سگریٹ نوشی لغت میں ایک مرکب ہے۔ بغیر تحقیق کیے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسے جس نے مرکب بنایا وہ اپنی ”نوشی“ کو سگریٹ کیطرح چاہتا تھا اور ان دونوں میں کوئی فرق نہ رکھتا تھا۔ کافی عرصے تک بڑے بڑے سیانوں اور بزرگوں کو سگریٹ نوشی میں ”نوشی“ کی موجودگی کی وجہ تسمیہ معلوم نہ ہو سکی لیکن پھر جیسے جیسے بنی نوع انسان شعوری ارتقاء اور آگہی کا سفر طے کرتا گیا، اہل علم اور دانشوروں کو نوشی کی حقیقت بھی معلوم ہو گئی جسکے بعد سگریٹ اور نوشی کو الگ الگ پڑھا جانے لگا۔ آجکل بعض سیانے دونوں کو مضر صحت قرار دیتے پھرتے ہیں۔
خیر، بچپن میں ہمیں پنسل سگریٹ پینے کی لت پڑ گئی اور ایسی پڑی کہ اکثر بے خبری میں کلاس کے دوران ٹیچر کو سننے میں محو ہوتے لیکن ساتھ ساتھ لیڈ پنسل منہ میں بھی دبائی ہوتی۔ جو کانسیپٹس اس وقت سمجھ میں آتے، وہ پنسل سگریٹ کے بغیر کبھی نہ آتے لیکن کیا کیجیے، اکثر ٹیچر کی نظریں ایک دم ہم پر آ کر رک جاتیں اور پھر ہم جو کتاب پر یا وائٹ بورڈ میں محو ہوتے، اچانک احساس ہوتا کہ پنسل سگریٹ سلگایا ہوا ہے جسکو پھر چار وناچار ہٹانا پڑتا اور کبھی کبھار بھری کلاس میں کچھ یوں عزت افزائی ہوتی کہ:
”طاہر! اگر سگریٹ پینے کا زیادہ شوق ہے تو جاؤ خرید کر باہر جا کر پی آؤ“
لیکن۔۔۔۔۔۔!!!
سگریٹ سے اس وقت بھی سخت نفرت تھی اور اب بھی ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب بال پوائنٹ شجر ممنوعہ ہوتی کہ اس سے لکھائی خراب ہوتی ہے، بلیک یا بلیو پین پاس ہوتا یا لیڈ پنسل، اب پین کی جسامت اور ساخت کیوجہ سے اس میں وہ سرور تو نہیں جو لیڈ پنسل کی دبلی پتلی جسامت کیوجہ سے حاصل ہوتا ہے۔
کلاس میں اگر شدید طلب ہوتی، فرنٹ پر بیٹھا ہوتا جیسا کہ اکثر میں اگلی قطاروں میں ہی پایا جاتا تھا، ٹیچر صاحبہ کی نظریں بھی ہم پر ہوتیں یا کسی ڈسپلن کے حوالے سے سخت گیر ٹیچر کی کلاس ہوتی اور طلب شدید بڑھ جاتی تو میز کے نیچے تسمے درست کرنے کے بہانے یا کوئی کاپی، کتاب وغیرہ گرا کر دو چار سوٹے لگا لیے جاتے اور پھر پوری کلاس میں سکون رہتا چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔
کچی پنسل چبانے والے شاید میٹھے پان یا نسوار کا سواد حاصل کرتے ہوں لیکن ذرا نہیں بھاتے تھے، جیسے بہت سے لوگوں کو پنسل یا بال پوائنٹ سگریٹ پینے والے بالکل نہیں اچھے لگتے۔ لیڈ پنسل خریدتے وقت H, HB, 2B, F جیسی لاحاصل گریڈنگ کی بجائے اس سہولت اور پنسل کی نفاست کا خیال رکھا جاتا تاکہ سگریٹ سلگاتے ہوئے آسانی اور سہولت ہو۔ پنسل کی جو ورائٹی اس معیار پر پوری اترتی، اسکے بارے میں صفات و کمالات خود ہی گھڑ لیتے تھے اور ظاہر ہوتا کہ کل عالم میں سب سے اچھی پنسل یہی ہے جو انسان کو دانشور بنانے میں کام آ سکتی ہے۔ اکثر نفیس ترین اور نسبتا مہنگی پنسلیں ہی منگوائی جاتیں۔
پھر ہم ذرا بڑے ہوئے اور لیول بھی بڑا ہو گیا۔ سکول میں بال پوائنٹ پر جو پابندی تھی، وہ اب نہ رہی۔ لیڈ پنسل ڈایاگرامز بنانے کے یا کتاب پر پوائنٹس اور معنی وغیرہ لکھنے کے کام ہی آتی۔ ہاتھ میں جب لیڈ پنسل رکھنا ”بچوں کا کام“ سمجھ کر معیوب گردانا جانے لگا تو ہم نے لیڈ پنسل سگریٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیرباد کہہ دیا۔ کچھ عرصہ نشے کی طلب محسوس ہوتی رہی لیکن آہستہ آہستہ کمی پوری ہوتی گئی اور اب ہم بال پوائنٹ سگریٹ پینا شروع کر دیا اور آج تک پی رہے ہیں۔ لیڈ پنسل سے بال پوائنٹ منتقلی قلمی سگریٹ کے ارتقاء اور بڑھوتری کا ایک عمل تھا۔
بال پوائنٹ خریدتے ہوئے دو چیزوں کا خیال رکھا جاتا۔ ایک تو یہ کہ اسکی گرپ (Grip) ایسی ہو کہ لکھنے میں دقت محسوس نہ ہو اور دوسرا اسکی نفاست اور سگریٹ لگانے میں آسانی ہو۔ بال پوائنٹ و لیڈ پنسل سگریٹ نے مجھے ”اپنی اپنی بال پوائنٹ“ اور پنسل کا اصول سکھایا لیکن ایسا بھی نہیں کہ میں سکول، کالج یا یونیورسٹی کے بعد بھی سٹوڈنٹس کی عمومی عادت،یعنی کلاس کے علاوہ کبھی بھی بال پوائنٹ پاس نہ ہونا، سے ذرا ہٹ کر بال پوائنٹ جیب میں لٹکائے پھرتا ہوں۔ استغفر اللہ و لا حول ولا قوۃ الا بلا، ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ بال پوائنٹ و پنسل سگریٹ صرف تعلیمی ماحول کے اندر ہی روحانی نشہ دیتے ہیں۔ دفاتر اور لکھنے پڑھنے کے پریکٹیکل کام میں بھی کوئی چاہے تو نشہ حاصل کر سکتا ہے لیکن اصل سرور دورِ طالبعلمی میں کتابوں کے گرد اور علمی کام کے دوران ہی اسکا حاصل ہوتا ہے۔
عام سگریٹ کیطرح قلمی سگریٹ کے بھی کئی برانڈ ہوتے ہیں۔ پنسل، بال پوائنٹ، پین، مارکر، قلم (تختی والا)، سلیٹی (سلیٹ والی) وغیرہ وغیرہ۔ سلیٹی اور قلم تھوڑی سی مضر صحت بھی ہو سکتی ہیں لیکن اب تقریبا گورنمنٹ سکولوں کے علاوہ انکی روایت ختم ہو چکی ہے۔ پنسل، سلیٹی اور قلم کو پینا قلمی سگریٹ کے زمرے میں، جبکہ انہیں چبانا نسوار اور پان کے زمرے میں آتا ہے۔ انسان کو وہی برانڈ مزہ دیتا ہے جو اسے پسند ہو۔ بعض نشئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر برانڈ سے یکساں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی برانڈ ہو، اسے حقے، سگار، چرس یا سگریٹ میں منتقل کرنا پینے والے شخص کے تخیل کا کھیل ہوتا ہے۔
قلمی سگریٹ کے عام سگریٹ کی نسبتا فائدے اتنے زیادہ ہیں اور نقصانات انتہائی کم، جسکی وجہ سے آپ انہیں neglect کر کے کہہ سکتے ہیں کہ قلمی سگریٹ کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ آپ کسی پیچیدہ نکتے کو سمجھنے میں اتنے محو ہوں کہ دماغ مسلسل مصروف رہے تو قلمی سگریٹ کے دو تین کش لگا لینا آپکو ذہنی سکون مہیا کر دیتا ہے اور آپکی توجہ اپنے کام سے ذرا بھی نہیں ہٹتی۔ مطالعے کے دوران پیچیدہ نکات کے سمجھ آ جانے پر جو مسرت حاصل ہوتی ہے، اسے قلمی سگریٹ کے کش لگا کر دوبالا کیا جا سکتا ہے۔ اسکے لئے کسی ایش ٹرے کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی ماحولیاتی آلودگی، قالین، میز، اسائنمنٹ، کاغذ وغیرہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ انتھک علمی محنت کے دوران آپکے ذہن کو جلا بخشتا ہے اور ایک روحانی لذت اور سرور کا بے پناہ احساس ہوتا ہے۔
سگریٹ کے تمام طبی نقصانات جو بتائے جاتے ہیں، ان میں سے ایک بھی قلمی سگریٹ میں نہیں پایا جاتا۔ اگر آپ چاہیں تو اپنے تخیل کی قوت سے اصلی سگریٹ کا مزہ لے سکتے ہیں اور سگریٹ سے جڑی تمام لذتیں اور فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی بھولی بسری چیز کو واپس یاد کرنے، ہزیمت سے دوچار ہونے پر اس احساس سے باہر نکلنے، ماضی کی کربناک یاد کو سوٹے میں تحلیل کرنے کی خاطر، پرمسرت خیالی دنیا کا حصہ بننے کے واسطے اور خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے آپ بال پوائنٹ سگریٹ کا سہارا لیا جا سکتا ہے اور اس راز سے واقف خوش نصیب افراد اسکا سہارا لیتے بھی ہیں۔
قلمی سگریٹ کا سگریٹ نہ پینے والے اور سگریٹ سے الرجک دوستوں میں بھی بیٹھ کر اطمینان سے سوٹا لگایا جا سکتا ہے اور وہ بدمزہ صرف اسی صورت میں ہوتے ہیں کہ بشرطیکہ وہ بال پوائنٹ سگریٹ سے بھی الرجک ہوں یا فوائد سے لاعلم ہوں۔ کسی سبزہ زار میں آپ کتاب لئے بیٹھے ہوں تو یہ ڈر بھی نہیں ہوتا کہ آپکے سگریٹ کی چنگاری کسی درخت کو جلا ڈالے گی۔ ایک فائدہ یہ بھی کہ یہ مفت نشہ ہے اور اس پر ایک پائی بھی علیحدہ سے خرچ نہیں کرنی پڑتی بلکہ روز مرہ کے استعمال کیلئے خریدی جانے والی لیڈ پنسل، بال پوائنٹ سے ہی نشہ پورا کیا جاتا ہے۔
سگار نے ہم سے قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی چھین لیے تھے جو ٹی بی کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسے لیکن قلمی سگار کسی بھی قوم کو عظیم انسانوں سے محروم کرنے کا سبب بالکل نہیں بن سکتا اور نہ کبھی تاریخ میں اس نے ایسے لیڈروں کو نقصان پہنچایا۔
بال پوائنٹ سگریٹ ایک مکمل طور پر طالبعلمانہ عیاشی ہے۔ اسکے بعد اسکا نشے کا علاج کروانے کیلئے کسی امید، ایمان یا دیگر بحالی کلینک وغیرہ میں بھی نہیں جانا پڑتا بلکہ خود بخود ہی معاشرتی دباؤ کے تحت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے جو مکمل طور پر تخیل کی قوت پر انحصار کرتا ہے۔ بال پوائنٹ منہ میں دبائے جب آپ لمبی سی سانس بال پوائنٹ میں سے اندر کھینچتے اور پھیپھڑوں سے گزار کر باہر نکالتے محسوس کرتے ہیں تو تخیل میں دھویں کے مرغولے بنتے دیکھتے ہیں اور اصلی سگریٹ یا سگار کا مزہ حاصل کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے قلمی سگریٹ کو ایک ”بچگانہ“ سرگرمی، ”بری بات“ اور ایک انتہائی بری عادت سمجھا جاتا ہے اور سگریٹ، حقے، سگار وغیرہ سے بھی برا سمجھا جاتا ہے اور اسکے نشئی ان سے زیادہ ہی معتوب ٹھہرتے ہیں۔ نفسیات دانوں اور ”قلمی حرمت کے پاسبانوں“ کے چند بے بنیاد فتوے اور ٹامک ٹوئیاں ضرور موجود ہیں لیکن آج تک کسی نے پوسٹر یا اشتہار پر ڈاکٹر، ماہرین صحت یا محکمۂ صحت کی تنبیہہ ملاحظہ نہیں کی کہ قلمی سگریٹ مضر صحت ہے۔ اور تو اور کسی ملاں، پادری، پنڈت، گرو تک نے اسکے حرام ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جو دیگر تمام منشیات کے متعلق تقریبا موجود ہیں۔ پھر بھی قلم سگریٹ کے عادی لعن طعن کا سامنا کرتے ہیں، لیکن امید بحال رکھنی چاہیے۔ جہاں عورتوں، ہم جنس پرستوں، لزبائی خواتین، ٹرانس جینڈر، دو زوجیہ (Bisexual) وغیرہ کو حقوق اور آزادی آہستہ آہستہ حاصل ہو رہی ہے، وہیں ایک دن دنیا اس جانب بھی توجہ کرے گی۔
علوم کی تاریخ میں قلم ایک حیران کن ایجاد تھی جس نے علم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا لیکن ”قلمی سگریٹ“ بھی اسی قبیل کی ایک عظیم روحانی دریافت ہوئی۔ یہ ایک بے ضرر اور ماحول دوست تخیلاتی نشہ ہے جو تخیل کو بلندیوں تک لے جاتا ہے اور تخیلاتی قوت کو مہمیز بخشتا ہے۔ جس دن دنیا کو اسکی عظمت کا احساس ہو جائے گا اور قلمی سگریٹ نوشوں کو حقوق اور آزادی حاصل ہو جائے گی، معاشرتی رویے تبدیل ہوں گے تو بڑے بڑے ادیب، راہنما اور دانشور منہ میں قلمی سگریٹ دبائے تصویریں کھنچواتے نظر آویں گے، جیسا کہ پہلے سگریٹ اور سگار پیتی مشہور شخصیات کے پورٹریٹ اور تصاویر ہمیں نظر آتی ہیں۔
مجھے اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ میں اپنی انیس سالہ زندگی میں قلمی سگریٹ نوشوں کی کوئی کمیونٹی نہ بنا سکا، انکے حقوق کیلئے کوئی این جی او یا ادارہ نہ کھول سکا جو اسکے حق میں آواز اٹھائے اور بس میرا کل اثاثہ یہی ایک تحریر ہے اور اس تحریر کے علاوہ قلمی سگریٹ نوشوں کے حق میں کوئی آواز اور کوئی خدمت نہیں ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے اسکا اعتراف کرنے میں بھی کوئی شرمندگی نہیں کہ میں بلا کا نشئی ہوں بلکہ ان بے چاروں پر افسوس ہوتا ہے اور رحم آتا ہے جو اپنے دور طالبعلمی میں اس عیاشی سے محروم رہتے ہیں۔ جس نے سٹوڈنٹ لائف میں قلمی سگریٹ نہیں پیا، وہ بدقسمت ایک عظیم نعمت کی لذت، لطف، مہک اور سرور سے آشنا ہونے سے محروم رہ گیا۔
No comments:
Post a Comment