں کھینچی گئیں کہ کون ہماری بندی کیساتھ کھڑا ہے اور کون مخالف یعنی ہراساں کرنے والے اور ریپسٹ کا حمایتی ہے اور نہ ہی ریپ اپالوجسٹ، ریپسٹ کے حامی جیسے ٹیگ تقسیم کیے گئے۔ 'اِس جانب سے' یہ بھی نہ کہا گیا کہ 'عورت مارچ وغیرہ' کہاں ہیں۔ اگر کسی نے زیادہ 'سخت مؤقف' اپنایا تو اتنا کہ 'تحقیقات ہر حال میں ہونی چاہییں'۔ اسکی وجہ اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کیس کو وہ خود کم از کم مشکوک یا سرے سے لایعنی سمجھتی تھیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس قسم کے اندازے لگانے، کسی واقعے کو جانچنے یا الزامات کو بے بنیاد تصور کرنے کا اختیار کسی دوسرے کو دے سکتی ہیں؟

بعض فیمنسٹ نے خفت مٹانے کیلئے نیویں نیویں ہو کر 'پاکستانی مردوں' کو کوسنا شروع کیا کہ کاش وہ گوری کی باتوں پر یقین کیطرح پاکستانی عورتوں کے آواز بلند کرنے پر بھی اسی طرح حمایت کیا کریں۔ گورے اور نیٹو کی یہ تقسیم بھی بذات خود فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ تھیوری میں سفید ریپ، سیاہ ریپ، کالونیل ریپ، اینٹی کالونیل ریپ وجود نہیں رکھتا۔ پدر سری نظام میں ساری عورتیں ساری دنیا میں مظلوم ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ مذکورہ پاکستانی مرد وہی نہیں کر رہے تھے جسکا فیمنزم درس دیتا ہے یعنی آواز اٹھانے والی کی غیر مشروط ہو کر حمایت کرنا، جن مردوں پر ہراسانی اور ریپ کا الزام ہو، انہیں اور ان سے وابستہ اور انکا دفاع کرنے والے تمام کیخلاف آواز اٹھانا اور انکا ہر قسم کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کرنا۔ اب یہاں چونکہ فیمنسٹوں کو مذکورہ پاکستانی مردوں کی 'نیتوں' اور اندرونی 'بغض معاویہ'کا 'علم' تھا، یعنی سیاستدانوں اور ابکی پیپلز پارٹی کیخلاف پراپیگنڈہ، سو انہوں نے پاکستانی مردوں کو فیمنزم کرنے پر نشانہ بنایا۔

انصافی فیمنسٹوں، بعض درمیانی فیمنسٹوں اور اکا دکا دیگر نے ایکٹوسٹ حلقوں کے رویے پر سوالات ضرور اٹھائے بلکہ 'اُس جانب کی' فیمنسٹیں سنتھیا کیساتھ کھڑی تھیں۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں سے بعض نے ایسے فیمنزم کو نشانہ بنایا کہ سنتھیا کے الزامات کو ذرہ برابر اسپیس دینے کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کی پیپلز پارٹی اور مجموعی طور پر سیاستدانوں کیخلاف پراپیگنڈہ مہم کی لہر میں بہہ جانا ہے۔ ایسی لہروں کا مقصد دباؤ کے ذریعے 'کچھ لو کچھ دو' یا بعض ڈیلز، کمپرومائز یا کسی دوسری سمت میں نکل جانے پر سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں کو 'حساب میں رکھنے' کی کوششیں ہوتا آیا ہے جسکا اظہار الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور سوشل میڈیا پر اچانک پیالی میں طوفانوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ حکومتی نااہلیوں یا کسی سنگین بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے بھی سیاسی چالوں کے طور پر ایسی مصنوعی لہروں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ اگر بالفرض اس جانب سے مبینہ طور پر استعمال ہونے والی خاتون ہو اور الزامات ایک خاص نوعیت کے ہوں تو اسکا مطلب مزاحمتی حلقوں کیلئے 'ہینڈز اپ' لیا جائے یا اگر ایکٹوسٹس کو اسٹیبلشمنٹ کا لنک نظر آتا ہو لیکن الزامات فیمنسٹ ڈومین کے ہوں تو اس واقعے اور الزامات کے تسلسل پر تنقید کا رخ حکومت اور ہینڈلرز پر تنقید کیطرف رخ نہ موڑا جائے؟آیا کسی پراپیگنڈہ مہم کے امکانات کی صورت میں اگنور کیا جائے اور پراپیگنڈہ اور کیچڑ اچھالنے کے مطلوبہ نتائج اور مقاصد کیخلاف کوئی ردعمل نہ پیش کیا جائے یا انہیں کاؤنٹر کرنے کی اپنی سی سعی کی جائے؟ اگنور کرنا بھی فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ ایسے الزامات پر خاتون کے 'ساتھ کھڑے ہونے' کے علاوہ کوئی رویہ قابل قبول نہیں۔

اگر دائرے واضح ہوں تو مؤقف اپنانا آسان ہوتا ہے لیکن نظریات کا امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں لکیر مبہم اور غیر واضح ہو۔ گزشہ چند دنوں نے ثابت کیا ہے کہ فیمنزم نے برسوں پیچیدگیوں کو نظر انداز کر کے مرد اور عورت کے جو دائرے کھینچ رکھے ہیں، وہ مکمل طور پر ناکام ہیں۔ سنتھیا کے کیس میں اتنی سی سرخی پر غور کریں 'ایک غیر ملکی خاتون کے سابق وزیراعظم و وزراء پر دست درازی اور جنسی بے حرمتی کے الزامات'، اگر یہ سرخی بغیر سنتھیا کے سامنے آتی تو فیمنسٹوں نے بالاتفاق خاتون کی جرأت و ہمت کی تحسین، پدر شاہی نظام میں مردوں کی بالادستی اور خاتون کے ایجنڈے یا مقاصد پر کسی بھی قسم کے سوالات اٹھانے یا شک کرنے والے مردوں کو مینز پلاننگ کے کھاتے میں ڈال دینا تھا۔ یہی روایت رہی ہے۔ سنتھیا کی جگہ اگر کوئی اور امریکی خاتون یا سیاح ہوتی تب بھی ردعمل ایسا ہی ہوتا۔

یوسف رضا گیلانی پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی عہدے پر رہے ہیں، جن دیگر سیاستدانوں پر الزام لگایا گیا، وہ بھی طاقت کے مراکز میں رہے ہیں۔ دوسری طرف سنتھیا رچی ایک 'عام شہری' اور خاتون ہے۔ سنتھیا پر طاقتور اداروں سے تعلق ہونے کا الزام ہے یا اسکی 'ماضی' کی سرگرمیوں سے ایسا نتیجہ نکالا گیا۔ ماضی کا ہراسانی و ریپ کے الزامات سے تعلق بھی فیمنزم کی نفی ہے اور کئی فیمنسٹوں نے ہی اس بنیاد پر سنتھیا کو بیہودہ اور غلیظ گالیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بینظیر بھٹو کا تعلق بھی طاقتور جاگیردار اور سیاسی خاندان سے تھا۔ہنوز ایسا کوئی اشارہ کہیں سے نہیں ملا کہ بینظیر بھٹو کی مبینہ وکٹمز پر بھی تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے کیلئے تحقیقات ہوں۔ مرد وزیراعظم کو شاملِ تفتیش کیا جائے تو وہ کونسا پیمانہ ہے جو خاتون وزیراعظم کو استثناء دیتا ہے؟

بینظیر بھٹو کیخلاف ٹویٹ میں سنتھیا رچی نے عظمیٰ خان کیس پر کسی ٹویٹ کو قوٹ کرتے ہوئے طاقتور طبقات کے وطیرے کے حوالے سے الزام لگایا تھا۔ اسکے بعد عظمیٰ خان کا کیس ٹویٹری بحثوں میں پس پردہ جانا شروع ہوا بلکہ کیس واپس لے لیا گیا اور سنتھیا نمایاں ہوتی گئیں(بلاگ اپلوڈ کرنے تک یہ معاملہ بھی تقریبا ماند پڑ چکا ہو گا)۔ عظمیٰ خان کیس کو مرد عورت کا مسئلہ بنا کر فیمنسٹوں نے عثمان کو رگید کر اپنی آؤٹ ریج کا حق ادا کر دیا، یہ جانے بغیر کہ مجموعی طور پر وہ کن اقدار اور خاندانی اداروں کا دفاع کر رہی ہے۔ انہی دنوں میں شہروز سبزواری کی شادی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی تو اس میں بھی جنہیں نظری طور پر جنسی آزادی کا حامی ہونا چاہیے تھا، انہوں نے مرد عورت کا مسئلہ بنا کر 'آؤٹ ریج' کھیلی۔ ہماری فیمنسٹیں بہت سے مسائل پر انتہائ کنزرویٹومؤقف اپناتی ہیں اور اسے فیمنزم کا نام دے دیتی ہیں اور مزید یہ کہ جو نہ مانے، وہ کینسل بھی ہو جاتے ہیں۔

سنتھیا کے کیس میں ردعمل مختلف ہونا واضح کرتا ہے کہ عملی مؤقف میں فیمنسٹ بھی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتی ہیں لیکن کسی ایک خاتون کے کیس کو دوسری خاتون کے کیس سے ممتاز کرنا، مختلف مؤقف اور شدت اپنانا، کسی خاتون پر خفیف سا شک کرنا، کیا یہی وہ رویے نہیں ہیں جنکے خلاف فیمنزم نے برسوں ذہن سازی کی ہے۔ اگر فیمنسٹوں کے ردعمل میں نظری خیالات اور عمل کے درمیان تفاوت اور لچک ہو سکتی ہے تو دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہی اختیار کسی دوسرے کو دینے کیلئے تیار ہیں؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مکمل تھیوری کے تابع ردعمل اپناتیں، جس میں انہوں نے لچک دکھائی، اور سنتھیا کیساتھ کھڑے ہو کر اس پر سوالات، طنز اور شک کرنے والوں کو کینسل کرتی جاتیں اور ان پر روایتی حملے کرتیں تو کیا وہ مبینہ پراپیگنڈہ مہم وائرل کرنے کی انجانے یا جانے میں معمولی یا مؤثر سہولت کار نہ بن جاتیں؟اگر بالفرض پیپلز پارٹی اور اسکے سیاستدان کسی حوالے سے نشانے پر ہیں تو انکے ساتھ کھڑے اور انکی حمایت میں کیا فکری رکاوٹیں ہیں؟ آیا مخصوص حالات میں ظالم اور مظلوم کی لکیر مرد اور عورت کے دائروں سے ٹکراتی ہے؟ اسی ضمن میں ایک اور معاملہ سوشل میڈیائی 'آؤٹ ریج' کلچر کا ہے کہ اگر آؤٹ ریج کلچر مخصوص دائروں اور رٹے رٹائے خطوط پر گھومتا رہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو 'اِس جانب' سمجھتے ہوئے 'اُس جانب' کے الاؤ بڑھکانے میں ایندھن بنتا ہے۔ عالمی طور پر نسل پرستی اور پاپولزم کے ابھار اور اس میں سوشل میڈیا کے کردار نے ان سوالات اور اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

فیمنزم دیگر بہت سے حقوق کے نظریات کیطرح ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کے دعوے کیساتھ ذاتی تعصبات کے نظریہ میں عمل دخل کرنے سے انکار کرتا ہے یا ایسے رجحانات کی کم از کم فکری و نظری طور پر حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ عملی طور پر مگر گروہی ردعمل میں انفرادی و مجموعی تعصبات بہت حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی برسوں کی مقبولیت کے بعد گروہوں کے معیار اور رخ خاصے حد تک واضح ہو چکے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیائی عدالتوں کے اپنے اصول ہیں جو کسی کم از کم پراسیس کا محتاج ہونا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ سنتھیا کے الزامات اور افراد کی فہرست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک عورت کتنے مردوں پر آزادانہ الزام لگا سکتی ہے۔ چند ٹویٹس پل بھر میں کتنے مردوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کر سکتی ہیں۔۔ لمٹس کہاں ہیں۔۔ اصول کیا ہوئے۔۔ اگر کل کلاں کو سنتھیا خواتین کے حقوق کی پاکستانی این جی اوز کے امریکی ڈونرز سے روابط شروع کر دیتی ہے تو کیا فیمنسٹ حلقوں میں خاموشی یا ردعمل کی کیفیت و شدت یہی ہو گی؟

برنی سینڈرز کیخلاف ہلیری کلنٹن کو فیمنسٹ انقلاب کی علمبردار بنانے سے الزبتھ وارن کے الزامات کے بعد برنی سینڈرز کو پانچ دہائیوں کی جدوجہد سے قطع نظر میل شاونسٹ، پدر شاہانہ اقدار کا حامل مردقرار دینے کا پراپیگنڈہ اور اسکے سیاسی اثرات ہوں یا ہراسانی و ریپ کے جھوٹے الزامات پر برسوں جیل کاٹنے یا کیرئیر تباہ کروا دینے والے مردوں پر فقط 'سوری' کا ردعمل ہو، فیمنزم نے جو ظالم مرد اور مظلوم عورت کے دائروں کی بنیاد پر نظری عمارت تعمیر کی ہے، وہ ایسے مواقع پر زمین بوس ہو جاتی ہے۔ عورت کو بطور طبقہ پیش کرنے سے انکے ثقافتی، معاشی، فکری اختلافات، مفادات اور ہزار قسم کے الگ الگ گروہوں اور انکے رویوں کی تکثیریت کو مٹا دیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مجموعی تصویر کا اطلاق جب انفرادی پہلو سے کیا جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

فیمنزم کی ایک ڈیڑھ صدی میں 'می ٹو' ایک تاریخی مہم کا درجہ رکھتی ہے جس نے لاکھوں خواتین (اور مردوں) کو اپنے تلخ تجربات کیخلاف سامنے آنے کا حوصلہ اور موقع دیا۔ اس نے دنیا بھر میں ہراسانی اور ریپ کلچر کے عام مگر خاموش ہونے کے رجحان کو بدلنے کی ٹھانی اور وسیع پیمانے پر عالمگیر شعور اجاگر کیا۔ یہ ایک غیر معمولی قوت، توانائی اور جذبے کی تحریک تھی۔ می ٹو مہم کے بعد مجموعی طور پر فیمنزم کی پیش کردہ روایات، اقدار اور اثرات کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ علی الخصوص اسکی ذیلی مہمات یعنی کینسل کلچر اور پولیٹیکل کریکٹنیس کی سخت گرفت کی ضرورت ہے جس نے اظہار رائے اور آزادانہ بحث کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اس ضمن میں روایتی اقوال والتئیر 'جو تم کہتے ہو، میں اس سے اختلاف کرتا ہوں لیکن تمہارے اظہار رائے کے حق کا مرتے دم تک دفاع کروں گا' یا روزا لکسمبرگ 'آزادی تو انکے لیے آزادی ہے جو مختلف سوچتے ہیں' کے پیش کیے جاتے تھے لیکن ان اقدار کو پہنچتا ہوا نقصان واضح ہے۔

ایسے میں جبکہ ناں کا مطلب ناں سے آگے بڑھ کر عورتوں کی جانب سے 'ہاں، ہاں اور ہاں' کا مطلب ناں بنا کر جنسی جبر اور بالادستی کا رنگ دیا گیا ہے (مونیکا لیونسکی کے بیانات اسکی ایک مثال ہیں) اور کمرشلزم، ڈی سیکشولائزیشن، سیلف اوبجیکٹی فیکیشن، صحت مند مردانہ رویوں کی جذباتی مخالفت کے علاوہ طبقاتی، سماجی اور ثقافتی پیچیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، خود تنقیدی از حد ضروری ہے۔ کسی نظریے کا کردار بدلنے اور مظلوم کو ظالم کا کردار اپنانے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ نظریات جہاں اپنے الٹ کردار میں بدل رہے ہوں یا درست نتائج نہ دے رہے ہوں، وہاں انہیں واضح کرنے کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے اور اسی عمل پر نظریات کی توسیع کا انحصار ہوتا ہے ورنہ وہ دائروں میں محبوس ہو کر گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مرد اور عورتیں جب علیحدہ علیحدہ دنیاؤں کے باسی ہونے کی بجائے اسی دنیا میں قریب آدھی آدھی آبادی کے تناسب سے موجود ہیں تو سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا سروائیول، مقابلہ اور شارٹ کٹ کی دنیا میں پدر شاہی نظام کیطرح فیمنزم بھی مردوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر خواتین کے آگے پھینکنے کا نام بنتا جا رہا ہے؟

فیمنزم نے مجموعی طور پر خواتین کو پولیٹیسائز کرنے، اپنی آواز بلند کرنے اور سب سے اہم اپنی آواز بننے میں کردار ادا کیا ہے۔ بہتر دنیا کا خواب دیکھنے والا کوئی بھی انسان خواتین کے میدانِ عمل میں شمولیت کا مخالف ہے تو وہ آدھی دنیا کو تعمیر کے عمل سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔ خواتین کے بااختیار ہونے سے خواتین اور مردوں کے فطری رشتوں سے کہیں آگے بڑھ سماجی، سیاسی، معاشی اور انسانی رشتوں اور ڈھانچوں پر گہرے اثرات پڑیں گے۔ اگر بدلاؤ، مزاحمت، ظلم کی سرکوبی کے ذرائع اور راستوں میں ذاتی تعصبات، وقتی سمجھوتے، فکری افلاس اور مختلف لوگوں کیلئے مختلف معیار در آئیں تو قطعا یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر کامیابی مل جاتی ہے تو بدلی ہوئی دنیا کچھ مختلف ہو گی کہ اس دنیا کو تعمیر کرنے کی خواہش رکھنے والے/ والیاں گروہی عصبیتوں کیساتھ ہی اس دنیا میں داخل ہو رہے ہوں گے/گی۔