Monday, 26 October 2015

قدرتی آفات، توہمات اور فرسودہ اعتقادات

قدرتی آفت کے وقت انسان کائنات میں خود کو تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں آفات سے بچنے کیلئے بہتر اقدامات موجود ہوتے ہیں اور شہریوں کی آفات سے نمٹنے کی تربیت کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔ اسلئے وہ آفت کے بعد حفاظتی اقدامات کیطرف متوجہ ہوتے ہیں، ریسکیو، بہتر امدادی سہولیات اور انفراسٹرکچر میں نسبتا اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ مصیبت زدہ لمحے میں اور اسکے بعد معلومات کا مستند ذریعہ میڈیا ہوتا ہے جو تازہ ترین حالات کی آگاہی مثبت انداز میں پیش کرتا ہے جس سے لوگوں کو حکمت عملی میں بھی مدد لیتی ہے۔
ترقی پذیر یا پسماندہ معاشروں میں ایسے اقدامات پر زور نہیں دیا جاتا۔ نااہلی، بدعنوانی اور کرپشن کیوجہ سے متعلقہ محکمے غفلت اور سستی کا شکار ہوتے ہیں یا پھر رشوت خوری کے ذریعے ناقص میٹیریل اور تعمیرات کے سٹینڈرڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے عمارتیں اور پلازے وغیرہ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ بے ہنگم آبادیاں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے لوگ آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں شہریوں کو آفات میں بچاؤ کی مناسب تربیت بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے اس پر زور دیا جاتا ہے۔ زلزلہ پروف عمارات تو شاذ ہی پائی جاتی ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے کھمبے وغیرہ انکے علاوہ ہوتے ہیں۔ عوام ان سب پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں۔
جب کہیں آفت آتی ہے تو پھر لوگ اپنے آپ کو بے دست و پا پاتے ہیں۔ ارد گرد کے غیر محفوظ ماحول میں اعتماد کی شدید کمی اور احساسِ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مناسب تربیت نہ ہونے کیوجہ سے انکو یہ تک سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ انکا اس موقع پر ردعمل کیا ہونا چاہیے اور جب کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو تو مایوسی، خوف اور موت کا خطرہ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ توہمات کے پروان چڑھنے کیلئے ایسا میدان انتہائی سازگار ہوتا ہے۔
اگر یہ سب توہمات و فرسودہ اعتقادات انفرادی جہالت تک محدود رہیں تو اتنا بڑا ایشو نہیں مگر جب اجتماعی طور پر افواہوں اور توہمات کو پھیلانے کی لامحدود جہالت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہو تو پھر اس پر غور کرنا چاہیے۔ حواس باختہ حالات میں چند مداریوں کی چاندنی ہو جاتی ہے جو افواہوں اور سازشی تھیوریوں کو پھیلا کر ماحول کو مزید دہشت زدہ کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں، خوف اور سنسنی خیزی پھیلاتے ہیں جس کا جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔
جن معاشروں میں سائنسی شعور کی بھی کمی ہو اور قدرتی آفات کی زمینی وجوہات اور حقائق سے متعلق بھی زیادہ معلومات لوگوں کو میسر نہ ہوں تو پھر وہ دہشت کے ماحول میں لامحالہ طور پر مافوق الفطرت اور آسمانی وجوہات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی وجوہات اپنے معاشرتی، سماجی و مذہبی روایات کے مطابق تراشی جاتی ہیں اور پھر انکا پرچار کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ نیم خواندہ و ناخواندہ افراد ان پر فی الفور یقین بھی کر لیتے ہیں۔
برصغیر میں کسی دور میں مشہور تھا کہ زمین ایک شاخِ (سینگ) گاؤ (گائے) پر ہے اور وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اسکا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر زمین رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت ہوتی ہے، وہی زلزلہ ہوتا ہے۔ اس وجہ پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت کے ذرائع محدود ہونے کیوجہ سے مختلف خطوں کے درمیان رابطہ بھی محدود ہوتا تھا، لہٰذا اگر کسی مخصوص خطہ میں زلزلہ آتا تو لوگ یہی سمجھتے کہ ساری زمین پر زلزلہ آیا۔ ایک دور میں دریائے نیل کے سیلاب کو لوگ اپنے دیوتا کی ناراضگی سمجھتے تھے جسے خوش کرنے کیلئے ہر سال کنواری لڑکی کی بھینٹ چڑھائی جاتی۔
