سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا
نصیر کو جبری گمشدہ کئے جانے کو ایک سال گزر گیا۔ موچی کے بلاگرز میں انکے ساتھ
ایک اسکول ٹیچر بھی تھے۔ اسکے علاوہ ثمر عباس بھی انہی دنوں میں لاپتہ ہوئے جن کی
تاحال کوئی خبر نہیں۔ جنوری کے پہلے عشرے کو اگر مذہبی انتہاء پسندی کی وحشت کے
بھرپور مظاہرے کا عشرہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ چار جنوری کو شہید سلمان تاثیر
کو قتل کیا گیا جسکے بعد انکے قاتل کو گلوریفائی کرنے اور غازیوں کو ہیرو بنانے کا
منظم سلالہ شروع ہوا جو نادیدہ و دیدہ قوتوں کی تائید و نصرت اور ریاست کی جانب سے
تشدد اور نفرتوں پر اکسانے کے فری ہینڈ سے آخرکار اتنی قوت پکڑ گیا کہ گزشتہ سال
ریاست کو ان مذہبی فاشسٹ قوتوں کے سامنے شرمناک سرنڈر کرنا پڑا۔ رواں سال شہید
سلمان تاثیر کیلئے شمعیں جلانے پر تو قدغنیں تھیں لیکن انکے یوم شہادت پر قاتلوں
کے حامیوں کو لانگ مارچ کی بھرپور ریاستی سہولتکاری میسر تھی۔ جنوری کے پہلے دس
دنوں میں ہی طالب کو اسکول پر حملے سے روکتے ہوئے اعتزاز احسن کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا۔ بظاہر بلاگرز کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے
والے، بلاسفیمی جہادی اور ناراض طالب بھائی مختلف کردار ہیں لیکن بربریت کے بیانیے
اور مذہبی فاشزم مشترکہ ہے۔ اس سال کا آغاز بھی کراچی یونیورسٹی کے بلوچ ایکٹوسٹس
کی گمشدگی کیساتھ ہوا۔
۴ جنوری کو وقاص گورایہ اور عاصم سعید
لاپتہ ہوئے، ۶ جنوری کو سلمان حیدر اور ۷ جنوری کو احمد رضا نصیر کو لاپتہ کر کے
لاہوت و لامکاں میں پہنچایا گیا۔ اسکے ساتھ دیگر ایکٹوسٹس کو بھی دھمکی آمیز کالز
کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سوشل میڈیا ایکٹوزم کیخلاف ایک منظم کریک ڈاؤن تھا۔
خوف اور دہشت پھیلائی گئی اور کئی بلاگرز، فری تھنکرز اور سوشل میڈیا پیجز چلانے
والے ایکٹوسٹس اپنی جان کے تحفظ کیلئے گمنامی میں چلے جانے پر مجبور ہوئے۔ قلمی
ناموں کیساتھ سوشل میڈیا ایکٹوزم قریب قریب ناممکن ہو گئی کیونکہ اپنے نام اور
شناخت کیساتھ کم از کم یہ سہارا ضرور وابستہ ہے کہ لاپتہ ہونے کی صورت میں آواز
اٹھانے والے چند لوگ تو مل جائیں گے۔ فری تھنکرز کے گروپس اور پیجز بلاک کرنے کا سلسلہ تیز
ہو گیا۔ دوسری طرف جب بلاگرز ٹارچر سہہ رہے تھے، الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر انہیں
اغواء کر کے تشدد کا جواز بخشنے کیلئے بلاسفیمی و غداری کا سہارا لینے والے مکمل
آزاد تھے۔ وحشت کے ناچ میں جو الزامات بلاگرز پر اچھالے گئے، ان پر کوئی کلام
نہیں، سوال تو یہ ہے کہ اگر وہ الزامات سچ ہوتے تو ریاست یا غیر ریاستی عناصر
کیلئے شہریوں کو لاپتہ کر کے ٹارچر کرنے کا جواز بن سکتا ہے۔ انکے خاندانوں کو
اذیت میں مبتلا کرنے کو محض ان الزامات سے جسٹیفائی کیا جا سکتا ہے اور اس قسم کے
تشدد کے جوازوں کے بعد معاشرہ مہذب یا انسانوں کا معاشرہ کہلا سکتا ہے۔ ہمارے سماج
