پیپلز پارٹی کے تیر آجکل سنتھیا ڈان رچی نامی امریکی خاتون کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں پیپلز پارٹی کے مرحوم و موجود سیاستدانوں پر برسا رہی ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے پیپلز پارٹی سنتھیا کے نشانے پر تھی اور یہ معاملہ بینظیر بھٹو پر گارڈز کے ذریعے خواتین کے ریپ کے الزامات سے شروع ہوا، پیپلز پارٹی اور اسکے حامیوں پر ہراسانی کے الزامات سے ہوتا ہوا سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر دست درازی اور وزیر داخلہ رحمان ملک پر ریپ کے الزامات تک پہنچا۔ شروع میں ہم نے جو اصطلاحات 'تیر برسانا' اور 'نشانے پر رکھنا' استعمال کی ہیں، انکا استعمال مروجہ طور پر حتممی الزامات سے پہلے پہلے تک کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم و وزراء پر الزامات کو علیحدہ صورت میں دیکھا جائے یا سنتھیا کے پیپلز پارٹی کیخلاف محاذ کے تسلسل کی صورت میں بیان کیا جائے، یہ ڈان لیکس کے ضمن میں ایک پیچیدہ بحث بن چکی ہے۔
بینظیر بھٹو، شیریں رحمان و دیگر پر الزامات تک معاملہ
واضح تھا۔ پیپلز پارٹی کے حامی پارٹی و لیڈران کا دفاع اور الزامات کا پارلیمانی و
نیم پارلیمانی و غیر پارلیمانی جواب پیش کر رہے تھے اور علی العموم جمہوری حلقوں
میں جس نے بھی اس معاملہ پر تبصرہ کیا، اس نے سنتھیا اور اسکے مبینہ ہینڈلرز کی
مذمت کی۔ یوتھ بردار قبیلہ و محب الوطن حلقے ہمیشہ کیطرح سیاستدانوں کی 'اخلاقی' و
مالی 'کوروپشن' کیخلاف آواز اٹھانے پر سنتھیا کیساتھ کھڑے تھے۔ اسکے بعد سنتھیا نے
بطور خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے چند مبینہ تجربات کے حوالے سے الزامات لگائے تو
یہ ایک مختلف ڈومین کا معاملہ تھا۔ مؤخر الذکر حلقے تو سنتھیا کی حمایت میں اپنے
تسلسل پر قائم رہے لیکن 'جمہوری' حلقوں میں اب معاملہ کچھ زیادہ واضح نہ رہا تھا۔
گنجائش اور سہولت دیکھتے ہوئے چند لوگوں نے کپڑے پھاڑنے
اور دیگر ریپ جوکس کے ذریعے سنتھیا کے الزامات کو مذاق بنایا۔ اسکے بعد اسکا
کردار، ماضی، اسکرپٹ، لہجہ، انگریزی، بیک گراؤنڈ، کار چوری میں سزا، زنانہ انڈے
فروخت کرنے کا پیشہ، کسی کیساتھ ایک کمرے میں دو ہفتے گزارنے کے دوران انکشافات،
مبینہ سیکس ورک سبھی کچھ زیر بحث آیا۔ 'اس جانب کی' خواتین تک کہتے ہوئے پائی گئیں
کہ اگر ایک وزیر سے ریپ ہوئی تھی تو اسکے بعد حکومتی ایوانوں میں کیا ڈھونڈتی رہی،
اتنے عرصے بعد کیوں سامنے آئی، سائیکل چلا کر پختونخواہ کو عورتوں کیلئے محفوظ
بتاتی تھی تو اب وزیراعظم و وزراء پر الزامات اس سائیکل کی روشنی میں کہاں کھڑے
ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں تو یہی ہوتا ہے کہ کسی معاملہ کے سیاسی،
فکری، معاشی، سماجی پس منظر کے حوالے سے نوعیت دیکھنے کے بعد مؤقف کا تعین ہوتا ہے
اور اسٹیبلشمنٹ یا رائٹ ونگ نظریات سے تعلق ہونے کی بنیاد پر اسے مذاق، تضحیک،
