آج ہمیں یہاں پہنچے ہوئے ایک سال ہو گیا۔ دوستوں کیساتھ سکول ٹرپ پر اکٹھے کہیں جاتے ہوئے کتنا مزہ آتا تھا۔ جب ہم مختلف میوزیم، پارکس، چڑیا گھر اور دیگر جگہوں پر جاتے جہاں ہمیں ٹیچرز لیکر جاتے۔ ہم وہاں اکٹھے کچھ گھنٹے گزارتے تھے، پارکس میں سی ساء (Seesaw)، سلائیڈ اور مختلف جھولے (Swings) لیتے۔ میوزیم میں عجیب و غریب مجسمے وغیرہ دیکھتے تو ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتے۔ اگر کسی ٹور میں چڑیا گھر میں جانا ہوتا تو جانوروں سے طرح طرح کی باتیں کرتے اور کھلکھلا کر قہقہے لگاتے، جیسے وہ ہماری تمام باتیں سن رہے ہوں اور سمجھ رہے ہوں۔ یہ سب چیزیں ہمیں بہت دنوں بلکہ مہینوں تک اچھے سے یاد رہتی تھیں۔
گھر میں ممی بابا تو بہت ہی نائس (nice) تھے لیکن سکول میں دوستوں کی اپنی جگہ تھی۔ بہت سی باتیں ہم دیکھتے تو سوچ کر رکھتے کہ کل اپنے فرینڈز کو بتائیں گے اور ڈسکس کریں گے لیکن کبھی کبھی تو ایک دن بھی رہا نہیں جاتا تھا۔ اسی وقت نمبر ملا کر یا ٹیکسٹ کر کے ٹی وی پر کسی کارٹون کے بارے میں، کسی پودے کے بارے میں، نئی گیم کے بارے میں، اپنی کسی اچیومٹ کا یا کوئی بھی سامنے ہونے والا واقعہ جو ہم اپنے فرینڈ سے جلدی سے شئیر کرنا چاہتے ہوں، ہم مزے لے لے کر ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ اس میں بہت زیادہ خوشی ہوتی تھی۔
سکول میں کوئی پارٹی یا فنکشن، ایکٹیویٹی، ایگزیبیشن (Exhibition)، کمپیٹیشن (Competition) یا ایونٹ ہو، ہم فرینڈز مل کر participate کرتے، پلاننگ کرتے اور دوسرے دوستوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے لیکن اگر کوئی دوست یا دوستوں کا گروپ آگے نکل جاتا تو انہیں خوشی سے مبارک دیتے اور ہار جیت تو زیادہ ٹائم ذہن میں ہی نہیں رکھتے تھے۔
۱۶ دسمبر کو بھی ممی نے تیار کر کے سکول بھیجا۔ دسمبر کی سردی میں صبح اٹھنا، تیار ہونا اور سکول ٹائم پر پہنچنے کا مسئلہ تو ہوتا ہے لیکن فرینڈز کو دیکھتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتا تھا۔ اس دن سکول آڈیٹوریم میں ایک فنکشن تھا۔ ہم میں سے بہت سے وہیں بیٹھے تھے کہ اچانک ڈراؤنی شکلوں والے لوگ آئے اور ہمیں مارنا شروع ہو گئے۔ محلے میں کبھی نماز پڑھنے جاتے تو مولوی صاحب سے بہت ڈر لگتا تھا، انہوں نے موٹی سی سٹک (Stick) رکھی ہوتی اور اپنے پاس پڑھنے والے بچوں کو مار رہے ہوتے تھے۔ ہمیں تو قاری صاحب گھر میں آ کر پڑھا جاتے جنہیں بابا نے کہا ہوا تھا کہ وہ بالکل نہیں ماریں گے۔ اس وقت سامنے آنے والے ڈراؤنے لوگ بھی ہمیں مولوی صاحب کیطرح ہی لگے۔
انہوں نے آتے ساتھ فائرنگ شروع کر دی۔ ایسے سین ہم نے ہارر موویز (Horror Movies) یا گیمز اور کارٹونز میں بھی دیکھے تھے جہاں فائرنگ ہوتی اور لوگ مرنا شروع ہو جاتے۔ ہمیں بہت ڈر لگ رہا تھا۔ جو بچے ہارر موویز دیکھ کر اور گیمز کھیل کر نہیں ڈرتے تھے، وہ بھی سب چیخنا شروع ہو گئے۔ یہ امید تھی کہ گیٹ پر سیکیورٹی والے انکل ہمیں بچانے آئیں گے، ان لوگوں کو روکیں گے اور مار دیں گے۔ پھر ممی یا بابا کو بلا کر ہمیں گھر بھیج دیا جائے گا۔ غصہ بھی آ رہا تھا کہ گیٹ والے انکل نے انہیں روکا کیوں نہیں اور اندر کیوں آنے دیا۔ شاید وہ ان سے چھپ کر آ گئے تھے لیکن کافی دیر تک اس سائیڈ کوئی نہیں آیا اور وہ لوگ فائرنگ کرتے رہے۔
انکی گولیاں جب ہمیں لگنا شروع ہوئیں تو ہمارا خون نکلنا شروع ہو گیا۔ ہم بہت ڈرے ہوئے تھے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ ہم اوپر جا رہے ہیں۔ ہم اکیلے نہ تھے، بہت سے فرینڈز ہم سے آگے اڑ رہے تھے اور بہت سے اچانک سے چیخنا بند کر کے اڑنا شروع ہو چکے تھے اور پیچھے پیچھے آنا شروع ہو گئے تھے۔ ڈراؤنے لوگ پھر آڈیٹوریم سے نکل کر دوسری کلاسز اور رومز میں بھی گئے اور بہت سے سکول فیلوز وہاں سے بھی اوپر آنے لگے۔ خوف دور ہو چکا تھا اور ہم خوش تھے کہ ڈراؤنے لوگوں سے دور آ گئے اور فرینڈز بھی ساتھ ہیں۔
پھر ہم ایک پارک میں پہنچ گئے۔ وہاں کچھ فرینڈز پہلے سے بینچز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ سب ایک ایک بینچ مل کر فورا بیٹھ جاتے۔ دوسرے فرینڈز بھی آتے جا رہے تھے اور بہت دیر خوف میں رہنے کے بعد آخر ہم انجوائے کر رہے تھے۔ یہاں اتنی سردی نہیں تھی۔ سونگز (Swings)، ٹیلز بکس (Tales books)، میوزیم، Greenery، گیمز، لگژری لونگ رومز (Luxury living rooms)، واؤ یہاں تو سبھی کچھ موجود تھا۔ شام تک فرینڈز آتے رہے اور بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ون فورٹی (140) کے قریب فرینڈز ہمارے ساتھ ہی آئے۔ ہمارے کچھ سکول کے انکلز بھی ہمیں بچاتے بچاتے ہمارے ساتھ ہی یہاں آ گئے تھے۔
روتے ہوئے پیرنٹس (parents)، بچ جانے والے لیکن ڈرے ہوئے سکول فیلوز کی پکچرز (pictures) ہم نے دیکھیں۔ ہم انہیں بہت مس کرتے ہیں۔ ممی اور بابا نے بھی اپنے انٹرویوز میں یہی بتایا کہ وہ ہمیں بہت ہی زیادہ مس کرتے ہیں اور ہر روز ہمیں یاد کرتے ہیں۔ ہم اکثر بینچز پر بیٹھ کر یہ ڈسکس کرتے ہیں کہ کب ڈر صرف ہارر موویز میں رہ جائے گا اور ڈراؤنے لوگ بچوں کو نہیں ڈرائیں گے اور نہ بچوں سے لڑیں گے۔ دکھ صرف سیڈ سٹوریز میں ہوں گے، وہ لوگ ہم جیسے بچوں کے ممی اور بابا کو اسطرح رلانا چھوڑ دیں گے۔
ممی نے اور قاری صاحب نے بتایا تھا کہ اچھے بچے نہیں لڑا کرتے اور نہ ہی کسی کمزور کو مارتے ہیں یا اسکا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ان ڈراؤنے لوگوں کے ممی بابا اور مولوی صاحب نے انکو کچھ اور بتایا ہو گا جو وہ اسطرح کرتے ہیں۔ انہیں ہم نے تو کچھ نہیں کہا تھا۔ ہم تو سکول میں پڑھنے آئے تھے۔ ہم نے یہ بھی سنا کہ ڈراؤنے لوگ اسلئے ہمیں مار رہے تھے کہ وہ اس جگہ آنا چاہتے تھے جہاں ہم پچھلے ایک سال سے رہ رہے ہیں۔ لیکن یہاں ہم نے ان جیسی ڈراؤنی شکل کا تو کوئی بھی نہیں دیکھا۔ ہم انہیں بھلا یہاں آنے بھی کیوں دیں گے!!!!
جیتے رہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھتے رہیے۔۔۔۔۔۔
ReplyDelete