Saturday, 30 June 2018

خودکشی کے دفاع میں

خودکشی کو ہمارے معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا اور جہاں خودکشی کرنے والے افراد سے معاشرتی نفرت وابستہ ہوتی ہے، وہاں خودکشی کرنے والے کے اہلخانہ کیلئے بھی موت کے صدمے سے بڑھ کر مشکلات لوگوں کا سامنا کرنے میں ہوتی ہیں اور وہ موت کی وجہ چھپاتے پھرتے ہیں اور خودکشی کے عمل کو اون نہیں کرتے۔ خودکشی کرنے والا دوہرے منافرانہ رویوں کا شکار ہوتا ہے۔ قریبی لوگ بھی اسکی زندگی کے اختتام کے فیصلے کو قبول کرنے کی بجائے عمومی طور پر ایسے جواز پہناتے ہیں 'اللہ کی طرف سے موت ایسے ہی لکھی تھی' اور معاشرہ اس پر اور اسکے خاندان پر لعن طعن بھیجتے ہوئے تمام تر رویوں کا ذمہ دار بھی اسی کو ٹھہراتا ہے۔ 
ایک وجہ تو ایسے مذہبی عقائد کا پایا جانا ہے جنکی رو سے خودکشی حرام موت ٹھہرتی ہے اور خودکشی کرنے والوں کے جنازے، تعزیت، تدفین اور بخشش کے بارے میں عام مرنے والوں سے علیحدہ احکامات ہیں۔ ریاستی قوانین اور سماج مجموعی طور پر خودکشی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اسے بزدلی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سماج افراد پر چند ذمہ داریاں اور کردار ادا کرنے کی توقعات کا بوجھ ڈالتا ہے اور اگر کوئی شخص پورا اترنے کی بجائے اپنی الگ راہ لیتے ہوئے زندگی ختم کر بیٹھے تو اس فرد کیخلاف غصہ اور اپنی ہتک اور بے عزتی محسوس کی جاتی ہے۔ فوج میں خودکشیوں کا تناسب بڑھنا شروع ہو جائیں یا کسان اور مزدور خودکشیاں کرنا شروع ہو جائیں تو دفاعی اور پیداواری صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے جسکی وجہ سے ایسے سماجی رویوں کو پروان چڑھانا لازم تصور کیا جاتا ہے جو لوگوں کو مشکل، کھٹن اور پسماندہ حالات میں بھی زندگی سے باندھے رکھیں۔ 
ایک مفروضہ ہے کہ لوگ ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہیں یا مرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور زندگی سب کی ترجیح ہوتی ہے اور ہر کوئی زندگی چاہتا ہے۔ یہ مفروضہ بھلے اکثریت مانتی اور فطرت کے مطابق سمجھتی ہو لیکن اس دنیا میں جہاں ہر انسان کی فطرت دوسرے سے مختلف ہے، وہاں اس تصور جو الٹا کر کے دیکھیں۔ اگر چند لوگوں کی فطرت بھی اس مفروضے سے الٹ ہو تو خودکشی کے عین فطری اور ہر دور میں تمام تر حوصلہ شکنی کے باوجود موجود ہونے کیوجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ایک اور مفروضہ ہے کہ خودکشی بزدلی ہے حالانکہ خودکشی کرنے والا اپنی مرضی سے موت کا انتخاب کرتا ہے اور موت کا سامنا کرتا ہے جسے 'زندہ لوگ' انتہائی خطرناک شے سمجھتے ہیں۔ میدانِ جنگ میں دوسروں کے مفادات کیلئے اپنی جان پیش کرنے اور موت سے کھیلنے کو شجاعت قرار دیا جاتا ہے لیکن ذاتی چوائس سے کوئی ایسا کرے تو دوہرے رویے ہوتے ہیں۔ 'قیمتی جان' اور جان کے 'ضیاع' کے مفروضے بھی الٹ جاتے ہیں اگر مختلف نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ 
