عید میلاد النبی ﷺ مسلمانوں میں تیسری عید اور مذہبی تہوار کے طور پر منائی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا ۴۷ مسلم ممالک میں سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ مسلمان اپنی اپنی ثقافت اور خوشیاں منانے کے طور طریقوں کے مطابق پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی اس دنیا میں آمد کا جشن مناتے ہیں جس میں روزہ رکھنا، سیرت النبی ﷺ کی محافل، اجتماع، چراغاں، جلوس، گلیوں اور محلوں کی سجاوٹ، نذر و نیاز کی تقسیم، نعت خوانی، ۱۲ ربیع الاول کے دن صبح صادق کے وقت قصیدہ بردہ شریف پڑھنا، میلاد کے کیک کاٹنا وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر اکتیس توپوں کی سلامی اور صوبائی سطح پر اکیس توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز کیا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو میلاد النبی ﷺ کو باقاعدہ تہوار کا درجہ بہت بعد میں دیا گیا، اس سے پہلے اسکی مختلف شکلیں موجود تھیں مثلا مولود شریف کا ذکر خیر، سیرت النبی کا بیان وغیرہ۔ تاریخی روایات کے مطابق یمن کے بادشاہ نے میلاد منانا شروع کیا۔ اس سلسلے میں فاطمی حکمرانوں اور چند دیگر بادشاہوں کا نام بھی لیا جاتا ہے اور بعض روایات یہ بھی ہیں کہ بنیاد تو شیعہ حکمرانوں نے رکھی لیکن سنیوں نے بعد میں تاریخ بدل کر اسے اپنا لیا، لیکن تمام روایات میں ایک بات مشترک ہے کہ مسلم حکمران اشرافیہ نے باقاعدہ میلاد منانے کی بنیاد رکھی۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت کی رومی تہذیب میں رائج کرسمس کے تہوار کا میلاد کی محفل کے آغاز پر کوئی اثر ہو۔ خلافت عثمانیہ میں ۱۵۸۸ء میں سرکاری چھٹی کا اعلان کیا گیا۔ اسکے علاوہ مصر میں بھی سرکاری سطح پر منایا جاتا رہا۔ قذافی دور میں لیبیا میں بھی عظیم الشان جشن کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
آہستہ آہستہ اس تہوار نے عوامی مقبولیت حاصل کر لی اور شیعہ اور سنی صوفی روایات کا حصہ بن کر مسلم ممالک میں پھیلتا چلا گیا۔ صوفیاء کے ذریعے عوام میں اسکی جڑیں بھی مضبوط ہوتی گئیں۔ وقت کیساتھ ساتھ جشن منانے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی آتی گئی اور جدید رجحانات کو بھی اختیار کیا جاتا رہا مثلا آج سے سو سال پہلے چراغاں اور سجاوٹ کا یہ طریقہ رائج نہیں تھا جو اب ہوتا ہے۔ نعت خوانی اور میلاد کی محافل بھی آج سے کافی مختلف تھیں۔ برصغیر جو ثقافتی رنگینیوں اور تنوع سے بھرپور ہے، وہاں یہ تہوار پہنچا تو اسکے منانے کا انداز بھی مقامی ہو گیا۔
امراء کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ عوامی تہواروں پر وہ اپنی حیثیت کے مطابق امارت اور شان و شوکت کا اظہار کرتے ہیں تاکہ وہ عوام سے ذرا منفرد نظر آئیں۔ ہمارے ہاں میلاد النبی ﷺ میں نیک نامی، زہد اور پارسائی کا زعم قائم کرنے کیلئے ٹھاٹھ باٹھ سے گھروں کی سجاوٹ اور لائٹنگ وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مسجد میں منعقد ہونے والی محافل میں خطابت، نعت اور تلاوت کیلئے قاریوں، خطباء اور نعت خوانوں کے بڑے اور مہنگے ناموں کو بھاری معاوضے پر سپانسر کر کے بلایا جاتا ہے۔ ”بڑھ چڑھ کر“ چندہ دیا جاتا ہے اور اسکی تشہیر کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
عوام کا تہوار منانے کا انداز اپنا ہوتا ہے۔ سال بھر کی انتھک محنت اور زندگی کے گورکھ دھندوں میں الجھنے کے بعد فراغت اور لطف اندوزی کیلئے انہیں چند دن چاہیے ہوتے ہیں جن میں وہ خوشی منا سکیں، جھوم سکیں، رقص کر سکیں، گنگنا سکیں اور اپنی نفسیاتی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ وہ اپنی انفرادیت کو گم کر کے ایک ہجوم کی صورت میں مناتے ہیں۔ میلاد النبی ﷺ کا تہوار بھی انہیں ایسے مواقع عطا کرتا ہے جہاں وہ جوشیلی تقریروں اور نعروں پر جذباتی تسکین کر سکتے ہیں، نعتوں پر جھوم سکتے ہیں اور انہیں گنگنا سکتے ہیں اور چراغاں، سجاوٹ پر جشن کی کیفیات میں لطف کو دوبالا کر سکتے ہیں۔
اہل محلہ چندہ جمع کر کے گلیوں اور محلوں کو سجاتے ہیں، مساجد میں میلاد کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں، واعظوں کے مولود پر وعظ ہوتے ہیں، مقامی نعت گوؤں اور خطیبوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ٹیلنٹ کا اظہار کر سکیں۔ چونکہ شرکت کی قید نہیں ہوتی، لہٰذا ”مخیر حضرات“ کے بلائے ہوئے نعت خوانوں، مقررین وغیرہ کو بھی عام لوگ سن سکتے ہیں، اور اپنے ایمان کی تازگی کے ذریعے سرور حاصل کرتے ہیں۔
میلاد کی محافل کے بعد نذر نیاز تقسیم ہوتی ہے جو انتہائی متبرک خیال کی جاتی ہے۔ عموما حلوے، بریانی، کھیر اور پلاؤ کی دیگیں ہی بانٹی جاتی ہیں۔ آجکل شہر کی بڑی سڑکوں اور چوراہوں پر چراغاں اور سجاوٹ تو میلاد کمیٹیاں ہی کرتی ہیں لیکن بہت سے علاقوں میں صدیوں سے محلوں میں شان و شوکت کے مقابلوں کا رجحان بھی چلا آ رہا ہے۔ بعض شہروں کی سطح پر یہ مقابلہ سیکٹرز اور کالونیوں میں ہوتا ہے اور شہر کی میلاد کمیٹیاں انعامات بھی دیتی ہیں۔ بینک اور کاروباری مراکز بھی سجاوٹ کا اہتمام کرتے ہیں۔
جہاں کوئی ثقافتی سرگرمی ہو، وہاں کاروبار اور تجارتی مواقع خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بعض لوگ عیاری سے کام لیتے ہوئے بھی ان سرگرمیوں کو اپنے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تقریریں کرنے والے علماء اور نعت خوان اپنی اپنی شہرت اور ریٹنگ کے حساب سے پیسہ کماتے ہیں اور شرکاء کو محظوظ ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لائٹنگ، سجاوٹ، دیگوں والوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
موسیقی انسانی روح کی غذا ہے لیکن ملاؤں نے انسانی فطرت کو سمجھے بغیر حرام کر رکھی ہے۔ لہٰذا لوگوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے جدید نعت خوان اپنے حلق اور آواز کے ذریعے، ذکر کیساتھ یا دف بجا کر موسیقانہ ترنم میں نعتیں گنگناتے ہوئے مذہبی موسیقی سننے کے مواقع مہیا کرتے ہیں اور اس سے انکی ریٹنگ بھی بڑھتی ہے۔ ہندی اور اردو گانوں کی سر میں بھی نعتیں خاصی مقبول ہیں۔ چونکہ عوام میں اسکی طلب موجود ہے، لہٰذا ایسی نعتیں ہاتھوں ہاتھ بکتی بھی ہیں۔ خطیبوں کا طرز والی یا انتہائی جوشیلی تقاریر کا طریقہ قدرے پرانا ہے جس میں عوام کو سمجھ تو کچھ آ نہیں رہی ہوتی لیکن جوش و جذبے سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ تقریر سے انہیں نفسیاتی طور پر تسکین مہیا ہوتی ہے اور ایسے خطیبوں کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مذہبی گھرانوں میں خواتین پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور انہیں آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ میلاد کی محافل انہیں بھی ایک سوشل گیدرنگ کی سہولت مہیا کرتی ہیں جس میں وہ نعتیں، بیان وغیرہ اکٹھے سن سکیں۔ اسلئے خواتین کی میلاد کی محافل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جن میں محلے کی خواتین مل کر قرآن خوانی یا درود شریف کی محفل منعقد کرتی ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے اور پھر آخر میں دعا کرائی جاتی ہے۔ اسطرح انہیں بھی ایک روز مرہ کی روٹین سے ہٹ کر مذہبی اور روحانی صورت میں تفریح کا موقع مل جاتا ہے۔
پاکستان میں میلاد اکثریتی فرقے بریلوی اور اہل تشیع مناتے ہیں۔ بریلویوں کے تکفیری امام احمد رضا خان نے اہل تشیع کیخلاف کفر کا فتویٰ ان الفاظ میں جاری کیا کہ ”اہل تشیع کافر ہیں اور جو انکو کافر نہ مانے، وہ بھی کافر ہے“۔ آج دہشتگرد تکفیری ذہنیت کے نعرے ”جو نہ مانے وہ بھی کافر“ مولوی احمد رضا خان کے الفاظ پر ہی مشتمل ہے، شیعہ علماء کے بھی سنیوں کے متعلق نفرت انگیز فتاویٰ موجود ہیں، لیکن میلاد کے جلوسوں میں بے مثال شیعہ سنی برداشت اور اعتدال کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔ کچھ شہروں میں جلوس کے روٹ میں امام بارگاہ کو بھی شامل کیا جاتا ہے جہاں شیعہ، سنی جلوسوں کا استقبال کرتے ہیں۔ اسطرح شیعہ اور سنی اکٹھے انتہائی پرامن طریقے سے اور بغیر اشتعال انگیزی کے میلاد کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، گو کہ شیعہ اور سنیوں میں مؤلد کی تاریخ پر اختلاف ہے۔ اسی طرح مسلم ممالک اور دنیا بھر میں سنی صوفی اور اہل تشیع صدیوں سے میلاد النبی ﷺ مناتے چلے آ رہے ہیں۔
بریلویت میں صوفیانہ روایات کی جگہ بتدریج ملائیت کے اثرات زیادہ ہونے کیوجہ سے شدت پسندی در آئی ہے۔ میلاد کی محافل میں جوشیلی اور نفرت انگیز مسلکی تقاریر عرصے سے معمول ہیں، وہ الگ بات ہے کہ کسی فرقہ وارانہ تحریک کا روپ نہیں دھار سکیں اور صرف بیانات تک ہی محدود رہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے سلمان تاثیر کے سزا یافتہ قاتل ممتاز قادری کے عمل کو میلاد کے جلوسوں اور اجتماعات میں گلوریفائی کیا جاتا ہے اور قاتل کے حق میں عشق رسول ﷺ کے نام پر نعرے بھی لگائے جاتے ہیں اور نشیدیں وغیرہ بھی پڑھی جاتی ہیں۔ اسی جذباتیت میں وہ ایک ہیرو کے روپ میں سامنے آتا ہے اور شدت پسندانہ ذہنیت پروان چڑھائی جاتی ہے۔
جشن میلاد النبی ﷺ پر جو مذہبی اعتبار سے زیادہ اعتراض کیے جاتے ہیں، وہ اسکی ثقافتی رنگینیوں اور امراء کے اسراف اور نمود و نمائش وغیرہ پر ہوتے ہیں اور یہ اعتراض ان فرقوں کی جانب سے ہوتے ہیں جو خالصیت کے زیر اثر ثقافتی اور تفریحی پہلوؤں سے خائف ہوتے ہیں، لیکن صدیوں سے یہ ناقدین بدعت کے فتاویٰ کے علاوہ اسکا ”حلال“ متبادل پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی فتوؤں کے زیر اثر میلاد کے تہوار کو کوئی نقصان پہنچا یا اسکے جشن میں کمی آئی کیونکہ اسکی جڑیں عوام میں پیوست اور گہری ہیں۔ سماجی رنگینیاں حقیقت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا ہیں، لہٰذا یہ خاص و عام کی یکساں خوشیاں محض فتوؤں سے چھینی نہیں جا سکتیں۔ ہاں، عوامی تہواروں اور خوشی کے مواقع کو مفاد پرستوں سے پاک ضرور کرنا ہے جو اپنے مفادات اور نفرت انگیزی وغیرہ پھیلانے کیلئے ان خوشی کے مواقع کو استعمال کرتے ہیں۔
You can press to see
ReplyDeleteFantastic Light Mirror Bathroom
Wow Interior designs for living rooms
And press to see
The latest sofa in the world