Friday, 18 December 2015

ٹیگ، کینڈی کرش اور اہل محلہ کا شور

الحمد للہ مجھ میں اتنی قوت موجود ہے کہ ٹیگ اور اوٹ پٹانگ پوسٹس پر مینشن کرنے والوں، کینڈی کرش کی دعوتیں ارسال کرنے والوں، فیس بک گروپس میں شامل کرنے والوں، اونچی آواز میں گانے، نعتیں اور نغمے گنگنانے والوں بالخصوص اہل محلہ کی بے سری نعتوں اور ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی مسجد میں منعقد ہونے والی مذہبی محافل میں اسپیکر پر چنگھاڑتی ہوئی تقاریر وغیرہ کو ہنسی خوشی برداشت کر سکوں۔ انکے خلاف کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہ لاؤں اور ہر روز ”ٹیگ مافیا“، ”کینڈی کرش مافیا“ جیسی سخت الفاظ کیساتھ کسی کو انفرینڈ یا بلاک کرنے کی دھمکیاں اور تڑیاں نہ لگاؤں اور نہ ایسی تحریریں لکھوں جس میں میری مظلومیت ٹپکتی ہو اور ایسے احباب سے کوئی شکوہ یا درج ہو یا حرف شکایت زبان پر لاؤں۔ بلکہ یہ تو میرے محسنین ہیں جو مجھے عملی طور پر صبر کرنا سکھاتے ہیں۔ میرا عزم ہے کہ آئندہ بھی انہیں مسکرا کر برداشت کرتا رہوں۔ 
صوتی آلودگی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے جب دو خواتین یا ”حضرات“ آپکے قریب بیٹھے جوشیلے انداز میں کینڈی کرش کی منازل (Stages) کے بارے میں بحث و مباحثہ اور گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کینڈی کرش میں تو جو معرکے مارے ہوتے ہیں، سو مارے ہی ہوتے ہیں لیکن تفصیلات بتاتے وقت وہ ارد گرد کے پورے ماحول کو مسلسل نچائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاں ہم دنیا میں دیگر بہت سی آلودگیاں برداشت کرتے ہیں، وہیں پر دنیا میں ایسے نیک لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کینڈی کرش کی بحث سے پیدا ہونے والی صوتی آلودگی کو بھی برداشت کر لیتے ہیں اور خاکسار ان میں سے بھی ایک ہے۔
یہ ایک لٹمس ٹیسٹ ہوتا ہے۔ جب آپ کینڈی کرش، ٹیگنگ اور اہل محلہ کے شور سے سیخ پا نہیں ہوتے تو آپ برداشت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے ہیں اور صبر کے ”صبر آزما“ امتحان میں مکمل طور پر سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ صابرین کی کئی اقسام ہوتی ہیں لیکن جدید اعداد و شمار اس پر متفق ہیں کہ مندرجہ بالا خصوصیات کے حاملین صابرین عموما صابرین کی اگلی صفوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔ 
ایک اندازے کے مطابق ٹیگ، کینڈی کرش اور گروپس میں شامل کرنے والوں کو برداشت کرنے کی سکت بڑے بڑے فیس بکی لکھاریوں میں نہیں اور اہل محلہ کو برداشت کرنے والے بھی اس دنیا میں بہت کم اہل علم اور دانشور گزرے ہیں۔ اسلئے اگر کسی میں ایسی طاقت موجود ہو تو اسے بجا طور پر اپنا شمار زمانے کے نایاب دماغوں میں کرنے کا حق ہے۔
آجکل عدم برداشت کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہے۔ تنگ نظری سے نبٹنے کا یہی طریقہ ہے کہ ٹیگ، کینڈی کرش اور محلے والوں کو برداشت کرنے کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ جب لوگ انہیں برداشت کرنا سیکھ جائیں گے تو معاشرے میں امن اور رواداری کا دور دورہ ہو گا۔ 

No comments:

Post a Comment