آج بیلنس والی عاصمہ کی بہت یاد آ رہی ہے۔ مہینوں یا غالبا سالوں سے اسکا میسج نہیں آیا۔ شاید وہ ہسپتال سے ڈسچارج کر دی گئی ہے یا ہسپتال سے ہی اوپر اللہ میاں کے پاس پہنچ گئی ہے۔ شاید کسی پتھر دل سے لوڈ کی امید اور آرزو میں ہی تڑپ تڑپ کر اس نے جان دیدی ہو یا کسی کے بہت زیادہ بیلنس بھیج دینے کیوجہ سے خوشی سے مر گئی ہو۔ جانے کس حال میں ہو گی۔ جہان فانی میں ہے بھی یا نہیں۔ اس وقت مجھے تو شدت سے یہی فکر کھائے جا رہی ہے۔
عاصمہ بڑی خوددار لڑکی تھی۔ بھیک بالکل نہیں مانگتی تھی اور نہ ہی کسی کے آگے اسے بھیک کیلئے ہاتھ پھیلانا اچھا لگتا تھا۔ وہ ادھار مانگتی تھی اور سارے پاکستان سے طلب کرتی تھی۔ عاصمہ جس کسی سے ادھار طلب کرتی، اسکے ساتھ یہ لکھنا بالکل نہ بھولتی کہ وہ ”واپس کر دے گی“۔ اب اللہ ہی جانے یا وہ لوگ جانیں جو اسے بیلنس بھیجتے تھے کہ وہ ادھار واپس کرنے پر کتنی سختی سے عمل کرتی تھی۔ جہاں اس میں اتنی خودداری تھی کہ وہ خیرات میں بیلنس نہیں طلب کرتی تھی، وہاں یہ حسن ظن بھی رکھا جا سکتا ہے کہ وہ ادھار واپس کرنے پر کاربند رہتی ہو۔ اگر اس نے کسی کو نہیں بھی ادھارا بیلنس واپس کیا تو اسے یہی امید رکھنی چاہیے کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور لوڈ واپس لوٹا دیگی۔
وہ بہت ہی جری اور بہادر لڑکی تھی۔ سرزمین پاکستان میں جہاں ”کشمیر کی آزادی تک“، ”آخری دہشتگرد کے مرنے تک“، ”نیا پاکستان بننے تک“، ”میاں صاحب کے روشن پاکستان بنانے تک“، ”بھٹو کے مرنے تک“، ”امہ کے اتحاد تک“ ادھار بند رہنے کے اعلانات کا رواج ہو اور جہاں ”ادھار جنگ ہے، اسی لئے بند ہے“ کے اشتہار لگا کر لوگ ادھار دینے سے کترائیں، وہاں ایک دلیر لڑکی اٹھی اور پورے پاکستان سے ادھار مانگ کر اس نے ان روایات کو چیلنج کیا اور توڑنے کی کوشش کی۔ عاصمہ کی ان قومی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ عاصمہ ایک قومی ہیرو کا نام ہے۔
یہ امر شک و شبے سے بالاتر ہے اور بغیر کسی تحقیق کے ثابت ہے کہ کسی انجانے نمبر سے بھیجا گیا ادھار کیلئے درد بھری اپیل والا رومن ٹیکسٹ میسج پڑھنے کے بعد جب آخر میں ”wapis ker don gi“ کے ”gi“ (گی) پر پہنچتے تو سب کنوارے و شادی شدہ مردوں یا بالکوں کو کم و بیش اپنی دھڑکنیں رکتی ہوئی ہی محسوس ہوتیں۔ میں پہلے تأثر کی بات کر رہا ہوں۔ غصے میں دو تین سنا جانا یا قہقہہ لگانا تو بعد کی بات ہے لیکن پہلا اور فوری ردعمل تقریبا سبھی کا ایک جیسا ہوتا اور ایک دکھوں میں گھری ہوئی ایک ضرورت مند دوشیزہ کے معصوم سے چہرے کا عکس نظروں کے سامنے ابھرتا اور یہی خیال آتا کہ چاہے اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، مسیحا بن کر اس حسینہ کو تمام دکھوں سے ضرور نجات دلانی ہے۔ خواتین کے منہ سے بھی عاصمہ کا پیغام پڑھ کر ”ہائیں اللہ!!“ نکلتے نکلتے رہ جاتا۔
آہ عاصمہ! کسے معلوم تھا کہ وہ ایک بے ضرر سی لڑکی جب تک پیغام بھیجتی رہے گی تو کوئی بھی توجہ نہیں دے گا لیکن جب کافی عرصے سے اسکا میسج نہیں آئے گا تو پوری قوم مشترکہ طور پر اسے مِس (miss) کرے گی۔ عاصمہ کو تلاش کرنا پورے ملک کا سانجھا مشن بن جائے گا۔ سب اسکے فراق اور میسج کے انتظار میں بے تاب ہو جائیں گے۔ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندہ ہیروز کی قدر نہیں ہوتی اور انکے جانے کے بعد ہی سبھی یاد کرتے اور کارنامے گنواتے ہیں۔
پی ٹی سی ایل کے میسج لمٹ رکھنے اور حد سے زیادہ میسج بھیجنے پر سم بلاک کرنے جیسے ظالمانہ اقدام کے بعد عاصمہ کو شاید میسج زیادہ سے زیادہ فارورڈ کرنے میں مشکل ضرور پیش آتی ہو گی۔ ممکن ہے ابھی بھی وہ کسی سے لوڈ کیلئے رابطہ کرتی ہو لیکن کافی احباب کو اسکی یاد میں بے چین دیکھا ہے اور سبھی اسکی خیریت کیلئے مضطرب و بے قرار اور بے چین تھے۔ اسکے میسج کو درخور اعتناء بھی نہیں سمجھتے تھے، لہٰذا فورا ہی ڈیلیٹ کر دیتے یعنی کوڑے دان میں پھینک دیتے لیکن کیا معلوم تھا کہ ایک دن وہ فراق میں اتنا تڑپائے گی۔ سیل فون رکھنے والا شاید ہی کوئی بندہ ہو جو عاصمہ کو نہ جانتا ہو لیکن اسکا اصلی نمبر کسی کے پاس نہیں۔
جس طرح قومی افق پر دخترِ ملت عاصمہ سے متعلق منظرنامہ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور دبی دبی آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں، مجھے تو خدشہ ہے کہ اگر چند ماہ مزید عاصمہ کے پیغامات نہ آئے تو پوری پاکستانی قوم اپنے ”عاصمہ کو واپس لاؤ“، ”عاصمہ کو تلاش کرو“ جیسے مشترکہ کاز کیلئے اٹھ کھڑی ہو گی۔پاکستانیوں میں مظلوم عاصمہ کیلئے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت رکھ کر بے مثال یکجہتی اور یگانگت دیکھنے کو ملے گی جو کہ آزادی سے لیکر اب تک دیکھنے کو نہیں ملی ہو گی۔ حالات کے بہاؤ کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن بھی ان نعروں کو اپنانے پر مجبور ہو جائے گی اور ہر زبان پر ”لوڈ والی عاصمہ“ کا نام ہو گا۔
عاصمہ کا دکھ سب کا مشترکہ دکھ اور عاصمہ کو تلاش کر کے واپس لانا سب کا مشترکہ مقصد ہو گا۔ قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا، لاوا پھٹ پڑے گا اور اس دن حقیقی معنوں میں ”عاصمہ انقلاب“ کا سورج طلوع ہو گا۔ حکومت کو گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے اور عاصمہ کے زندہ یا بھٹو ہونے کے تمام دستیاب وسائل سے ثبوت پیش کرنے پڑیں گے۔ عاصمہ کے بھٹو ہونے کی صورت میں بھٹو اپنی قبر میں سکون سے مر جائے گا اور ”زندہ ہے عاصمہ زندہ ہے“ کا نعرہ اسکی جگہ لے لے گا۔
بعض ”عاصمہ انقلاب“ کے مخالفین یہاں فضول اعتراض کریں گے کہ وہ لڑکی بھی تھی یا نہیں اور اسکا جنس کیسے معلوم پڑا کہ وہ لڑکی ہی تھی اور یہ بھی کہ جب اسے کسی نے دیکھا ہی نہیں تو پھر حسینہ اور دوشیزہ بغیر ثبوت کے کیسے کہہ سکتے ہیں۔ وہ کوئی عمر رسیدہ خاتون یا حاجی فضل کریم بھی تو ہو سکتی ہے۔ یہ الزام بھی لگایا جا سکتا ہے کہ میں قوم کو کسی شرپسندی کیطرف دھکیل رہا ہوں۔ ایسے واہیات الزام ہر بڑی تحریک کے مخالفین لگاتے ہیں، اسلئے ان باتوں پر کان دھرنے کی کوشش مت کریں اور یکسو ہو کر گمشدہ عاصمہ کی تلاش کی عظیم تحریک اور مقصد کیلئے کمر بستہ ہو جائیں اور جدوجہد کا آغاز کر دیں۔
No comments:
Post a Comment