اسی طرح کہیں پر ہم جنس پرستی کو مافوق الفطرت ہستی یا دیوتا کی ناراضگی کا سبب بتایا جاتا تو کہیں ملاوٹ کو قوم کی تباہی کی وجہ بتایا گیا اور کہیں پر کسی مقدس ہستی کی نافرمانی کیوجہ سے دیوتا کو قہر نازل کرنا پڑا یا اگر زیادہ ناراض ہوا تو اس نے قوم کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں آفات سے متعلق اسی قسم کی وجوہات کا رجحان تھا اور قصے کہانیاں مشہور تھے جنہیں ہزاروں سال درست سمجھا جاتا رہا کیونکہ زمانۂ قدیم میں لوگ مادی اور سائنسی وجوہات کو سمجھنے سے قاصر تھے، اسلئے انہیں عافیت اسی میں نظر آتی کہ وہ غیبی طاقتوں پر سب کچھ ڈال کر ذہن کو جھنجھٹ سے نجات دلائیں۔ بدقسمتی سے ہم پسماندہ معاشروں میں آج بھی دیکھ سکتے ہیں مثلا نیپال کے حالیہ زلزلے کی وجوہات میں ایک ہندو ملاں نے گاؤ کشی کو وجہ بتایا۔
جدید سائنسی تحقیقات نے آسمانی یا مختلف مافوق الفطرت عوامل کی بجائے زمینی وجوہات کو تلاش کیا اور ان پر تحقیق کی گئی جنکی وجہ سے ان تمام توہمات کا خاتمہ ہوتا چلا گیا۔ کچھ باقیات مگر ابھی باقی ہیں جہاں کسی بھی قدرتی آفت کے بعد آسمانی اسباب کی تلاش کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی توہمات کے زیر اثر اپنے دیوتا یا مقدس ہستیوں کی برتری، رعب و جلال اور انکی طاقت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جہاں تک متاثرین کا تعلق ہو تو انکو اسی قابل ثابت کیا جاتا ہے کہ ان پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہو جس میں گناہ، خطائیں وغیرہ جیسے اسباب شامل کیے جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خطا کا پتلا ہے۔ غلطیوں سے مبرا کوئی بھی انسان تاریخ میں نہیں گزرا۔ مختلف اوقات میں انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور فطری طور پر انسان غلطی کا احساس ہونے کے بعد شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی مواقع پر جب پیچھے اپنی زندگی پر نظر دوڑاتا ہے تو جہاں جہاں اسے غلطی کا احساس ہو، احساسِ جرم اس پر طاری ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ موت کے خوف کے سامنے انسان پیچھے کیطرف جانا شروع کر دیتا ہے یعنی اپنی پچھلی گزری ہوئی زندگی کے پل اسکے سامنے آ جاتے ہیں۔ بنیاد پرست معاشروں میں جہاں دیوتاؤں یا آسمانی قوتوں کے قہر اور غضب سے متعلق اعتقادات ہوں، وہاں پھر آفات کے سامنے عذاب، گناہ، اعمال کی سزا وغیرہ وغیرہ جیسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے۔
مداری آسمانی عوامل تلاش کرنے کیساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں فطری طور پر پائے جانے والے احساس جرم کو بھی نشانہ بناتے ہیں جس سے انسان اس احساس کے تحت اپنی غلطیوں کو ہی سبب مان لیتا ہے۔ اسکے علاوہ مذہبی و سماجی تشریحات کے تحت مختلف اجتماعی غلطیاں نکالی اور بیان کی جاتی ہیں اور قوم کو اپنے اپنے دیوتا کی پوجا پاٹ، چرن چھو کر معافی تلافی وغیرہ کا سبق پڑھانا شروع کیا جاتا ہے۔
آج کے کوہ ہندوکش ریجن میں ۷ء۷ کے زلزلے کے بعد بھی ہمارے میڈیا پر سنسنی خیزی اور خوف کی فضا میں افواہوں کے ذریعے اضافے کیلئے سر توڑ کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی قدرتی آفت کی کوریج کی مناسب پروفیشنل تربیت نہ ہونے کیوجہ سے نیوز کاسٹرز وغیرہ کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خبروں کو کس طریقے سے پیش کریں اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ چینلز (جیو نیوز اور دی ہندو) نے سوشل میڈیا سے فیک تصاویر اٹھا کر ایکسکلوزیو کے لیبل کیساتھ تک پیش کر دیں۔
