Wednesday, 16 December 2015

ہم نہیں بھلا سکتے

(آغاز دسمبر ۲۰۱۵ میں سانحۂ پشاور پر لکھی گئی ایک تحریر)
دسمبر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور گزشتہ سال دسمبر کی خون آلود یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ اے پی ایس کے تقریبا ڈیڑھ سو نونہالان وطن کو جب خون آشام درندوں نے لہو میں ڈبو دیا تھا۔ آج سانحۂ پشاور کے چار ملزمان کو پھانسی دینے کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔
اے پی ایس میں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھنے والے معصوم شہداء کو یاد رکھنے کیساتھ ساتھ ان وحشیانہ مذہبی تشریحات کو مت بھولیے جنکے ذریعے طالبان ہمدرد اس قتل عام کے اس وقت جواز پیش کر رہے تھے جب پوری قوم غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ یہ لوگ ہمارے زخموں پر مسلسل نمک چھڑک رہے تھے۔
افغانستان میں تقریبا چار دہائیاں قبل امریکی مداخلت کے بعد سامراجی جہادی کھیل کو نہیں بھولنا چاہیے جس سے لیکر اب تک پورا خطہ بدامنی کا شکار ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار امریکی ایماء پر اس غلیظ کھیل کا حصہ بنے اور پھر آہستہ آہستہ اس آگ کو ہمارے گھروں تک بھی لے آئے اور ستر ہزار لاشوں کے بعد بھی یہ آگ کسی طرح سے بھی ٹھنڈی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ گڈ اور بیڈ کا فرق بھی بدستور موجود ہے۔
اس کھیل کو تقدس اور مذہبی رنگ پہنانے کیلئے جہادی تشریحات کی ضرورت پڑی تو ہمارے ڈالر جہادی ملاؤں نے مذہبی کتابیں اور شدت پسند ”اکابرین“ کی تعلیمات جھاڑ کر فتاویٰ پیش کیے اور ڈالر جہاد کو مقدس فریضہ بنا دیا۔ مجاہدین ہیرو ہو گئے جن پر فلمیں بننے لگیں۔ الغرض یہ سوچ پھر پروموٹ ہونے لگی، ہمارے جہادی حلقے آج تک گرم پانی کی تھیوریوں پر اسے مقدس جنگ سمجھتے ہیں۔
آسان زبان میں یہ کہ حکم ہوا ڈالر جہاد کیلئے ”گنجائش پیدا کی جائے“۔ ڈالر ملاؤں نے اپنی فطرت کے مطابق جواب دیا ”جو حکم حضور“ اور پھر تسلسل یہاں تک آ پہنچا کہ ادھر قوم کے بچے خون میں تڑپ رہے تھے اور یہاں بنو قریظہ والی احادیث سنانے کے بعد ”اللہ اکبر“ اور ”الحمد للہ“ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ دہشتگردی کے ہر واقعہ پر یہ لابی متحرک ہوتی ہی ہے لیکن اے پی ایس کے معصوم شہداء پر انکی حیوانیت ہم نہیں بھلا سکتے!!

No comments:

Post a Comment