Friday, 18 December 2015

فنا فی النقل

پیپر شروع ہونے میں کچھ ہی دن رہ گئے تھے کہ چے صاحب کو ایک عجیب و غریب خیال سوجھا، جسکے بعد انہوں نے ایک خطرناک اور رسک والا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تہیہ کیا کہ وہ ان امتحانات میں کسی سے مدد نہیں لیں گے اور نہ تیاری کریں گے بلکہ صرف نقل کر کے پیپر حل کریں گے۔ چے صاحب کو نقل کرنے کا کچھ خاص تجربہ تو نہیں تھا، بس پہلی بار ہی ”یا نقل تیرا آسرا“ کے بلند وژن کیساتھ امتحانات میں اتر رہے تھے۔
اسکے بعد بھاگ دوڑ شروع ہوئی۔ ماہر نقل بازوں، نقل کرنے کے سینکڑوں طریقوں سے واقف اور تجربہ کار ”چیٹرز“ سے سیکھنے کا عمل شروع ہو گیا۔ پرچیاں بنانے سے لیکر موبائل میں شاٹس لینا اور رانوں کے نیچے چھپانے سے لیکر ہاتھ میں پرچی پکڑ کر لکھنے تک کے تمام طریقے ازبر کرنا شروع کر دیے گئے۔ ماہرین فن نے بھی چے صاحب کو سکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ چے صاحب کے کام آنے کا نقصان کوئی نہیں ہوتا، ہمیشہ وہ بمع سود ہی نیکی لوٹاتے ہیں۔ چنانچہ نقل کے تمام ”اسرار و رموز“ اور طریقے انتہائی ایمانداری سے چے صاحب کے حوالے کر دیے گئے۔ سیکھنے سکھانے کے عمل میں وہ جنسی تفریق کے قائل ہی نہیں تھے، اسلئے نقل کرنے والیوں سے بھی انہوں نے جتنا سیکھ سکتے تھے، سیکھا۔
اسکے بعد تو چے صاحب کے رویے اور معمولات ہی بدل گئے۔ تفکر کی جگہ بے فکری آ گئی اور وہ مسکراہٹ جو پیپر کے موسم میں انکے ہونٹوں پر غائب رہتی تھی، اس بار وہ بھی بدستور قائم تھی۔ جب سب پڑھ رہے ہوتے تو وہ مووی لگا کر یا ہیڈ فون کانوں میں ٹھونسے لان میں ٹانگیں پسارے بیٹھے ہوتے اور دھوپ لگوا رہے ہوتے، بس یہ دھیان رکھتے کہ کون کتنا پڑھ رہا ہے گویا پڑھنے میں غرق خدا کی مخلوق کا دل جلاتے ہوئے کہہ رہے ہوں کہ
؎ تم مغز آزماؤ ہم نقل آزمائیں
طالبعلمانہ تصوف میں ”فنا فی النقل“ ایک انتہائی اونچا مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس طریق کے صوفیاء امتحانات کے دوران تیاری کی تمام تر آلائشوں سے بے نیاز ہو کر بس نقل سے لو لگا لیتے ہیں۔ نقل سے پھر انکی روح کو تازگی، اطمینانِ قلب اور جو سکون ملتا ہے، وہ امتحان کی تیاری میں سر کھپانے یا لفظوں کے ورد (رٹے) میں نصیب نہیں ہوتا۔ چے صاحب اس مقام تک بہت جلد ”پہنچے ہوئے“ لگتے تھے بلکہ یوں کہیے کہ چھلانگیں مارتے ہوئے ہی پچھلی منازل کو عبور کر گئے۔ جو ذرا سا بھی کتاب کی جانب نظر کرتا، وہ اسے کتابی کیڑا ہی شمار کرتے۔ گو کہ انہوں نے اپنے صوفیانہ سلسلے میں بیعت و خلافت کا سلسلہ تو شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی اپنا پیغام پھیلانے کی کوئی کوشش کی لیکن کتابی کیڑوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اکثر پرامن انداز میں گنگنایا کرتے:
لکھنا پڑھنا چھڈ دے بندیا، نیکیاں تے رکھ آس
چُک رضائی تے سو جا بندیا، رب کرے گا پاس!
