ہم چاہتے تو یہی ہیں کہ ہمیشہ اچھے مناظر اور خوشگوار چیزیں ہی دیکھنے کو ملیں جو ہمارے دل کو لبھائیں، مسرتوں سے لبریز کر دیں، ذہن کو جلا بخشیں اور ہم خوش رہیں لیکن ہمیشہ ایسا ہوتا نہیں۔ افسردہ واقعات، سانحات اور غمگین حادثات بھی حقیقت ہیں اور زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات پیش آئیں لیکن پھر بھی وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
سانحۂ پشاور بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا۔ کوئی بھی انسان دوستی کی کسوٹی پر اے پی ایس واقعے کو پرکھنے والا نہیں چاہتا تھا اور نہ کبھی چاہے گا کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا واقعہ ہو۔ اسکی کربناک تصاویر سامنے آتے ہی ہم سخت بے چین ہو جاتے ہیں۔ جذبات امڈ پڑتے ہیں اور ہم زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے۔ پشاور سکول کے بچوں پر اور انکے والدین پر جو بیتی ہو گی، اسکا تو ہم تصور مکمل طور پر نہیں کر سکتے لیکن تکلیف کا اندازہ تصاویر سے کچھ ہو جاتا ہے۔
ہمارے بعض سوشل میڈیائی دانشوروں کا تو وطیرہ ہے کہ کسی غریب یا فاقہ کش کی ٹپکتی ہوئی مظلومیت کی یا کسی دردناک منظر کی تصاویر لگا کر ہی اپنی تحاریر اور بے وزن اشعار وغیرہ فروخت کرتے ہیں تاکہ زیادہ دیکھے جانے، لائکس اور شئیرز ملنے سے انکی تحریروں اور خود انکی اپنی مقبولیت میں اضافہ ہو اور انسان دوستی بھی ظاہر ہوتی ہو۔ اسی طرح بعض لوگوں کو مظلومیت کیش کرانے کی بھی عادت ہوتی ہے اور جعلی تصاویر تیار کرنے والوں والے بھی بہت ہیں جو ہر آفت پر جعلسازی کے ذریعے خوف و ہراس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں اس آئیڈیا سے کبھی متفق نہیں رہا۔ ناخوشگوار واقعات کی تصاویر انتہائی ضرورت کے وقت جب تفصیلات کیلئے مطلوب ہو، تبھی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسکے علاوہ حتی الامکان کسی کی بے بسی اور مظلومیت کو ”استعمال“ کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن یہ واقعات حقیقت ہوتے ہیں۔ انکی تصاویر سامنے لانے پر کسی کو روک نہیں سکتے کیونکہ تصاویر حقیقت کی ہی منظر کشی کر رہی ہوتی ہیں۔
سانحۂ اے پی ایس کی تصاویر بھی بربریت کی منظر کشی کرتی ہیں۔ جنکو اپنے جذبات کے اظہار کیلئے الفاظ نہیں ملتے، وہ تصاویر چپکا دیتے ہیں جو اپنا اظہار خود کر رہی ہوتی ہے۔ جو سمجھتے ہیں کہ لفظوں میں مکمل طور پر وحشت کو بیان نہیں کیا جا سکتا، وہ بھی تصاویر سے بات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ تصاویر لگانے والے پرخلوص ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو، مگر تصاویر حقیقی ہیں، اے پی ایس واقعہ حقیقت ہے۔
کربناک سانحات کی تصاویر لگانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کمزور دل لوگوں کے اعصاب پر اسکا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اس بات کا زیادہ سے زیادہ شعور دینا چاہیے تاکہ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بیجا اپلوڈ نہ کی جائیں لیکن ہر ایسی تصویر کے سامنے آنے پر سیخ پا ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ حقیقتوں کا سامنا کرنا چاہیے، ضروری نہیں ہمارے ماحول میں سب چیزیں ہماری مرضی کے مطابق ہوں یا گرد و پیش ہمیشہ خوشگوار ہی رہے۔
No comments:
Post a Comment