سوشل میڈیا پر مذہبی و سیاسی ٹھیکیدار طرح طرح کی سازشی تھیوریاں تھوک کے بھاؤ تقسیم کرنے کیلئے ایسے سرگرم ہوئے کہ بقول بانو زلزلے کو خود آ کر وضاحت دینی پڑی ”او بھائی میں زلزلہ ہوں جو سائنسی بنیاد پر آتا ہوں. تم لوگ عقل سے پیدل مجھے سیاسی و مذہبی بنیاد پر ڈال دو“۔ مداریوں نے زلزلے کے بعد سود، سانحۂ قصور، مخالف مسالک، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے ”غیر اسلامی“ کاموں پر کسی آسمانی قوت کے غضب کا بین بجانا شروع کر دیا، یہ دیکھے بغیر کہ زلزلہ ان تمام افعال کے ذمہ داران سے کہیں دور آیا ہے۔ زمین پر گناہوں کے بوجھ، بداعمالیوں اور غلطیوں کا پرچار کرنے والوں نے شاید دیگر سیاروں پر زلزلوں کے متعلق کبھی نہیں سنا جہاں کوئی انسان ہی نہیں بستا، چہ جائیکہ وہاں بداعمالیاں پائی جائیں۔ سب سے مضحکہ خیز منطق دیسی نجومیوں کی ہے جو اکتوبر سے فال نکال کر دو جمع چھ والے فارمولے سے براہ راست اکتوبر کو ہی مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
اگر آپکے ارد گرد کوئی زلزلے سے متاثر ہوا تو امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر خطوں کی امدادی سرگرمیوں میں بھی مالی اور دیگر ذرائع سے تعاون کرنے کی کوشش کریں اور اگر آپکے اردگرد سب خیریت ہے تو شانت رہیں، میڈیا کے نازک حالات کیوجہ سے اگر ٹی وی وغیرہ نہ ہی آن کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ پرنٹ میڈیا میں کل عباسیوں اور جان لیواؤں کی سازشی تھیوریاں چھپتی ہی ہوںگی جنہیں مزے لیکر پڑھیے۔ زلزلے کی وجوہات سائنسی اور مادی ہی ہوتی ہیں نہ کہ غیبی قوتوں یا دیوتاؤں کے جلال کا شاخسانہ، ان سے متعلق اگر واقف نہیں یا کم جانتے ہیں تو مزید آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی انسان معصوم عن الخطا نہیں، اسلئے اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے رہیے، ماضی کے لمحات کو آپ واپس نہیں لا سکتے، ان میں جو بھی گناہ یا غلطیاں ہوئیں، ان سے سبق سیکھیں نہ کہ اس ماحول میں احساسِ جرم میں بھی مبتلا ہو جائیں۔
مہمت

Thursday, 15 October 2015

سائنسی علوم اور قدامت پسندانہ مذہبی رویے

مذاہب کی تشکیل اور راسخ العقیدگی (Orthodoxy) تکمیل کے بعد جب یہ نئے دور اور بدلتے دور کے تقاضوں کا مزید ساتھ دینے سے اور نئے خیالات، افکار، نظریات پیش کرنے سے قاصر ہو گئے اور یہ میدان جدید علوم سے متعلق دانشوروں، مفکروں اور سائنسدانوں کے ہاتھ میں مکمل طور پر چلا گیا اور اہل مذاہب بالخصوص مذہبی علماء کے پاس نئے حالات میں ان میدانوں میں کوئی بھی قابل فخر کارنامہ نہ رہا تو اس سلسلہ میں اہل مذاہب کے مختلف رویے سامنے آئے۔ 
روشن خیال اور ترقی پسند اہل مذاہب، جن میں مذہبی علماء کی بھی ایک خاطر خواہ تعداد شامل ہے، نے جدید علوم اور مذہب کو علیحدہ کیا اور مذہبی علوم اور جدید علوم کے دائرہ کار متعین کیے جبکہ عقیدت مندانہ مذہبی ذہنیت علوم جدیدہ اور مذہب کے دائرہ کار کی حدود تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی بلکہ وہ تمام علوم کو مذہب کے تابع رکھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں جہاں انکی جانب سے ایک طرف ایجادات کو ہم مذہب سائنسدانوں اور اپنی تاریخ سے منسوب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی پر نئے نظریات و ایجادات کو اپنی کتابوں میں زبردستی گھسیڑنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ کٹر مذہبی حلقے نے تو علوم کی دینی و دنیاوی تقسیم کی، دنیاوی علوم غیر مذہبی اور گمراہ کن قرار پائے اور فلاح مذہبی علوم میں قرار پائی جنکی حیثیت مقدم ٹھہری۔
یہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک میں مذہبیوں کی مذہب اور سائنسی علوم کیطرف اپروچ میں واضح فرق ہوتا ہے لیکن پسماندہ معاشروں سے ترقی یافتہ ممالک میں نقل مکانی یا شفٹ ہونے والے کئی اہل مذاہب کی سوچ جدت سے الگ تھلگ رہنے کیوجہ سے اپنے معاشرے کی جاگیردارانہ اقدار میں ہی جامد رہتی ہے اور انکے رویے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس میں ایک کردار معاشرے کی قدیم جاگیردارانہ اقدار کا بھی ہوتا ہے جنہیں مذہبی جوازوں کیساتھ اپنایا گیا ہوتا ہے۔
ہمارے اپنے معاشرے میں کئی علماء تقاریر اور خطبوں میں فخریہ طور پر اپنے یا اپنے کسی عقیدت مند کے کارنامے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنے بچوں کو یونیورسٹی سے نکال کر مدرسوں میں داخل کرایا اور یوں انہیں یونیورسٹیوں اور جدید علوم کے شر سے محفوظ و مامون کر دیا اور اس نیک عمل سے وہ سرخرو ہو گئے یا پھر سائنس و عمرانی علوم کی ایجادات و برکات کو مذہبی کتابوں سے نکال کر سنایا جا رہا ہوتا ہے اور انہیں کوسا اور سخت سست قرار دیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ چیزیں مذہبی کتابوں میں موجود تھیں مگر انہیں پتہ نہ چل سکیں۔ اسکی مثال ہمیں دعوت اسلامی جیسی شدید قدامت پرست اور امام احمد رضا کے کٹر سائنس دشمن افکار پر عمل پیرا جماعت کی ”نماز اور سائنس“ جیسی اور دیگر ملاؤں کی جانب سے اس قسم کی مزید بے سر و پا کتب، سائنسی ایجادات منسوب کرنے سے متعلق بے سر و پا سازشی تھیوریاں، یورپی ممالک کے دساتیر میں عمر لاء کی افواہوں وغیرہ سے ملتی ہے۔ یہ عمل اختیار کرنا مذہبی علماء کیلئے بہت مفید تھے۔ اسطرح مذہبی کتب تمام علوم کا سرچشمہ قرار پاتی ہیں، مذہبی علوم تمام علوم سے افضل اور اسطرح علماء کی عقیدت اور حیثیت اس قسم کی مذہبی تشریحات کے زیر اثر علوم جدیدہ کے ماہرین کے مقابلے میں برتر ہی رہتی ہے۔ 
جدید علوم کے ماہرین ایجادات، دریافت اور نئے افکار پیش کرنے میں اپنی پوری پوری زندگیاں صرف کر دیتے اور اگلے ہی لمحے بغیر کسی تساہل کے اہل مذاہب کی مذہبی کتابوں میں وہ چیز موجود جھٹ سے موجود ہوتی ہے۔ سائنسدانوں اور مفکرین کی حیثیت پھر ثانوی ٹھہرتی ہے، بعض حلقوں کے مطابق جنہوں نے مذہبی کتابوں سے محض نقل کر کے ایجاد کر ڈالی اور ساتھ وہ مجرم بھی قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ایجادات و افکار کا کریڈٹ مذہبی کتابوں کو نہیں دیا کیونکہ وہ ”سچائی“ سے خوفزدہ بھی تھے اور اندھے، گونگے اور بہرے بھی کہ ”حقیقت“ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایجادات اور علوم کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششوں سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
علمی ترقی کے اس دور میں انسانوں کا شعور آج چودہ سو، دو ہزار یا پانچ ہزار سال قبل سے کہیں بلند ہے بلکہ پوری تاریخ انسانی میں سب سے بلند ہے۔ مذہبی کتب اور علماء پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں جسکے وہ کم ہی عادی ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کیلئے مذہبی فقہی کتب کی کاملیت اور علماء کی تقدیس کا پرچار کیا جاتا ہے اور اسے لیکر مذہبی علماء دیگر علوم اور شعبہ ہائے زندگی پر مذہب کا تسلط برقرار رکھنے کیلئے تگ و دو کرتے رہتے ہیں کیونکہ اس سے انکے معاشی مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ 
ہمارے پری کیپیٹلسٹ مذہبی معاشرے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذہبی علوم، علماء اور مذہب کو اسکے دائرہ کار تک محدود کرنے اور ان میں برداشت اور علمی رویوں کو فروغ دینے، مدارس کے نصاب سے اس قسم کی بنیاد پرست اور علم دشمن روایات و تشریحات کا خاتمہ کر کے مذہبی نصاب کو حالات کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے اور تعلیم کے ذریعے سائنسی شعور کو بلند کرنے سے ہی ان قدامت پرست اقدار اور علمی ترقی کی راہ میں حائل رویوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمت