روم میں مارشل لاء سے بھی کڑی ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا تھا۔ کسی کو کھجلی کی بھی اجازت نہ تھی کہ اس سے شور پیدا ہوتا ہے اور روم کی خاموشی اور سکون میں خلل پڑتا ہے۔ اکمل جو کامیڈی فلموں اور شوز کا نشئی تھا، اسے سختی سے ہدایت تھی کہ پیٹ دوہرا کر دینے والے پنچ پر بھی صرف بلا آواز مسکرانے پر اکتفا کرے گا۔ سیل فونز کو سائلنٹ موڈ سے ہٹانے پر پابندی اور کالز، روم سے باہر جا کر سننے پر احکامات نافذ ہو چکے تھے۔ میوزک سن کر جوش سے جھومنے کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اختر جو ان دنوں تازہ تازہ یوٹیوب کھلنے پر اسکی تیز رفتار سے میوزک سے لطف اندوز ہوئے جا رہا تھا، محض بائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا کر ہی موسیقی کا ساتھ دے سکتا تھا۔
چے صاحب کا صبح پیپر تھا اور انہوں نے سورج ڈھلنے کے بعد شبِ امتحان کا چاند نظر آتے ہی یہ
سب اقدامات اور احکامات جاری فرما دیے۔ گو کہ باقی روم میٹس کے پرچے نہیں تھے کیونکہ
وہ الگ الگ ڈیپارٹمنٹس سے تھے۔ چے صاحب کی خاصیت تھی کہ مخلوط ڈیپارٹمنٹس سے نابغے
چن چن کر اپنے روم میں انہوں نے جمع کر رکھے تھے۔ یہ اقدامات ان تمام نابغوں کے درمیان
بقائے باہمی کے سمجھوتے اور معاہدے میں شامل تھے جنکی پابندی رضاکارانہ طور پر کی جاتی
تھی۔ جب بھی کسی کا پیپر آتا تو وہ روم کا کنٹرول سنبھال لیتا اور صوابدیدی اختیارات
اسکے بائیں ہاتھ پر ہوتے۔ دیگر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایگزامینیشن ہال میں اترنے کیلئے
اسکے پٹھے مضبوط کریں۔
ہاسٹل بھر سے بھانت بھانت کے ماہرین مضمون قسم کے سٹوڈنٹس
پکڑ کر لائے گئے۔ بال پوائنٹس کا پورا ڈبہ میز پر موجود، پیپر شیٹس کی کوئی کمی نہیں،
بھانت بھانت کے solution manual،
ہینڈ آؤٹس، نوٹس اور ان سب کے درمیان چے صاحب اک شان کیساتھ رونق افروز گہرے مطالعے
میں مصروف تھے۔
جب مختلف قسم کے ماہرین سے چے صاحب سمجھ چکے اور کچھ کانسیپٹس
کا انکی کھوپڑی کیطرف بہاؤ ہوا تو کچھ ہی دیر بعد انکی سمجھنے کی صلاحیت میں موجود
توانائی کی مقدار میں کمی آنا شروع ہو گئی۔ آصف نے جھٹ سے خشک میوہ جات اور چینی پیش
کی۔ چے صاحب کا عقیدہ تھا کہ چینی رٹے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کرتی ہے۔ ویسے بھی
وہ شبِ امتحان شریف میں دماغ میں اتنی دیر تک ہی چیزیں بٹھانے کی کوشش کرتے کہ امتحانی
ہال سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے تک وہ دماغ میں موجود رہیں۔
رات اتنی گہری نہیں ہوئی تھی کہ اچانک چے صاحب کو خیال آیا
کہ انہوں نے تو ٹیکسٹ بک ابھی تک خریدی ہی نہیں تھی۔ اس وقت کسی سے ملنا بھی محال تھا
کیونکہ سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ بھاگ دوڑ ہوئی اور ایک کھلی ہوئی بک شاپ سے اکمل
کتاب پکڑ کر لے آیا اور چے صاحب دوبارہ سے مستغرق ہو گئے۔ آصف اپنے خراٹوں کو میوٹ
پر لگا کر سو گیا اور باقی روم میٹس جن میں لیٹ نائٹ جاگنے کے عادی بھی تھے، وہ بھی
محو استراحت ہو گئے کیونکہ عالمِ تنہائی کا پہر شروع ہونے والا تھا۔
صبح صادق کے وقت شبھ کامناؤں کا مرحلہ آیا جس میں چے صاحب
نے گھر فون کر کے اماں اور ابا دونوں سے فردا فردا دعائیں وصول کیں۔ حفظ ماتقدم کے
طور پر یہ بھی بتا دیا کہ تیاری تو بہت اعلیٰ ہے لیکن ”وقت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا“۔
ایگزامینیشن ہال کے دروازے تک روم میٹس باقاعدہ چھوڑنے آئے، یوں پہلی شبِ امتحان شریف
کا اختتام ہوا۔
اور ایگزامینیشن ہال میں سارا وقت چے صاحب اسی فکر میں غلطاں
رہے کہ چند گھنٹے کیلئے ٹیکسٹ بک خریدنے پر پیسے کاہے کو ضائع کیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment