Thursday, 6 December 2018

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازعہ

بابری مسجد ایودھیا (فارسی مترادف: اودھ) کی ایک مسجد ہے جسے بابر نے تعمیر کروایا۔ بعد میں روایات مشہور ہونا شروع ہوئیں کہ یہ مسجد رام چندر جی سے منسوب مندر کو ڈھا کر تعمیر کی گئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ تصورات پختہ ہونے لگے جسکے نتیجے میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد کا غالبا ایک حصہ منہدم کر دیا گیا۔ اسکے بعد فسادات پھوٹ پڑے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، رپورٹس کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہربنس مکھیا نے اپنے مقالے ”رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا تنازعہ، عہد وسطیٰ کی شہادت“ میں بابری مسجد تنازعے کے ابھار کی تاریخ اور رام جنم بھومی کے مندر ڈھانے کی شہادتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے۔ پروفیسر مکھیا کی تحقیق کے مطابق اس عہد کے ہندو، مسلم مؤرخین، شعراء وغیرہ سب مندر کی جگہ بابری مسجد کی تعمیر پر خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ شاہی کتبے، درباری تواریخ اور دیگر دستاویزات، ہر قسم کی ادبی کتابیں اور یورپی سیاحوں کی تحریریں بھی اس معاملے میں بالکل خاموش ہیں۔ 
بابر جو اپنی ”توزک بابری“ میں معمولی معلومی واقعات کو بیان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا مگر اس نے اپنے ایودھیا کے دورے کے ذکر میں کہیں بھی رام مندر ڈھانے اور اسکی جگہ مسجد تعمیر کرنے کا نہیں لکھا۔ اگر وہ تعصب میں مندر گرا کر مسجد تعمیر کرواتا تو ضرور اسکا اپنے ”کارنامے“ کے طور پر ذکر کرتا۔ بابر کے جانشینوں بشمول متعصب اورنگزیب نے، جو مندروں کو گرا کر مساجد تعمیر کرنے میں اطمینان قلب محسوس کرتا تھا، اس بارے میں ایک لفط بھی نہیں کہا اور نہ ہی انکے درباروں سے وابستہ مذہبی علماء کی لکھی ہوئی تاریخ میں کہیں ذکر ملتا ہے۔ ایودھیا کے ہندو شاعر گوسوامی تلسی داس، جس نے اپنا رزمیہ (رام چرتا مناس، ۱۵۷۰ء) اور دیگر کلام ایودھیا میں ہی لکھا، حیرت ہے کہ اسکی نگاہوں سے بھی یہ رام مندر کا انہدام اوجھل رہا۔
ایودھیا کے علاقے میں واقعی یہ ایک بڑی مضبوط روایت ہے کہ بابری مسجد رام کی جائے پیدائش پر رام سے منسوب مندر کی جگہ تعمیر کی گئی لیکن ۱۷ اور حتیٰ کہ ۱۸ ویں صدی کے بڑے حصے میں ایسے کسی عقیدے کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اس روایت کا آغاز ۱۸ویں صدی میں ہوا کہ رام جنم بھومی پر مسجد تعمیر کی گئی لیکن ۱۹ویں صدی میں جا کر اسکو مندر سے منسوب کر دیا گیا یعنی واقعہ کے وقوع پذیر ہونے اور روایت کی تشکیل میں صدیوں کا فرق موجود ہے۔ ۱۸۶۰ء تک یہ روایت انتہائی کمزور تھی جسکی بناء پر پی کارنیگی کو رام جنم بھومی پر مندر کی موجودگی کا قیاس کرنا پڑا۔
بیسویں صدی میں ۱۹۰۵ء میں اس قصے نے ڈسٹرکٹ گزیٹر میں ایک قدیم مندر کے انہدام کے مبہم ذکر کی صورت میں جگہ پا لی اور وہاں سے مسز بیوریج نے یہ قصہ اٹھا کر مفروضوں کی بناء پر رام مندر کے گرائے جانے اور اس جگہ بابری مسجد کی تعمیر کو ایک حتمی واقعہ بنایا۔ اس قیاس کی بنیاد محض بابر کا مسلمان ہونا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ
”یہ اغلب ہے کہ ایودھیا میں اپنے قیام کے وقت مسجد کی تعمیر کا حکم بابر نے ۹۳۴ء ہجری میں دیا ہو گا جسکے دوران وہ قدیم عبادت گاہ کے وقار اور تقدس سے مرعوب ہوا ہو گا جسکی جگہ (یا اسکے کچھ حصے) پر مسجد تعمیر کی گئی ہو گی۔ محمد کے فرمانبردار پیروکاروں کیطرح اسکے لئے کوئی اور مذہب ناقابل برداشت ہو گا اور مندر کی جگہ مسجد کی تعمیر کو وہ فرض شناسی اور قابل تعریف کام سمجھتا ہو گا“۔
(تاریخ جرنل نے اپنے ساتویں شمارے میں پروفیسر ہربنس مکھیا کے مقالے کا اردو ترجمہ شائع کرایا۔ ڈاؤن لوڈ کر کے ملاحظہ کیجیے)
۱۹۸۶ء میں جب بابری مسجد کا تنازعہ زور پکڑنا شروع ہوا تو انڈین ہسٹری کانگریس نے برابر ۸۶ء سے ریزولوشن پاس کیے جن میں کہا گیا کہ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ یہ مسجد یا مندر کا تنازعہ ہے لیکن ۱۵۸۸ء میں بنی بلڈنگ کو گرایا نہیں جا سکتا اور حکومت اسے تحفظ فراہم کرے۔ بعد میں جب ہسٹری کانگریس کی تجاویز پر غور نہیں کیا گیا اور یہ افسوسناک سانحہ رونما ہوا تو مذمتی قراردادیں پاس ہوئیں۔ سنیے انڈین ہسٹری کانگریس کا بابری مسجد پر مؤقف معروف مارکسی مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی زبانی:
ہمارے بعض لبرل بھی محض رام جنم بھومی اور رام چندر جی کے مندر کے افسانے پر محض اسلئے یقین رکھتے ہیں کہ بابر مسلمان تھا، جنگ و جدل میں مصروف رہا، اسکے جانشینوں نے مندر گرائے اور آپس میں خونریزی میں مصروف رہے، سلاطین اور مغلوں نے بارہا دیگر مذاہب کے لوگوں پر ظلم ڈھائے اور انکی عبادتگاہوں کو توڑا اور لوٹا وغیرہ وغیرہ لیکن یہ سب اس چیز کی شہادت نہیں بن سکتا کہ رام مندر کو ڈھا کر ہی بابری مسجد تعمیر کی گئی۔
بہرحال اسکا ذکر ضمنی طور پر کیا لیکن یہ ایک فسطائی رجحان چل پڑا ہے کہ مغل اور عہد سلاطین میں تعمیر ہونے والے تاریخی عمارات کو کسی قدیم مندر سے منسوب کر کے #ReclaimYourMandir کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے۔ ٹھوس ثبوتوں اور قدیم دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر تاریخی بحثیں اپنی جگہ ضرور ہونی چاہییں لیکن محض روایات، قصے کہانیوں اور مفروضوں کی بناء پر بلوے کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اس آگ سے کھیل کر ہزاروں انسانوں کو خون میں نہلا دینا سراسر جہالت ہے۔

1 comment:

  1. آپ نے اس اہم معاملے پر تحقیق کر کے ایک قسم کے پراپگینڈے کو رد کیا اور مدلل نقطہ نطر پیش کیا.

    ReplyDelete