گزشتہ تین ہفتوں میں تین لڑکیوں کو زندہ جلا دیا گیا، جن
میں سے دو لڑکیوں کو لاہور اور قصور اس ایک ہفتے میں جلایا گیا، جبکہ ملتان میں غیرت
کے نام پر باپ نے بیٹی، داماد اور سمدھی کو گولی مار دی۔ اسکے علاوہ لیہ میں چائے بنانے
میں دیر کرنے پر خاوند نے بیوی کو قتل کیا اور لاہور میں ہی ۲۳ سالہ
مسیحی نوجوان نے شادی اپنی مرضی سے کرنے پر بضد اپنی سوئی ہوئی بہن کے سر پر ڈنڈا مار
کر ہلاک کر دیا ۔ جیو نیوز کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۱۵ء میں غیرت کے نام پر ۱ ہزار
۹۶ خواتین
کو قتل کیا گیا اور خواتین کو جلانے کے ۱۴۴ واقعات
رپورٹ ہوئے، جبکہ ۲۰۱۴ء
میں ۱۵۳
خواتین کو آگ یا تیزاب سے جلایا گیا۔ یہ اعداد و شمار وہ
ہیں جو رپورٹ ہوئے اور کسی طرح مین سٹریم میڈیا پر آ گئے، حقیقی تعداد اس سے زیادہ
ہے۔
یہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں جو خواتین کے حوالے سے سماجی
پسماندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، لڑکیوں کو جلانے اور
تیزاب پھینکنے وغیرہ کے واقعات میں مردانہ بالادستی اور خواتین کو کمتر مخلوق سمجھتے
ہوئے قوت اور برتری کے زعم کے اظہار اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی ذہنیت مشترک ہوتی ہے۔ یہ
اعداد و شمار ان کے لئے بھی طمانچہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ عورت کو سارے
حقوق دے بیٹھا ہے اور مزید کسی حق کا مطالبہ مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے سوا کچھ نہیں
ہو سکتا۔ انسانی حقوق ”دے“ یا ”دلوا“ کر احسان نہیں کیا جاتا بلکہ کسی بھی انسانی معاشرے
میں پیدا ہونے والا ہر انسان پیدا ہوتے ہی ان کا حق دار ہو جاتا ہے۔ انسانوں کا آزاد
زندگی گزارنا اس وقت بھی اتنا ہی حق تھا جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا جتنا آج ہے۔
بہت سی غلط فہمیوں کے علاوہ خواتین کے استحصال کے وجود کو
ہی تسلیم نہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عورت مرد کیلئے نعمت ہے، عورت مرد کی زینت
ہے، عورت مرد کی غیرت ہے، اس قسم کے بظاہر خوشنما جملے عورت کے مقام کو طے کرنے کیلئے
استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے گھناؤنی سوچ عورت کے اپنے وجود کو تسلیم نہ
کرنے اور اسے مرد کے حوالے سے شناخت دینے کی ہوتی ہے۔ عورت مرد کی زینت، غیرت، نعمت،
عزت وغیرہ کے حوالے سے پہچانے جانے کی بجائے اپنا آزاد وجود رکھتی ہے جیسا کوئی بھی
مرد رکھتا ہے۔ عورت کا کسی بھی حوالے سے کردار اور مقام تسلیم کرنے سے پہلے اسکا آزاد
اور مکمل وجود تسلیم کرنا آتا ہے۔
ہمارے معاشرے کی کی غالب اکثریت غیرت کے تصورات اور خاندانی
نظام کی فرسودہ اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے
اور خواتین پر تشدد کے دیگر واقعات میں ذمہ دار بھی ظلم کا شکار ہونے والی خواتین کو
ہی ٹھہراتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے میں اپنی
مرضی شامل کروانے کیلئے کوشش ہی کیوں کی، بلکہ بہت سوں کے نزدیک تو اس پر لڑکیوں کی
جان لینا جرم ہی نہیں بلکہ فخر کا باعث ہوتا ہے۔
خواتین پر ظلم پر زبانی کلامی افسوس اور غیرت اور خاندانی
نظام کی استحصالی اقدار کی مذمت نہ کرنا یا انہیں درست ماننا کھلی منافقت ہے۔ غیرت
کے نام پر قتل کا باعث بننے والی خاندانی نظام کی اقدار وہ ہیں جن میں خاندان کی عزت
اور غیرت عورت کی ٹانگوں کے درمیان فرج اور پردۂ بکارت میں رکھ دی جاتی ہے اور غیرت
کے نام پر قتل کرکے غیرت کا مظاہرہ کرنے والے اور ان کا دفاع کرنے والے دماغ کی بجائے
عضو تناسل سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر لڑکی اپنی مرضی سے کسی کیساتھ ازدواجی تعلق
قائم کر لے تو خاندان کی غیرت پر دھبہ شمار ہوتا ہے اور اگر لڑکی کی مرضی کے بغیر اسکا
خاندان نکاح کی بیڑیاں پہنا کر پوری زندگی ریپ کیلئے کسی مرد کے حوالے کر دے تو یہ
عین ”خاندانی“ ہونے کی نشانی شمار ہوتی ہے۔
پسند کی شادی یا لو میرج اور محبت کے فطری عمل کے بعد ازدواجی
تعلق قائم کرنا کوئی گالی نہیں اور نہ ہی شرم کی بات ہے بلکہ شادی ہوتی ہی رضامندی
اور پسند پر ہے، زبردستی یا دباؤ پر ازدواجی رشتے میں جنسی تعلق شادی نہیں بلکہ ریپ
ہوتا ہے۔ شادی کا مطلب خوشی ہوتا ہے، جبر نہیں۔ باہمی محبت فطری جذبہ ہے جو رشتوں کی
بنیادوں کو مضبوط بناتا ہے، جبری تعلق میں ازدواجی رشتہ قائم ہو جاتا ہے، مگر اعتماد،
خود سپردگی، چاہت، احترام، قلبی التفات اور رشتے کی مٹھاس تعلق میں پیدا نہیں ہو سکتی۔
آدھی آبادی کو سماج میں تخلیقی عمل سے دور رکھ کر، پابندیاں
لگا کر اور قید کر کے کسی بھی معاشرے میں مثبت نتائج برآمد نہیں کیے جا سکتے۔ بنی نوع
انسان کی تاریخ میں ماہرین بشریات کے نزدیک زراعت کی دریافت، دستکاری اور اس میں جدت
لانے اور لباس کی ترقی یافتہ شکل کی تیاری کا سہرا خواتین کے سر جاتا ہے۔ مرد جب شکار
کرنے جایا کرتے تھے تو خواتین گھاس پھونس اکٹھا کر کے اس سے بھی خوراک حاصل کرنے کی
کوشش کرتیں اور یوں زراعت کی بنیاد پڑی۔ یہ تاریخ انسانی کی وہ عظیم دریافتیں ہیں جنہوں
نے انسانی سماج کو نئی بلندیوں اور عظمتوں پر پہنچایا۔
عورت پہلے انسان ہوتی ہے اور بعد میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی
یا کسی رشتے کے حوالے سے اسکی پہچان ہوتی ہے۔ جنہیں عورت کو انسان سمجھنے کی تمیز نہیں
ہوتی، وہ عورت کے حوالے سے دیگر رشتوں میں کیسے تمیز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ شادی
کا مطلب آزاد انسانوں کے تعلق کی بجائے ملکیت یا جنسی کھلونے یا کام کرنے والا آلہ
سمجھتے ہیں، انکے لئے جیتی جاگتی انسان عورت کی بجائے کام کرنے کیلئے ملازم اور جنسی
روبوٹس خریدنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔
عورت کے تحفظ کیساتھ معاشی آزادی بہت اہم ہے۔ پدرانہ معاشرہ
ایک محفوظ، مضبوط اور اپنے سہارے پر کھڑی عورت سے کافی خوفزدہ رہتا ہے اور طعن و تشنیع
کے ذریعے زچ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے سے پہلے دوسری عورتوں
کو عبرت پکڑتے ہوئے سو بار سوچنا پڑے۔ ایسے معاشروں میں ایک آزاد انسان کیطرح جینے
والی عورت ڈراؤنا خواب ہوتی ہے کیونکہ اس پر آسانی سے مرضی مسلط کرنے کی خواہش اور
سوچ سے متعلق عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ پدرانہ معاشرہ عورت کیلئے ایسا کردار چاہتا
ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خواہشات اور احساسات کا گلا گھونٹتے ہوئے مردانہ بالادستی کے
متعین کئے گئے راستے پر ہی چلے۔
ہمارے معاشرے میں بھی ورکنگ وومن اور تعلیم حاصل کرنے والی
خواتین کے بارے میں ”ہاتھ سے نکل جائے گی“، ”قابو میں نہیں آئے گی“ وغیرہ جیسے تصورات پائے
جاتے ہیں۔ ان تصورات کا مقصد عورتوں کو صرف اور صرف ”اپنی مرضی“ پر چلانا ہی ہوتا ہے۔
اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے خواتین کو تعلیم اور ہنر سکھانے اور مواقع فراہم کرنے کے
علاوہ اجرتی مساوات انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ معاشی تحفظ کیساتھ اپنی زندگی کے فیصلوں
کیلئے کسی سہارے کے تابع نہ ہوں۔
خواتین کی ان کے حقوق سے آگاہی اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ انہیں
اپنے حقوق کا علم ہو اور وہ انکے لئے جدوجہد کریں، منظم ہو کر حقوق اور مساوات کی
تحریکوں کا حصہ بنیں اور معاشرتی سطح پر پائے جانے والے جنسی تضادات اور گھٹن کے خاتمے
کی طرف بڑھیں۔ آزاد اور بااختیار عورت کے بغیر کسی بھی آزاد انسانی سماج کا تصور بھی
نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ترقی پسند سماج کیلئے خواتین پر ظلم، جبر اور استحصال کے افسوسناک
حالات و واقعات اور جنسی تعصبات و تضادات کو پیچھے چھوڑنا انتہائی ضروری ہے۔
No comments:
Post a Comment