Thursday, 6 December 2018

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازعہ

بابری مسجد ایودھیا (فارسی مترادف: اودھ) کی ایک مسجد ہے جسے بابر نے تعمیر کروایا۔ بعد میں روایات مشہور ہونا شروع ہوئیں کہ یہ مسجد رام چندر جی سے منسوب مندر کو ڈھا کر تعمیر کی گئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ تصورات پختہ ہونے لگے جسکے نتیجے میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کا غالبا ایک حصہ منہدم کر دیا گیا۔ اسکے بعد فسادات پھوٹ پڑے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، رپورٹس کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہربنس مکھیا نے اپنے مقالے ”رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا تنازعہ، عہد وسطیٰ کی شہادت“ میں بابری مسجد تنازعے کے ابھار کی تاریخ اور رام جنم بھومی کے مندر ڈھانے کی شہادتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ پروفیسر مکھیا کی تحقیق کے مطابق اس عہد کے ہندو، مسلم مؤرخین، شعراء وغیرہ سب مندر کی جگہ بابری مسجد کی تعمیر پر خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ شاہی کتبے، درباری تواریخ اور دیگر دستاویزات، ہر قسم کی ادبی کتابیں اور یورپی سیاحوں کی تحریریں بھی اس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ 
بابر جو اپنی ”توزک بابری“ میں معمولی معلومی واقعات کو بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا مگر اس نے اپنے ایودھیا کے دورے کے ذکر میں کہیں بھی رام مندر ڈھانے اور اسکی جگہ مسجد تعمیر کرنے کا نہیں لکھا۔ اگر وہ تعصب میں مندر گرا کر مسجد تعمیر کرواتا تو ضرور اسکا اپنے ”کارنامے“ کے طور پر ذکر کرتا۔ بابر کے جانشینوں بشمول متعصب اورنگزیب نے، جو مندروں کو گرا کر مساجد تعمیر کرنے میں اطمینان قلب محسوس کرتا تھا، اس بارے میں ایک لفط بھی نہیں کہا اور نہ ہی انکے درباروں سے وابستہ مذہبی علماء کی لکھی ہوئی تاریخ میں کہیں ذکر ملتا ہے۔ ایودھیا کے ہندو شاعر گوسوامی تلسی داس، جس نے اپنا رزمیہ (رام چرتا مناس، ۱۵۷۰ء) اور دیگر کلام ایودھیا میں ہی لکھا، حیرت ہے کہ اسکی نگاہوں سے بھی یہ رام مندر کا انہدام اوجھل رہا۔
ایودھیا کے علاقے میں واقعی یہ ایک بڑی مضبوط روایت ہے کہ بابری مسجد رام کی جائے پیدائش پر رام سے منسوب مندر کی جگہ تعمیر کی گئی لیکن ۱۷ اور حتیٰ کہ ۱۸ ویں صدی کے بڑے حصے میں ایسے کسی عقیدے کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس روایت کا آغاز ۱۸ویں صدی میں ہوا کہ رام جنم بھومی پر مسجد تعمیر کی گئی لیکن ۱۹ویں صدی میں جا کر اسکو مندر سے منسوب کر دیا گیا یعنی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے اور روایت کی تشکیل میں صدیوں کا فرق موجود ہے۔ ۱۸۶۰ء تک یہ روایت انتہائی کمزور تھی جسکی بناء پر پی کارنیگی کو رام جنم بھومی پر مندر کی موجودگی کا قیاس کرنا پڑا۔
بیسویں صدی میں ۱۹۰۵ء میں اس قصے نے ڈسٹرکٹ گزیٹر میں ایک قدیم مندر کے انہدام کے مبہم ذکر کی صورت میں جگہ پا لی اور وہاں سے مسز بیوریج نے یہ قصہ اٹھا کر مفروضوں کی بناء پر رام مندر کے گرائے جانے اور اس جگہ بابری مسجد کی تعمیر کو ایک حتمی واقعہ بنایا۔ اس قیاس کی بنیاد محض بابر کا مسلمان ہونا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ
”یہ اغلب ہے کہ ایودھیا میں اپنے قیام کے وقت مسجد کی تعمیر کا حکم بابر نے ۹۳۴ء ہجری میں دیا ہو گا جسکے دوران وہ قدیم عبادت گاہ کے وقار اور تقدس سے مرعوب ہوا ہو گا جسکی جگہ (یا اسکے کچھ حصے) پر مسجد تعمیر کی گئی ہو گی۔ محمد کے فرمانبردار پیروکاروں کیطرح اسکے لئے کوئی اور مذہب ناقابل برداشت ہو گا اور مندر کی جگہ مسجد کی تعمیر کو وہ فرض شناسی اور قابل تعریف کام سمجھتا ہو گا“۔
