قدرتی آفت کے وقت انسان کائنات میں خود کو تنہا اور بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں آفات سے بچنے کیلئے بہتر اقدامات موجود ہوتے ہیں اور شہریوں کی آفات سے نمٹنے کی تربیت کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔ اسلئے وہ آفت کے بعد حفاظتی اقدامات کیطرف متوجہ ہوتے ہیں، ریسکیو، بہتر امدادی سہولیات اور انفراسٹرکچر میں نسبتا اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ مصیبت زدہ لمحے میں اور اسکے بعد معلومات کا مستند ذریعہ میڈیا ہوتا ہے جو تازہ ترین حالات کی آگاہی مثبت انداز میں پیش کرتا ہے جس سے لوگوں کو حکمت عملی میں بھی مدد لیتی ہے۔
ترقی پذیر یا پسماندہ معاشروں میں ایسے اقدامات پر زور نہیں دیا جاتا۔ نااہلی، بدعنوانی اور کرپشن کیوجہ سے متعلقہ محکمے غفلت اور سستی کا شکار ہوتے ہیں یا پھر رشوت خوری کے ذریعے ناقص میٹیریل اور تعمیرات کے سٹینڈرڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے عمارتیں اور پلازے وغیرہ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ بے ہنگم آبادیاں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے لوگ آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں شہریوں کو آفات میں بچاؤ کی مناسب تربیت بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے اس پر زور دیا جاتا ہے۔ زلزلہ پروف عمارات تو شاذ ہی پائی جاتی ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے کھمبے وغیرہ انکے علاوہ ہوتے ہیں۔ عوام ان سب پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں۔
جب کہیں آفت آتی ہے تو پھر لوگ اپنے آپ کو بے دست و پا پاتے ہیں۔ ارد گرد کے غیر محفوظ ماحول میں اعتماد کی شدید کمی اور احساسِ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مناسب تربیت نہ ہونے کیوجہ سے انکو یہ تک سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ انکا اس موقع پر ردعمل کیا ہونا چاہیے اور جب کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو تو مایوسی، خوف اور موت کا خطرہ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ توہمات کے پروان چڑھنے کیلئے ایسا میدان انتہائی سازگار ہوتا ہے۔
اگر یہ سب توہمات و فرسودہ اعتقادات انفرادی جہالت تک محدود رہیں تو اتنا بڑا ایشو نہیں مگر جب اجتماعی طور پر افواہوں اور توہمات کو پھیلانے کی لامحدود جہالت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہو تو پھر اس پر غور کرنا چاہیے۔ حواس باختہ حالات میں چند مداریوں کی چاندنی ہو جاتی ہے جو افواہوں اور سازشی تھیوریوں کو پھیلا کر ماحول کو مزید دہشت زدہ کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں، خوف اور سنسنی خیزی پھیلاتے ہیں جس کا جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔
جن معاشروں میں سائنسی شعور کی بھی کمی ہو اور قدرتی آفات کی زمینی وجوہات اور حقائق سے متعلق بھی زیادہ معلومات لوگوں کو میسر نہ ہوں تو پھر وہ دہشت کے ماحول میں لامحالہ طور پر مافوق الفطرت اور آسمانی وجوہات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی وجوہات اپنے معاشرتی، سماجی و مذہبی روایات کے مطابق تراشی جاتی ہیں اور پھر انکا پرچار کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ نیم خواندہ و ناخواندہ افراد ان پر فی الفور یقین بھی کر لیتے ہیں۔
برصغیر میں کسی دور میں مشہور تھا کہ زمین ایک شاخِ (سینگ) گاؤ (گائے) پر ہے اور وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اسکا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر زمین رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت ہوتی ہے، وہی زلزلہ ہوتا ہے۔ اس وجہ پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت کے ذرائع محدود ہونے کیوجہ سے مختلف خطوں کے درمیان رابطہ بھی محدود ہوتا تھا، لہٰذا اگر کسی مخصوص خطہ میں زلزلہ آتا تو لوگ یہی سمجھتے کہ ساری زمین پر زلزلہ آیا۔ ایک دور میں دریائے نیل کے سیلاب کو لوگ اپنے دیوتا کی ناراضگی سمجھتے تھے جسے خوش کرنے کیلئے ہر سال کنواری لڑکی کی بھینٹ چڑھائی جاتی۔
اسی طرح کہیں پر ہم جنس پرستی کو مافوق الفطرت ہستی یا دیوتا کی ناراضگی کا سبب بتایا جاتا تو کہیں ملاوٹ کو قوم کی تباہی کی وجہ بتایا گیا اور کہیں پر کسی مقدس ہستی کی نافرمانی کیوجہ سے دیوتا کو قہر نازل کرنا پڑا یا اگر زیادہ ناراض ہوا تو اس نے قوم کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں آفات سے متعلق اسی قسم کی وجوہات کا رجحان تھا اور قصے کہانیاں مشہور تھے جنہیں ہزاروں سال درست سمجھا جاتا رہا کیونکہ زمانۂ قدیم میں لوگ مادی اور سائنسی وجوہات کو سمجھنے سے قاصر تھے، اسلئے انہیں عافیت اسی میں نظر آتی کہ وہ غیبی طاقتوں پر سب کچھ ڈال کر ذہن کو جھنجھٹ سے نجات دلائیں۔ بدقسمتی سے ہم پسماندہ معاشروں میں آج بھی دیکھ سکتے ہیں مثلا نیپال کے حالیہ زلزلے کی وجوہات میں ایک ہندو ملاں نے گاؤ کشی کو وجہ بتایا۔
جدید سائنسی تحقیقات نے آسمانی یا مختلف مافوق الفطرت عوامل کی بجائے زمینی وجوہات کو تلاش کیا اور ان پر تحقیق کی گئی جنکی وجہ سے ان تمام توہمات کا خاتمہ ہوتا چلا گیا۔ کچھ باقیات مگر ابھی باقی ہیں جہاں کسی بھی قدرتی آفت کے بعد آسمانی اسباب کی تلاش کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی توہمات کے زیر اثر اپنے دیوتا یا مقدس ہستیوں کی برتری، رعب و جلال اور انکی طاقت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جہاں تک متاثرین کا تعلق ہو تو انکو اسی قابل ثابت کیا جاتا ہے کہ ان پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہو جس میں گناہ، خطائیں وغیرہ جیسے اسباب شامل کیے جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خطا کا پتلا ہے۔ غلطیوں سے مبرا کوئی بھی انسان تاریخ میں نہیں گزرا۔ مختلف اوقات میں انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور فطری طور پر انسان غلطی کا احساس ہونے کے بعد شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی مواقع پر جب پیچھے اپنی زندگی پر نظر دوڑاتا ہے تو جہاں جہاں اسے غلطی کا احساس ہو، احساسِ جرم اس پر طاری ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ موت کے خوف کے سامنے انسان پیچھے کیطرف جانا شروع کر دیتا ہے یعنی اپنی پچھلی گزری ہوئی زندگی کے پل اسکے سامنے آ جاتے ہیں۔ بنیاد پرست معاشروں میں جہاں دیوتاؤں یا آسمانی قوتوں کے قہر اور غضب سے متعلق اعتقادات ہوں، وہاں پھر آفات کے سامنے عذاب، گناہ، اعمال کی سزا وغیرہ وغیرہ جیسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے۔
مداری آسمانی عوامل تلاش کرنے کیساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں فطری طور پر پائے جانے والے احساس جرم کو بھی نشانہ بناتے ہیں جس سے انسان اس احساس کے تحت اپنی غلطیوں کو ہی سبب مان لیتا ہے۔ اسکے علاوہ مذہبی و سماجی تشریحات کے تحت مختلف اجتماعی غلطیاں نکالی اور بیان کی جاتی ہیں اور قوم کو اپنے اپنے دیوتا کی پوجا پاٹ، چرن چھو کر معافی تلافی وغیرہ کا سبق پڑھانا شروع کیا جاتا ہے۔
آج کے کوہ ہندوکش ریجن میں ۷ء۷ کے زلزلے کے بعد بھی ہمارے میڈیا پر سنسنی خیزی اور خوف کی فضا میں افواہوں کے ذریعے اضافے کیلئے سر توڑ کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی قدرتی آفت کی کوریج کی مناسب پروفیشنل تربیت نہ ہونے کیوجہ سے نیوز کاسٹرز وغیرہ کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خبروں کو کس طریقے سے پیش کریں اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ چینلز (جیو نیوز اور دی ہندو) نے سوشل میڈیا سے فیک تصاویر اٹھا کر ایکسکلوزیو کے لیبل کیساتھ تک پیش کر دیں۔
سوشل میڈیا پر مذہبی و سیاسی ٹھیکیدار طرح طرح کی سازشی تھیوریاں تھوک کے بھاؤ تقسیم کرنے کیلئے ایسے سرگرم ہوئے کہ بقول بانو زلزلے کو خود آ کر وضاحت دینی پڑی ”او بھائی میں زلزلہ ہوں جو سائنسی بنیاد پر آتا ہوں. تم لوگ عقل سے پیدل مجھے سیاسی و مذہبی بنیاد پر ڈال دو“۔ مداریوں نے زلزلے کے بعد سود، سانحۂ قصور، مخالف مسالک، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے ”غیر اسلامی“ کاموں پر کسی آسمانی قوت کے غضب کا بین بجانا شروع کر دیا، یہ دیکھے بغیر کہ زلزلہ ان تمام افعال کے ذمہ داران سے کہیں دور آیا ہے۔ زمین پر گناہوں کے بوجھ، بداعمالیوں اور غلطیوں کا پرچار کرنے والوں نے شاید دیگر سیاروں پر زلزلوں کے متعلق کبھی نہیں سنا جہاں کوئی انسان ہی نہیں بستا، چہ جائیکہ وہاں بداعمالیاں پائی جائیں۔ سب سے مضحکہ خیز منطق دیسی نجومیوں کی ہے جو اکتوبر سے فال نکال کر دو جمع چھ والے فارمولے سے براہ راست اکتوبر کو ہی مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
اگر آپکے ارد گرد کوئی زلزلے سے متاثر ہوا تو امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر خطوں کی امدادی سرگرمیوں میں بھی مالی اور دیگر ذرائع سے تعاون کرنے کی کوشش کریں اور اگر آپکے اردگرد سب خیریت ہے تو شانت رہیں، میڈیا کے نازک حالات کیوجہ سے اگر ٹی وی وغیرہ نہ ہی آن کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ پرنٹ میڈیا میں کل عباسیوں اور جان لیواؤں کی سازشی تھیوریاں چھپتی ہی ہوںگی جنہیں مزے لیکر پڑھیے۔ زلزلے کی وجوہات سائنسی اور مادی ہی ہوتی ہیں نہ کہ غیبی قوتوں یا دیوتاؤں کے جلال کا شاخسانہ، ان سے متعلق اگر واقف نہیں یا کم جانتے ہیں تو مزید آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی انسان معصوم عن الخطا نہیں، اسلئے اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے رہیے، ماضی کے لمحات کو آپ واپس نہیں لا سکتے، ان میں جو بھی گناہ یا غلطیاں ہوئیں، ان سے سبق سیکھیں نہ کہ اس ماحول میں احساسِ جرم میں بھی مبتلا ہو جائیں۔
مہمت
ترقی پذیر یا پسماندہ معاشروں میں ایسے اقدامات پر زور نہیں دیا جاتا۔ نااہلی، بدعنوانی اور کرپشن کیوجہ سے متعلقہ محکمے غفلت اور سستی کا شکار ہوتے ہیں یا پھر رشوت خوری کے ذریعے ناقص میٹیریل اور تعمیرات کے سٹینڈرڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے عمارتیں اور پلازے وغیرہ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ بے ہنگم آبادیاں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہیں جن میں بغیر کسی منصوبہ بندی کے لوگ آباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں شہریوں کو آفات میں بچاؤ کی مناسب تربیت بھی نہیں دی جاتی اور نہ ہی تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے اس پر زور دیا جاتا ہے۔ زلزلہ پروف عمارات تو شاذ ہی پائی جاتی ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے کھمبے وغیرہ انکے علاوہ ہوتے ہیں۔ عوام ان سب پہلوؤں سے واقف ہوتے ہیں۔
جب کہیں آفت آتی ہے تو پھر لوگ اپنے آپ کو بے دست و پا پاتے ہیں۔ ارد گرد کے غیر محفوظ ماحول میں اعتماد کی شدید کمی اور احساسِ عدم تحفظ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مناسب تربیت نہ ہونے کیوجہ سے انکو یہ تک سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ انکا اس موقع پر ردعمل کیا ہونا چاہیے اور جب کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو تو مایوسی، خوف اور موت کا خطرہ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ توہمات کے پروان چڑھنے کیلئے ایسا میدان انتہائی سازگار ہوتا ہے۔
اگر یہ سب توہمات و فرسودہ اعتقادات انفرادی جہالت تک محدود رہیں تو اتنا بڑا ایشو نہیں مگر جب اجتماعی طور پر افواہوں اور توہمات کو پھیلانے کی لامحدود جہالت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہو تو پھر اس پر غور کرنا چاہیے۔ حواس باختہ حالات میں چند مداریوں کی چاندنی ہو جاتی ہے جو افواہوں اور سازشی تھیوریوں کو پھیلا کر ماحول کو مزید دہشت زدہ کرنے میں سرگرم ہو جاتے ہیں، خوف اور سنسنی خیزی پھیلاتے ہیں جس کا جائزہ لینا ضروری ٹھہرتا ہے۔
جن معاشروں میں سائنسی شعور کی بھی کمی ہو اور قدرتی آفات کی زمینی وجوہات اور حقائق سے متعلق بھی زیادہ معلومات لوگوں کو میسر نہ ہوں تو پھر وہ دہشت کے ماحول میں لامحالہ طور پر مافوق الفطرت اور آسمانی وجوہات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی وجوہات اپنے معاشرتی، سماجی و مذہبی روایات کے مطابق تراشی جاتی ہیں اور پھر انکا پرچار کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ نیم خواندہ و ناخواندہ افراد ان پر فی الفور یقین بھی کر لیتے ہیں۔
برصغیر میں کسی دور میں مشہور تھا کہ زمین ایک شاخِ (سینگ) گاؤ (گائے) پر ہے اور وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اسکا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر زمین رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت ہوتی ہے، وہی زلزلہ ہوتا ہے۔ اس وجہ پر غور کریں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت کے ذرائع محدود ہونے کیوجہ سے مختلف خطوں کے درمیان رابطہ بھی محدود ہوتا تھا، لہٰذا اگر کسی مخصوص خطہ میں زلزلہ آتا تو لوگ یہی سمجھتے کہ ساری زمین پر زلزلہ آیا۔ ایک دور میں دریائے نیل کے سیلاب کو لوگ اپنے دیوتا کی ناراضگی سمجھتے تھے جسے خوش کرنے کیلئے ہر سال کنواری لڑکی کی بھینٹ چڑھائی جاتی۔
اسی طرح کہیں پر ہم جنس پرستی کو مافوق الفطرت ہستی یا دیوتا کی ناراضگی کا سبب بتایا جاتا تو کہیں ملاوٹ کو قوم کی تباہی کی وجہ بتایا گیا اور کہیں پر کسی مقدس ہستی کی نافرمانی کیوجہ سے دیوتا کو قہر نازل کرنا پڑا یا اگر زیادہ ناراض ہوا تو اس نے قوم کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں آفات سے متعلق اسی قسم کی وجوہات کا رجحان تھا اور قصے کہانیاں مشہور تھے جنہیں ہزاروں سال درست سمجھا جاتا رہا کیونکہ زمانۂ قدیم میں لوگ مادی اور سائنسی وجوہات کو سمجھنے سے قاصر تھے، اسلئے انہیں عافیت اسی میں نظر آتی کہ وہ غیبی طاقتوں پر سب کچھ ڈال کر ذہن کو جھنجھٹ سے نجات دلائیں۔ بدقسمتی سے ہم پسماندہ معاشروں میں آج بھی دیکھ سکتے ہیں مثلا نیپال کے حالیہ زلزلے کی وجوہات میں ایک ہندو ملاں نے گاؤ کشی کو وجہ بتایا۔
جدید سائنسی تحقیقات نے آسمانی یا مختلف مافوق الفطرت عوامل کی بجائے زمینی وجوہات کو تلاش کیا اور ان پر تحقیق کی گئی جنکی وجہ سے ان تمام توہمات کا خاتمہ ہوتا چلا گیا۔ کچھ باقیات مگر ابھی باقی ہیں جہاں کسی بھی قدرتی آفت کے بعد آسمانی اسباب کی تلاش کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی توہمات کے زیر اثر اپنے دیوتا یا مقدس ہستیوں کی برتری، رعب و جلال اور انکی طاقت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جہاں تک متاثرین کا تعلق ہو تو انکو اسی قابل ثابت کیا جاتا ہے کہ ان پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہو جس میں گناہ، خطائیں وغیرہ جیسے اسباب شامل کیے جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خطا کا پتلا ہے۔ غلطیوں سے مبرا کوئی بھی انسان تاریخ میں نہیں گزرا۔ مختلف اوقات میں انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور فطری طور پر انسان غلطی کا احساس ہونے کے بعد شرمندگی کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی مواقع پر جب پیچھے اپنی زندگی پر نظر دوڑاتا ہے تو جہاں جہاں اسے غلطی کا احساس ہو، احساسِ جرم اس پر طاری ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ موت کے خوف کے سامنے انسان پیچھے کیطرف جانا شروع کر دیتا ہے یعنی اپنی پچھلی گزری ہوئی زندگی کے پل اسکے سامنے آ جاتے ہیں۔ بنیاد پرست معاشروں میں جہاں دیوتاؤں یا آسمانی قوتوں کے قہر اور غضب سے متعلق اعتقادات ہوں، وہاں پھر آفات کے سامنے عذاب، گناہ، اعمال کی سزا وغیرہ وغیرہ جیسا ہی ردعمل سامنے آتا ہے۔
مداری آسمانی عوامل تلاش کرنے کیساتھ ساتھ خوف و دہشت کے ماحول میں فطری طور پر پائے جانے والے احساس جرم کو بھی نشانہ بناتے ہیں جس سے انسان اس احساس کے تحت اپنی غلطیوں کو ہی سبب مان لیتا ہے۔ اسکے علاوہ مذہبی و سماجی تشریحات کے تحت مختلف اجتماعی غلطیاں نکالی اور بیان کی جاتی ہیں اور قوم کو اپنے اپنے دیوتا کی پوجا پاٹ، چرن چھو کر معافی تلافی وغیرہ کا سبق پڑھانا شروع کیا جاتا ہے۔
آج کے کوہ ہندوکش ریجن میں ۷ء۷ کے زلزلے کے بعد بھی ہمارے میڈیا پر سنسنی خیزی اور خوف کی فضا میں افواہوں کے ذریعے اضافے کیلئے سر توڑ کوششیں ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی قدرتی آفت کی کوریج کی مناسب پروفیشنل تربیت نہ ہونے کیوجہ سے نیوز کاسٹرز وغیرہ کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ خبروں کو کس طریقے سے پیش کریں اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ چینلز (جیو نیوز اور دی ہندو) نے سوشل میڈیا سے فیک تصاویر اٹھا کر ایکسکلوزیو کے لیبل کیساتھ تک پیش کر دیں۔
سوشل میڈیا پر مذہبی و سیاسی ٹھیکیدار طرح طرح کی سازشی تھیوریاں تھوک کے بھاؤ تقسیم کرنے کیلئے ایسے سرگرم ہوئے کہ بقول بانو زلزلے کو خود آ کر وضاحت دینی پڑی ”او بھائی میں زلزلہ ہوں جو سائنسی بنیاد پر آتا ہوں. تم لوگ عقل سے پیدل مجھے سیاسی و مذہبی بنیاد پر ڈال دو“۔ مداریوں نے زلزلے کے بعد سود، سانحۂ قصور، مخالف مسالک، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کے ”غیر اسلامی“ کاموں پر کسی آسمانی قوت کے غضب کا بین بجانا شروع کر دیا، یہ دیکھے بغیر کہ زلزلہ ان تمام افعال کے ذمہ داران سے کہیں دور آیا ہے۔ زمین پر گناہوں کے بوجھ، بداعمالیوں اور غلطیوں کا پرچار کرنے والوں نے شاید دیگر سیاروں پر زلزلوں کے متعلق کبھی نہیں سنا جہاں کوئی انسان ہی نہیں بستا، چہ جائیکہ وہاں بداعمالیاں پائی جائیں۔ سب سے مضحکہ خیز منطق دیسی نجومیوں کی ہے جو اکتوبر سے فال نکال کر دو جمع چھ والے فارمولے سے براہ راست اکتوبر کو ہی مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
اگر آپکے ارد گرد کوئی زلزلے سے متاثر ہوا تو امدادی کاموں میں حصہ لیں۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر خطوں کی امدادی سرگرمیوں میں بھی مالی اور دیگر ذرائع سے تعاون کرنے کی کوشش کریں اور اگر آپکے اردگرد سب خیریت ہے تو شانت رہیں، میڈیا کے نازک حالات کیوجہ سے اگر ٹی وی وغیرہ نہ ہی آن کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ پرنٹ میڈیا میں کل عباسیوں اور جان لیواؤں کی سازشی تھیوریاں چھپتی ہی ہوںگی جنہیں مزے لیکر پڑھیے۔ زلزلے کی وجوہات سائنسی اور مادی ہی ہوتی ہیں نہ کہ غیبی قوتوں یا دیوتاؤں کے جلال کا شاخسانہ، ان سے متعلق اگر واقف نہیں یا کم جانتے ہیں تو مزید آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی انسان معصوم عن الخطا نہیں، اسلئے اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے رہیے، ماضی کے لمحات کو آپ واپس نہیں لا سکتے، ان میں جو بھی گناہ یا غلطیاں ہوئیں، ان سے سبق سیکھیں نہ کہ اس ماحول میں احساسِ جرم میں بھی مبتلا ہو جائیں۔
مہمت

No comments:
Post a Comment