خودکشی کی بیشمار اقسام ہیں اور ایسی اقسام بھی ہیں جنہیں شجاعت و ہمت کی داستانوں کے طور پر لکھا اور سنایا جاتا ہے لیکن وہ اس زمرے میں آتی ہیں جو کوئی سماجی خدمت یا کردار نبھاتے ہوئے سرانجام پائی ہوں۔ مجموعی طور پر سماج خودغرض ہوتا ہے اور سماجی رویوں میں سماجی مفادات کا عکس پایا جاتا ہے۔ سماجی غیرت اور عزتیں بچانے کیلئے کنویں میں کود جانے والی خواتین ہوں یا جنگوں میں تباہی پھیلانے والے انسان ہوں، یہ داد و دہش کے حقدار ٹھہرتے ہیں لیکن اگر خودکشی کوئی خود کرے تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے کہ کسی کو سماج کے شکنجے سے ہٹ کر اپنی ذات کیلئے سوچنے اور کچھ کر گزرنے کی ہمت اسے کیوں کر ہوئی۔ 
خودکشی ایک بغاوت ہے، زندگی کیخلاف بغاوت، زندگی کے عائد کردہ بوجھ جیخلاف بغاوت اور زندگی جینے کی اذیت کیخلاف بغاوت ہے۔ ہر شخص کو خودکشی کے آپشن ہر زندگی میں غور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے موت کا انسانوں پر طاری سماجی خوف زائل ہونے اور اس سے نجات میں مدد ملے گی۔ موت کو لائٹ لینا ہی موت کو حقیقت کے طور پر قبول کرنے میں آسانی کا سبب ہو سکتا ہے۔ مرنا انتہائی ہتک آمیز بات ہے کیونکہ یہ خارجی فطرت اور حرکیات کے مقابلے میں بے بسی کی اعلیٰ شکل ہے جبکہ خودکشی ایک قابل فخر اور قابلِ احترام زندگی کے خاتمے کا ذریعہ ہے جس میں فطرت کا کنٹرول انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ عرصہ پہلے ملتان میں ایک چینی انجینئیر کی خودکشی کی خبر پڑھی کہ چاندنی دیکھ کر اس نے کہا منظر کتنا سہانا اور چاند کتنا خوبصورت ہے اور کود گیا۔ یہ فعل انتہائی احمقانہ لگتا ہے اور مجھے بھی اس وقت ایسا ہی لگا لیکن ذرا تصور کریں کسی ایسے لمحے کا جس میں وقت اور حرکت کو روک دینا چاہتے ہوں اور خواہش ہو کہ سب کچھ وہیں ساکت ہو جائے اور کچھ بھی آگے نہ بڑھے، کیا ایسی صورت میں خودکشی ایک سہانا آپشن نہیں۔ وقت اور حرکت تھم جانے کی طلب مختلف مواقع پر ہو سکتی ہے جیسے کسی حسین اور ذہین دوشیزہ کی رفاقت کے لمحات کے بعد، کسی انتہائی خوبصورت منظر یا آنے والے انتہائی پریشان کن منظر سے بچنے کیلئے، کوئی ایسا لمحہ جس کے بعد مزید جینے کی حسرت اور تمنا نہ ہو، جب لمحات کو وجود میں مقید کرنے کا جی چاہے اور لمحۂ موجود کبھی ماضی نہ ہونے کی تمنا ہو۔ آخر کو کھلاڑی کیرئیر کے عروج پر کیرئیر کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور کوئی اسے بزدل نہیں کہتا کہ اس نے میدان کیوں چھوڑا۔ 
خودکشی مزاحمت کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور اسکا انفرادی بغاوت کا پہلو بھی شاندار ہے۔ بعض صورتیں افسوسناک ضرور ہوتی ہیں جن میں ذہن سازی کیساتھ کسی دوسری دنیا میں بھیجنے کیلئے اپنے ساتھ کئی زندگیاں لیتے جانے کیلئے استعمال کرنا، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی عوارض کے خارجی مظاہر کا اثر انداز ہونا ہے۔ خودکشی خالص داخلی فطرت اور اختیار کا نتیجہ ہونا چاہیے اور ایک ایسا لمحۂ سرور و انبساط اور لطف جس میں فطرت، زمان و مکاں کی تمام قوتیں فرد پر اثر انداز ہونا ختم ہو جائیں اور فرد ہو اور اسکی زندگی ہو۔ یہ زندگی کا ایک نقطۂ عروج ہو سکتا ہے۔ خودکشی فرار بالکل نہیں کیونکہ سماج اور گرد و پیش کی فطرت فرد کا حصہ نہیں ہوتے جو انکے عائد کردہ بوجھ اٹھائے پھرنے کیلئے زندگی کو استعمال کرے، یہ اپنی ذات کیطرف توجہ ہے، اپنے وجود کی آزادی کیطرف واپسی ہے۔ جن پر موت کا خوف بہت زیادہ طاری ہوتا ہے، وہ اپنی زندگی اور موت کے بیباکانہ اور جرآت مندانہ فیصلے کرنے والوں سے بھی خوف کھاتے ہیں اور انکی مذمت میں انکا خوف جھلک رہا ہوتا ہے۔ 
گزشتہ دنوں چند سیلیبرٹیز اور پھر کعبے میں یکے بعد دیگرے خودکشی کرنے والے فرانسیسی، بنگلہ دیشی اور سوڈانی پر بہت سے لوگ خفا ہیں۔ کعبے میں خودکشی سے مقاماتِ مقدسہ کا تقدس، رمضان کے بابرکت مہینے، آخری عشرے کی راتیں، ایمانی قوت، اطمینان قلب، دین سے دوری، خودکشی کی نفسیات سے عدم آگاہی، مسلمانوں میں خودکشی کے وجود کا ڈینائل، موت کا خوف، موت سے پرے کسی دوسری دنیا میں جلادوں کا خوف، یہ وہ عوامل ہیں جو اسلامیوں کو خودکشی کرنے والے پر لعن طعن اور گالم گلوچ پر مجبور کرتے ہیں۔ تاریخ سے لاعلمی کا فیکٹر بھی ہے کیونکہ مستند احادیث کے مطابق رسول اللہ نے خود متعدد بار خودکشی کی کوشش کی اور انہی مکہ کی وادیوں اور پہاڑوں سے کود کر اپنی جان لینا چاہی۔ 
طبری اور ابن ہشام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی آمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ کی مخلوق میں شاعر اور پاگل سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی قابلِ نفرت نہ تھا۔ ﴿میں شدتِ نفرت سے﴾ ان کی طرف دیکھنے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ ﴿اب جو وحی آئی تو﴾ میں نے ﴿اپنے جی میں﴾ کہا کہ یہ ناکارہ.... یعنی خود آپ.... شاعر یا پاگل ہے! میرے بارے میں قریش ایسی بات کبھی نہ کہہ سکیں گے۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر جا رہا ہوں وہاں سے اپنے آپ کو نیچے لڑھکا دوں گا اور اپنا خاتمہ کر لوں گا اور ہمیشہ کے لیے راحت پا جاؤں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں یہی سوچ کر نکلا۔ جب بیچ پہاڑ پر پہنچا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میں نے آسمان کی طرف اپنا سر اُٹھایا۔ دیکھا تو جبریل علیہ السلام ایک آدمی کی شکل میں اُفق کے اندر پاؤں جمائے کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تم اللہ کے رسول ہو اور میں جبریل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہیں ٹھہر کر جبریل علیہ السلام کو دیکھنے لگا اور اس شغل نے مجھے میرے ارادے سے غافل کر دیا۔( طبری ۲۰۷/۲ ابنِ ہشام ۲۳۷/۱، ۲۳۸)
اسکے علاوہ صحیح بخاری کتاب التعبیر کی روایت ہے کہ:
’’
وحی بند ہو گئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند و بالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے لڑھک جائیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو لڑھکا لیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے: ’’اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کے رسول حق ہیں۔‘‘ اور اس کی وجہ سے آپ کا اضطراب تھم جاتا۔ نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہو کر پھر وہی بات دُہراتے۔“ ( صحیح بخاری کتاب التعبیر باب اول مابدئ بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرؤیا الصالحتہ ۱۰۳۴/۲)
انتظار حسین کے ایک افسانے کی سطر ہے 'خودکشی بھی اظہارِ ذات کی ایک صورت ہے۔ یہ داخلیت پسندی کا نقطۂ ارتکاز ہے جس پر ہم نے اوپر بحث ہے۔ خودکشی کی کسی خبر پر ڈپریشن کی بحث شروع ہو جاتی ہے حالانکہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، خودکشی خودکشی ہے اور ڈپریشن ڈپریشن۔ مؤخر الذکر ایک فیکٹر ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہم معنیٰ یا مترادف نہیں ہو سکتی۔ اردو ادب یا عالمی ادب میں جن شعراء، ادیبوں اور آرٹسٹس نے خودکشی کی، وہ سبھی مایوس لوگ نہ تھے بلکہ ان میں سے کئی تو امید کے پیامبر تھے اور انکی تخلیقات میں امید کی جھلک اور پیغام ملتا ہے۔ بلاشبہ اگر نفسیاتی عوارض جیسے خارج کے فیکٹر ہوں تو افسوسناک ہیں کیونکہ یہ چوائس کے امکان کو محدود کر دیتے ہیں لیکن خودکشی بذاتِ خود مرض نہیں۔ شعوری کوشش اور چوائس کی صورت ہمیں چوائس کا احترام کرنا چاہیے اور چونکہ خودکشی پر تمام تر طعن و تشنیع، فتاویٰ اور گالم گلوچ ایسے وقت میں ہوتے ہیں جب ٹارگٹ کسی جواب دینے اور دفاع کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ پریشان کن قابلِ رحم حالات میں تو ویسے بھی یہ انتہائی غیر اخلاقی ہے اور سماجی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ 
ہمارے ہاں خودکش حملوں میں درجنوں اور کئی مواقع پر سینکڑوں جانوں کو اپنے ساتھ لیجانے کا دفاع کرنے والے تو ہزاروں ہیں، غائبانہ نماز جنازہ بھی ہو جاتے ہیں اور انکی پلاننگ کرنے والے پھانسی چڑھ جائیں تو جنازوں اور ہمدردی کیلئے ہزاروں امڈ آتے ہیں لیکن خودکشی کی چوائس کے احترام اور دفاع کوئی نہیں کرتا اور خودکشی کے بعد آخری رسومات اور اہلخانہ کیلئے ہر موڑ پر مسائل اور پریشانیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 325 اقدامِ خودکشی کو جرم قرار دیتا ہے جسکی سزا جرمانہ یا ایک سال قید یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ اسے دو ہزار سترہ میں ڈی کرمنلائز کرنے کیلئے بل پیش کیا گیا لیکن مسترد ہو گیا۔ ایسی کسی سزا کا موجود ہونا انتہائی غیر انسانی ہے چاہے خوکشی کے عوامل کچھ بھی ہوں۔ خودکشی پر بحث اور دفاع ہم زندوں نے کرنا ہے تاکہ اپنی جان پر حق کا اختیار محفوظ رہے، کل کو یہ ہماری ذاتی چوائس اور مسرت کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ موت کو ایک جشن کی طرح منایا جانا ممکن ہے۔ خودکشی یا موت ہمیشہ المیہ اور مقامِ افسردگی نہیں۔چکبست برج نرائن کا ایک شعر ہے:
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

No comments:

Post a Comment