سوالات، کاؤنٹر نیریٹو کے ذریعے غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسکی شدت یا
نوعیت مختلف ایکٹوسٹ حلقوں میں مختلف ہوتی ہے۔ البتہ فیمنزم سے اسکا تضاد پیدا
ہوجاتا ہے جو کسی بھی طور سامنے آنے والی خاتون پر اعتماد اور یقین بلکہ تمام
عورتوں پر اعتقاد کا پرچار اور سوالات الزام لگانے والی سے نہیں بلکہ ملزم سے
پوچھنے کی سختی سے تلقین کرتا ہے۔ سنتھیا کے کیس میں یوسف رضا گیلانی، مخدوم شہاب
الدین اور رحمان ملک سے سوالات پوچھنے، انکا مؤقف جاننے اور پوچھنے میں شاید ہی
کسی نے دلچسپی لی ہو۔
فیمنسٹ حلقوں کی جانب سے روایتی 'آؤٹ ریج' کے برعکس
ڈھیلا ڈھالا مؤقف اور نیم مردہ بیانات 'اجی تحقیقات ہونی چاہییں' سامنے آئے۔
روایتی طرز پر کسی نے کسی کو کسی کیساتھ کھڑے ہونے یا نہ ہونے یا خاموش رہنے کے
طعنے کوسنے نہیں دیے، نہ روایتی طرز کی لکیریں کھینچی گئیں کہ کون ہماری بندی
کیساتھ کھڑا ہے اور کون مخالف یعنی ہراساں کرنے والے اور ریپسٹ کا حمایتی ہے اور
نہ ہی ریپ اپالوجسٹ، ریپسٹ کے حامی جیسے ٹیگ تقسیم کیے گئے۔ 'اِس جانب سے' یہ بھی
نہ کہا گیا کہ 'عورت مارچ وغیرہ' کہاں ہیں۔ اگر کسی نے زیادہ 'سخت مؤقف' اپنایا تو
اتنا کہ 'تحقیقات ہر حال میں ہونی چاہییں'۔ اسکی وجہ اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتی
تھی کہ اس کیس کو وہ خود کم از کم مشکوک یا سرے سے لایعنی سمجھتی تھیں۔ اب سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس قسم کے اندازے لگانے، کسی واقعے کو جانچنے یا الزامات
کو بے بنیاد تصور کرنے کا اختیار کسی دوسرے کو دے سکتی ہیں؟
بعض فیمنسٹ نے خفت مٹانے کیلئے نیویں نیویں ہو کر
'پاکستانی مردوں' کو کوسنا شروع کیا کہ کاش وہ گوری کی باتوں پر یقین کیطرح
پاکستانی عورتوں کے آواز بلند کرنے پر بھی اسی طرح حمایت کیا کریں۔ گورے اور نیٹو
کی یہ تقسیم بھی بذات خود فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ تھیوری میں سفید ریپ، سیاہ
ریپ، کالونیل ریپ، اینٹی کالونیل ریپ وجود نہیں رکھتا۔ پدر سری نظام میں ساری
عورتیں ساری دنیا میں مظلوم ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہےکہ مذکورہ پاکستانی
مرد وہی نہیں کر رہے تھے جسکا فیمنزم درس دیتا ہے یعنی آواز اٹھانے والی کی غیر
مشروط ہو کر حمایت کرنا، جن مردوں پر ہراسانی اور ریپ کا الزام ہو، انہیں اور ان
سے وابستہ اور انکا دفاع کرنے والے تمام کیخلاف آواز اٹھانا اور انکا ہر قسم کا
ناطقہ بند کرنے کی کوشش کرنا۔ اب یہاں چونکہ فیمنسٹوں کو مذکورہ پاکستانی مردوں کی
'نیتوں' اور اندرونی 'بغض معاویہ'کا 'علم' تھا، یعنی سیاستدانوں اور ابکی پیپلز
پارٹی کیخلاف پراپیگنڈہ، سو انہوں نے پاکستانی مردوں کو فیمنزم کرنے پر نشانہ
بنایا۔
انصافی فیمنسٹوں، بعض درمیانی فیمنسٹوں اور اکا دکا
دیگر نے ایکٹوسٹ حلقوں کے رویے پر سوالات ضرور اٹھائے بلکہ 'اُس جانب کی' فیمنسٹیں