(تاریخ جرنل نے اپنے ساتویں شمارے میں پروفیسر ہربنس مکھیا کے مقالے کا اردو ترجمہ شائع کرایا۔ ڈاؤن لوڈ کر کے ملاحظہ کیجیے)
۱۹۸۶ء میں جب بابری مسجد کا تنازعہ زور پکڑنا شروع ہوا تو انڈین ہسٹری کانگریس نے برابر ۸۶ء سے ریزولوشن پاس کیے جن میں کہا گیا کہ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ یہ مسجد یا مندر کا تنازعہ ہے لیکن ۱۵۸۸ء میں بنی بلڈنگ کو گرایا نہیں جا سکتا اور حکومت اسے تحفظ فراہم کرے۔ بعد میں جب ہسٹری کانگریس کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا اور یہ افسوسناک سانحہ رونما ہوا تو مذمتی قراردادیں پاس ہوئیں۔ سنیے انڈین ہسٹری کانگریس کا بابری مسجد پر مؤقف معروف مارکسی مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی زبانی:
ہمارے بعض لبرل بھی محض رام جنم بھومی اور رام چندر جی کے مندر کے افسانے پر محض اسلئے یقین رکھتے ہیں کہ بابر مسلمان تھا، جنگ و جدل میں مصروف رہا، اسکے جانشینوں نے مندر گرائے اور آپس میں خونریزی میں مصروف رہے، سلاطین اور مغلوں نے بارہا دیگر مذاہب کے لوگوں پر ظلم ڈھائے اور انکی عبادتگاہوں کو توڑا اور لوٹا وغیرہ وغیرہ لیکن یہ سب اس چیز کی شہادت نہیں بن سکتا کہ رام مندر کو ڈھا کر ہی بابری مسجد تعمیر کی گئی۔
بہرحال اسکا ذکر ضمنی طور پر کیا لیکن یہ ایک فسطائی رجحان چل پڑا ہے کہ مغل اور عہد سلاطین میں تعمیر ہونے والے تاریخی عمارات کو کسی قدیم مندر سے منسوب کر کے #ReclaimYourMandir کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ ٹھوس ثبوتوں اور قدیم دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر تاریخی بحثیں اپنی جگہ ضرور ہونی چاہییں لیکن محض روایات، قصے کہانیوں اور مفروضوں کی بناء پر بلوے کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اس آگ سے کھیل کر ہزاروں انسانوں کو خون میں نہلا دینا سراسر جہالت ہے۔

Saturday, 30 June 2018

خودکشی کے دفاع میں

خودکشی کو ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جہاں خودکشی کرنے والے افراد سے معاشرتی نفرت وابستہ ہوتی ہے، وہاں خودکشی کرنے والے کے اہلخانہ کیلئے بھی موت کے صدمے سے بڑھ کر مشکلات لوگوں کا سامنا کرنے میں ہوتی ہیں اور وہ موت کی وجہ چھپاتے پھرتے ہیں اور خودکشی کے عمل کو اون نہیں کرتے۔ خودکشی کرنے والا دوہرے منافرانہ رویوں کا شکار ہوتا ہے۔ قریبی لوگ بھی اسکی زندگی کے اختتام کے فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے عمومی طور پر ایسے جواز پہناتے ہیں 'اللہ کی طرف سے موت ایسے ہی لکھی تھی' اور معاشرہ اس پر اور اسکے خاندان پر لعن طعن بھیجتے ہوئے تمام تر رویوں کا ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہراتا ہے۔ 
ایک وجہ تو ایسے مذہبی عقائد کا پایا جانا ہے جنکی رو سے خودکشی حرام موت ٹھہرتی ہے اور خودکشی کرنے والوں کے جنازے، تعزیت، تدفین اور بخشش کے بارے میں عام مرنے والوں سے علیحدہ احکامات ہیں۔ ریاستی قوانین اور سماج مجموعی طور پر خودکشی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اسے بزدلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سماج افراد پر چند ذمہ داریاں اور کردار ادا کرنے کی توقعات کا بوجھ ڈالتا ہے اور اگر کوئی شخص پورا اترنے کی بجائے اپنی الگ راہ لیتے ہوئے زندگی ختم کر بیٹھے تو اس فرد کیخلاف غصہ اور اپنی ہتک اور بے عزتی محسوس کی جاتی ہے۔ فوج میں خودکشیوں کا تناسب بڑھنا شروع ہو جائیں یا کسان اور مزدور خودکشیاں کرنا شروع ہو جائیں تو دفاعی اور پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جسکی وجہ سے ایسے سماجی رویوں کو پروان چڑھانا لازم تصور کیا جاتا ہے جو لوگوں کو مشکل، کھٹن اور پسماندہ حالات میں بھی زندگی سے باندھے رکھیں۔ 
ایک مفروضہ ہے کہ لوگ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں یا مرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور زندگی سب کی ترجیح ہوتی ہے اور ہر کوئی زندگی چاہتا ہے۔ یہ مفروضہ بھلے اکثریت مانتی اور فطرت کے مطابق سمجھتی ہو لیکن اس دنیا میں جہاں ہر انسان کی فطرت دوسرے سے مختلف ہے، وہاں اس تصور جو الٹا کر کے دیکھیں۔ اگر چند لوگوں کی فطرت بھی اس مفروضے سے الٹ ہو تو خودکشی کے عین فطری اور ہر دور میں تمام تر حوصلہ شکنی کے باوجود موجود ہونے کیوجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ایک اور مفروضہ ہے کہ خودکشی بزدلی ہے حالانکہ خودکشی کرنے والا اپنی مرضی سے موت کا انتخاب کرتا ہے اور موت کا سامنا کرتا ہے جسے 'زندہ لوگ' انتہائی خطرناک شے سمجھتے ہیں۔ میدانِ جنگ میں دوسروں کے مفادات کیلئے اپنی جان پیش کرنے اور موت سے کھیلنے کو شجاعت قرار دیا جاتا ہے لیکن ذاتی چوائس سے کوئی ایسا کرے تو دوہرے رویے ہوتے ہیں۔ 'قیمتی جان' اور جان کے 'ضیاع' کے مفروضے بھی الٹ جاتے ہیں اگر مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ 
خودکشی کی بیشمار اقسام ہیں اور ایسی اقسام بھی ہیں جنہیں شجاعت و ہمت کی داستانوں کے طور پر لکھا اور سنایا جاتا ہے لیکن وہ اس زمرے میں آتی ہیں جو کوئی سماجی خدمت یا کردار نبھاتے ہوئے سرانجام پائی ہوں۔ مجموعی طور پر سماج خودغرض ہوتا ہے اور سماجی رویوں میں سماجی مفادات کا عکس پایا جاتا ہے۔ سماجی غیرت اور عزتیں بچانے کیلئے کنویں میں کود جانے والی خواتین ہوں یا جنگوں میں تباہی پھیلانے والے انسان ہوں، یہ داد و دہش کے حقدار ٹھہرتے ہیں لیکن اگر خودکشی کوئی خود کرے تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے کہ کسی کو سماج کے شکنجے سے ہٹ کر اپنی ذات کیلئے سوچنے اور کچھ کر گزرنے کی ہمت اسے کیوں کر ہوئی۔ 
خودکشی ایک بغاوت ہے، زندگی کیخلاف بغاوت، زندگی کے عائد کردہ بوجھ جیخلاف بغاوت اور زندگی جینے کی اذیت کیخلاف بغاوت ہے۔ ہر شخص کو خودکشی کے آپشن ہر زندگی میں غور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے موت کا انسانوں پر طاری سماجی خوف زائل ہونے اور اس سے نجات میں مدد ملے گی۔ موت کو لائٹ لینا ہی موت کو حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں آسانی کا سبب ہو سکتا ہے۔ مرنا انتہائی ہتک آمیز بات ہے کیونکہ یہ خارجی فطرت اور حرکیات کے مقابلے میں بے بسی کی اعلیٰ شکل ہے جبکہ خودکشی ایک قابل فخر اور قابلِ احترام زندگی کے خاتمے کا ذریعہ ہے جس میں فطرت کا کنٹرول انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ عرصہ پہلے ملتان میں ایک چینی انجینئیر کی خودکشی کی خبر پڑھی کہ چاندنی دیکھ کر اس نے کہا منظر کتنا سہانا اور چاند کتنا خوبصورت ہے اور کود گیا۔ یہ فعل انتہائی احمقانہ لگتا ہے اور مجھے بھی اس وقت ایسا ہی لگا لیکن ذرا تصور کریں کسی ایسے لمحے کا جس میں وقت اور حرکت کو روک دینا چاہتے ہوں اور خواہش ہو کہ سب کچھ وہیں ساکت ہو جائے اور کچھ بھی آگے نہ بڑھے، کیا ایسی صورت میں خودکشی ایک سہانا آپشن نہیں۔ وقت اور حرکت تھم جانے کی طلب مختلف مواقع پر ہو سکتی ہے جیسے کسی حسین اور ذہین دوشیزہ کی رفاقت کے لمحات کے بعد، کسی انتہائی خوبصورت منظر یا آنے والے انتہائی پریشان کن منظر سے بچنے کیلئے، کوئی ایسا لمحہ جس کے بعد مزید جینے کی حسرت اور تمنا نہ ہو، جب لمحات کو وجود میں مقید کرنے کا جی چاہے اور لمحۂ موجود کبھی ماضی نہ ہونے کی تمنا ہو۔ آخر کو کھلاڑی کیرئیر کے عروج پر کیرئیر کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور کوئی اسے بزدل نہیں کہتا کہ اس نے میدان کیوں چھوڑا۔ 
خودکشی مزاحمت کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور اسکا انفرادی بغاوت کا پہلو بھی شاندار ہے۔ بعض صورتیں افسوسناک ضرور ہوتی ہیں جن میں ذہن سازی کیساتھ کسی دوسری دنیا میں بھیجنے کیلئے اپنے ساتھ کئی زندگیاں لیتے جانے کیلئے استعمال کرنا، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی عوارض کے خارجی مظاہر کا اثر انداز ہونا ہے۔ خودکشی خالص داخلی فطرت اور اختیار کا نتیجہ ہونا چاہیے اور ایک ایسا لمحۂ سرور و انبساط اور لطف جس میں فطرت، زمان و مکاں کی تمام قوتیں فرد پر اثر انداز ہونا ختم ہو جائیں اور فرد ہو اور اسکی زندگی ہو۔ یہ زندگی کا ایک نقطۂ عروج ہو سکتا ہے۔ خودکشی فرار بالکل نہیں کیونکہ سماج اور گرد و پیش کی فطرت فرد کا حصہ نہیں ہوتے جو انکے عائد کردہ بوجھ اٹھائے پھرنے کیلئے زندگی کو استعمال کرے، یہ اپنی ذات کیطرف توجہ ہے، اپنے وجود کی آزادی کیطرف واپسی ہے۔ جن پر موت کا خوف بہت زیادہ طاری ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی اور موت کے بیباکانہ اور جرآت مندانہ فیصلے کرنے والوں سے بھی خوف کھاتے ہیں اور انکی مذمت میں انکا خوف جھلک رہا ہوتا ہے۔ 
گزشتہ دنوں چند سیلیبرٹیز اور پھر کعبے میں یکے بعد دیگرے خودکشی کرنے والے فرانسیسی، بنگلہ دیشی اور سوڈانی پر بہت سے لوگ خفا ہیں۔ کعبے میں خودکشی سے مقاماتِ مقدسہ کا تقدس، رمضان کے بابرکت مہینے، آخری عشرے کی راتیں، ایمانی قوت، اطمینان قلب، دین سے دوری، خودکشی کی نفسیات سے عدم آگاہی، مسلمانوں میں خودکشی کے وجود کا ڈینائل، موت کا خوف، موت سے پرے کسی دوسری دنیا میں جلادوں کا خوف، یہ وہ عوامل ہیں جو اسلامیوں کو خودکشی کرنے والے پر لعن طعن اور گالم گلوچ پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ سے لاعلمی کا فیکٹر بھی ہے کیونکہ مستند احادیث کے مطابق رسول اللہ نے خود متعدد بار خودکشی کی کوشش کی اور انہی مکہ کی وادیوں اور پہاڑوں سے کود کر اپنی جان لینا چاہی۔ 
طبری اور ابن ہشام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی مخلوق میں شاعر اور پاگل سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی قابلِ نفرت نہ تھا۔ ﴿میں شدتِ نفرت سے﴾ ان کی طرف دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ ﴿اب جو وحی آئی تو﴾ میں نے ﴿اپنے جی میں﴾ کہا کہ یہ ناکارہ.... یعنی خود آپ.... شاعر یا پاگل ہے! میرے بارے میں قریش ایسی بات کبھی نہ کہہ سکیں گے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جا رہا ہوں وہاں سے اپنے آپ کو نیچے لڑھکا دوں گا اور اپنا خاتمہ کر لوں گا اور ہمیشہ کے لیے راحت پا جاؤں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں یہی سوچ کر نکلا۔ جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھایا۔ دیکھا تو جبریل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل میں اُفق کے اندر پاؤں جمائے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہر کر جبریل علیہ السلام کو دیکھنے لگا اور اس شغل نے مجھے میرے ارادے سے غافل کر دیا۔( طبری ۲۰۷/۲ ابنِ ہشام ۲۳۷/۱، ۲۳۸)
اسکے علاوہ صحیح بخاری کتاب التعبیر کی روایت ہے کہ:
’’
وحی بند ہو گئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند و بالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: ’’اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کے رسول حق ہیں۔‘‘ اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا۔ نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہو کر پھر وہی بات دُہراتے۔“ ( صحیح بخاری کتاب التعبیر باب اول مابدئ بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرؤیا الصالحتہ ۱۰۳۴/۲)
انتظار حسین کے ایک افسانے کی سطر ہے 'خودکشی بھی اظہارِ ذات کی ایک صورت ہے۔ یہ داخلیت پسندی کا نقطۂ ارتکاز ہے جس پر ہم نے اوپر بحث ہے۔ خودکشی کی کسی خبر پر ڈپریشن کی بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، خودکشی خودکشی ہے اور ڈپریشن ڈپریشن۔ مؤخر الذکر ایک فیکٹر ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہم معنیٰ یا مترادف نہیں ہو سکتی۔ اردو ادب یا عالمی ادب میں جن شعراء، ادیبوں اور آرٹسٹس نے خودکشی کی، وہ سبھی مایوس لوگ نہ تھے بلکہ ان میں سے کئی تو امید کے پیامبر تھے اور انکی تخلیقات میں امید کی جھلک اور پیغام ملتا ہے۔ بلاشبہ اگر نفسیاتی عوارض جیسے خارج کے فیکٹر ہوں تو افسوسناک ہیں کیونکہ یہ چوائس کے امکان کو محدود کر دیتے ہیں لیکن خودکشی بذاتِ خود مرض نہیں۔ شعوری کوشش اور چوائس کی صورت ہمیں چوائس کا احترام کرنا چاہیے اور چونکہ خودکشی پر تمام تر طعن و تشنیع، فتاویٰ اور گالم گلوچ ایسے وقت میں ہوتے ہیں جب ٹارگٹ کسی جواب دینے اور دفاع کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ پریشان کن قابلِ رحم حالات میں تو ویسے بھی یہ انتہائی غیر اخلاقی ہے اور سماجی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ 
ہمارے ہاں خودکش حملوں میں درجنوں اور کئی مواقع پر سینکڑوں جانوں کو اپنے ساتھ لیجانے کا دفاع کرنے والے تو ہزاروں ہیں، غائبانہ نماز جنازہ بھی ہو جاتے ہیں اور انکی پلاننگ کرنے والے پھانسی چڑھ جائیں تو جنازوں اور ہمدردی کیلئے ہزاروں امڈ آتے ہیں لیکن خودکشی کی چوائس کے احترام اور دفاع کوئی نہیں کرتا اور خودکشی کے بعد آخری رسومات اور اہلخانہ کیلئے ہر موڑ پر مسائل اور پریشانیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 325 اقدامِ خودکشی کو جرم قرار دیتا ہے جسکی سزا جرمانہ یا ایک سال قید یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ اسے دو ہزار سترہ میں ڈی کرمنلائز کرنے کیلئے بل پیش کیا گیا لیکن مسترد ہو گیا۔ ایسی کسی سزا کا موجود ہونا انتہائی غیر انسانی ہے چاہے خوکشی کے عوامل کچھ بھی ہوں۔ خودکشی پر بحث اور دفاع ہم زندوں نے کرنا ہے تاکہ اپنی جان پر حق کا اختیار محفوظ رہے، کل کو یہ ہماری ذاتی چوائس اور مسرت کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ موت کو ایک جشن کی طرح منایا جانا ممکن ہے۔ خودکشی یا موت ہمیشہ المیہ اور مقامِ افسردگی نہیں۔چکبست برج نرائن کا ایک شعر ہے:
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

Monday, 8 January 2018

بلاگرز کا سالانہ

سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر کو جبری گمشدہ کئے جانے کو ایک سال گزر گیا۔ موچی کے بلاگرز میں انکے ساتھ ایک اسکول ٹیچر بھی تھے۔ اسکے علاوہ ثمر عباس بھی انہی دنوں میں لاپتہ ہوئے جن کی تاحال کوئی خبر نہیں۔ جنوری کے پہلے عشرے کو اگر مذہبی انتہاء پسندی کی وحشت کے بھرپور مظاہرے کا عشرہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ چار جنوری کو شہید سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا جسکے بعد انکے قاتل کو گلوریفائی کرنے اور غازیوں کو ہیرو بنانے کا منظم سلالہ شروع ہوا جو نادیدہ و دیدہ قوتوں کی تائید و نصرت اور ریاست کی جانب سے تشدد اور نفرتوں پر اکسانے کے فری ہینڈ سے آخرکار اتنی قوت پکڑ گیا کہ گزشتہ سال ریاست کو ان مذہبی فاشسٹ قوتوں کے سامنے شرمناک سرنڈر کرنا پڑا۔ رواں سال شہید سلمان تاثیر کیلئے شمعیں جلانے پر تو قدغنیں تھیں لیکن انکے یوم شہادت پر قاتلوں کے حامیوں کو لانگ مارچ کی بھرپور ریاستی سہولتکاری میسر تھی۔ جنوری کے پہلے دس دنوں میں ہی طالب کو اسکول پر حملے سے روکتے ہوئے اعتزاز احسن کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا۔ بظاہر بلاگرز کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے والے، بلاسفیمی جہادی اور ناراض طالب بھائی مختلف کردار ہیں لیکن بربریت کے بیانیے اور مذہبی فاشزم مشترکہ ہے۔ اس سال کا آغاز بھی کراچی یونیورسٹی کے بلوچ ایکٹوسٹس کی گمشدگی کیساتھ ہوا۔
 ۴ جنوری کو وقاص گورایہ اور عاصم سعید لاپتہ ہوئے، ۶ جنوری کو سلمان حیدر اور ۷ جنوری کو احمد رضا نصیر کو لاپتہ کر کے لاہوت و لامکاں میں پہنچایا گیا۔ اسکے ساتھ دیگر ایکٹوسٹس کو بھی دھمکی آمیز کالز کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سوشل میڈیا ایکٹوزم کیخلاف ایک منظم کریک ڈاؤن تھا۔ خوف اور دہشت پھیلائی گئی اور کئی بلاگرز، فری تھنکرز اور سوشل میڈیا پیجز چلانے والے ایکٹوسٹس اپنی جان کے تحفظ کیلئے گمنامی میں چلے جانے پر مجبور ہوئے۔ قلمی ناموں کیساتھ سوشل میڈیا ایکٹوزم قریب قریب ناممکن ہو گئی کیونکہ اپنے نام اور شناخت کیساتھ کم از کم یہ سہارا ضرور وابستہ ہے کہ لاپتہ ہونے کی صورت میں آواز اٹھانے والے چند لوگ تو مل جائیں گے۔ فری تھنکرز کے گروپس اور پیجز بلاک کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ دوسری طرف جب بلاگرز ٹارچر سہہ رہے تھے، الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر انہیں اغواء کر کے تشدد کا جواز بخشنے کیلئے بلاسفیمی و غداری کا سہارا لینے والے مکمل آزاد تھے۔ وحشت کے ناچ میں جو الزامات بلاگرز پر اچھالے گئے، ان پر کوئی کلام نہیں، سوال تو یہ ہے کہ اگر وہ الزامات سچ ہوتے تو ریاست یا غیر ریاستی عناصر کیلئے شہریوں کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔ انکے خاندانوں کو اذیت میں مبتلا کرنے کو محض ان الزامات سے جسٹیفائی کیا جا سکتا ہے اور اس قسم کے تشدد کے جوازوں کے بعد معاشرہ مہذب یا انسانوں کا معاشرہ کہلا سکتا ہے۔ ہمارے سماج میں ان سوالات کا جواب دینے کا تو کوئی رواج نہیں، البتہ اسی قسم کے سوالات ہوتے جو لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید مختلف انٹرویوز میں ٹارچر اور اپنے اغواء کاروں کے متعلق بتا چکے ہیں، سلمان حیدر نے بھی نظم اور بی بی سی پر بلاگ لکھا ہے جس میں دیگر تشدد تو علاوہ بیان ہوا، مطالعہ پاکستان کے جبری اسباق کا تشدد ہی کیا کم ہے۔ احمد رضا نصیر کی یادداشتیں بھی شاید کسی مناسب موقع پر سامنے آ جائیں گی۔ احمد ایک ہنس مکھ اور زندہ دل انسان ہے اور ہم اسے امام احمد رضا خان کی نسبت سے اعلیحضرت ثانی اور امام بھی کہا کرتے تھے۔ شہرت سے دور بھاگتا ہے اور گمنام رہ کر اپنی آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ موچی پیج اس نے بنایا جسے بعد میں وقاص گورایا، عاصم سعید نے بھی جوائن کیا۔ مختصر دورانیے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بوٹ پرست سیاستدانوں، حوالدار میڈیا کے بیانیے اور ملائیت کے تسلط پر طنز و مزاح اور کارٹونوں پر مبنی اس پیج کی مؤثر کاٹ اتنی تیز ہو گئی کہ ایٹمی ریاست کے نظریاتی عدم تحفظ کیلئے خطرہ بن گئی۔ یہ باہمت احمد کی کاوش تھی جس میں دیگر بلاگرز نے بھی حصہ ڈالا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ گمشدگی کے دوران اور اسکے بعد اب تک وہ غلیظ پراپیگنڈے اور لایعنی کہانیوں کا برابر نشانہ بنا ہوا ہے جس میں اپنے پرائے برابر حصہ لیتے ہیں۔
طنز و مزاح اور تمسخر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ وحشیانہ اتھارٹی کا اذہان سے خوف دور کرتی ہے۔ ہر اتھارٹی پر یہ بار ہوتا ہے کہ وہ اپنا جواز ثابت کرے اور استحصالی اتھارٹی ہمیشہ جواز کے سوال سے ہی عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے، اسلئے وہ اذہان پر خوف اور دہشت طاری کر دیتی ہے تاکہ وہ سوال اٹھانے کی جرآت نہ کر پائیں۔ جب کوئی باہمت انسان اس خوف سے خود کو آزاد کرا لے اور معاشرے پر چھائی ہوئی خوف کی فضا کو توڑنے کی کوشش کرے تو وہ وحشیانہ قوتوں کیلئے چیلنج بن جاتا ہے کیونکہ اسے دیکھ کر مزید لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ خود کو خوف سے آزاد کرائیں اور خوف کے بتوں کیخلاف کھڑے ہو جائیں اور اگر یہ سلسلہ چل نکلے تو ان قوتوں کی تحلیل اور جارحیت کی شکست پر منتج ہوتا ہے جو انکے مفادات میں بالکل نہیں ہوتا، اسلئے وہ اسے آغاز میں ہی کچلنا شروع کر دیتے ہیں۔ موچی پیج کی بھی یہی کہانی تھی۔ پاکستان کے پاور اسٹرکچر کا خلاصہ تین لفظوں میں آ جاتا ہے 'ملا ملٹری الائنس'، باقی سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں، ملک ریاضوں کو ان سے مفاہمت میں حصہ بٹورنے اور حاکمیت کا موقع ملتا ہے۔ موچی پیج اس پاور اسٹرکچر کیلئے چیلنج تھا۔
سلو بھائی نے لکھا ہے کہ انہیں لاش پھینکے جانے کیلئے چنیوٹ یا گوجرانوالہ کا آپشن دیا گیا تھا لیکن بلاگرز سے اسکے علاوہ وہ درندے بار بار آخری وصیت بھی لکھواتے اور دنیا کیلئے آخری پیغام ریکارڈ کروانے کا کہتے تھے۔ احمد کے بقول تین ہفتے سے ایک ماہ کے دوران ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا ہو گا جب ایسا نہ محسوس ہوا ہو کہ یہ لمحہ آخری لمحہ ہے۔ کہنے کو تو پچیس تیس دن تھے لیکن ذہنی و جسمانی اذیت کا ایک طویل دور تھا۔ جنسی تشدد سے لیکر ٹارچر کا ہر حربہ آزمایا گیا۔ لاپتہ کیا جانا عام اسیری سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ ہر لمحہ بے یقینیت اور طرح طرح کے خدشات کا الگ ذہنی دباؤ رہتا ہے۔ ٹارچر کرنے والوں کے رویے ہر دم بدلتے رہتے ہیں اور جرم کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ اغواء کاروں میں انسانیت یا جن مذہبی و سماجی اقدار کا خود کو نظریاتی محافظ بتاتے ہیں، ویسی کوئی شے نہیں ہوتی۔ ان وحشیوں کا دفاع اور 'مائی پرائڈ' بتانے والے اگر بربریت کی یہ داستانیں سنیں یا پڑھیں تو انہیں احساس ہو کہ کن کا دفاع کرتے ہیں اگر انسانیت کی ایک رمق بھی باقی ہو، لیکن ہمارے ارد گرد، چینلز اور سوشل میڈیا پر ایسے کئی بظاہر انسانی چہرے ہیں جو اس حس سے عاری ہوتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مذہبی افیون میں ایسا بے حس نہ تھا۔ لوک داستانوں اور لوک ادب میں مذہب اور خدا کے تصور کیساتھ ایک بے تکلفی کا تعلق ملتا ہے۔ نعتیہ شاعری کی پیروڈی اور لطیفوں میں مذہبی کرداروں کا بھی لطیف پیرائے میں بیان ہوتا لیکن اب لوگ ہنسنے سے ڈرتے ہیں، بات کرنے سے خوف کھاتے ہیں۔ عربی نام مقامی لہجوں میں کیا سے کیا بن جاتے لیکن کوئی فتوی یا مہم نہیں چلتی تھی۔ اب سلام کرنے کے مقامی لہجوں پر بھی فتوے ہیں۔ پست معیار زندگی اور سہولیات نہ ہونے کیوجہ کیوجہ سے معاشرہ ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست ضرور تھا لیکن گدی نشینوں، ملاؤں کی ویسی اتھارٹی نہیں تھی جیسی آج ریاستی سہولت کاری کیساتھ ہے۔ متشدد مذہبی اعتقادات کو سماجی زندگی سے علیحدہ رکھا جاتا تھا۔ ریاستی بیانیہ جہادی ہونے کیساتھ خدا کے تصور میں خوف اور دہشت کی شدت آ گئی ہے۔ خدا کی کبریائی کا اقرار (اللہ اکبر) جسموں کے چیتھڑے اڑنے کی خبر بنتا ہے، عشق رسول سے وحشت کی تسکین کیلئے بلاسفیمی کا الزام لگانے کو ارد گرد کوئی شکار تلاش کرتا بے تاب ہجوم ذہن میں آتا ہے جسکی آنکھوں میں خون اترا ہو۔ نعتیں مرنے مارنے پر اکساتی ہیں۔ مذہب کی اصل صورت میں بحالی میں سماجی ترقی اور مقامی کلچر کیلئے موت کا پیغام ہوتا ہے۔
اسلام آباد پریس کلب کے باہر ایک بار سندھی لاپتہ ایکٹوسٹس کے لواحقین کی داستانیں سن رہا تھا تو احساس ہوا کہ عاصم، وقاص گورایہ اور سلو بھائی نے ابھی تک جو ٹارچر کا احوال سامنے لایا ہے، وہ کسی طرح بھی اسیری کے ایام کا مکمل احاطہ نہیں کرتا بلکہ اس سے تو زیادہ عذاب اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر پھرنے والے لواحقین جھیلتے ہیں۔ ٹارچر سیلز کی دیواریں بذات خود داستانیں ہوتی ہیں جہاں اپنے جرم سے لاعلم پہنچنے والے اپنے لہو سے تاریخ لکھتے ہیں۔ ان راہوں سے گزر کر آنے والے ایک ایکٹوسٹ بتا رہے تھے کہ ان سے پہلے اس سیل میں کوئی آٹھ سال تک بھی رہا تھا اور اسکے پاس یہ یادداشت رقم کرنے کیلئے اپنی انگلیوں کا لہو تھا۔ دن گننے کا واحد ذریعہ دیواروں پر لہو کی لکیریں کھینچنا ہوتا ہے۔ لاہوت و لامکاں میں پہنچنے والوں کے بنائے جانے والے دیواروں پر خاکے، کیفیت کا احوال سبھی لہو کے نقش ہوتے ہیں۔ ماہرین آثار بتاتے ہیں ماقبل تاریخ میں جب الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے تو مصوری کی زبان میں نقش بنائے جاتے تھے۔ پتھر دور سے بھی پیچھے پہنچانے کی سہولت رکھنے والے اس معاشرے میں آواز اور زبان کھینچ کر ہزاروں سال ماضی کا سفر کرایا جاتا ہے، لیکن یہ انسانی عزم و ہمت اور تخلیقی اذہان کی داستان ہے کہ وہ لاپتہ ماحول میں بھی تخلیقی صلاحیتوں اور بغاوت کے اظہار کے نقوش چھوڑنے سے نہیں چونکتے۔ زباں بندی والے کیا سمجھتے ہیں کہ وہ سماج کو گونگا کر کے اپنے مقاصد اور ہمیشہ تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بلاگرز کے معاملے میں جہاں ریاست کے تینوں ستونوں اور اداروں پر جہاں مذہبیت کا بیانیہ چھایا رہا، وہاں چوتھے ستون میڈیا کا ناکارہ پن بھی کھل کر سامنے آیا اور لاپتہ افراد اور ان پر الزامات کی مہم کا کوئی کاؤنٹر نیریٹو سامنے نہ آ سکا۔ سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے لیکن درحقیقت ریاستی بیانیے کا شور رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے حالیہ ٹویٹ میں غداری کے الزامات کیساتھ ایسی بلاسفیمی و ملک دشمنی کے فتوے لگانے والے بے نام اور بے چہرہ اکاؤنٹس کے خصوصی شکریے کیساتھ انکی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ریاست اس درجہ کی فسطائی شکل اختیار کر چکی ہے کہ مردہ باد سمجھنے والے زیادہ محب الوطن لگتے ہیں۔
دیگر بلاگرز کا ذکر ہوتا رہتا ہے لیکن احمد رضا نصیر کا ذکر بہت کم ہوتا ہے اور وہ خود بھی نہیں چاہتا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں چند آوازیں جو ریاستی و مذہبی فاشزم کیخلاف بلند ہوتی ہیں، انہیں سراہنا چاہیے۔ ان آوازوں کی خوبی اور ناتوانی ہی یہی ہے کہ غالب بیانیے کے مقابلے پر کھڑی یہ آوازیں چند ہیں اور جیسے ہی یہ کچھ زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں، انہیں کچل دیا جاتا ہے اور پھر سے نیا سفر شروع ہوتا ہے لیکن دائروں کا یہ چکر زیادہ طویل نہیں ہو گا کیونکہ ہر بار کچلنے کی کوششوں کے بعد مزید توانا آوازیں ابھرتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں نہ سہی، اگلی نسلیں ضرور پرامن اور وحشت و بربریت سے پاک معاشرہ دیکھیں گی جن میں انہیں بات کرنے کی آزادی ہو گی، چند ہاتھوں میں معاشرہ یرغمال نہ ہو گا بلکہ افراد اپنے فیصلوں اور زندگی کا اختیار خود رکھتے ہوں گے۔ ہماری نسل کیلئے یہی کیا کم ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو سماج کی ترقی کی آدرش رکھتے ہیں اور انسانیت کے روشن خوابوں کے لئے جدوجہد میں اپنے حصے سے بڑھ کر شمعیں جلاتے رہتے ہیں۔