پڑھنے والے لوگ تو چے صاحب کی نظر میں ہی تھے، رات کو ان سے انتہائی اطمینان سے guess لگوائے جاتے اور پرچیاں تیار کر کے متعلقہ مقامات پر باندھنے کی ریہرسل کر لی جاتی۔ پہلے دن تو احساسِ جرم کے مارے چے صاحب سے پرچی ہی نہ نکالی جا سکی۔ وہ کچھ ایسی بھی کمزور جسمانی قوت کے مالک نہیں تھے لیکن یہ پہلا پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اعصاب بحال کرتے، پیپر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ دوسرے پیپر میں جا کر جو دیکھا تو پرچیاں گڈ مڈ ہو چکی تھیں اور زیادہ تر کسی اور مضمون کی تھیں۔ جس مضمون کا پیپر تھا، اسکی ایک آدھ پرچی نکلی بھی تو وہ سوال پرچے میں پوچھا ہی نہ گیا تھا۔ تیسرے پیپر میں کچھ ایسی خاص قسم کی کیفیت طاری ہوئی کہ نقل اور نقل کرنے والے انہیں ہیچ لگنے لگے اور لیکچرز کے دوران جو کچھ دماغ میں بیٹھا تھا، اسکی مدد سے لکھنے کا فیصلہ کیا پر کہاں سے، تیاری کے بغیر لیکچرز سے حاصل کیے گئے دماغ کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے کانسیپٹس بھی کیسے کام آ سکتے ہیں۔
پرچی کی ناکامی کے بعد پرچیوں کو ہمیشہ خیرباد کہا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سمارٹ فون میں ترتیب سے تصویریں محفوظ کی گئیں لیکن پیپر کے دوران جیسے ہی مشکل قسم کا سیکیورٹی پیٹرن کھولتے، ایگزامینر پوری قطار گھوم پھر کر سر پر پہنچ جاتا۔ چے صاحب تجربات سے سیکھتے بہت جلدی تھے اور ناکامیوں پر غور کرنے کی بھی بڑی عادت تھی۔ ہر بار ضمیر اور دماغ کو جھنجھوڑتے اور کوستے جو انکے عظیم وژن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا اور غلطیوں پر غور کرتے ہوئے اگلے پیپر کیلئے ”اسٹریٹجی“ ترتیب دیتے پانچویں اور آخری پرچے میں لاک ختم کر کے آئے اور بدقسمتی سے پکڑے گئے۔ لاک کھلا ہونے کیوجہ سے ثبوت بھی مل گیا اور یوں انکے ہاتھ پانچوں پرچوں کے دوران خلاؤں میں گھورنا ہی آیا۔ 
دوسری طرف اوگلے نے سارے پرچے سمارٹ فون کی مدد سے ہی حل کیے۔ تارا حسب معمول ایمی کے کہیں آس پاس بیٹھتی اور اس نے اپنی دوربین اور دور رس نگاہوں سے اسکے ہر پیپر کا حرف حرف چھاپا۔ دو پریمی جنکے رول نمبر ہی کچھ ایسے تھے کہ سیٹنگ پلان (Seating Plan) میں انکی نشستیں قریب قریب ہوتی تھیں، انہوں نے بھی ففٹی ففٹی تیاری والا قاعدہ برقرار رکھا۔ 
حلقۂ خاص میں چے صاحب جب اپنے اور دیگر طالبعلم صوفیوں اور ملنگوں کی ریاضتوں اور مجاہدات کے ان واقعات کی تفصیل بتا چکے تو آخر میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نقل کیلئے محض عقل کی ہی نہیں بلکہ عزم، جذبے، حوصلے، چستی، چالاکی، روحانی قوت اور چے صاحب کے الفاظ میں ”جگرے“ اور تجربے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اوائل عمری اور ابتدائی جماعتوں میں ہی سلوک کا سفر طے کرنا شروع کر دینا چاہیے، پھر آہستہ آہستہ نقل کے فن میں پختگی آتی جاتی ہے اور ”فنا فی النقل“ کی جانب تیزی سے صوفی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حاضرینِ مجلس(جو سبھی کنوارے تھے) نے عہد کیا کہ وہ اپنی مستقبل کی اولادوں کے عہدِ طالبعلمی میں اپنی ”نقلی مشقت“ کے تجربات بہم منتقل کریں گے تاکہ انہیں نقل کے روحانی سلسلے میں آگے کے ”مقامات“ طے کرنے میں سہولت ہو اور انکی ”منازل“ آسان ہوں۔
مہمت

2 comments: