ہٹلر قسم کے والدین کو اگر اپنے بچوں کو پیٹنے کی ”اشد“ ضرورت پڑ بھی جاتی ہے تو اسکا بندوبست گھر کے کسی گوشے میں ہی کرنا چاہیے۔ سڑکوں، چوراہوں، گلیوں اور محلے کے سامنے دھنائی کا ”فریضہ“ سرانجام دینے سے جسمانی و شدید ذہنی اذیت کے جو نفسیاتی کچوکے لگتے ہیں، وہ جلد مندمل نہیں ہوتے۔
کچھ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے بچوں کی بے عزتی کرنے یا انہیں مارنے سے انکی بزرگی، رعب اور برتری کا اظہار ہوتا ہے اور بچوں پر زیادہ اثر کرتا ہے۔ اسکا اثر تو ضرور ہوتا ہے لیکن منفی طور پر ہوتا ہے۔ بچوں کو اس اذیت پسندی کے اثرات سے نکلنے کیلئے بہت زیادہ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات تو ساری زندگی یہ ذہنی کوفت پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بعض اوقات نسلوں تک پٹائی کا سلسلہ فریضے کے طور پر جاری رہتا ہے۔
بدقسمتی سے نازی طبیعت کے والدین کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس یا لوئر کلاس سے ہی ہوتا ہے یا اپر کلاس کے ناخواندہ والدین ایسا مزاج رکھتے ہیں اور ان میں دیہی پس منظر کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ دیہی یا قبائلی معاشروں میں قدیم معاشرتی اقدار کے اثر سے بچوں کی عزت نفس کا تصور موجود نہیں ہوتا بلکہ انکی اپنی پہچان اور شناخت بھی نہیں ہوتی اور وہ خاندانی اور نسلی شناخت کے زیر اثر ہی ہوتے ہیں۔
آج یونیورسٹی سے واپسی پر میلے کچیلے سکول یونیفارم میں ملبوس بری طرح سرعام پٹتے ہوئے ایک بچے کا دردناک منظر بھی کچھ ایسا ہی تھا اور اسکی ماں کے حلیے سے نہیں لگتا تھا کہ انکا تعلق سوشل میڈیا استعمال کر سکنے یا کم از کم بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشوونما کے متعلق جدید رجحانات کے مطالعے تک رسائی حاصل کرنے والوں میں سے ہو گا۔۔۔۔۔۔
کچھ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے بچوں کی بے عزتی کرنے یا انہیں مارنے سے انکی بزرگی، رعب اور برتری کا اظہار ہوتا ہے اور بچوں پر زیادہ اثر کرتا ہے۔ اسکا اثر تو ضرور ہوتا ہے لیکن منفی طور پر ہوتا ہے۔ بچوں کو اس اذیت پسندی کے اثرات سے نکلنے کیلئے بہت زیادہ تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ بعض اوقات تو ساری زندگی یہ ذہنی کوفت پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بعض اوقات نسلوں تک پٹائی کا سلسلہ فریضے کے طور پر جاری رہتا ہے۔
بدقسمتی سے نازی طبیعت کے والدین کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس یا لوئر کلاس سے ہی ہوتا ہے یا اپر کلاس کے ناخواندہ والدین ایسا مزاج رکھتے ہیں اور ان میں دیہی پس منظر کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ دیہی یا قبائلی معاشروں میں قدیم معاشرتی اقدار کے اثر سے بچوں کی عزت نفس کا تصور موجود نہیں ہوتا بلکہ انکی اپنی پہچان اور شناخت بھی نہیں ہوتی اور وہ خاندانی اور نسلی شناخت کے زیر اثر ہی ہوتے ہیں۔
آج یونیورسٹی سے واپسی پر میلے کچیلے سکول یونیفارم میں ملبوس بری طرح سرعام پٹتے ہوئے ایک بچے کا دردناک منظر بھی کچھ ایسا ہی تھا اور اسکی ماں کے حلیے سے نہیں لگتا تھا کہ انکا تعلق سوشل میڈیا استعمال کر سکنے یا کم از کم بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشوونما کے متعلق جدید رجحانات کے مطالعے تک رسائی حاصل کرنے والوں میں سے ہو گا۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment