Saturday, 6 February 2016

سپر لیگ کا جنون

ادب، آرٹ، تھیٹر، سینما، ثقافتی تہوار، کھیل، انٹرٹینمنٹ، موسیقی اور رقص معاشرے کی مثبت تخلیقی سرگرمیاں ہوتے ہیں جن سے لوگ زندگی کے مصائب و مشکلات بھول کر روز مرہ کے تھکن سے بھرپور معمولات اور زندگی کیلئے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں لوگوں کو قریب لاتی ہیں اور بے پناہ مسرت سے مالا مال کرتی ہیں۔ برصغیر کا عمومی کلچر ثقافتی رنگینیوں سے بھرپور ہے جو پاکستان میں چند دہائیوں سے آمریتوں و نیم آمریتوں کے جبر، اسلامائزیشن کی متشدد مذہبیت، خوف اور دہشت کی فضا کیوجہ سے پاکستان میں ان تخلیقی و تفریحی رجحانات کو ماند پڑتا گیا۔ تفریح کا ذریعہ بم و بارود اور خون کی ہولی بنے اور ضیاء الحق، حمید گل، ملاں عمر، ممتاز قادری، حکیم اللہ محسود جیسے ہیروز تشکیل پانے لگے یا وہ جو انکے اور ان جیسے قاتلوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔
ایسی صورت میں جبکہ اجتماعی سطح پر پوری قوم ہی خوشیوں اور مسرتوں کو ترسی ہوئی تھی، پی ایس ایل کی صورت میں کافی عرصے بعد ایک مثبت چہرہ دنیا کے سامنے آنے کیوجہ سے روحانی مسرت، حقیقی خوشی اور جوش و جذبہ کافی عرصے بعد نظر آیا۔ یہ کرپشن، بیروزگاری، انتہاء پسندی، لاقانونیت، معاشرتی جبر اور دیگر مسائل سے نجات تو نہیں دلا سکتا لیکن ایسے ایونٹس اپنے آپ میں ڈوب کر مسائل کا سامنا کرنے، مایوسی سے نجات حاصل کرنے اور ان سے نجات کیلئے جدوجہد کرنے میں اعصاب کی مضبوطی، خوشیوں اور قومی مورال بلند کرنے کا ذریعہ ضرور بنتے ہیں۔
علمائے کرام نے جہاں بیشمار ثقافتی سرگرمیوں، ایجادات وغیرہ پر فتاویٰ جاری کر کے حرام قرار دیا، وہاں کرکٹ کو بھی جوا اور لہو و لعب کے زمرے میں حرام قرار دینے کے فتاویٰ موجود ہیں، لیکن کرکٹ کی ایک خاص بات ہے کہ پاکستانی قوم نے تاریخ میں کسی بھی موقع پر ان فتاویٰ کو سنجیدہ نہیں لیا۔ ٹی وی، ریڈیو وغیرہ پر فتاویٰ گو کہ مسترد ہو چکے ہیں، لیکن وہ ایک خاص عہد اور عرصے تک سنجیدہ لیے جاتے رہے ہیں۔ کرکٹ کے حوالے سے قوم علمائے کرام کے جھانسے میں کبھی بھی نہ آئی۔
بدقسمتی سے پی ایس ایل پاکستان میں منعقد نہ ہو سکی ورنہ اسکے مورال پر نتائج اور مسرتوں کو لامحدود طور پر بڑھایا جا سکتا تھا، لیکن دہشت کی فضاء ابھی باقی ہے جسکی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اسے ختم ہونا ہے تاکہ ملک کے اندر اس قسم کی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ ہر وہ اقدام جو دہشت کی روایات کی جگہ کسی تخلیقی رجحان کا اضافہ کرے اور ناامیدی کے سائے میں امید کی کرنیں روشن کرے، وہ ایک مثبت سرگرمی ہے اور اسکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
مہمت قلندر

No comments:

Post a Comment