پوپ فرانسس نے کچھ عرصہ قبل اطالوی اخبار La Repubblica کے بانی Eugenio Scalfari کو لکھے گئے کھلے خط میں بیان
دیا کہ خدا ملحدین کو بھی معاف کر دے گا اگر وہ اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بسر کریں۔
انکا کہنا تھا کہ خدا کے رحم و کرم کی کوئی حد نہیں اور جو ایمان نہیں لاتے، انکے لئے
بھی گناہ تب وجود رکھتا ہے جب وہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ یہ خط ان سوالات
کے جواب میں تحریر کیا گیا تھا جو Scalfari نے
اخبار میں شائع کیے تھے۔ سوال یہ کیا گیا تھا کہ کیا مسیحیوں کا خدا انکو معاف کر دے
گا جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔
رومن کیتھولک مسیحیوں کے حالیہ پوپ اپنے بعض ترقی پسندانہ
خیالات کیوجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہیں اور کیتھولک مسیحیوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور
نظریات کے ماننے والوں میں بھی انکے لئے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ یہ بیان مسیحیت
کی ریفارمز کی تاریخ کو بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سینکڑوں سالوں تک چرچ نے ایمان، جنت،
جہنم، ہدایت، گمراہی وغیرہ کے خدائی فیصلے اپنے ہاتھ میں رکھے اور مسیحیت میں ایک دوسرے
کو کافر اور بھٹکا ہوا سمجھ کر خونریز فرقہ وارانہ جنگیں ہوئیں۔ کیتھولک، پروٹسٹنٹ
اور دیگر فرقے ایک دوسرے کو زندہ جلاتے اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے رہے۔ رومن کیتھولک
چرچ اور روس کے چرچ بھی ایک دوسرے پر فتوے لگاتے رہے اور ہزار سال بعد حال ہی میں پوپ
فرانسس اور روس کے آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ
Patriarch Kirill کے درمیان کیوبا میں ملاقات ہوئی۔
معروف اصلاح پسند اسکالر جاوید احمد غامدی نے بھی اپنے ایک
بیان میں اس سوال پر مؤقف بیان کیا کہ جو ملحدین اپنے ضمیر، شعور اور صاف دل کیساتھ
زندگی بسر کرتے ہیں، خدا ان کے ساتھ فیصلہ کرنے میں عفو و درگزر سے کام لے گا۔ مواخذہ
ہٹ دھرمی، ضد اور ضمیر کے برخلاف چلنے میں ہی ہو گا۔ زمین پر بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں
کیا جا سکتا کہ خدا اپنے کسی بندے کیساتھ کیا معاملہ کرے گا بلکہ یہ خدا کا ہی اختیار
ہے۔ غامدی صاحب کا مؤقف البتہ مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد کی آواز ہی ہے اور اکثریت
اسکے برعکس سوچتی ہے۔
ایمان، عقیدے اور عبادات میں انسان کا تعلق براہ راست خدا
کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں اس تعلق کی نوعیت مختلف ہوتی ہے بلکہ اگر انفرادیت کی
سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کا تصور اپنے خدا، بھگوان وغیرہ کے متعلق منفرد ہوتا ہے
جو اسکے سماجی حالات اور شعور کا عکس ہوتا ہے جس کے تحت وہ اپنے خدا سے امیدیں وابستہ
کرتا ہے اور اسکی خوشنودی اور اس سے فریادوں اور دعاؤں کا تعلق اپنی ذاتی زندگی میں
قائم کرتا ہے۔ خدا سے انسانوں کے تعلق کو مرکزی طور پر دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا
سکتا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا تعلق ایقان یعنی ماننے کا ہے جبکہ ایک اچھی خاصی تعداد
کا یہ تعلق بھی ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے اور کائنات کی مادی و سانسی تشریحات و توجیہات
کو درست سمجھتے ہیں۔
ایقان کی جانچ پڑتال کا کوئی ٹھیک ٹھیک (Accurate) زمینی پیمانہ ممکن نہیں ہو
سکتا کیونکہ اس میں نیت، خلوص جیسے اعمال وغیرہ کے انتہائی نجی زندگی کے معاملات جڑے
ہوتے ہیں جنکی ججمنٹ کسی دلوں کا حال جاننے والی ماورائی قوت کے ذریعے ہی ممکن ہو سکتی
ہے۔ اگر تصور خدا کے مادے (Abstract) اور
تعمیم کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر خدا کے اختیار میں آتا ہے۔ جب کوئی