میں ان سوالات کا جواب دینے کا تو کوئی رواج نہیں، البتہ اسی قسم کے سوالات ہوتے
جو لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید مختلف انٹرویوز میں
ٹارچر اور اپنے اغواء کاروں کے متعلق بتا چکے ہیں، سلمان حیدر نے بھی نظم اور بی
بی سی پر بلاگ لکھا ہے جس میں دیگر تشدد تو علاوہ بیان ہوا، مطالعہ پاکستان کے
جبری اسباق کا تشدد ہی کیا کم ہے۔ احمد رضا نصیر کی یادداشتیں بھی شاید کسی مناسب موقع
پر سامنے آ جائیں گی۔ احمد ایک ہنس مکھ اور زندہ دل انسان ہے اور ہم اسے
امام احمد رضا خان کی نسبت سے اعلیحضرت ثانی اور امام بھی کہا کرتے تھے۔ شہرت سے
دور بھاگتا ہے اور گمنام رہ کر اپنی آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ موچی پیج اس
نے بنایا جسے بعد میں وقاص گورایا، عاصم سعید نے بھی جوائن کیا۔ مختصر دورانیے میں
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بوٹ پرست سیاستدانوں، حوالدار میڈیا کے بیانیے اور
ملائیت کے تسلط پر طنز و مزاح اور کارٹونوں پر مبنی اس پیج کی مؤثر کاٹ اتنی تیز
ہو گئی کہ ایٹمی ریاست کے نظریاتی عدم تحفظ کیلئے خطرہ بن گئی۔ یہ باہمت احمد کی
کاوش تھی جس میں دیگر بلاگرز نے بھی حصہ ڈالا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ گمشدگی کے
دوران اور اسکے بعد اب تک وہ غلیظ پراپیگنڈے اور لایعنی کہانیوں کا برابر نشانہ
بنا ہوا ہے جس میں اپنے پرائے برابر حصہ لیتے ہیں۔
طنز و مزاح اور تمسخر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ
یہ وحشیانہ اتھارٹی کا اذہان سے خوف دور کرتی ہے۔ ہر اتھارٹی پر یہ بار ہوتا ہے کہ
وہ اپنا جواز ثابت کرے اور استحصالی اتھارٹی ہمیشہ جواز کے سوال سے ہی عدم تحفظ کا
شکار رہتی ہے، اسلئے وہ اذہان پر خوف اور دہشت طاری کر دیتی ہے تاکہ وہ سوال
اٹھانے کی جرآت نہ کر پائیں۔ جب کوئی باہمت انسان اس خوف سے خود کو آزاد کرا لے
اور معاشرے پر چھائی ہوئی خوف کی فضا کو توڑنے کی کوشش کرے تو وہ وحشیانہ قوتوں
کیلئے چیلنج بن جاتا ہے کیونکہ اسے دیکھ کر مزید لوگوں میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ
خود کو خوف سے آزاد کرائیں اور خوف کے بتوں کیخلاف کھڑے ہو جائیں اور اگر یہ سلسلہ
چل نکلے تو ان قوتوں کی تحلیل اور جارحیت کی شکست پر منتج ہوتا ہے جو انکے مفادات
میں بالکل نہیں ہوتا، اسلئے وہ اسے آغاز میں ہی کچلنا شروع کر دیتے ہیں۔ موچی پیج
کی بھی یہی کہانی تھی۔ پاکستان کے پاور اسٹرکچر کا خلاصہ تین لفظوں میں آ جاتا ہے
'ملا ملٹری الائنس'، باقی سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، سیاستدانوں، ملک ریاضوں کو
ان سے مفاہمت میں حصہ بٹورنے اور حاکمیت کا موقع ملتا ہے۔ موچی پیج اس پاور
اسٹرکچر کیلئے چیلنج تھا۔
سلو بھائی نے لکھا ہے کہ انہیں لاش پھینکے جانے کیلئے
چنیوٹ یا گوجرانوالہ کا آپشن دیا گیا تھا لیکن بلاگرز سے اسکے علاوہ وہ درندے بار
بار آخری وصیت بھی لکھواتے اور دنیا کیلئے آخری پیغام ریکارڈ کروانے کا کہتے تھے۔
احمد کے بقول تین ہفتے سے ایک ماہ کے دوران ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا ہو گا جب
ایسا نہ محسوس ہوا ہو کہ یہ لمحہ آخری لمحہ ہے۔ کہنے کو تو پچیس تیس دن تھے لیکن
ذہنی و جسمانی اذیت کا ایک طویل دور تھا۔ جنسی تشدد سے لیکر ٹارچر کا ہر حربہ
آزمایا گیا۔ لاپتہ کیا جانا عام اسیری سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ ہر لمحہ بے یقینیت
اور طرح طرح کے خدشات کا الگ ذہنی دباؤ رہتا ہے۔ ٹارچر کرنے والوں کے رویے ہر دم
بدلتے رہتے ہیں اور جرم کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ اغواء کاروں میں انسانیت
یا جن مذہبی و سماجی اقدار کا خود کو نظریاتی محافظ بتاتے ہیں، ویسی کوئی شے نہیں
ہوتی۔ ان وحشیوں کا دفاع اور 'مائی پرائڈ' بتانے والے اگر بربریت کی یہ داستانیں
سنیں یا پڑھیں تو انہیں احساس ہو کہ کن کا دفاع کرتے ہیں اگر انسانیت کی ایک رمق
بھی باقی ہو، لیکن ہمارے ارد گرد، چینلز اور سوشل میڈیا پر ایسے کئی بظاہر انسانی
چہرے ہیں جو اس حس سے عاری ہوتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مذہبی افیون میں ایسا بے
حس نہ تھا۔ لوک داستانوں اور لوک ادب میں مذہب اور خدا کے تصور کیساتھ ایک بے
تکلفی کا تعلق ملتا ہے۔ نعتیہ شاعری کی پیروڈی اور لطیفوں میں مذہبی کرداروں کا
بھی لطیف پیرائے میں بیان ہوتا لیکن اب لوگ ہنسنے سے ڈرتے ہیں، بات کرنے سے خوف
کھاتے ہیں۔ عربی نام مقامی لہجوں میں کیا سے کیا بن جاتے لیکن کوئی فتوی یا مہم
نہیں چلتی تھی۔ اب سلام کرنے کے مقامی لہجوں پر بھی فتوے ہیں۔ پست معیار زندگی اور
سہولیات نہ ہونے کیوجہ کیوجہ سے معاشرہ ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست ضرور تھا لیکن
گدی نشینوں، ملاؤں کی ویسی اتھارٹی نہیں تھی جیسی آج ریاستی سہولت کاری کیساتھ ہے۔
متشدد مذہبی اعتقادات کو سماجی زندگی سے علیحدہ رکھا جاتا تھا۔ ریاستی بیانیہ
جہادی ہونے کیساتھ خدا کے تصور میں خوف اور دہشت کی شدت آ گئی ہے۔ خدا کی کبریائی
کا اقرار (اللہ اکبر) جسموں کے چیتھڑے اڑنے کی خبر بنتا ہے، عشق رسول سے وحشت کی
تسکین کیلئے بلاسفیمی کا الزام لگانے کو ارد گرد کوئی شکار تلاش کرتا بے تاب ہجوم
ذہن میں آتا ہے جسکی آنکھوں میں خون اترا ہو۔ نعتیں مرنے مارنے پر اکساتی ہیں۔
مذہب کی اصل صورت میں بحالی میں سماجی ترقی اور مقامی کلچر کیلئے موت کا پیغام
ہوتا ہے۔
اسلام آباد پریس کلب کے باہر ایک بار سندھی لاپتہ
ایکٹوسٹس کے لواحقین کی داستانیں سن رہا تھا تو احساس ہوا کہ عاصم، وقاص گورایہ
اور سلو بھائی نے ابھی تک جو ٹارچر کا احوال سامنے لایا ہے، وہ کسی طرح بھی اسیری
کے ایام کا مکمل احاطہ نہیں کرتا بلکہ اس سے تو زیادہ عذاب اپنے پیاروں کی تلاش
میں در بدر پھرنے والے لواحقین جھیلتے ہیں۔ ٹارچر سیلز کی دیواریں بذات خود
داستانیں ہوتی ہیں جہاں اپنے جرم سے لاعلم پہنچنے والے اپنے لہو سے تاریخ لکھتے
ہیں۔ ان راہوں سے گزر کر آنے والے ایک ایکٹوسٹ بتا رہے تھے کہ ان سے پہلے اس سیل
میں کوئی آٹھ سال تک بھی رہا تھا اور اسکے پاس یہ یادداشت رقم کرنے کیلئے اپنی
انگلیوں کا لہو تھا۔ دن گننے کا واحد ذریعہ دیواروں پر لہو کی لکیریں کھینچنا ہوتا
ہے۔ لاہوت و لامکاں میں پہنچنے والوں کے بنائے جانے والے دیواروں پر خاکے، کیفیت
کا احوال سبھی لہو کے نقش ہوتے ہیں۔ ماہرین آثار بتاتے ہیں ماقبل تاریخ میں جب
الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے تو مصوری کی زبان میں نقش بنائے جاتے تھے۔ پتھر دور سے
بھی پیچھے پہنچانے کی سہولت رکھنے والے اس معاشرے میں آواز اور زبان کھینچ کر
ہزاروں سال ماضی کا سفر کرایا جاتا ہے، لیکن یہ انسانی عزم و ہمت اور تخلیقی اذہان
کی داستان ہے کہ وہ لاپتہ ماحول میں بھی تخلیقی صلاحیتوں اور بغاوت کے اظہار کے
نقوش چھوڑنے سے نہیں چونکتے۔ زباں بندی والے کیا سمجھتے ہیں کہ وہ سماج کو گونگا
کر کے اپنے مقاصد اور ہمیشہ تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بلاگرز کے معاملے میں جہاں ریاست کے تینوں ستونوں اور
اداروں پر جہاں مذہبیت کا بیانیہ چھایا رہا، وہاں چوتھے ستون میڈیا کا ناکارہ پن
بھی کھل کر سامنے آیا اور لاپتہ افراد اور ان پر الزامات کی مہم کا کوئی کاؤنٹر
نیریٹو سامنے نہ آ سکا۔ سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے لیکن درحقیقت ریاستی بیانیے
کا شور رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے حالیہ ٹویٹ میں غداری کے
الزامات کیساتھ ایسی بلاسفیمی و ملک دشمنی کے فتوے لگانے والے بے نام اور بے چہرہ
اکاؤنٹس کے خصوصی شکریے کیساتھ انکی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ریاست اس درجہ کی فسطائی شکل
اختیار کر چکی ہے کہ مردہ باد سمجھنے والے زیادہ محب الوطن لگتے ہیں۔
دیگر بلاگرز کا ذکر ہوتا رہتا ہے لیکن احمد رضا نصیر کا
ذکر بہت کم ہوتا ہے اور وہ خود بھی نہیں چاہتا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں چند
آوازیں جو ریاستی و مذہبی فاشزم کیخلاف بلند ہوتی ہیں، انہیں سراہنا چاہیے۔ ان
آوازوں کی خوبی اور ناتوانی ہی یہی ہے کہ غالب بیانیے کے مقابلے پر کھڑی یہ آوازیں
چند ہیں اور جیسے ہی یہ کچھ زیادہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں، انہیں کچل دیا جاتا ہے
اور پھر سے نیا سفر شروع ہوتا ہے لیکن دائروں کا یہ چکر زیادہ طویل نہیں ہو گا کیونکہ
ہر بار کچلنے کی کوششوں کے بعد مزید توانا آوازیں ابھرتی ہیں اور ہماری زندگیوں
میں نہ سہی، اگلی نسلیں ضرور پرامن اور وحشت و بربریت سے پاک معاشرہ دیکھیں گی جن
میں انہیں بات کرنے کی آزادی ہو گی، چند ہاتھوں میں معاشرہ یرغمال نہ ہو گا بلکہ
افراد اپنے فیصلوں اور زندگی کا اختیار خود رکھتے ہوں گے۔ ہماری نسل کیلئے یہی کیا
کم ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو سماج کی ترقی کی آدرش رکھتے ہیں اور انسانیت کے
روشن خوابوں کے لئے جدوجہد میں اپنے حصے سے بڑھ کر شمعیں جلاتے رہتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment