Thursday, 15 October 2015

سائنسی علوم اور قدامت پسندانہ مذہبی رویے

مذاہب کی تشکیل اور راسخ العقیدگی (Orthodoxy) تکمیل کے بعد جب یہ نئے دور اور بدلتے دور کے تقاضوں کا مزید ساتھ دینے سے اور نئے خیالات، افکار، نظریات پیش کرنے سے قاصر ہو گئے اور یہ میدان جدید علوم سے متعلق دانشوروں، مفکروں اور سائنسدانوں کے ہاتھ میں مکمل طور پر چلا گیا اور اہل مذاہب بالخصوص مذہبی علماء کے پاس نئے حالات میں ان میدانوں میں کوئی بھی قابل فخر کارنامہ نہ رہا تو اس سلسلہ میں اہل مذاہب کے مختلف رویے سامنے آئے۔ 
روشن خیال اور ترقی پسند اہل مذاہب، جن میں مذہبی علماء کی بھی ایک خاطر خواہ تعداد شامل ہے، نے جدید علوم اور مذہب کو علیحدہ کیا اور مذہبی علوم اور جدید علوم کے دائرہ کار متعین کیے جبکہ عقیدت مندانہ مذہبی ذہنیت علوم جدیدہ اور مذہب کے دائرہ کار کی حدود تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی بلکہ وہ تمام علوم کو مذہب کے تابع رکھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں جہاں انکی جانب سے ایک طرف ایجادات کو ہم مذہب سائنسدانوں اور اپنی تاریخ سے منسوب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور ساتھ ہی پر نئے نظریات و ایجادات کو اپنی کتابوں میں زبردستی گھسیڑنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ کٹر مذہبی حلقے نے تو علوم کی دینی و دنیاوی تقسیم کی، دنیاوی علوم غیر مذہبی اور گمراہ کن قرار پائے اور فلاح مذہبی علوم میں قرار پائی جنکی حیثیت مقدم ٹھہری۔
یہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک میں مذہبیوں کی مذہب اور سائنسی علوم کیطرف اپروچ میں واضح فرق ہوتا ہے لیکن پسماندہ معاشروں سے ترقی یافتہ ممالک میں نقل مکانی یا شفٹ ہونے والے کئی اہل مذاہب کی سوچ جدت سے الگ تھلگ رہنے کیوجہ سے اپنے معاشرے کی جاگیردارانہ اقدار میں ہی جامد رہتی ہے اور انکے رویے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس میں ایک کردار معاشرے کی قدیم جاگیردارانہ اقدار کا بھی ہوتا ہے جنہیں مذہبی جوازوں کیساتھ اپنایا گیا ہوتا ہے۔
ہمارے اپنے معاشرے میں کئی علماء تقاریر اور خطبوں میں فخریہ طور پر اپنے یا اپنے کسی عقیدت مند کے کارنامے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنے بچوں کو یونیورسٹی سے نکال کر مدرسوں میں داخل کرایا اور یوں انہیں یونیورسٹیوں اور جدید علوم کے شر سے محفوظ و مامون کر دیا اور اس نیک عمل سے وہ سرخرو ہو گئے یا پھر سائنس و عمرانی علوم کی ایجادات و برکات کو مذہبی کتابوں سے نکال کر سنایا جا رہا ہوتا ہے اور انہیں کوسا اور سخت سست قرار دیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ چیزیں مذہبی کتابوں میں موجود تھیں مگر انہیں پتہ نہ چل سکیں۔ اسکی مثال ہمیں دعوت اسلامی جیسی شدید قدامت پرست اور امام احمد رضا کے کٹر سائنس دشمن افکار پر عمل پیرا جماعت کی ”نماز اور سائنس“ جیسی اور دیگر ملاؤں کی جانب سے اس قسم کی مزید بے سر و پا کتب، سائنسی ایجادات منسوب کرنے سے متعلق بے سر و پا سازشی تھیوریاں، یورپی ممالک کے دساتیر میں عمر لاء کی افواہوں وغیرہ سے ملتی ہے۔ یہ عمل اختیار کرنا مذہبی علماء کیلئے بہت مفید تھے۔ اسطرح مذہبی کتب تمام علوم کا سرچشمہ قرار پاتی ہیں، مذہبی علوم تمام علوم سے افضل اور اسطرح علماء کی عقیدت اور حیثیت اس قسم کی مذہبی تشریحات کے زیر اثر علوم جدیدہ کے ماہرین کے مقابلے میں برتر ہی رہتی ہے۔ 
جدید علوم کے ماہرین ایجادات، دریافت اور نئے افکار پیش کرنے میں اپنی پوری پوری زندگیاں صرف کر دیتے اور اگلے ہی لمحے بغیر کسی تساہل کے اہل مذاہب کی مذہبی کتابوں میں وہ چیز موجود جھٹ سے موجود ہوتی ہے۔ سائنسدانوں اور مفکرین کی حیثیت پھر ثانوی ٹھہرتی ہے، بعض حلقوں کے مطابق جنہوں نے مذہبی کتابوں سے محض نقل کر کے ایجاد کر ڈالی اور ساتھ وہ مجرم بھی قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ایجادات و افکار کا کریڈٹ مذہبی کتابوں کو نہیں دیا کیونکہ وہ ”سچائی“ سے خوفزدہ بھی تھے اور اندھے، گونگے اور بہرے بھی کہ ”حقیقت“ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایجادات اور علوم کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششوں سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
علمی ترقی کے اس دور میں انسانوں کا شعور آج چودہ سو، دو ہزار یا پانچ ہزار سال قبل سے کہیں بلند ہے بلکہ پوری تاریخ انسانی میں سب سے بلند ہے۔ مذہبی کتب اور علماء پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں جسکے وہ کم ہی عادی ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کیلئے مذہبی فقہی کتب کی کاملیت اور علماء کی تقدیس کا پرچار کیا جاتا ہے اور اسے لیکر مذہبی علماء دیگر علوم اور شعبہ ہائے زندگی پر مذہب کا تسلط برقرار رکھنے کیلئے تگ و دو کرتے رہتے ہیں کیونکہ اس سے انکے معاشی مفادات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ 
ہمارے پری کیپیٹلسٹ مذہبی معاشرے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذہبی علوم، علماء اور مذہب کو اسکے دائرہ کار تک محدود کرنے اور ان میں برداشت اور علمی رویوں کو فروغ دینے، مدارس کے نصاب سے اس قسم کی بنیاد پرست اور علم دشمن روایات و تشریحات کا خاتمہ کر کے مذہبی نصاب کو حالات کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے اور تعلیم کے ذریعے سائنسی شعور کو بلند کرنے سے ہی ان قدامت پرست اقدار اور علمی ترقی کی راہ میں حائل رویوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔
مہمت

No comments:

Post a Comment