سنتھیا کیساتھ کھڑی تھیں۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں سے بعض نے ایسے فیمنزم کو نشانہ بنایا
کہ سنتھیا کے الزامات کو ذرہ برابر اسپیس دینے کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کی پیپلز پارٹی
اور مجموعی طور پر سیاستدانوں کیخلاف پراپیگنڈہ مہم کی لہر میں بہہ جانا ہے۔ ایسی
لہروں کا مقصد دباؤ کے ذریعے 'کچھ لو کچھ دو' یا بعض ڈیلز، کمپرومائز یا کسی دوسری
سمت میں نکل جانے پر سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں کو 'حساب میں رکھنے' کی کوششیں
ہوتا آیا ہے جسکا اظہار الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور سوشل میڈیا پر اچانک
پیالی میں طوفانوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ حکومتی نااہلیوں یا کسی
سنگین بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے بھی سیاسی چالوں کے طور پر ایسی مصنوعی لہروں کا
سہارا لیا جاتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ اگر بالفرض اس جانب سے مبینہ
طور پر استعمال ہونے والی خاتون ہو اور الزامات ایک خاص نوعیت کے ہوں تو اسکا مطلب
مزاحمتی حلقوں کیلئے 'ہینڈز اپ' لیا جائے یا اگر ایکٹوسٹس کو اسٹیبلشمنٹ کا لنک
نظر آتا ہو لیکن الزامات فیمنسٹ ڈومین کے ہوں تو اس واقعے اور الزامات کے تسلسل پر
تنقید کا رخ حکومت اور ہینڈلرز پر تنقید کیطرف رخ نہ موڑا جائے؟آیا کسی پراپیگنڈہ
مہم کے امکانات کی صورت میں اگنور کیا جائے اور پراپیگنڈہ اور کیچڑ اچھالنے کے
مطلوبہ نتائج اور مقاصد کیخلاف کوئی ردعمل نہ پیش کیا جائے یا انہیں کاؤنٹر کرنے
کی اپنی سی سعی کی جائے؟ اگنور کرنا بھی فیمنزم سے متصادم ہے کیونکہ ایسے الزامات
پر خاتون کے 'ساتھ کھڑے ہونے' کے علاوہ کوئی رویہ قابل قبول نہیں۔
اگر دائرے واضح ہوں تو مؤقف اپنانا آسان ہوتا ہے لیکن
نظریات کا امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں لکیر مبہم اور غیر واضح ہو۔ گزشہ چند دنوں نے
ثابت کیا ہے کہ فیمنزم نے برسوں پیچیدگیوں کو نظر انداز کر کے مرد اور عورت کے جو
دائرے کھینچ رکھے ہیں، وہ مکمل طور پر ناکام ہیں۔ سنتھیا کے کیس میں اتنی سی سرخی
پر غور کریں 'ایک غیر ملکی خاتون کے سابق وزیراعظم و وزراء پر دست درازی اور جنسی
بے حرمتی کے الزامات'، اگر یہ سرخی بغیر سنتھیا کے سامنے آتی تو فیمنسٹوں نے
بالاتفاق خاتون کی جرأت و ہمت کی تحسین، پدر شاہی نظام میں مردوں کی بالادستی اور
خاتون کے ایجنڈے یا مقاصد پر کسی بھی قسم کے سوالات اٹھانے یا شک کرنے والے مردوں
کو مینز پلاننگ کے کھاتے میں ڈال دینا تھا۔ یہی روایت رہی ہے۔ سنتھیا کی جگہ اگر
کوئی اور امریکی خاتون یا سیاح ہوتی تب بھی ردعمل ایسا ہی ہوتا۔
یوسف رضا گیلانی پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی عہدے پر
رہے ہیں، جن دیگر سیاستدانوں پر الزام لگایا گیا، وہ بھی طاقت کے مراکز میں رہے
ہیں۔ دوسری طرف سنتھیا رچی ایک 'عام شہری' اور خاتون ہے۔ سنتھیا پر طاقتور اداروں
سے تعلق ہونے کا الزام ہے یا اسکی 'ماضی' کی سرگرمیوں سے ایسا نتیجہ نکالا گیا۔
ماضی کا ہراسانی و ریپ کے الزامات سے تعلق بھی فیمنزم کی نفی ہے اور کئی فیمنسٹوں
نے ہی اس بنیاد پر سنتھیا کو بیہودہ اور غلیظ گالیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بینظیر
بھٹو کا تعلق بھی طاقتور جاگیردار اور سیاسی خاندان سے تھا۔ہنوز ایسا کوئی اشارہ
کہیں سے نہیں ملا کہ بینظیر بھٹو کی مبینہ وکٹمز پر بھی تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے
کیلئے تحقیقات ہوں۔ مرد وزیراعظم کو شاملِ تفتیش کیا جائے تو وہ کونسا پیمانہ ہے
جو خاتون وزیراعظم کو استثناء دیتا ہے؟
بینظیر بھٹو کیخلاف ٹویٹ میں سنتھیا رچی نے عظمیٰ خان
کیس پر کسی ٹویٹ کو قوٹ کرتے ہوئے طاقتور طبقات کے وطیرے کے حوالے سے الزام لگایا
تھا۔ اسکے بعد عظمیٰ خان کا کیس ٹویٹری بحثوں میں پس پردہ جانا شروع ہوا بلکہ کیس
واپس لے لیا گیا اور سنتھیا نمایاں ہوتی گئیں(بلاگ اپلوڈ کرنے تک یہ معاملہ بھی
تقریبا ماند پڑ چکا ہو گا)۔ عظمیٰ خان کیس کو مرد عورت کا مسئلہ بنا کر فیمنسٹوں
نے عثمان کو رگید کر اپنی آؤٹ ریج کا حق ادا کر دیا، یہ جانے بغیر کہ مجموعی طور
پر وہ کن اقدار اور خاندانی اداروں کا دفاع کر رہی ہے۔ انہی دنوں میں شہروز
سبزواری کی شادی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی تو اس میں بھی جنہیں نظری طور پر
جنسی آزادی کا حامی ہونا چاہیے تھا، انہوں نے مرد عورت کا مسئلہ بنا کر 'آؤٹ ریج'
کھیلی۔ ہماری فیمنسٹیں بہت سے مسائل پر انتہائ کنزرویٹومؤقف اپناتی ہیں اور اسے
فیمنزم کا نام دے دیتی ہیں اور مزید یہ کہ جو نہ مانے، وہ کینسل بھی ہو جاتے ہیں۔
سنتھیا کے کیس میں ردعمل مختلف ہونا واضح کرتا ہے کہ
عملی مؤقف میں فیمنسٹ بھی پیچیدگیوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتی ہیں لیکن کسی
ایک خاتون کے کیس کو دوسری خاتون کے کیس سے ممتاز کرنا، مختلف مؤقف اور شدت
اپنانا، کسی خاتون پر خفیف سا شک کرنا، کیا یہی وہ رویے نہیں ہیں جنکے خلاف فیمنزم
نے برسوں ذہن سازی کی ہے۔ اگر فیمنسٹوں کے ردعمل میں نظری خیالات اور عمل کے
درمیان تفاوت اور لچک ہو سکتی ہے تو دوبارہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہی
اختیار کسی دوسرے کو دینے کیلئے تیار ہیں؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ مکمل
تھیوری کے تابع ردعمل اپناتیں، جس میں انہوں نے لچک دکھائی، اور سنتھیا کیساتھ
کھڑے ہو کر اس پر سوالات، طنز اور شک کرنے والوں کو کینسل کرتی جاتیں اور ان پر
روایتی حملے کرتیں تو کیا وہ مبینہ پراپیگنڈہ مہم وائرل کرنے کی انجانے یا جانے
میں معمولی یا مؤثر سہولت کار نہ بن جاتیں؟اگر بالفرض پیپلز پارٹی اور اسکے
سیاستدان کسی حوالے سے نشانے پر ہیں تو انکے ساتھ کھڑے اور انکی حمایت میں کیا
فکری رکاوٹیں ہیں؟ آیا مخصوص حالات میں ظالم اور مظلوم کی لکیر مرد اور عورت کے
دائروں سے ٹکراتی ہے؟ اسی ضمن میں ایک اور معاملہ سوشل میڈیائی 'آؤٹ ریج' کلچر کا
ہے کہ اگر آؤٹ ریج کلچر مخصوص دائروں اور رٹے رٹائے خطوط پر گھومتا رہے تو نہ
چاہتے ہوئے بھی خود کو 'اِس جانب' سمجھتے ہوئے 'اُس جانب' کے الاؤ بڑھکانے میں
ایندھن بنتا ہے۔ عالمی طور پر نسل پرستی اور پاپولزم کے ابھار اور اس میں سوشل
میڈیا کے کردار نے ان سوالات اور اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
فیمنزم دیگر بہت سے حقوق کے نظریات کیطرح ظلم کیخلاف
آواز اٹھانے کے دعوے کیساتھ ذاتی تعصبات کے نظریہ میں عمل دخل کرنے سے انکار کرتا
ہے یا ایسے رجحانات کی کم از کم فکری و نظری طور پر حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ عملی طور
پر مگر گروہی ردعمل میں انفرادی و مجموعی تعصبات بہت حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی برسوں کی مقبولیت کے بعد گروہوں کے معیار اور رخ خاصے حد تک واضح ہو
چکے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیائی عدالتوں کے اپنے اصول ہیں جو
کسی کم از کم پراسیس کا محتاج ہونا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ سنتھیا کے الزامات اور
افراد کی فہرست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک
عورت کتنے مردوں پر آزادانہ الزام لگا سکتی ہے۔ چند ٹویٹس پل بھر میں کتنے مردوں
کو کٹہرے میں لا کھڑا کر سکتی ہیں۔۔ لمٹس کہاں ہیں۔۔ اصول کیا ہوئے۔۔ اگر کل کلاں
کو سنتھیا خواتین کے حقوق کی پاکستانی این جی اوز کے امریکی ڈونرز سے روابط شروع
کر دیتی ہے تو کیا فیمنسٹ حلقوں میں خاموشی یا ردعمل کی کیفیت و شدت یہی ہو گی؟
برنی سینڈرز کیخلاف ہلیری کلنٹن کو فیمنسٹ انقلاب کی علمبردار
بنانے سے الزبتھ وارن کے الزامات کے بعد برنی سینڈرز کو پانچ دہائیوں کی جدوجہد سے
قطع نظر میل شاونسٹ، پدر شاہانہ اقدار کا حامل مردقرار دینے کا پراپیگنڈہ اور اسکے
سیاسی اثرات ہوں یا ہراسانی و ریپ کے جھوٹے الزامات پر برسوں جیل کاٹنے یا کیرئیر
تباہ کروا دینے والے مردوں پر فقط 'سوری' کا ردعمل ہو، فیمنزم نے جو ظالم مرد اور
مظلوم عورت کے دائروں کی بنیاد پر نظری عمارت تعمیر کی ہے، وہ ایسے مواقع پر زمین
بوس ہو جاتی ہے۔ عورت کو بطور طبقہ پیش کرنے سے انکے ثقافتی، معاشی، فکری
اختلافات، مفادات اور ہزار قسم کے الگ الگ گروہوں اور انکے رویوں کی تکثیریت کو
مٹا دیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مجموعی تصویر کا اطلاق جب انفرادی پہلو سے کیا جائے
تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
فیمنزم کی ایک ڈیڑھ صدی میں 'می ٹو' ایک تاریخی مہم کا
درجہ رکھتی ہے جس نے لاکھوں خواتین (اور مردوں) کو اپنے تلخ تجربات کیخلاف سامنے
آنے کا حوصلہ اور موقع دیا۔ اس نے دنیا بھر میں ہراسانی اور ریپ کلچر کے عام مگر
خاموش ہونے کے رجحان کو بدلنے کی ٹھانی اور وسیع پیمانے پر عالمگیر شعور اجاگر
کیا۔ یہ ایک غیر معمولی قوت، توانائی اور جذبے کی تحریک تھی۔ می ٹو مہم کے بعد
مجموعی طور پر فیمنزم کی پیش کردہ روایات، اقدار اور اثرات کا تنقیدی جائزہ لینے
کی ضرورت ہے۔ علی الخصوص اسکی ذیلی مہمات یعنی کینسل کلچر اور پولیٹیکل کریکٹنیس
کی سخت گرفت کی ضرورت ہے جس نے اظہار رائے اور آزادانہ بحث کو سخت نقصان پہنچایا
ہے۔ اس ضمن میں روایتی اقوال والتئیر 'جو تم کہتے ہو، میں اس سے اختلاف کرتا ہوں
لیکن تمہارے اظہار رائے کے حق کا مرتے دم تک دفاع کروں گا' یا روزا لکسمبرگ 'آزادی
تو انکے لیے آزادی ہے جو مختلف سوچتے ہیں' کے پیش کیے جاتے تھے لیکن ان اقدار کو
پہنچتا ہوا نقصان واضح ہے۔
ایسے میں جبکہ ناں کا مطلب ناں سے آگے بڑھ کر عورتوں کی
جانب سے 'ہاں، ہاں اور ہاں' کا مطلب ناں بنا کر جنسی جبر اور بالادستی کا رنگ دیا
گیا ہے (مونیکا لیونسکی کے بیانات اسکی ایک مثال ہیں) اور کمرشلزم، ڈی
سیکشولائزیشن، سیلف اوبجیکٹی فیکیشن، صحت مند مردانہ رویوں کی جذباتی مخالفت کے
علاوہ طبقاتی، سماجی اور ثقافتی پیچیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، خود تنقیدی از حد
ضروری ہے۔ کسی نظریے کا کردار بدلنے اور مظلوم کو ظالم کا کردار اپنانے میں ذرا
دیر نہیں لگتی۔ نظریات جہاں اپنے الٹ کردار میں بدل رہے ہوں یا درست نتائج نہ دے
رہے ہوں، وہاں انہیں واضح کرنے کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے اور اسی عمل پر نظریات
کی توسیع کا انحصار ہوتا ہے ورنہ وہ دائروں میں محبوس ہو کر گھٹن کا شکار ہو جاتے
ہیں۔ مرد اور عورتیں جب علیحدہ علیحدہ دنیاؤں کے باسی ہونے کی بجائے اسی دنیا میں
قریب آدھی آدھی آبادی کے تناسب سے موجود ہیں تو سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا
سروائیول، مقابلہ اور شارٹ کٹ کی دنیا میں پدر شاہی نظام کیطرح فیمنزم بھی مردوں
کو ہاتھ پاؤں باندھ کر خواتین کے آگے پھینکنے کا نام بنتا جا رہا ہے؟
فیمنزم نے مجموعی طور پر خواتین کو پولیٹیسائز کرنے،
اپنی آواز بلند کرنے اور سب سے اہم اپنی آواز بننے میں کردار ادا کیا ہے۔ بہتر
دنیا کا خواب دیکھنے والا کوئی بھی انسان خواتین کے میدانِ عمل میں شمولیت کا
مخالف ہے تو وہ آدھی دنیا کو تعمیر کے عمل سے باہر رکھنا چاہتا ہے۔ خواتین کے
بااختیار ہونے سے خواتین اور مردوں کے فطری رشتوں سے کہیں آگے بڑھ سماجی، سیاسی،
معاشی اور انسانی رشتوں اور ڈھانچوں پر گہرے اثرات پڑیں گے۔ اگر بدلاؤ، مزاحمت،
ظلم کی سرکوبی کے ذرائع اور راستوں میں ذاتی تعصبات، وقتی سمجھوتے، فکری افلاس اور
مختلف لوگوں کیلئے مختلف معیار در آئیں تو قطعا یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر
کامیابی مل جاتی ہے تو بدلی ہوئی دنیا کچھ مختلف ہو گی کہ اس دنیا کو تعمیر کرنے
کی خواہش رکھنے والے/ والیاں گروہی عصبیتوں کیساتھ ہی اس دنیا میں داخل ہو رہے ہوں
گے/گی۔
No comments:
Post a Comment