Thursday, 23 June 2016

دعوتِ افطاری


زندگی میں ہم نے بہت گناہ کیے اور بندے بشر ہیں، کچھ گناہ خود بخود ہم سے ہو گئے، لیکن کسی کی دعوتِ افطاری قبول نہ کرنے کا گناہ ہم سے کبھی نہ ہو سکا اور شاید مستقبل میں بھی صورتِ حال نازک ہونے کی بجائے معمول پر رہی تو ایسا گناہ کبھی سرزد نہ ہو۔ رمضان شروع ہوتے ہی فیس بک کے کور فوٹو پر واضح پیغام چسپاں کر دیا کہ ”مجھے دعوتِ افطاری سے پیار ہے“۔ گو کہ کامل علم تھا کہ فیس بک پر ہمارے ساتھ ایڈ شدہ لوگ بھی ہمارے جیسے ہی کمینے ہیں اور دوسروں کی جانب سے ہی دعوتِ افطاری کے انتظار میں ہیں، لیکن پھر بھی ہمت تو نہیں ہارنی چاہیے، بلکہ ڈھٹائی میں گہرائی کی حد سے بھی گزر کر دھنس جانا چاہیے۔
رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہوتا ہے، مگر رحمت کے عشرے میں ہم پر دعوتِ افطاری جیسی کوئی رحمت نازل نہ ہو سکی، شاید ہمارے نصیب میں نہ لکھا تھا لیکن ہم پھر بھی پرامید تھے کیونکہ زیادہ تر افطاری کی دعوتوں کا رجحان دوسرے عشرے کے دو تین روزے گزرنے کے بعد زور پکڑتا ہے۔ خیر، بخشش والے عشرے میں وہ باسعادت گھڑی آ گئی جس میں ہمیں ایک عزیز نے دعوتِ افطاری کا پیغام دیا۔ ایک لمحے کو ہم نے سوچا کہ فورا قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ روایتی طریقے سے مجبوریوں کی ایک فہرست بیان کریں اور پھر آخر میں ایسا ظاہر کریں کہ ہم مصروف تو بہت ہیں، البتہ ان پر احسانِ عظیم کرتے ہوئے مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالنے کی گنجائش پیدا کریں گے، مگر پھر کفرانِ نعمت کے خیال سے اگلے ہی لمحے ”ہاں“ کر دی۔
اتنی جلدی اپنی دعوت کے شرف قبولیت پا جانے پر وہ عزیز ایک لمحے کیلئے تو بھونچکا کر رہ گئے، لیکن پھر جلد ہی سنبھل گئے۔ غالب گمان ہے کہ انہیں ہماری شتابی سے یہ اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ہم پہلے ہی کسی دعوتِ افطاری کے انتظار میں بیٹھے تھے، اسلئے دعوت قبول کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی۔ خیر انہوں نے روزہ کھلنے کے وقت سے گھنٹہ پہلے گھر سے نکل آنے کا کہہ دیا جسکی وجہ انکے گھر جا کر معلوم پڑی۔ چونکہ افطاری کے لوازمات اور سامان سے متعلق غیر یقینی کیفیت تھی، لہٰذا حفظ ماتقدم کے طور پر گھر سے نکلتے وقت لسی کے دو تین جاموں سے روزے کو ٹھنڈک اور تازگی بخش دی۔
ہمارے عزیز ختم درود والے مذہبی تھے اور افطاری پر مدعو ہونے والے ہمارے علاوہ تقریبا سبھی احباب ختم درود والے ہی تھے۔ گفتگو چلی تو برطانیہ سے تازہ تازہ پلٹنے والے صاحب نے مسلک کے اندر پھوٹ بیان کرنا شروع کی۔ انکے بقول وہاں نمازِ تراویح ساڑھے بارہ بجے ختم ہوتی ہے اور دعوت اسلامی والے ایک بجے، نیریاں شریف اور جھنگ شریف والے سوا دو اور ایک اور ٹولہ ساڑھے تین بجے جا کر روزہ بند کرتا ہے، افطاری بہرحال یہ سب اکٹھے ہی کرتے ہیں۔ اسکے بعد اتحادِ مسلک کا لازمی سیشن چلا۔ ہمیں چونکہ کچھ خاص دلچسپی نہ تھی، لہٰذا ہاں ہوں سے ہی کام چلایا۔ پھر لمبا چوڑا ختم شریف شروع کیا گیا اور ہم دوسروں کیطرح سر جھکا کر بیٹھ گئے اور سوچوں میں مستغرق ہو گئے۔ اب ہمارے شباب کو سامنے رکھ کر یہ نہ پوچھ بیٹھیے گا کہ وہ سوچیں کونسی تھیں۔ خیر، مکمل طور پر بھی غلط نہ سوچیے گا، کچھ اثر لسی کا بھی باقی تھا۔
عالم استغراق سے بیدار ہو کر سر اٹھایا تو ختم جاری تھا مگر افطاری کا سامان رکھا جا چکا تھا۔ کن اکھیوں سے میز پر جائزہ لیا تو فروٹ کا غلبہ تھا، پہلا خیال ذہن میں آیا کہ شاید ہمارے عزیز سو فیصدی ویجیٹیرین نہ ہوں۔ فکر مگر یہ لاحق ہوئی کہ کہیں اینٹی پکوڑا نظریات و خیالات کے حامل ہی نہ ہوں۔ اب میز پر جو پکوڑوں کی تلاش شروع ہوئی تو چار پانچ بار پورے ٹیبل کی سکروٹنی پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امید کی شمع تب روشن ہوئی جب اچانک فروٹ کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی سی ڈبیا میں چٹنی نظر آ گئی۔ اس سے سانس میں سانس آئی اور دل کو سکون اور حوصلہ ہو گیا کہ پکوڑے یا ان سے ملتی جلتی کوئی چیز میز پر تو نہیں، البتہ ارد گرد ضرور موجود ہو گی۔
ختم شریف سے پہلے ہمارے عزیز نے سب کو بتا دیا تھا کہ قریبی مسجد والے ان کے مفتی صاحب سے ایک منٹ پہلے روزہ افطار کرواتے ہیں اور شہر بھر میں جن مفتی صاحب کے کیلنڈر کو وہ فالو کرتے ہیں، وہی کیلنڈر مستند ہے، لہٰذا ایک منٹ صبر بھی کرنا ہو گا۔ لمبے چوڑے ختم شریف کے بعد دعا شروع ہوئی تو دعا والے صاحب نے حضرت آدمؑ سے لیکر اپنے بچوں تک کا تمام شجرہ گنوا کر بخشش کی دعا کی۔ ہم نے دعا کیلئے ہاتھ تقریبا گود میں ہی رکھے تھے، لہٰذا بازو تھکاوٹ سے محفوظ رہے۔
افطاری کا سائرن بجا تو اب مکمل طور پر روزہ افطار کروانے کا اختیار ہمارے میزبان کے ہاتھ میں تھا کہ ان کا ایک منٹ گزرے، چاہے آدھے گھنٹے میں گزرے، اور وہ روزے کی افطاری کا اعلان کریں۔ خیر انکا ایک منٹ جلد دو تین منٹوں میں ہی گزر گیا اور انہوں نے ٹوٹ پڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پکوڑے بدستور غائب تھے۔ روح افزا کی ”روح“ کی بجائے جام شیریں میں ”شیریں“ کیوجہ سے ہمیں جامِ شیریں زیادہ ٹھرکیانہ ہونے کیوجہ سے پسند ہے۔ یہ لطیف نکتہ ہے، گہرائی سے غور کرنے پر سمجھ آئے گا۔ ہمارے میزبان نے بھی جام شیریں ہی گھول رکھا تھا۔
روزے کو قوت اور فرحت بخشنے کیلئے ہم نے ایک تو اپنی سست طبیعت کے باعث لنچ کافی لیٹ کیا تھا اور پھر لنچ اچھا خاصا کر لیا تھا، لہٰذا جامِ شیریں کا آدھا گلاس لینے کے بعد ہم نے آموں کو چوسنے کے انداز میں آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ کچھ دیر میں احساس ہوا کہ کہیں ہماری سپیڈ کو تاڑ کر ہمارے روزے پر ہی شکوک و شبہات قائم نہ کر لئے جائیں، لہٰذا خراماں خراماں افطاری کی بجائے تھوڑی سی رفتار تیز کی۔ فروٹ چاٹ غضب کی تھی، اسکے علاوہ کچھ اور چیزیں بھی سلیقے سے تیار کی گئی تھیں لیکن اتنے میں کسی گمنام گوشے سے اچانک کم بخت پکوڑے، سموسے اور کباب وغیرہ سامنے آ گئے یعنی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لائے گئے اور ہم نے باقاعدہ حملہ داغ دیا۔
محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے تھے مگر ہم نے اس وقت جتنے حملے کیے، ان میں سے کم از کم پینتیس تو ہمیں یاد ہیں، باقی کا علم نہیں۔ چونکہ ہم رفتار وغیرہ کے احساس سے عاری ہو چکے تھے اور بس جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے میں ہی لہو گرم کرنا ذہن میں تھا، لہٰذا اردگرد سے کلی طور پر بے خبر تھے۔ اتنا معلوم رہا کہ ہمارے حملوں کے دوران روٹی نماز سے پہلے کھانا کھانے یا نماز پڑھ کر کھانا کھانے کے پیچیدہ نکتے پر باقاعدہ مناظرہ ہوا اور نتیجہ ”پہلے نماز، پھر کھانا“ کی صورت میں سامنے آیا۔
گیٹ سے باہر نکل کر قریبی مسجد کیطرف ہم بڑھے تو میزبان نے بتایا کہ وہ بدعقیدہ و بدمذہب لوگوں کی مسجد ہے اور کچھ دور ”صحیح العقیدہ“ مسجد میں ہمیں لے جایا گیا۔ امام صاحب کے شین قاف عین وغیرہ زبردست تھے۔ کافی لمبے عرصے بعد مسجد میں جانا ہوا تھا، نماز بھی مغرب کی تھی اور ہم آخری رکعت میں پہنچے۔ اب دو رہ جانے والی رکعتیں ساتھ ملانے میں یہ مسئلہ ہوا کہ آیا دونوں میں التحیات کیلئے بیٹھنا ہے یا ایک ہی بار دونوں پڑھ کر بیٹھنا ہے۔ اسی الجھن میں ایک رکعت پڑھ کر دو تین بار اٹھے، پھر بیٹھے اور آخر میں بچپن میں قاری صاحب کی بتائی گئی تکنیک زہن میں آئی کہ جب جماعت سے کچھ رکعتیں رہ جائیں تو انہیں الٹ طور پر ساتھ ملایا جاتا ہے، لہٰذا ہم التحیات میں بیٹھ گئے۔
امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد کچھ لوگ ہمارے سر پر ٹوپی نہ ہونے پر گھورتے پائے گئے۔ پھر ہماری ہونٹ اور زبان دونوں خاموش تھے، اس پر بھی گھورا جانے لگا تو ہم نے کشش ثقل اور دفع کی قوت (repulsion) کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ہونٹوں کو مخالف سمت میں ہلانا شروع کر دیا۔ فرض کے بعد والی نماز میں بھی ایک دو بار رکعتیں بھولے، شنید ہے کہ دو سنتیں اور تین نفل پڑھے تھے۔ اس سے پہلے کہ کوئی ہم تک ہماری نماز سیدھی کرانے کیلئے پہنچتا، ہم نے جلد از جلد تین سیکنڈ کیلئے ہاتھ اٹھائے، جسے دعا کرنا کہا جاتا ہے، اور مسجد سے باہر آ کر سکون کا سانس لیا۔
ڈنر پر احباب بتا رہے تھے کہ کیسے فلاں فلاں حاجی صاحب، قاضی صاحب، چوہدری صاحب نے مساجد اور مدرسوں کے نام پر کئی کئی ایکڑ پلاٹ الاٹ کروائے اور پھر یا تو مسجد کبھی بنی ہی نہیں، یا پھر ایک کونے پر چھوٹی سی مسجد بنی اور دیگر رقبے پر کوٹھیاں اور پلازے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے جلدی جلدی بریانی کی ایک پلیٹ زہرمار کی اور گفتگو جاری ہی تھی کہ میزبان صاحب کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کیسے ہم دعوتِ افطاری کیوجہ سے انکے منوں ٹنوں احسان تلے دب چکے ہیں۔ پھر اجازت لی اور واپس آ گئے۔ یوں دعوتِ افطاری کا اختتام ہوا۔

نوٹ: سفرنامہ لکھنے کیلئے سفر کرنا لازم نہیں ہوتا، ایسے ہی دعوتِ افطاری کا احوال لکھنے کیلئے افطاری کی کہیں سے دعوت ملنا بھی ضروری نہیں۔

No comments:

Post a Comment