ریاست یا انسانوں کا کوئی گروہ اتھارٹی بن کر نجی معاملات پر وہ فیصلے کرنا شروع کر
دے جو خدا کے اختیار میں ہیں، تو یہ خدائی کاموں اور صفات میں بھی مداخلت ہوتی ہے۔
بندے کا خدا سے کیسا تعلق ہے، یہ بندہ جان سکتا ہے یا خدا
جانتا ہے، اس باہمی تعلق میں کسی تیسرے کی جانچ پڑتال ممکن نہیں ہو سکتی۔ تکفیر کا
مسئلہ تب جنم لیتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ مذہب اور اس سے وابستہ سزا و جزا کے تصورات
پر اتھارٹی سمجھ لیتا ہے اور صرف خود کو ہی ہدایت یافتہ، افضل اور سچا پیروکار مانتا
اور سمجھنے لگتا ہے۔ اسطرح وہ اپنے ہم خیالوں کے علاوہ دوسروں کو گمراہ اور بھٹکا ہوا
ڈکلئیر کر دیتا ہے۔
مطلق سچائی کے دعویدار تقریبا سبھی مذاہب کیساتھ تکفیر کا
مسئلہ رہا اور تاریخ میں انکے اندر ہی ہر دور میں ابھرنے والے فرقے اپنے علاوہ سب کو
گمراہ قرار دے کر خیالات کو دبانے کیلئے جبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کشت و
خون کا بازار بھی گرم رہا۔ ”مطلق العنان سچائی پر اجارہ داری اپنی انتہا میں فاشزم
کو ہی پیدا کرتی ہے“ (فہد رضوان)۔ اسکے برعکس سناتن دھرم کا فلسفہ یہ تھا کہ سچائی
ایک ہے، لیکن اس تک پہنچنے کے راستے مختلف ہیں۔ اس فلسفے کے حامل مذاہب نے تاریخ میں
نئے خیالات، اصلاحات اور اختلاف رائے کو قبول کرنے میں نسبتا زیادہ وسعت نظری کا مظاہرہ
کیا۔ اس فلسفے کا رنگ صوفی ازم کے پیغام محبت میں بھی ملتا ہے جس میں کسی کو عقیدے،
مسلک یا مذہب کی بناء پر نفرت کا نشانہ بنانے، گمراہ اور نیچ سمجھنے کی بجائے گروہی
یا اعتقادی تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت سے محبت کا درس نظر آتا ہے۔
قائد اعظم کے چودہ نکات میٹرک تک پہنچنے والے تقریبا ہر
بچے کو زبانی یاد ہوتے ہیں۔ ان چودہ نکات میں سے آٹھواں نکتہ یہ تھا ”مجالس قانون ساز
کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی
ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں“۔ اس نکتے سے ریاست یا کسی اور اتھارٹی
کو تکفیر کا یا کسی کمیونٹی پر کوئی اور فیصلہ مسلط کرنے کا اختیار دینے کی وضاحت ہوتی
ہے اور دوسری ترمیم کے ضمن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرقے پر فیصلہ مسلط کرنے
سے قبل ریفرنڈم یا کسی اور طریقے سے انکی رائے لی گئی تھی یا نہیں۔ تکفیر کے ضمن میں
قائد اعظم کا مؤقف تھا کہ ”میں کون ہوتا ہوں کسی ایسے شخص کو کافر قرار دینے والا جو
اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو“۔ (۲۳
مئی ۱۹۴۴ء،
سرینگر)۔ اس پر مجلس احرار اور دیگر مولویوں نے بہت لے دے کی، مگر تاریخ میں ایسا کوئی
ثبوت نہیں ملتا کہ قائداعظم نے اپنی زندگی میں اس مؤقف سے رجوع کیا ہو۔
ریاست یا کسی اور اتھارٹی کے تکفیر کا فیصلہ مسلط کرنے کے
اختیار اور دائرہ کار کا سوال سیاسی بحث ہے، مذہبی نہیں لیکن بدقسمتی سے مثبت مکالمے
کی بجائے اس پر مذہبی جذباتیت کی بناء پر ہی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مذہبی بحث
فرقوں کے اندر ہوتی ہے کہ فلاں کافر ہے یا نہیں اور کسی گروہ، نظریے یا عقیدے کے متعلق
ذاتی یا گروہی حیثیت سے کفر کا خیال رکھنے، کافر سمجھنے اور اسکا اظہار کرنے کا حق
اظہار رائے کی آزادی میں آتا ہے بشرطیکہ اظہار میں اس کے ساتھ تشدد پر اکسانے اور نفرتوں
کے ذریعے شدت پسندی کو ہوا دینے کا معاملہ نہ جڑا ہو۔
اگر اکثریت کے فیصلے کو ہی دلیل مانا جائے تو کسی دور میں
غلامی پر بھی ”اکثریت“ متفق تھی، لیکن یہ غلامی کے ادارے کے ظالمانہ اور غیر انسانی
نہ ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ بنیادی انسانی حقوق مقدم ہیں جن میں مذہبی حقوق بھی
شامل ہیں اور اکثریت کسی فیصلے سے ان کو سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ ٹائرنی
آف میجورٹی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے پہلے ہم ہندوؤں کی اکثریت کیوجہ
سے ٹائرنی آف میجورٹی کے خوف اور عدم تحفظ کا ہی شکار تھے جس کے نتیجے میں پاکستان
قائم کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی حقوق نہ چھینے جائیں۔ پاکستان میں بھی
گروہوں پر فیصلے مسلط کرنے کے عمل کا شروع ہونا قیام پاکستان کے اس جواز کو ہی ختم
کر دیتا ہے۔
ریاست کے نزدیک تمام شہری برابر ہوتے ہیں، وہ کسی ایک گروہ
کا فیصلہ دوسرے پر مسلط کرنے یا تھونپنے کا اختیار نہیں رکھتی کیونکہ ریاست تمام شہریوں
کی ہوتی ہے اور سب سے حقوق کے تحفظ کے مساوی رضاکارانہ معاہدے میں جڑی ہوتی ہے اور
انکی ضامن ہوتی ہے۔ وہ شہریوں میں مسلمان کافر کی بناء پر تفریق نہیں کر سکتی بلکہ
اسکا فرض یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہر شہری کو اپنے اپنے مذہبی عقیدہ اور نظریہ
رکھنے پر آزاد ہونے، اسے اپنی نجی زندگی پر نافذ کرنے اور اس کے مطابق ذاتی زندگی بسر
کرنے کا بھرپور موقع ملے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت یا عدم تحفظ کا احساس نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسے شہریوں کے ایمان، عقیدے جیسے ذاتی معاملات سے کوئی غرض نہیں ہوتی
اور نہ ہی اس بنیاد پر مساوی سلوک کی بجائے امتیازی سلوک کا حق رکھتی ہے۔ ریاست کو
عقائد اور عبادات کی آزادی کے تحفظ کیلئے سہولت کار کا فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے۔
کافر قرار دینے کا اختیار ریاست کو دیا جائے یا علماء کو
اتھارٹی بنا دیا جائے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ مسلمان کوئی باقی نہ بچے گا بلکہ بدعتی،
گستاخ، مشرک، کافر ہی بچیں گے کیونکہ یہ سلسلہ لامحدود ہے اور مسلمانوں کا کوئی بھی
گروہ ایسا نہیں جس پر کفر و شرک و بدعت وغیرہ کے فتوے موجود نہ ہوں۔ جنت، جہنم جیسے
فیصلے ماورائی معاملات میں آتے ہیں اور اگر کوئی زمین پر ماورائی اتھارٹی بن کر ہی
یہ فیصلے تھونپنا شروع کر دے تو پھر یہ نفرت انگیزی اور عصبیت پر ہی جا کر منتج ہوتا
ہے۔
کسی کی جنت جہنم کی اس قدر متشدد فکر کیوں ہونی چاہیے کہ
اسکے خیالات و نظریات رکھنے اور انکے اظہار کے بنیادی حق کے احترام کی بجائے اس کو
چھیننے کے درپے ہوا جائے۔ دنیا میں کوئی بھی دو انسان سو فیصد ایک دوسرے سے متفق نہیں
ہو سکتے۔ خود کو اعلیٰ ہدایت یافتہ اور باقی انسانوں کو نیچ سمجھنے کی بجائے انسانیت
اور اختلاف رائے کے باہمی اصول پر بھی تو متفق ہوا جا سکتا ہے جس میں ہم خود کو سچائی
کے ماؤنٹ ایورسٹ پر براجمان نہ سمجھا جائے اور خود کے غلط ہونے کا امکان بھی ہمیشہ
پیش نظر ہو اور مسلکی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی تعصبات سے بلند تر ہو کر انسانیت کی
سطح پر سوچا جائے۔ خدا کے کام خدا کو ہی کرنے دیں اور ہم اپنے کاموں پر دھیان رکھیں۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک ایسی پرامن فضا کیلئے کوشاں
ہوں جس میں ہمیں بھی اور ارد گرد کے مختلف الخیال لوگوں کو بھی اپنے خیالات اور نظریات
رکھنے اور ان کے اظہار کا بھرپور حق ہو۔ خیالات اور عقائد پر مثبت اور علمی بحثیں ضرور
ہوں لیکن نفرتیں جنم نہ لیں اور اپنا نظریہ، عقیدہ یا ورژن دوسروں پر تھونپنے کی کوشش
نہ ہو۔ کسی پر ظلم کی مذمت کیلئے ہمیں اسکے عقیدے اور نظریے کو نہ دیکھنا پڑے، نہ ہی
افسوس کے اظہار کیلئے ہمیں نظریاتی اختلاف کیوجہ سے تامل ہو اور نہ ہی ہمیں ظلم پر
افسوس کی بجائے یہ افسوس کھائے جا رہا ہو کہ ظلم کا شکار ہونے والا ہمارے سے مختلف
نظریہ رکھتے ہوئے کیوں مر گیا اور ہمیں اسکی آخرت اور خداوند قدوس سے اس کے معاملات
کی بجائے دنیا میں اس پر بیتنے والے ظلم کی فکر ہو جسکے لئے ہم آواز بلند کریں۔ شاید
ایک تکثیری اور مختلف الخیال سماج اور معاشرے کیلئے باہمی انسانی بقا کا یہی اصول ہو
سکتا ہے۔
Very well written
ReplyDelete